Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ہندو طالبان

November 25, 2015 0 1 min read
Extremist
Narendra Modi
Narendra Modi

تحریر: میر افسر امان، کالمسٹ
ماہِ رواں کے دوسرے ہفتے میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے برطانیہ کا دورہ کیا ۔ اِس دورے کے موقع پر عالمی سطح پر مودی کو وہ پذیرائی نہیں ملی جو دورہ امریکہ کے وقت ملی تھی ۔ امریکہ میں انہوں نے گوگل ، مائیکرو سافٹ اور فیس بک سمیت کئی بین الاقوامی اداروں کا دورہ کیا۔ اُس دورہ کو ذرائع ابلاغ میں غیر معمولی کوریج بھی ملی تھی، جبکہ دورہ برطانیہ کئی حوالوں سے مایوس کن تھا۔ ایک تو دورہ برطانیہ کے موقع پر کشمیری ، نیپالی ، سری لنکن اور بہت سے ہندوستانیوں نے ان کی آمد پر 10 ڈاوننگ اسٹریٹ کے باہر مظاہرے کئے۔

دوسرا برطانوی ذرائع ابلاغ میں بھی وزیر اعظم مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی ہوئی ۔ برطانوی پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر نے نہ صرف وزیر اعظم مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کیا ۔ بلکہ ان کے اعزاز میں ہونے والی دیگر تقریبات میں بھی احتجاجاً شرکت نہیں کی ۔ اقتصادی حوالوں سے تو نریندر مودی کچھ نہ کچھ حاصل کرپائے ہیں مگر اِن کی اخلاقی ساکھ پر برطانوی معاشرے میں طرح طرح کے سوالات اُٹھتے رہے ، برطانوی عوام اور پریس نے نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ خاص طور پر ہندوستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور عدم رواداری کی برطانوی پالیسیاں اور برطانوی اپوزیشن لیڈر کے بائیکاٹ نے یقیناً ہندوستان کے پالیسی سازوں اور لابنگ کرنے والے اداروں کو یہ اَمر ضرور باور کرایا ہوگا کہ اب مہذب دنیا میں نفرت ، تشدد اور عدم رواداری کی کوئی گنجائش نہیں۔

مودی کے دورہ برطانیہ کے موقع پر مجھے ذاتی طور پر نہ صرف احتجاج کو دیکھنے کا موقع ملا بلکہ احتجاجی مظاہرین کے قائدین سے تبادلہ خیال نے بھی میرے اندر یہ احساس اُجاگر کیا کہ مستقبل میں کئی تنازعات مودی کا ساری دنیا میں آسیب کی طرح تعاقب کرتے رہیں گے ۔ وہ سانحہ گجرات سے جتنی بھی جان چھڑانے کی کشش کریں ۔ مگر دو ہزار بے گناہ مسلمانوں کا خون اُن کی گردن پر ہے۔12 نومبر کو برطانوی پارلیمنٹ کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے وہاں سے عام آدمی کا گزرنا بھی مشکل تھا ، ہزاروں لوگ سیاہ جھنڈیوں کے ساتھ مودی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کررہے تھے ۔ سکھ فیڈریشن کا احتجاج انتہائی موثر تھا ۔ بہت سے احتجاجی بینروں اور پلے کارڈز پر نریند مودی کو ہٹلر کے روپ میں دکھایا گیا تھا اور بعض پر لکھا تھا مودی دہشت گرد ہیں ۔ مظاہرین میںبرطانوی کشمیری ، دلت،سکھ ، سری لنکن اور نیپالی ایسوسی ایشنوں کے نمائندگان سرفہرست تھے۔

Protest
Protest

خود ہندوستان کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکن بھی سراپا احتجاج تھے ۔ بعض جگہوں پر برطانوی شہری بھی مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے شامل تھے ۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ایک ایسا وزیر اعظم جس کے دامن پر بے گناہوں کے خون کے دھبے ہیں جس کی امن مخالف پالیسیوں سے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہورہے ہیں ،ان کے اس دورے پر پاکستانی ذرائع ابلاغ نے بہت کم وقت دیا ۔ اس موضوع پر مذاکرے ، مباحثے ، ٹاک شوز نہ ہونے کے برابر تھے ، ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔ کم از کم کشمیریوں اور سکھوں کے حوالے سے تو یہاں میڈیا رپورٹس شائع ہونی چاہئیں تھیں کیونکہ کشمیریوں کی پاکستان اخلاقی سپورٹ کرتا ہے اور جبکہ خالصتان تحریک اپنے عروج کے دنوں میں پاکستان میں کافی توجہ حاصل کرپائی تھی۔

