
نئی دلی (جیوڈیسک) نئی دلی بھارت میں 23 سالہ طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے مقدمے کا فیصلہ 5 اگست تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رسااں ادارے کے مطابق بھارت میں طالبہ کے ساتھ اجعماعی زیادتی کے مقدمہ کا فیصلہ تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ عدالت نے تاریخیں دنیا شروع کر دی ہیں۔ 23 سالہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے مقدمے کا فیصلہ پہلے 11 جولائی کو سنایا جانا تھا لیکن پھر اسے 25 جولائی تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔
اب اس فیصلے کو پھر 5 اگست تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس مقدمے کا ایک ملزم غالبا اس واقعے کے وقت نابالغ تھا اس لیے اس پر مقدمہ نابالغوں کے قانون کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ تین سال تک کسی بحالی مرکز میں رکھے جانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ اب اس مقدمے کے فیصلے کا اعلان ایک بار پھر ملتوی کیوں کیا گیا ہے اس سوال کے جواب میں وکیل صفائی راجیش تیواڑی نے کہا کہ اعلی ترین آئینی عدالت ابھی اس موضوع پر غور کر رہی ہے کہ بھارت میں ایک نابالغ کی قانونی تعریف کیا ہو گی۔
واضع رہے کہ یہ اندوہناک یہ واقعہ 16 دسمبر 2012 کو پیش آیا تھا جب 6 مردوں نے بہانے سے یونیورسٹی کی اس 23 سالہ طالبہ اور اس کے ساتھی لڑکے کو بس کے اندر بلایا جہاں انہوں نے اس خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اسے اور اس کے ساتھی کو جسمانی تشدد کا بھی نشانہ بنایا۔ بعد ازاں ان دونوں کو شدید زخمی حالت میں سڑک پر پھینک دیا گیا۔ چند ہفتوں بعد یہ خاتون اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے سنگاپور کے ایک ہسپتال میں چل بسی تھی۔
اس واقعے نے نہ صرف بھارتی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ یہ خبر پوری دنیا میں شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئی۔ خود بھارت میں اس واقعے کے بعد جنسی زیادتی اور جنسی تشدد کو ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر معاشرے میں خواتین کی صورتحال کو موضوع بنایا جانے لگا۔ بھارت میں جرائم کا ریکارڈ رکھنے والے قومی دفتر کے مطابق بھارت میں ہر بیس منٹ بعد کسی نہ کسی جنسی جرم کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ یوں اس ملک میں جنسی جرائم روزمرہ معمول کا حصہ ہیں۔
