Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کیسے بنے گا ہندوستان ایک کیاش لیس سوسائٹی؟

December 2, 2016 1 1 min read
Pay on Mobile
Pay on Mobile
Pay on Mobile

تحریر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
ہندوستان کیاش لیس سوسائٹی کی طرف اپنے قدم بڑھا رہا ہے۔ حکومت اس جانب بہت زیادہ سنجیدہ ہے اور نوٹ بندی اعلان کے تین ہفتے گزرنے کے بعد ابھی تک بازار میں نوٹوں کی قلت’وزیر اعظم کی جانب سے من کی بات پروگرام میں ہندوستانی نوجوانوں کو کیاش لیس سوسائٹی کی تعمیر میں اہم رول ادا کرنے کی تلقین اور وزرائے اعلی اور کلکٹروں کی جانب سے بنک عہدیداروں اور تجارتی اداروں سے بات چیت کے اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت درکار مقدار میں نئے نوٹ لانے کا قطعی ارادہ نہیں رکھتی۔ نوٹ بندی کے اعلان کے بعد ہندوستان سے 85%نوٹ واپس لے لیے گئے اور اس کی جگہ سست رفتاری سے نئے نوٹ بازار میں لائے جارہے ہیں۔ 500کے نوٹ ابھی تک ملک بھر میں عام نہیں ہوئے ان نوٹوں کی چھپائی کے بارے میں اطلاعات آرہی ہیں کہ پرنٹنگ میں غلطیوں کے سبب ان کی چھپائی روک دی گئی ہے۔ ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ 2000کا نوٹ بھی اچانک جون میں بند کردیا جائے گا تاکہ جن لوگوں نے کسی طرح اپنے کالے دھن کو اس نوٹ سے بدلا ہو انہیں ایک مرتبہ پھر جھٹکا دیا جاسکے۔ بہر حال وزیر اعظم اور برسر اقتدار بی جے پی پوری طرح سے اس بات پر زور دے رہی ہے کہ ملک کو اب آہستہ آہستہ کیا بڑی تیز رفتاری سے کیاش لیس سوسائٹی میں تبدیل کردیا جائے۔

شہری علاقوں میں رہنے والے لوگ اے ٹی ایم ‘کریڈٹ کارڈز’موبائل بنکنگ اور انٹرنیٹ بنکنگ کر رہے ہیں لیکن ان کا استعمال محدود مقامات پر ہے جیسے بڑے اسٹورز میں’ٹکٹ بکنگ’ بلز کی ادائیگی وغیرہ میں۔ ہندوستان دیہی علاقے والا ملک ہے اور آج بھی اس ملک کی70%آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جہاں نہ تو مکمل طور پر شہری ضروریات ہیں اور نہ ہی دیہی عوام اس قدر خواندہ ہیں کہ انہیں ہندوستان کے کیاش لیس سوسائٹی کا فوری حصہ بنادیا جائے۔ حکومت اس جانب بالکل ہی توجہ نہیں دے رہی ہے اور ماہرین معاشیات کے بار بار کہنے کے باوجود کہ زرعی سرگرمیاں ٹھپ ہورہی ہیں۔روز مرہ کام کرنے والوں کو مزدوری نہیں مل رہی ہے ۔ اناج کی خرید و فروخت اور نئی فصل کو بونے میں دشواریاں ہیں۔ دیہات میں معاشی چکر چلنے کے لیے بڑی مقدار میں کرنسی کی ضرورت ہے لیکن حکومت کے بار بار اعلانات سے بات کچھ سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ راتوں رات ہندوستان کیسے کیاش لیس سوسائٹی بنے گا۔

اب دیکھتے ہیں کہ انسان کی روز مرہ کی ضروریات کیا ہیں جہاں اسے رقم دینا پڑتا تھا اور اس کی جگہ مشین سے رقمی لین دین کی بات کہی جارہی ہے۔ انسان اپنی غذائی ضروریات کو خریدنے کے لیے بازار جاتا ہے ۔ اجناس اور ضروریات زندگی کے سامان کرانہ اسٹور میں ملتے ہیں اب شہری علاقوں میں چھوٹی بڑی دکانوں میں دکاندار کارڈ سے رقم لینے کی مشین لگا رہے ہیں ۔ لیکن ان کا کہنا ہے مشین سے رقم لینے میں انہیں بنک سے اپنے آپ کو جڑا رکھنا ہوگا اور 2%ٹیکس بھی دینا ہوگا جسے کچھ مہینوں کے لیے حکومت نے روکے رکھا ہے۔اب ریلائینس اور مور جیسی بڑی کارپوریٹ دکانوں میں اس طرح کی مشین سے ادائیگی کی سہولت ہے۔حکومت کا یہ اقدام چھوٹے ترکاری فروشوں اور ٹھیلہ بنڈیوں پر کاروبار کرنے والے پر کاری ضرب ثابت ہوگا اور پھل ترکاری اب صرف بڑی اسٹور سے ہی لینا ہوگا چھوٹی دکانوں سے نہیں۔ جن دکانوں پر میشن کی سہولت نہیں ہے انہیں فوری مشین لگانا ہوگا اور اسے انٹرنیٹ اور بنک کھاتے سے جوڑنا ہوگا۔ اگر مسلسل انٹرنیٹ چلے تو مشین چلے گی ورنہ کاروبار ٹھپ۔

