Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اُردو کی غزلیہ شاعری میں بہادر شاہ ظفر کا مقام

December 3, 2015December 3, 2015 1 1 min read
Bahadur Shah Zafar
History of India
History of India

تحریر: ڈاکٹر یاسمین
ہندوستان کی تاریخ میں ١٨٥٧ء کی حیثیت ایک سنگ میل کی ہے۔ جس پر بہادر شاہ ظفرکا نام جلی حروف میں کندہ ہے۔ ان کی شخصیت کی کئی جہتیں ہیں۔ا ن کی حیثیت نہ صرف سلطنتِ مغلیہ کے ایک چشم و چراغ، جنگ آزادی کے ایک سربراہ ، ایک پاک باز و نیک طسنت انسان کی تھی بلکہ ان کی ایک اہم شناخت یہ ہے کہ اردو شعر و ادب کو جو دولت بخشی وہ آج بھی ہمارے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔ انہوں نے اردو شاعری کی مختلف اصناف کو مالا مال کیا ۔ ان کی کلیات میں غزلوں کے علاوہ قصاید ، شہرِ آشوب، بھجن، گیت، مرثیہ، سلام جیسی اصناف بھی کافی مقدار میں ملتی ہیں۔اس مضمون میں صرف ان کی غزلیہ شاعری کی مختلف جہتوں پر روشنی ڈالوں گی۔

غزل اردو شاعری کی وہ صنف ہے جس میں جذبات و احساسات کی عکاسی تو ملتی ہے ساتھ ہی خیالات کی لہریں بھی اول تا آخر موجزن رہتی ہیں۔ اس صنف کے اپنے آداب ، تقاضے اور مطالبے ہیں بقول پروفیسر آل احمد

سرور
غزل میں ذات بھی ہے اور کائنات بھی ہے
ہماری بات بھی ہے اور تمہاری بات بھی ہے

جہاں تک بہادر شاہ ظفر کی غزلیہ شاعری کا سوال ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے یہاں غزل اپنے سارے امکانات کے ساتھ موجود ہے۔ ان کی غزلوں میں عشقیہ جذبات و واردات بھی ہیں اور زندگی کے تجربات و مشاہدات بھی۔ سوز و گداز بھی ہے اور رندی و سرمستی بھی تصوف کے رموز و نکات بھی ہیں اور فلسفیانہ موشگافی بھی۔ آئیے اب ان کی شاعری کی ایک ایک جہت کا تجزیہ کیا جائے۔

Poetry
Poetry

عشق اور معاملاتِ عشق اردو شاعری کا خمیر ہے۔اس کی تہذیبی اور تخلیقی قوت کا ذکر تقریباً تمام شعراء نے کیا ہے۔ بہادر شاہ ظفر نے بھی عشق کو اس کی تمام تر حرارتوں اور جذباتی محرکات کے ساتھ پیش کیا ہے۔شاعر کو عشق پر ناز ہے۔ ان کی طبیعت عشق سے زیست کا مزہ اٹھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ظفر نے تجرباتِ عشق و محبت کو جس سرشاری اور بغیر کسی ذہنی تعصب یا تحفظ کے بھرپورانداز سے پیش کیا ہے ان میں بہر حال ایک لطف اور تازگی ملتی ہے اور خط و کیف اور رنگینی و سادگی بھی۔

دیکھئے یہ اشعار
بوسہ مانگا تو کہا بس چلو یاں سے نکلو
منہ لگایا تو کیا تم تو ظفر چل نکلے

رات کس گل کو گلے لگایا تھا ظفر
پیر ہن جو عطر کی خوشبو میں ہے ڈوبا ہوا
کوچہ جاناں کے جانے کی نکالی ہے یہ راہ
خاک ہو کر آپڑے ہیں ہم صبا کی راہ پر

ان اشعار کی روشنی میں ہمیں ظفر کی شاعری کی احتساسیت و حلاوت مستانہ طمطراق آزادہ روی و بے باکی، عشق و محبت کی سرخوشی اور نوائے عاشقانہ کی گونج کا اندازہ ہوتا ہے۔ہر شعر میں نشاط اور امنگ کی لہک رچا ہوا ہے۔ پہلے شعر میں جہاں لمسیایت کیفیت کا اظہارہے تو دوسرے شعر میں شبابی پیکر کو ابھارا گیا ہے تیسرے شعر کو بصری پیکر عطا کیا ہے۔

