
تحریر : عبد الحنان
پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ سے ہی اتار چڑھائو کا شکار رہے ہیں۔ مختلف واقعات سے تعلقات پر بہت اثر پڑتا ہے۔ پاکستان اور بھارت بالترتیب چودہ اور پندرہ اگست1947 کو آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئے۔ دونوں ممالک کو برطانوی ہند کو ہندو مسلم آبادی کی بنیاد پر تقسیم کرنے پر آزاد کیا گیا تھا۔ بھارت جس میں ہندو اکثریتی قوم تھی، ایک سیکولر ریاست قرار پایا۔ جبکہ مسلم اکثریتی پاکستان کو اسلامی جمہوریہ ریاست کا نام دیا گیا۔ آزادی کے وقت سے ہی دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے اچھے تعلقات استوار رکھنے کا عزم ظاہرکیا۔ مگر ہندو مسلم فسادات اور علاقائی تنازعات کی وجہ دونوں ممالک میں کبھی اچھے تعلقات دیکھنے کو نہیں ملے۔ آزادی کے وقت سے اب تک دونوں ممالک کے چار بڑی جنگوں جبکہ بہت ہی سرحدی جھڑپوں میں ملوث رہ چکے ہیں۔ پاک بھارت جنگ 1971 اور جنگ آزادی بنگلہ دیش کے علاوہ تمام جنگوں اور سرحدی کشیدگیوں کامحرک کشمیرکی تحریک آزادی رہی ہے۔بھارت نے شروع دن سے ہی پاکستان کے وجود کو قبول نہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے بہت کوشش کی گئیں جن میں آگرا ،شملہ اور لاہور کا سربراہی اجلاس سرفہرست ہے۔
لیکن حالات ٹھیک ہونے کی بجائے دن بدن خراب ہوتے نظر آرہے ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور پاکستان کا دنیا کے اندر ایک وجود ہے جو بھارت کو برداشت نہیں بھارت نے شروع دن سے پاکستان میں مداخلت کی ہے اور دہشتگردی کے واقعات کو پروان چرہایا ہے آرمی پبلک سکول کا حملہ ،باچا خان یونیورسٹی کا حملہ ،یا پھر کوئٹہ میں وکلاء پر جو حملہ ہوا اور حال ہی میں کوئٹہ پولیس ٹریننگ سنٹر پر حملہ ان سب کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو افغانستان قونصل خانوں میں دہشتگردوں کو تربیت دے کر پاکستان میں بھیجا جاتا ہے ۔ وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں گزشتہ روز پیش آنے والے سانحہ اور اس کی کڑیوں تک پہنچنے کے لئے حکمت عملی پر غور کیا گیا اجلاس میں سیاسی اور عسکری قیادت کو بتایا گیا کہ واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں دہشت گرد چند روز پہلے ہی افغانستان سے آئے تھے۔
پاکستان نے بلوچستان میں مداخلت کا معاملہ بھارت اور افغانستان کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے پاکستان میں دہشتگردی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کیے جانے پر امریکہ سمیت عالمی قوتوں کے ساتھ دوٹوک موقف اپنانے کو کہا جائے گا سانخہ کوئٹہ کی صورت میں ہمیں بہت گہرا ذخم لگا ہے افغان ایجنسی( این ایس ڈی)اکیلے اتنی بڑی کاروائی نہیں کرسکتی جب تک را کا تعاون اور رہنمائی حاصل نہ ہو آج یہ بات کی جاتی ہے کہ کشمیر میں اڑی کیمپ پر حملہ کے بعد یہ توقع کی جارہی تھی کہ بھارت نے جو ڈرامہ رچایا ہے اس کا ڈراپ سین کچھ ایسا ہی ہوگا بھارت نے ایک طرف سرحدوں پر بلا اشتغال فائرنگ کرکے خوف ہراس پھیلانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تو دوسری طرف وہ پاکستان کے اندر کاروائیوں کے لیے افغان سرزمین اور افغان ایجنسی کو استعمال کرتا ہے انڈیا کے منصوبے واضع ہوچکے ہیں۔