India
India

ہندوستان میں اب بھی بی ایس این ایل کا انٹرنیٹ سست رفتار ہے اور اس کا کیبل نیٹ ورک اکثر ناکارہ رہتا ہے اس لیے مشین کو وائرلیس انٹرنیٹ سے جوڑنا ہوگا اور دکان دار کو ہر ماہ انٹرنیٹ کا کرایہ ادا کرنا ہوگا۔ اگر سیلاب طوفان یا کوئی آفت سماوی آجائے تو یہ نظام ٹھپ ہوسکتا ہے اور سارا ہندوستان معاشی طور پر ٹھپ ہوسکتا ہے۔ مشین لگے جانے کے بعد اب چھوٹی چھوٹی دکانوں کے بجائے بڑے اسٹور ہی چلیں گے۔ غریب کہاں بنک سے ادائیگیاں کریں گے سامان کی خریدی میں اور لوگوں سے وصولی کرنے میں۔ اس طرح کاروبار صرف بڑے تجارتی گھرانوں کی طرف منتقل ہوگا۔ اب بڑے اسٹور میں ترکاری پھل دودھ اجناس سب ڈبہ بند مل رہے ہیں۔ بیرون ملک جس طرح مشین میں کارڈ ڈالو اور اپنی پسند کا جوس ٹن یا کوئی اور چیز چاہے حاصل کرو کی طرح اب ہندوستان والوں کو بھی ڈبہ بند غذائوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ دودھ ‘گوشت’ڈبوں میںبند ملیں گے۔ ترکاریاں فریج میں رکھی ملیں گی جیسے سعودی میں کولڈ اسٹوریج کے پھل ملتے ہیں۔تازہ پھل اور ترکاری کا استعمال کم ہوگا تو لوگوں کی صحت پر بھی اثر پڑے گا۔ پٹرول پمپ پر اب کارڈ سوائپنگ مشینیں لگ رہی ہیں اور بہت جلد سارے پٹرول پمپ پر یہ مشینیں لگ جائیں گی۔ بس میں کنڈکٹر کے ہاتھ میں مشین ہوگی اور وہ بھی کارڈ سے ہی رقم منہا کرے گا۔ اب ریلوے کے ٹکٹ تو لوگ فون سے ہی بک کرنے لگے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن پر بھی کارڈ سے خریداری ہوگی۔ علاج کے لیے دواخانہ جانا ہو یا میڈیکل ہال سے دوائیں لینی ہو ہر دو جگہ مشین ہوگی اور کارڈ چلے گا۔

تعلیمی اداروں میں فیس کارڈ سے ادا کی جائے گی اور مشین سے وصول کی جائے گی۔ سب سے بڑا نقصان تعلیمی اداروں کا ہوگا جو ڈونیشن کے نام پر بغیر رسید کے لاکھوں روپے لے رہے تھے اور کالا دھن جمع کر رہے تھے اب اگر کوئی ڈونیشن لے گا بھی تو اسے ٹیکس بھرنا ہوگا۔ ڈاکٹر ‘وکیل’ اور دیگر اہم پیشے والے بھی کارڈ کے دائرے میں آئیں گے اور انہیں اپنی آمدنی کو سفید بنانے کے لیے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ راستے میں پولیس اب رشوت نہیں لے پائے گی اور سیدھے سیدھے چالان سے رقم ادا ہوگی۔ مندروں اور درگاہوں میں ڈونیشن میں لوگ اپنا کالا دھن نہیں ڈالیں گے اور وہاں بھی کارڈ کے ذریعے ادائیگی ہوگی اور ٹرسٹ کو حکومت کے بنائے گئے قوانین کے مطابق کام کرنا ہوگا۔ اب گھر کے ایک فرد کے پاس کارڈ ہے یا ہوگا لیکن ان حالات میں گھر کے ہر فرد کے لیے کارڈ لازمی ہوگا۔ شوہر باہر ہو تو بیوی کو خریداری کے لیے کارڈ درکار ہوگا۔ بچے اسکول کالج جائیں انہیں اپنی ضروریات کے لیے کارڈ چاہئے ہوگا۔ جو اتنا آسان نہیں ہے۔ حکومت نے جیسے کہا تھا کہ مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے جعلی کرنسی کا استعمال ہورہا ہے اور کالا دھن انتخابات جیتنے کے لیے استعمال ہورہا ہے اس پرقابو پانے میں مدد ملے گی اگر حکومت سنجیدہ رہے اور حساب کتاب کو چھپانے کی کوشش نہ کرے۔

