Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ہندوستان کو ہندو راشٹریہ بنانے کی تحریک میں تیزی

November 25, 2017 0 1 min read
Modi Government
Modi Government
Modi Government

تحریر : محمد شاہد محمود
مودی حکومت کے دور اقتدار میں تعلیمی نظام کو بھگوا رنگ میں رنگنے کیلئے تیزی سے کام جاری ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر وزیر تعلیم سمرتی ایرانی کو بے دخل کر دیا گیا اور ان کی جگہ نئے وزیر تعلیم پرکاش جاوڈ یکر نے تعلیمی پالیسی کی تشکیل کیلئے سنگھ پریوار کے نام نہاد علمی مفکرین سے سفارشات تیار کروائی ہیں کہ پرائمری و ہائی سکول کی سطح پر سنگھ پریوار کے نظریات کی تعلیم کیسے دی جا سکتی ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی کی حب الوطنی کی تعریف وضع کرنا اور ہریانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش میں تعلیمی نصاب کے بھگوا کرن کو سامنے رکھا جا رہا ہے۔ ہریانہ کے وزیراعلیٰ نے تعلیمی نصاب میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نصاب میں آر ایس ایس کے متعدد رہنمائوں شیاما پرساد مکھرجی، ویر ساورکر، اودھے شنکر کے ساتھ ساتھ گاولکر کے نظریات اور بنچ آف تھاٹ کے اسباق شامل کئے گئے ہیں۔راجستھان کی بی جے پی زیر قیادت ریاستی حکومت کے اعلان کے مطابق اول تا بارہویں جماعت کی تمام نصابی کتابوں کی تشکیل نو کر چکی ہے تاکہ تعلیم کے ذریعہ بھارتی وچاردھارا سنسکرتی کی تعلیم دی جائے تاکہ تعلیمی اداروں کا بھی شدھی کرن ہو سکے۔ الغرض ہریانہ، راجستھان، گجرات اور مدھیہ پردیش کے پورے تعلیمی نصاب کے بھگوا کرن اور ان کے نفاذ کو دیکھیں تو اس کے نکات کچھ اس طرح ہیں۔

1۔ تہذیب کو بھارتی وچار دھارا کا رنگ دینا
2۔ ودیشی حملہ آوروں اور حکمرانوں کی تہذیب و عقائد کا شدھی کرن
3۔ مغل حکمرانوں کے عقائد کیخلاف نفرت پھیلانا
4۔ ہریانہ، مدھیہ پردیش اور راجستھان کی آٹھویں جماعت کی نصابی کتاب کے باب نمبر 13 میں صاف صاف لکھا ہے کہ اورنگزیب ہندوئوں سے نفرت کرتا تھا۔
5۔ مغل حکمرانوں نے مندر توڑ کر مسجدیں بنوائیں۔
6۔ ساتویں اور آٹھویں جماعت کی نصابی کتب کے اسی باب 13 تا 15 میں محمود غزنوی اور علائو الدین خلجی کے مندر توڑنے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

7۔ اس تعلیمی نصاب میں جگہ جگہ مغل حکمرانوں کیلئے ”ودیشی آکرمن کاری” یعنی غیرملکی حملہ آور کے جملے استعمال کئے گئے ہیں۔

