
نئی دہلی (جیوڈیسک) بھارتی حکومت قانونی ترمیم کے ذریعے اقدام خود کشی کے قابل سزا جرم ہونے کو ختم کر دے گی اور ایسی کوئی کوشش قانونا قابل گرفت نہیں ہوگی۔
داخلہ امور کے جونیئر بھارتی وزیر ہری بھائی پارتھی بھائی چودھری نے کہا کہ حکومت ایک قانونی کمشن کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے اس قانون میں ترمیم کر دے گی جس کے مطابق خود کشی کی کوشش کرنا بھارت میں اب تک ایک ایسا جرم ہے جس پر اپنی جان لینے میں ناکام رہنے والے کسی بھی شہری کو ایک سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
ان کے بقول نئی دہلی حکومت نے اس موضوع پر قانونی ترمیمی سفارشات پر عملدرآمد کا فیصلہ تمام یونین ریاستوں اور بھارتی علاقوں سے ان سفارشات کے بارے میں ان کا ردعمل معلوم کرنے کے بعد کیا ہے۔ اس سے قبل ہری بھائی پارتھی بھائی چودھری نے بھارتی ارکان پارلیمان کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہیں تحریری طور پر بتایا تھا کہ حکومت نے کسی بھی شہری کی طرف سے خود کشی کی کوشش کا احاطہ کرنے والے قانون میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔
داخلہ امور کے جونیئر بھارتی وزیر نے لوک سبھا کو بتایا کہ ریاستوں اور یونین علاقوں کی طرف سے موصول ہونے والے ردعمل کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 309 ختم کر دی جائے گی۔
