
سری نگر (جیوڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیری کسی بھی طرح کے انتشار، تفریق یا مذہبی منافرت کے متحمل نہیں ہو سکتے، بھارت میں فرقہ پرست عناصر برسرِ اقتدار آگئے ہیں اور وہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کے ساتھ ساتھ ان کی مذہبی اور تہذہبی شناخت کو بھی طاقت کے بل پر ختم کرنے کے در پے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اْمت مسلمہ اور خاص طور پر ملت اسلامیہ کشمیر اس وقت ایک نازک ترین دور سے گزررہی ہیں لہذا درددل رکھنے والے مسلکی اور گروہی اختلافات کو انتشار اور افتراق میں تبدیل ہونے کی سازش کو ناکام بنائیں۔
سید علی گیلانی نے مسلکی اور گروہی انتشار کو ہوا دینے والوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ اپنے مجرمانہ کردار کو ترک نہیں کریں گے تو انہیں بے نقاب کرکے عوامی عدالت میں جوابدہ بنادیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ہزاروں کشمیری لاپتا ہوگئے ہیں۔
انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ گمنام قبروں میں مدفن افراد کی تحقیقات کی جائے۔میر واعظ عمر فاروق نے بھی عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں لاپتا ہونے والے کشمیریوں کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔ علاوہ ازیں دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی نے تحریک آزادی کو مضبوط بنانے کے لیے حریت رہنماؤں کے درمیان اتحادو اتفاق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سری نگر میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آسیہ اندرابی نے کہا کہ یہ بہترین موقع ہے کہ سید علی گیلانی کی طرف سے تحریک آزادی کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے اتحادکی کال کو عملی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیری نظربندوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ لیکن بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں کے باوجود کشمیریوں کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