لہٰذا مذکورہ نکات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہندوستان کو ہندو راشٹریہ بنانے کی تحریک طلباء میں پیدا کی جا رہی ہے۔ ایسا ہندو راشٹر جس میں برہمنوں، اعلیٰ ہندو طبقات کو بالادستی حاصل ہو اور باقی طبقات دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے ان کی بالادستی کو قبول کر لیں۔ تعلیمی اداروں میں یوگا کے ساتھ ساتھ بھگوت گیتا کی تعلیم، سوریہ نمسکار اور ہفتے کے آخری دن، بال سبھا اور بال پرارتھنا کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے جس میں مخصوص منتر پڑھائے جاتے ہیں، کھانے کے وقفے میں ‘بھوجن منتراس’ کا چاپ اور ہر ضلع کے آر ایس ایس کے تربیتی کیمپوں میں بھی یوگا کیمپ منعقد کئے جاتے ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ہندوستان بھر کے پسماندہ طبقوں کے بچوں اور خصوصی طور پر دور دراز کے غریب مسلم طلباء کو ان میں شریک کروایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ بھارت کے مختلف علاقوں میں آر ایس ایس کے نرسری ادارے ششو مندر، سیوا بھارتی کا قیام اور اسے ریاستوں و حکومتوں سے باقاعدہ منظور دلوائی گئی ہے۔ ان نرسری و پرائمری ششو مندروں میں آر ایس ایس کے پرچارکوں کی بطور اساتذہ بھرتی کی جا رہی ہے۔ آر ایس ایس کی تعلیمی تنظیم ”ودیا بھارتی” اور ”بھارتی جن سیوا سنتھان”، بھارتیہ شکشا سنتھان کور یہ پروجیکٹ دیا گیا ہے کہ ملک بھر میں پانچ ہزار سے زائد ایسے تعلیمی ادارے قائم کرے۔ سنگھ پریوار کی تعلیمی تنظیموں کو ہدف دیا گیا ہے کہ پورے بھارت میں اکالی دل اور ودیا دل جیسے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لائیں۔ واضح رہے کہ ودیا بھارتی کے تحت ہندوستان میں 43ہزار کے لگ بھگ ایسے فرقہ پرست ادارے پہلے ہی ہندوتوا کی تعلیم دینے میں سرگرم ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں طلباء کو چاہے وہ مسلم ہو یا ہندو انہیں کٹر ہندو اور آر ایس ایس کے نظریات پڑھائے جارہے ہیں۔

علاوہ ازیں بھارت کے تمام شہروں، دیہاتوں کے سرکاری تعلیمی اداروں میں بالاگو کولم کلاسز( بچوں کے مکتب) کے تحت گوگل درشن قائم کئے گئے ہیں۔ جس کا بنیادی مقصد طلباء کو آر ایس ایس سے قریب کرنا ہے تاکہ طلباء پراجین سنسکرتی رسم و رواج، ہندو دھرم کے عقائد کے بارے میں جان لیں۔ ملک گیر سطح پر بالاگو کولم کلاسز این جی اوز کے تحت چلائی جارہی ہیں۔ منصوبے کے مطابق بی جے پی حکومتوں والی ریاستوں میں محکمہ تعلیم کے تعاون سے پرائمری تا ہائی سکولوں میں اسے شروع کیا گیا اور دیگر ریاستوں میں بھی متعلقہ ریاستی محکمہ تعلیم کے تعاون سے آگے بڑھایا جارہا ہے۔

گھنائونے منصوبے کے مطابق ابتدائی مرحلے کے طور پر دارالحکومت دہلی کے تعلیمی اداروں میں 900 کے لگ بھگ ”گوگل درشن” کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور ان کے تخت سوریہ نمسکار’وندے ماترم اور گیتا کا پاٹ پڑھایا جارہا ہے۔ ہندو ریتی رسم و رواج سے جوڑ کر دیگر طبقوں کا ”شدھی کرن” بھی کیا جا رہا ہے۔ ہندی’ مراٹھی و علاقائی زبانوں کے ساتھ انگریزی کے طلباء کی بھی گوگل درشن پروگرام میں شرکت لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس ضمن میں اساتذہ کی ذہنی تربیت کے لئے بھی مختلف پروگراموں کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے۔ دہلی میں جاری گوگل درشن کے اساتذہ سے لے کر انتظام آر ایس ایس پرچارک اور سنگھ کے تربیت یافتہ استاد کر رہے ہیں۔ گوگل درشن میں تحریک طلباء کے لئے تعلیمی پیکیج اور تعلیمی اسکالر شپ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ تعلیم کے بھگواکرن کے تحت طالب علموں کو نامور مندروں کا مطالعاتی دورہ بھی کروایا جاتا ہے۔ ہندو دھرم کی تحقیقات اور روحانی و مذہبی اعلیٰ شخصیات کے بارے میں بھی پڑھایا جاتا ہے۔ سنسکرت زبان کے ساتھ مذہبی گرنتھ بھی طلباء کو یاد کروائے جاتے ہیں۔ یوگا کو جدید ورزش سے جوڑتے ہوئے انہیں مذہبی عبا دات کی تعلیم دی جارہی ہے۔

