کراچی : بھارتی آرمی چیف کے سیز فائر خلاف ورزیوں پر پاکستان سے احتجاج اور سیز فائر معاہدے کی پاسداری اپیل کا ڈرامہ بھارتی فوج کی جوابی کاروائی کی دھمکی کے ساتھ ہی فلاپ ہوچکا ہے۔
پاکستان میں طویل عرصہ سے دہشتگردی و لاقانونیت کے ساتھ مختلف مافیا کو امداد کی فراہمی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے بھارت نے سرحدی خلاف ورزیوں کے ساتھ پاکستانی دریاؤں میں اضافی پانی چھوڑ کر پانی کو غرقاب کرنے کی براہ راست دہشتگردی بھی کی ہے۔
جس کے خلاف قوم میں شدید غم و غصہ و اشتعال ہے اور سیلابی پانی سے متاثر ہوکر جان و مال سے محروم ہونے والے تباہ حال متاثرین حکمرانوں کی بھارت نوازی پر حیرت زدہ اور انگشت بدنداں ضرور ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی مگر ضرورت سے زیادہ عاجزی اور انکساری بھی کمزوری تصورکی جاتی ہے۔
نیکسٹ جنریشن پروٹیکشن فاؤنڈیشن (این جی پی ایف ) کے چیئرمین عمران چنگیزی نے کہا کہ حکمرانوں کا مفاہمت و ڈائیلاگ کے زریعے معاملات کے حل کا رویہ یقینا قابل توصیف ہے مگر بھارت جیسے کمینہ خصلت اور بد فطرت دشمن کے ساتھ ہر بات برابری کی سطح پر اور دوٹوک رویئے کے تحت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بھارت کی سمجھ میں وہی زبان آتی اور جس کی سمجھ میں جو زبان آئے اس سے اسی زبان میں گفتگو کرنا دانشمندی کہلاتا ہے۔
اسلئے اب مفاد پرستی کی بجائے حب الوطنی اور دانشمندی کے ساتھ جرأتمندی اپنانے کی ضرورت ہے تب ہی پاکستان اپنا وجود برقرار رکھ پائے گا بصورت دیگر بھارت اور اس ایسے کئی ازلی خبیث ہمیں آزاد تشخص سے محروم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں اور مفادپرستی و بزدلانہ رویئے ان سازشوں کی کامیابی میں معاون کردار کا باعث بن سکتے ہیں۔