ورنہ مودی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے لوک سبھا انتخابات صرف کالے دھن کی مدد سے جیتے تھے۔ اس طرح غیر محسوس طریقے سے کارڈ ہماری زندگی کا حصہ بن جائیں گے۔ اور حکومت کی عین خواہش کے مطابق ہندوستان بہت جلد کیاش لیس سوسائٹی میں تبدیل ہوجائے گا۔ یہ ایک سنہرا خواب ہے لیکن کیا یہ حقیقیت میں بدل پائے گا آئیے دیکھیں کہ ہندوستان کو کیاش لیس سوسائٹی بننے میں کونسی مشکلات درپیش ہیں۔ سب سے پہلی رکاوٹ سائبر سیکوریٹی سے متعلق ہے ۔ حال ہی میں بڑی خبر آئی تھی کہ ہندوستان کے 30لاکھ ڈیبٹ کارڈ کا ڈاٹا چوری ہوگیا تھا اور چین سے کسی نے ان کارڈوں کے پاس ورڈ ہیک کر لیے تھے اور بڑی مقدار میں رقم نکال لی تھی۔ جب ان کارڈوں کی نقل بنائی جاسکتی ہے جسے کارڈ کلوننگ کہا گیا تو کیا گیارنٹی ہے کہ سارے ملک کے عوام کے کارڈ سائبر کرائم سے محفوظ ہوں گے۔ اس واقعہ میں بنکوں کے سیکوریٹی نظام کی نا اہلی سامنے آگئی تھی۔ جب سارا ہندوستان کیاش لیس ہوجائے اور کارڈوں میں ہیرا پھیری کرکے وقت واحد میں عوام کی محنت کی کمائی کو لوٹ لیا جائے تو یہ جیتے جی اپنی عوام کو مار دینے کے مترادف ہوگا۔ اس لیے کیاش لیس سوسائٹی کی بات کرنے والے اپنے سائبر نظام کو بہتر بنائیں اور عوام کے سامنے تفصیلات لائیں کہ اگر اندرون ملک یا بیرن ملک ان کے کارڈوں یا کھاتوں سے رقم چرالی جائے تو اس کا حل کیا ہوگا۔

Cyber Crime
Cyber Crime

سائبر کرائم اور ہندوستان میں مجرموں کو کڑی سزا نہ دینے یا تاخیر کرنے کے پس منظر میں کیاش لیس سوسائٹی کا خواب ادھورا ہوسکتا ہے۔کارڈ کے استعمال کے لیے ضروری ہے کہ مشینیں ہر وقت نیٹ ورک سے جڑی رہیں اگر سارا ہندوستان کارڈ سے رقمی لین دین کرے تو تیز رفتار نیٹ ورک ضروری ہے اور ہندوستان انٹرنیٹ کی فراہمی اور استعمال کے لیے مغربی دنیا سے بہت پیچھے ہے اگر نیٹ ورک کام نہیں کرے گا تو رقمی لین دین رک جائے گا۔فون سے ادائیگی کے لیے بھی انٹرنیٹ ضروری ہے اور انسان جس ماحول میں بھی رہے وہاں انٹرنیٹ کا سگنل لازمی ہے۔ ابھی شہروں میں ہی سرویس کا براحال ہے تو دیہاتوں اور راستے میں سفر کے دوران کیا ہوگا ۔انٹرنیٹ کو سستا کرنا بھی ضروری ہے ورنہ اپنی رقم ادا کرنے کے لیے لوگوں کو ہر مہینہ انٹرنیٹ کے اخراجات بھی برداشت کرنے ہوں گے۔کارڈ سے رقمی لین دین پر حکومت نے اضافی ٹیکس اور سرچارج رکھا ہے جس سے مزید اخراجات برداشت کرنے ہوں گے۔ ہندوستانی عوام اکثر ناخواندہ ہے انہیں رقمی ادائیگی کے لیے کارڈ کا استعمال یا نیٹ بنکنگ کے لیے درکار معلومات کا فقدان ہے اور بڑی عمر کے لوگ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اس لیے عام لوگوں کو دشواری ہوگی۔فون سے ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے پاس اسمارٹ فون ہوں اور اچھی بیٹری والے ہوں تاکہ سفر کے دوران ان کا فون ساتھ دے سکے۔ کیاش لیس سوسائٹی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ لوگوں کے بنک کھاتوں کا نہ ہونا ہے آج بھی نصف فیصد آبادی کے بنک کھاتے نہیں ہیں۔ دہلی کے چیف منسٹر نے عوام کو راحت دینے کے لیے بڑے پیمانے پر کھاتے کھولنے کی سہولت شروع کی ہے۔ ان کھاتوں کو زیرو بیلنس سے چلانا ضروری ہے۔