اس موقع پر میں نے ایک سکھ رہنما سے سوال کیا کہ آزادی کے وقت قائد اعظم محمد علی جناح سکھوں کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے کیا اُس وقت اُن کی بات نہ مان کر آپ لوگوں نے خود اپنا نقصان نہیں کیا ؟ ایک اکالی لیڈر نے کھلے دل سے میرے موقف کو تسلیم کیا اور کہا کہ تقسیمِ ہند کے وقت ہم پاکستان کے ساتھ چلے جاتے تو ہماری حیثیت مختلف ہوتی ۔ اَب خدا معلوم ہندوستان کی غلامی میں ہمیں کتنے سال بسر کرنا پڑیں گے ۔ گفتگو کے دوران بہت سے بزرگ سکھ میرے اردگرد اکٹھے ہوگئے ۔ ان سب نے اس بات کو مانا کہ 1947 ء میں سکھ قیادت نے بہت بڑی غلطی کی تھی ۔ جبکہ جناح صاحب کی نگاہ دور رس جو مستقبل کا خاکہ دیکھ رہی تھیں وہ ہم دیکھنے سے قاصر تھے ۔ ہماری قیادت مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔

میں احتجاجی مظاہرین کے رویے ، نعروں اور تقاریر کو بڑے غور سے سن رہا تھا میں نے دیکھا کہ نیپالی ایسوسی ایشن کے کارکن پریس کو اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہیںوہ اُن لوگوں کے ساتھ جاکر کھڑے ہوجاتے جن کے گرد مظاہرین جمع ہوتے تھے ۔نیپالیوںکی کوششیں اجتماعی بھی تھیں اور انفرادی بھی ۔ اس سے پہلے برطانیہ کے لوگوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ ہندوستان نے نیپالی سرحد کی ناکہ بندی کرکے نیپالی عوام پر کتنے مظالم ڈھائے ہیں ۔ نیپالیوں کو غذائی قلت کا سامنا تھا۔ پیٹرول نہ ہونے کی وجہ سے بچے تعلیمی اداروں اور بیمار افراد اسپتال نہیں جاسکتے تھے ۔ نیپالی مظاہرین نے اپنے احتجاج کی بنیاد انسانی حقوق کو بنایا۔ اگلے دن پریس میں انہیں کافی پذیرائی ملی ۔ اب ہمیں بھی اس اَمر کو بھی دیکھنا چاہئے کہ دنیا کے سامنے جب ہم اپنی بات رکھیں تو اس بات کا خیال ضرور رہے کہ بین الاقوامی دنیا کیا دیکھتی اور سوچتی ہے۔

Extremist
Extremist

عالمی ضمیر کو کیسے بیدار کیا جاسکتا ہے ؟ ہر بات گہری سوچ و بچار کا تقاضہ کرتی ہے ۔ وہ ہمسایہ ملک جن کے ساتھ ہندوستان کا جارحانہ رویہ ہے، اُن کی خبریں ہمارے ذرائع ابلاغ میں بھی جگہ بنائیں تاکہ خطے کے دیگر ملکوں کو پتہ چلے کہ ہندوستان کی انتہا پسند حکومت کے جارحانہ رویوں کی وجہ سے ہمسایہ ممالک کن مسائل و مشکلات کا شکار ہیں ۔کشمیریوں کا احتجاج میرے لیے حوصلہ مند نہیں تھا ۔ اگر چہ کشمیری تعداد میں بہت زیادہ تھے لیکن ان میں نظم و ضبط کا فقدان تھا ۔ وہ مختلف گروپوں میں بٹے ہوئے تھے ۔ ان میں ہم آہنگی اور یکسوئی کا فقدان تھا ۔ کشمیریوں نے اپنے مقدمے کا کوئی کتابچہ نہیں بنایا تھا نہ ہی وہ میڈیا کے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔ کچھ لوگ ویڈیو اور ٹیپ ریکارڈر اپنے ساتھ لائے تھے جن پر پاکستان کے ملی نغمے اور جنگی ترانے بج رہے تھے۔