ہمارا سب سے بڑا جرم کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی سیاسی سفارتی اور احلاقی حمایت کی ہے کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور پاکستان اس معاملے کو پس پشت ڈالے گا تو ہمیشہ کے لیے کشمیر ان کے ہاتھوں سے جاتا رہے گا اب وقت ہے کچھ کرنے کا کشمیری پاکستان کی سالمیت کے لیے قربانیاں پیش کررہے ہیں آج ہمیں آپنے پرچم کی قدر نہیں کشمیریوں سے پاکستان کے پرچم کی قدر پوچھیں جو 2کپڑوں کو جوڑ کر ہاتھ سے چاند ستارہ بناکر انڈین آرمی کے سامنے کھڑے ہوکر پرچم لہراتے ہیں اور بدلے میں ان کی آنکھوں کو ضائع کیا جاتا ہے یا شہید کردیا جاتا ہے کشمیر کا مسئلہ حقیقت میں پاکستان کا مسئلہ ہے اور ہم خود حل کریں گئے اسکابھارت کی یہ تحزیب کاری کا مقصد کہ پاکستان کشمیر کے معاملے میں نہ بولے اور اس معاملے کو دبا دیا جائے۔
حکومت اور عوام کو کسی اور مسئلے میں الجھایا جائے بھارت نے شروع دن سے یہ چال چلی ہے اس کے علاوہ ہم سی پیک منصوبے پر عمل کرکے بھارت کی اقتصادی برتری کو چیلنج کررہے ہیں جو اس کے لیے کسی کانٹے سے کم نہیں جو مسلسل اس کی آنکھ میں چب رہا ہے بھارت ایک طرف بلوچستان میں مسلسل کاروائی کررہا ہے تو دوسری طرف گلگت بلتستان کی پاکستان کو دھمکیاں لگا رہا ہے یہ ہمارے علاقے ہیں پاکستان نے اس پر قبضہ کیا ہے چند ماہ پہلے پکڑا جانے والا کلبوشن را کا حاضر سروس ایجنٹ جس نے باقاعدہ خود بہت سارے حملوں میں ملوث ہونے کا قبول کیا۔
لیکن اس کے باوجود ہم بھارت کو دفاعی پوزیشن میں نہیں لاسکے جنرل اسمبلی میں نوازشریف نے کلبوشن کا تزکرہ کرنا تو دور آپنے زہن سے بھی اس کو دور رکھا تھا اب وقت آگیا ہے دونوں ملکوں بلکہ امریکہ سے بھی کھل کر بات کی جائے بھارت وزیر اعظم نریندرمودی تو صاف صاف کہ چکا ہے کہ بلوچستان کے لوگ ہمیں آزادی میں مدد دینے کے لیے پکاررہے ہیں۔
مودی جنہیں پاکستان کے لوگ کہ رہے ہیں وہ براہمداغ اور حریبار جیسے چند مٹھی بھر علیحدگی پسند ہیں ورنہ بلوچستان کی ساری آبادی محب وطن ہے اور اس کا اکثر مظاہرہ ہوتا رہتا ہے جب تک بھارت کو صاف صاف بتایا نہیں جائے گا کہ اب مزید تحزیب کاری برداشت نہیں کی جائیگی اس وقت تک وہ دہشتگردی سے باز نہیں آئے گا ہمیں آپنے رویے سخت کرنے ہوگے اور سنجیدہ رہ کر سخت لہجہ اختیار کرکے انڈیا کو جواب دینا ہوگا اور میرا اظہار خیال ہے ک ہمیں آپنی خارجہ پالیسی کو ہر ممکن کوشش کرکے بہتر سے بہتر کرنا ہوگا تاکہ بھارت کسی کاروائی سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور ہو جائے میں یہاں بتاتا چلو کہ انڈیا پاکستان کا ازلی دشمن ہے اس کے مقاصد میں شامل ہے۔
پاکستان کو خوشخال نہیں دیکھنا یہ ملک ترقی نہ کر پائے پاک چائنہ راہداری کا منصوبہ پایا تکمیل تک نہ پہنچے جنگی جنون میں مبتلا بھارت کی جانب سے ایل اوسی اور ورکنگ بانڈری پر سیز فائر کی خلافی ورزی کا سلسلہ گزشتہ روز سے بمبر سیکٹر سیالکوٹ چپڑار سیکٹر شکر گڑھ سیکٹر پر ابھی بھی جاری ہے جس میں اب تک بہت سارے مقامی متعدد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں فصلوں کا مکانوں کا نقصان ہوا ہے بھارت جس معاملے پر سرحدوں کی خلاف ورزی کا کررہا ہے اس کا مقصد پاکستان کو دبا میں لانا اور کشمیریوں کی جدوجہد سے اس کی توجہ ہٹانا ہے۔
بھارت نے پاکستان کو کشمیریوں کی حمایت سے باز رکھنے کے لیے کئی راستے اختیار کیے ہیں عالمی برادری کو اور پاکستان کے اداروں کو نوٹس لینا چاہیے جن کا مقصد علاقے کا امن تباہ کرنا ہے اس کے لیے بھارتی ہائی کمیشنر یا اس کے نائب صدر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروانا کافی نہیںبلکہ اس خطرناک صورتحال کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں بھارت یقینا آپنے رویے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوجائے اور یہ تب ممکن ہے جب پاک آرمی پاکستان کی عوام اور حکومت کی طرف سے اس کی زبان میں جواب جائے گا۔
تحریر : عبدالحنان