بنک کی شاخوں میں اضافہ ضروری ہے آج بھی دیہی علاقوں میں دور دور تک بنک نہیں ہیں۔ اس کے لیے کافی عرصہ لگے گا۔کیاش لیس سوسائٹی والا ہندوستان ایک اچھا خواب ہے لیکن یہ راتوں رات شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ سویڈن کے بارے میں کہا جاتاہے کہ سارا ملک کیاش لیس کام کرتا ہے وہاں کی خواندگی اور ہندوستان کی خواندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ حکومت مرحلہ وار ترغیب کے ذریعے پہلے شہری زندگی میں یہ انقلاب لائے۔ دیہی عوام کے لیے چھوٹے نوٹ اور 500کے نوٹ برقرار رکھے جائیں۔ بنکوں کے ذریعے رقمی لین دین ہو اس کے لیے ٹیکس کے نظام کو آسان بنایا جائے۔ موجودہ دور کی مہنگائی کو دیکھتے ہوئے سالانہ 5لاکھ تک ٹیکس معاف رکھا جائے۔5تا10لاکھ پر 10%ٹیکس اور اس سے زیادہ پر20%ٹیکس رکھا جائے۔ بڑے کاروباری اداروں سے قرض واپس لیا جائے اور ان کو بھی عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے۔ کیاش لیس سوسائٹی سے رشوت او رکالے دھن کا خاتمہ ممکن ہے لیکن ہر معاملے میں شفافیت اہم ہے اور جرم پر سزا بھی اہم ہے عوام کے لیے ایک بات اور امرا’سیاستدانوں کے لیے الگ بات رہی تو پھر یہ نظام مشکل ہے۔

مغرب کا ہر فعل قابل تقلید نہیں ہوتا۔ کیاش لیس سوسائٹی میں عوام خالی ہاتھ اور حکومت دولت مند ہوتی ہے۔ سونے اور جائداد کی شکل میں جو سرمایہ ہوتا ہے اس سے عوام کو مالی تحفظ ملتا ہے۔ کیاش لیس سوسائٹی میں ہمیشہ خطرہ رہتا ہے۔ ان حالات میں ہندوستان کے لیے جلد بازی نہیں بلکہ مرحلہ وار کیاش لیس سوسائٹی کی طرف جانا چاہئے۔ ایک بات یہ بھی یاد رہے کہ امریکہ میں آج بھی ڈالر کی نوٹ ہے اور دیگر ترقیاتی یافتہ ممالک میں بھی۔ اس لیے مکمل کیاش لیس ہونے کے بجائے طبقہ بالا کی سرگرمیوں کو کارڈ اور مشین سے جوڑنا بہتر ہوگا اور غریب عوام کو نوٹ کے ذریعے رقمی لین دین کے ساتھ جینے کا موقع دینا مناسب ہوگا۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے کیاش لیس سوسائٹی کا خواب ہندوستان کو کس سمت لے جاتا ہے۔لیکن عوام کو ذہنی اور عملی طور پر اس تبدیلی کے لیے تیاری شروع کردینی چاہئے۔

Aslam Faroqui
Aslam Faroqui

تحریر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

Share this:
Tags:
Development government India information program Society اطلاعات اعلان پروگرام تعمیر حکومت سوسائٹی ہندوستان
Badin School
Previous Post کھیل اور ادبی مقابلے وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، سید عمران شاہ
Next Post بدین جماعت اسلامی کی جانب سندھ اسمبلی میں اسلام قبول کرنے پر پابندی کے بل کے خلاف احتجاجی ریلی
Badin JI Rally

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close