جن کی اُس وقت قطعاً ضرورت نہ تھی ۔ زیادہ تر لوگ ٹولیوں کی شکل میں تھے ۔ اپنی تصویروں اور سیلفیوں میں مشغول تھے ۔ ان کی بے ترتیبی اس بات کی غماز تھی کہ انہوں نے کسی قسم کا ہوم ورک نہیں کیا جبکہ کشمیریوں کا کیس تو سکھوں سے بھی زیادہ مضبوط ہے جس کے متعلق اقوام متحدہ سمیت کئی فورموں پرسینکڑوں بار مباحث ہوچکے ہیں ۔ کشمیریوں نے آزادی کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔ ان پر ظلم کی داستانیں انسانی ضمیر کو جگانے کیلئے کافی ہیں ۔ ان کی لہورنگ تصویریں عام آدمی کو اَشک بار کردیتی ہیں ۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کیلئے یہ ایک اہم موقع تھا کہ وہ اپنے سیاسی اور سفارتی نمائندوں کے ذریعے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرتی ۔ اس موقع پر کشمیریوں کے احتجاج کو منظم کیا ہوتا تو اس کے اچھے نتائج سامنے آتے۔

ہمیں نریندر مودی کے دورہ کے پس منظر میں ایک جامع اسٹڈی کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جب مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تھا تو اُس وقت مقبوضہ وادی میں کرفیو کا سماں تھا ۔ اب تو خود ہندوستان کے بھی دانشور کہہ رہے ہیں کہ مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیاں ہندوستان کے سیکولر چہرے پر بد نما داغ ہیں ۔ برطانوی ذرائع ابلاغ نے بی جے پی کیلئے ”ہندو طالبان ” کی اصطلاح استعمال کی ۔ ہندوستان کے بڑے بڑے ادیب ، دانش ور ، فنکار ، سائنس دان اور سابق فوجی افسر حکومت کو ا پنے اعزازات واپس کررہے ہیں۔ وہاں کا پڑھا لکھا طبقہ عدمِ تشدد کے ماحول کو خراب نہیں کرنے دینا چاہتا ۔ میں نے برطانیہ میں مظاہروں میں دیکھا کہ چھوٹی ذات کے لوگ جنھیں ہندوستان میں ”دِلت” کہا جاتا ہے وہ بھی سراپا احتجاج تھے کیونکہ ہندو ازم پرمبنی پالیسیوں نے غریب طبقے کی زندگی اَجیرن کر رکھی ہے ۔ بڑی ذاتوں کے غیر مساویانہ سلوک کے وہ شاکی تھے ۔

RSS
RSS

آر ایس ایس کا یہ نظریہ کہ پڑوسی ممالک کو ہمیشہ دباؤ میں رکھا جائے ۔ مودی سرکار نے اُسے بھی بڑھاوا دیا ہے ۔ شاید ہمارے ہاں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ نہ صرف مشرقی پنجاب میں بلکہ عالمی سطح پر سکھوں میں آزادی کی لہر زور پکڑ رہی ہے ۔ آج وہ ماسٹر تارا سنگھ جیسے اکالی لیڈر کی غلطیوں کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ ہندوستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر وہ ہندوستانی بھی سخت پریشان ہیں جو بیرونی ملک مقیم ہیں ۔جیسا کہ میں پہلے کشمیریوں کے ضمن میں تذکرہ کر رہا تھا کہ روایتی جلوس اور تقلیدی انداز ِفکر کو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ ہمارے لوگ عصر حاضر کے تقاضوں سے نابلد ہیں ۔ ہم لوگ موثر لابنگ کرتے تو نتائج مختلف ہوتے ۔ نریندر مودی کے دورہ برطانیہ کے موقع پر بد قسمتی سے کشمیریوں کو ذرائع ابلاغ میں بہت کم کوریج ملی۔