Love poetry
Love poetry

دیگر اشعار میں جو ایک چیز مشترک ہے وہ Communicative Strategiesکی بہترین مثال ہے جن میں جذبے کی گہری اور عشق کی تڑپ اپنی تمام عمق اور اثر کے ساتھ ادا کیا گیا ہے۔ ظفر کی عشقیہ شاعری بھی باوجود شدت احساس کے کامل سپردگی اور بے چارگی نہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ظفر کی عشقیہ شاعری میں اعتدال، توازن اور شاعرانہ محاسن کے ساتھ جذبات کی صداقت بھی ہے۔ یہ بے تکلفی، فصاحت اور محاورہ بندی بھی ظفر کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

بقول فراق گورکھپوری ظفر کے کلام میں خلوص جذبات، شاعرانہ احساس، سوزو گداز اور دل میں چٹکیاں لینے والی اور ایک درماندگی کا کیف اور کئی جگہ موسیقیت کا جو عنصر ملتا ہے وہ کل کا کل ظفر کا ہے۔”
ظفر کی غزلیہ شاعری کی ایک اہم جہت زندگی کی المناکی کا اظہار ہے یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ انسانی زندگی کے ارتقاء کی کہانی اس کے دو جذبوں سے عبارت ہے،

Bahadur Shah Zafar
Bahadur Shah Zafar

خوشی اور غم، بقول غالبایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونقنوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی گویا خوشی کی طرح غم بھی زندگی کی ابدی صداقت ہے۔ انگریزی شاعر ہارٹ مین کا عقیدہ تھا:۔ انسانی زندگی میں مسرت و شادمانی کے ذخیروں سے زیادہ غم و الم کا ذخیرہ ہے۔ غم کا جذ بہ کس قدر اہم ہے کہ انگریزی کے مشہور شاعر شیلی بیانگ دہل اعلان کرتا ہے۔ ہمارے شیریں نغمے وہ ہیں جو سب سے المناک خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں۔” بہادر شاہ ظفر کے یہاں بھی غم کا اظہار اپنی تمام ہمہ گیریت اور قوت کے ساتھ موجود ہے۔ ان کے یہاں غم میں مظلومیت یا بیچارگی نہیں بلکہ وہ غم میں بھی شادمانی کے پہلو ڈھونڈ لیتے ہیں اور اس کی پزیرائی کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے۔

یہ غم خواہ غم دوراں ہو یا غم عشق دیکھئے یہ اشعار

نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار شکیب ذرا نہ رہا
غم عشق تو اپنا رفیق رہا، کوئی اور بلا سے رہا نہ رہا

کھائے گا ہم کو کہاں تک فرقتِ جاناں کا غم
دیکھ لینا کھاتے کھاتے غم کا منہ پھر جائے گا

رہا ہے تو ہی غم خوار اے دل غم گیں
تیرے سوا غمِ فرقت کہوں تو کس سے کہوں

میں ہوں عاشق مجھے غم کھانے سے انکار
نہیں کہ ہے غم میری غذا

تو ہے معشوق تجھے غم سے سروکار
نہیں کھائے غم تیری بلا

اے یاس و الم جائو میرے خانۂ دل سے
مہمان کوئی اب تو یہاں اور نہیں آتا

اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ظفر کے یہاں غم ایک نوحہ نہیں بلکہ وفورِ نشاط، ولولۂ زندگی، بے پایاں امنگ اور زندگی کو مرقع بخشنے والے حوصلوں کا وسیلہ ہے۔ پہلے شعر میں ”غمِ عشق تو اپنا رفیق رہا” ایک حسی تجربہ ہے جس میں تہذیب اور رچائو صاف جھلکتا ہے۔ دوسرے شعر میں ”کھائے گا”، ”کھاتے کھاتے” کے توسط سے غم کو اپنے منفرد تخلیقی اسلوب میں اس طرح مجسم کر کے شعر کا جامہ پہنایا گیا ہے کہ حسّی تجربہ بصری پیکر اختیار کرلیتا ہے ۔ تیسرے شعر میں ”اے دلِ غم گیں” شاعر کے کرب کے شدید احساس کا اشاریہ بن جاتا ہے لیکن دوسرے مصرعے کے ”غم فرقت کہوں تو کس سے کہوں” واحد متکلم ہے صیغے کے توسط سے اپنی حسّی واردات کا مقدمہ پیش کیا گیا ہے