گوگل درشن میں تمام مذہب کے طلباء کی شرکت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان کلاسز میں پورانا، اشلوک، سنسکرت، کہانیاں، ہندو لڑائیاں اور بیرونی اقوام کی ہندوستان پر یلغار اور تسلط جیسے عنوانات بھی پڑھائے جا رہے ہیں۔ سکول کے بچوں میں ہندو اقدار کو پروان چڑھانے اور تاریخ سے واقف کروانے کے لئے آر ایس ایس نے وسیع پیمانہ پر منصوبہ بندی کی ہے۔ منصوبہ کے مطابق پانچ ہزار سے زائد مکتب قائم کئے گئے ہیں۔ آر ایس ایس نے بی جے پی کی سرپرستی میں 18 سال سے کم عمر طالب علموں میں ہندو انتہا پسندی، قومیت کے علاوہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کی ذہن سازی کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ دراصل بالاگو کولم کا آغاز سب سے پہلے 1975ء میںکیرالہ میں ہوا تھا۔ 1981ء میں اس کا باضابطہ رجسٹریشن کروایا گیا تھا۔ اس کی تجدید کرتے ہوئے سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کے لئے پرچارکوں، گروئوں اور پنڈتوں کو احکامات دئیے گئے ہیں۔ یہ کام تاریخ اور لسانیات کے اساتذہ کے سپرد کیا گیا ہے۔ بچوں کو ہندو طریقۂ زندگی اور ہندو نظام حیات سکھانے کے ساتھ ساتھ ہندو توا کی سربلندی اور مسلمانوں کے خلاف من گھڑت تاریخی واقعات پڑھائے جاتے ہیں۔ ممودی سرکار کے آتے ہی بھارت کے سکولوں کا بھگوا کرن کا مذموم سلسلہ ہی شروع نہیں ہوا بلکہ تعلیمی نصاب میں تبدیلی کا عمل بھی باقاعدہ پلاننگ کے تحت جاری ہے اور اسی منصوبے کے مطابق دہلی کے تعلیمی اداروں میں ممبر سازی کی مہم چلائی جا رہی ہے۔

طالب علموں سمیت اساتذہ پر بی جے پی کی رکنیت قبول کرنے کے لئے دبائو ڈالا جا رہا ہے وگرنہ اساتذہ کی تنخواہیں روک دی جائیں گی۔ اساتذہ اور طلباء کو ”واٹس ایپ” پر پیغام ارسال کیا گیا تھا اور انہیں ممبر شپ کے لئے ایک ٹول فری نمبر بھی دیا گیا تھا۔ دریں اثناء روز بروز بھارت کے تعلیمی اداروں میں مخصوص سوچ اور فکر کو لاگو کرنے کی کوششیں بڑھ رہی ہیں، کہیں مسلمان طلباء و طالبات کو نماز ادا کرنے سے روکا جاتا ہے تو کہیں انہیں حجاب استعمال کرنے اور داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ مکمل طور پر امتیاز سلوک ہے اور اس کا چلن مودی حکومت میں عام ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو تعلیمی اداروں میں داخلے سے روکا جا رہا ہے۔ یہ رویہ بھارتی آئین اور دستور کے منافی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومتیں بھی اس سلسلے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ ریاستی حکومتیں تعلیمی اداروں کی خودمختاری کے حوالے دیتے ہوئے خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوششں کر رہی ہیں۔

تعلیمی اداروں کو خودمختاری کے نام پر مذہبی عقائد میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی اس بات کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ آئین اور دستور کی خلاف ورزیاں کریں۔ اس طرح کے جو اعتراضات ہو رہے ہیں وہ دراصل ایک مخصوص اور فرقہ پرستانہ سوچ کا نتیجہ ہیں۔ اسی سوچ کو تعلیمی اداروں میں عام کرنے کے لئے سنگھ پریوار اور اس کی تنظیمیں کوشش کر رہی ہیں اور اب کوشش میں شدت پیدا ہو گئی ہے یہ ہندو فرقہ پرست تنظیمیں چاہتی ہیں کہ تعلیمی اداروں میں بھی فرقہ پرستی کا ماحول پیدا ہو اور یہاں بھی طلباء کے گروپوں کے مابین امتیاز پر مبنی سلوک کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے سے دورکر دیا جائے۔ ان تنظیموں کو اندازہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ یہاں طلباء برادری میں ابھی ذات پات کا رنگ غالب نہیں آیا اور یہی حقیقت ان انتہا پسند تنظیموں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ وہ چاہتی ہیں کہ اس صورتحال کو بدلا جا سکے تاکہ انہیں اپنے عزائم اور منصوبوں کو پورا کرنے کا موقع مل سکے اور اس کیلئے وہ کسی بھی موقع کو گنوانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بھارتی دستور میں ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کا لباس زیب تن کرے، ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنا مذہبی تشخص برقرار رکھنے کی بھی آزادی دی گئی ہے۔

اس کے باوجود تعلیمی ادارورں پر بھگوا رنگ چڑھتا جا رہا ہے جو ایک خطرناک رجحان ہے۔ آج بھارتی تعلیمی ادارورں میں متعصب ذہنیت کی وجہ سے ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں جن کے نتیجہ میں دستور ہند کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ دستور میں جو گنجائش دی گئی ہے اور جو آزادی اور اجازت ہے اس کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ریاستی حکومتیں خود بھی ایسی کوششوں کی اپنی خاموشی سے حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔ سنگھ پریوار میں تعلیمی نظام میں تبدیلی کیلئے ایک کمیشن شکشا نیتی آیوگ کے نام سے بنایا ہے۔ اس غیرسرکاری کمیشن کا کام موجودہ تعلیمی نظام کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کور اپنی تجاویز پیش کرنا ہے۔ اس کمیشن کا سربراہ دیناناتھ بترا کو بنایا گیا ہے جو سنگھ پریوار کا سب سے بڑا پرچارک ہے۔

بترا تاریخ کے نام پر سادھو، سنتوں کے قصے اور افسانے سنانے میں ماہر ہے۔ وہ سنگھ کا ہی نصاب تعلیم کا نفاذ چاہتے ہیں، بترا کی ذہنیت سمجھنے کیلئے ہندوستان ٹائمز میں شائع یہ بیان ہی کافی ہے کہ”ہندوستان میں انسانوں کے ذریعے کئی تبدیلیاں آئی ہیں لیکن اب جو تبدیلیاں آ رہی ہیں وہ بہت خطرناک ہیں۔ ایک بھیانک اندرونی دشمن جو وطن پرست ہونے کا دعویدار ہے وہ بترا ہے”۔ آر ایس ایس کے سربراہ گوالکر نے اقلیتوں کو سب سے بڑا مسئلہ بتایا تھا اور اب ایسی کتب میں انہی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح آزادی کی جنگ کو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے گویا وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ تھی۔ برصغیر کی تقسیم کا ذمہ دار مسلمانوں کو بتایا گیا ہے۔ اسی طرح گاندھی کے قتل میں سنگھ کے کسی کردار کا ذکر تک نہیں ہے اور ویداس، اپنشید اور قدیم ہندوستانی تاریخ کو آٹھویں، نویں اور دسویں کے نصاب میں شامل کیا جا رہا ہے اور تاریخ سے لیکر جغرافیہ، سائنس تک میں تبدیلی کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔

M Shahid Mehmood‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎
M Shahid Mehmood‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎

تحریر : محمد شاہد محمود

Share this:
Tags:
government India Movement power اقتدار تحریک تعلیمی نظام حکومت ہندوستان
Hassan Zia Awan
Previous Post حسن ضیاء اعوان شادی کے حسین بندھن میں بندھ گئ
Next Post شہداء سلالہ، جنہیں ہم بھول گئے
Shuhada Salala Check Post

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close