جو شاعر کے داخلی کوائف کی جذبہ انگیز زبان میں ترسیل سے عبارت ہے اور اس طرح غم کو راحت و آرام کا وسیلہ بنا کر احساس کی شدت کو پیش کیا گیا ہے چوتھے شعر میں ”غم” کو ایک غذا کے طور پر استعمال کیا گیا ہے شاعر کے نزدیک غم کو ان گنت کرنا زندگی کا بامقصد شعور اور حوصلہ مندی کی ضمانت ہے اور کامیابی کی بشارت بھی جس کی شخصیت میں یہ رنگ اور طنطنہ ہو تو اس کے سامنے غم و آلام کے پہاڑ روئی کے گالے کی طرح اڑ جائیں گے۔ ”میں ہوں عاشق”، ” تو ہے معشوق” کے اجتماع ضدین سے جو نشتریت کو ابھارا گیا ہے وہ فنکار کے تجربے کی وسعت اور مشاہدے کے گہرائی کا ضامن ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ظفر کے یہاں زندگی کی بصیرتیں بہ فیضِ غم حاصل ہوئی ہیں یہی غم انہیں ہمت و حوصلہ اور عزم مستحکم بخشتا ہے۔

ظفر کی غزلیہ شاعری کی ایک اہم خصوصیات یہ بھی ہے کہ ان کی شاعری میں ایک ایسی فضا کا انعکاس ہے جسے ہم درویشانہ بے نیازی، فقیرانہ خود اعتمادی اور عرفانِ ذات کی سرشاری کا نام دے سکتے ہیں۔ ظفر کے یہاں ایسے اشعار مل جائیں گے جس کی فضائے بسیط میں انسانی تقدیر، زندگی کی بے ثباتی اور انسان کے ہاتھوں انسان اور انسانیت کی رسوائی جیسے موضوعات کی جانب بلیغ اشارے پائے جاتے ہیں جو محض روایتی طور پر بیان نہیں کیے گئے ہیں بلکہ واقعتاً ان کی ذات ان تجربات کی مورد تھی۔ ظفر نے حالات کے سرد و گرم اور عہد کے سانحات کو اپنے دل و جگر میں سمولیا تھا اور اس کی تلخیوں کو امرت سمجھ کر پی لیا تھا۔

اس کیفیت کے اظہار میں

اے ظفر کچھ ہو سکے تو فکر کر عقبیٰ کا تو
کر نہ دنیا کا تردد

بھلائی کر کہ تیرا بھی بھلا
برائی کا ثمر اچھا نہیں ہے

اردو شاعری میں شکوے کی روایت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ غالب تو اسے پر شوخ انداز میں اس طرح اپنایا کہ بہت سے اشعار

پکڑے جائے فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی میرا کوئی دم تحریر بھی تھا

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ میں ہوتا تو کیا ہوتا

Iqbal
Iqbal

اقبال نے تو شکوہ اور جواب شکوہ لکھ کر قوم کے افراد کو غفلت سے بیدار کرنے کی سعی کی ۔ اردو شاعری میں شکوے کے موضوع کو مختلف پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ کبھی غزل میں اور کبھی شہر آشوب میں اور کبھی واسوخت میں۔ شکوہ نام ہے آدمی کی آرزو مندی اور ناکامی کے تسلسل سے پیدا ہونے والی کیفیت کے فطری اظہار کا۔ یہ کیفیت بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں بھی ملتی ہے۔ خصوصاً وہ غزل جس کا مطلع ہے

یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا
یا مرا تاج گدایا نہ بنایا ہوتا

اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تو نے
کیوں خردمند بنایا نہ بنایا ہوتا

اس پوری غزل کا ندازِ بیان شکوہ کا ہے زبان مکالماتی استعمال کی گئی ہے جو بولنے والے اعضاء اور اس کے چہرے کا تاثر اس کی آواز کی Pitch واقع کے تئیں اس کے ردِ عمل لہجے کا تعین کرتے ہیں۔ شاعر اس بات کا شاکی ہے کہ خدا نے انسان کو خردمند کیوں بنایا۔ جس کی وجہ سے انسان خدا سے لاتعلق ہو گیا۔

مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں بہادر شاہ ظفر کی غزلیہ شاعری میں عشقیہ جذبات و احساسات کی کیفیات بھی ہیں اور زندگی کی بے ثباتی کا شکوہ بھی لیکن اسے ہم کسی بھی جہت سے قنوطیت سے موسوم نہیں کرسکتے ہیں۔ ان کی شاعری میں تجربات و مشاہدات کا سمندر ہچکولے مار رہا ہے جن میں تصوف کے رموز و نکات بھی ہیں اور صالح عمل کی تلقین بھی۔

ڈاکٹرزرنگار یاسمین موبائل:9835662098 0
zarnigaryasmeen@gmail.com

Share this:
Tags:
History India personality status تاریخ حیثیت شخصیت ہندوستان
Nawaz Sharif
Previous Post 27 سال پرانی شراب، قیمتی قالین، حکمرانوں کے امریکی حکام کو تحائف
Next Post معاشرے کے ہر طبقے کو قیام امن کیلئے انتظامیہ کا دست بازو بننا ہو گا۔ محمد سجاد
Mohammad Sajjad

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close