اگر ہم لوگ اپنے جھنڈے اور سیاسی شناختوں اور گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر کام کریں تو اس کے اچھے نتائج نکل سکتے ہیں ۔ کشمیریوں کے پاس تو حق خود ارادیت کا نعرہ ہی بہت طاقتور ہے ۔ اقوام متحدہ ضامن ہے ۔ اگرپاکستانی کشمیری اور مقبوضہ کشمیرکے باسی اپنے احتجاج میں عالمی رائے عامہ کو اس بات کا احساس دلا سکیں کہ کشمیر ایک انسانی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ڈیڑھ ارب انسانوں کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے ۔حق خود ارادیت کے اصول پراگر ایسٹ تیمور کو الگ شناخت مل ہوسکتی ہے تو کشمیریوں کو کیوں نہیں ۔ مؤثراور مربوط حکمت عملی سے منزل بہت قریب آجائے گی ۔نریندر مودی کے دورہ امریکہ ، برطانیہ کے حوالے سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مودی وزیر اعظم ہند نہ بنتے تو کیا امریکہ اور یورپ میں ان کے داخلے پر یوں ہی پابندی ہوتی ؟ کیا کسی ظالم اور فاشسٹ کے وزیر اعظم بننے سے اُس کے سابقہ تمام جرائم دُھل جاتے ہیں ؟ آئندہ ہمیں جامع پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔

ہندوستان کی جارحانہ پالیسیوں کا شکار دیگر اقوام اور ممالک کو ہم ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں ۔ عالمی سطح پر سفارتی تگ و دو جاندار ہونی چاہئے ۔ جلسے ، جلوس منظم اور نظم و ضبط کے ساتھ منعقد کیے جائیں ۔ اس بات کو بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ گاندھی جیسا شخص جو تشدد کا مخالف تھا ، اُس کے قاتل کو ہندوستان میں ہیرو بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں ۔ یہ مودی سرکار کے اندازِ حکومت کا ایک افسوسناک پہلو ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا زیادہ عرصہ اقتدار میں رہنا ہندوستان کی بقا ء اور سلامتی کے لئے خطرناک ہے۔ سکھوں کی مذہبی علامتوں کی مسلسل بے حرمتی کی جارہی ہے ، یہ عوامل ہندوستان میں خانہ جنگی کا سبب بن سکتے ہیں۔ جبکہ ابھی تک آپریشن بلیو اسٹار کے گھاؤ سے خون رس رہا ہے ۔ بی جے پی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے پر تشدد رویوں نے ہندوستان کی بزنس کلاس کو بھی مایوسی کا شکار کردیا ہے ۔ ہندوستان میں ریپ کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔

SAARC
SAARC

سارک کا پلیٹ فارم اَب نہ صرف غیر مؤثر ہوچکا ہے بلکہ اِس کی حیثیت ” ڈیبیٹنگ کلب ” سے زیادہ نہیں ۔ کاش قیام پاکستان کے وقت سکھ حضرات قائد اعظم کی بات مان لیتے تو نہ صرف اُن کے مذہبی مقامات محفوظ ہوتے بلکہ ایک ہی خطے میں رہتے ہوئے انہیں مذہبی اور ثقافتی محاذ پر دشواری پیش نہ آتی ۔ ہمیں اس جانب بھی توجہ دینی چاہئے کہ نیو یارک میں ہم ہر سال کشمیریوں کا کیس اقوام عالم کے سامنے پیش کرتے ہیں ، اس مرتبہ برطانیہ میں پیش کرنے سے ہم کیوں ہچکچائے ؟ جبکہ برطانیہ تقسیمِ ہند کے وقت ایک فریق تھا ۔ ہماری وزارتِ خارجہ اور برطانیہ میں سفارتخانے کو بھی اپنی کاوشوں کاجائزہ لینا چاہئے ۔ کشمیری رہنماؤں جناب سید علی گیلانی ، یاسین ملک ، شبیر شاہ ، میر واعظ عمر فاروق اور دیگر رہنماؤں کو اپنی پالیسی از سر نو تربیت دینی چاہئے ۔ہمیں عالمی برادری سے یہ سوال بھی کرنا چاہئے کہ اگر کسی ملک میں داعش کا کوئی لیڈر ووٹ لے کر انتخابات میں کامیاب ہوجائے تو کیا امریکہ اور برطانیہ سمیت مہذب دنیا اُسے تسلیم کرے گی ؟ بی جے پی ”آر ایس ایس” اور مودی کا چہرہ ساری دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ نریندر مودی اور تشدد ایک سکے کے دو رُخ ہیں۔

بھارت کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی دینا جنوبی ایشیاء کا امن غارت کرنے کے مترادف ہے ۔ الجزیرہ ٹی وی نے تو یہاں تک کہا کہ مودی کے دورہ برطانیہ کے موقع پر برٹش انڈین تقسیم تھے ۔ اِن میں اپنے وزیر اعظم کے بارے میں خیر سگالی کے جذبات نہیں تھے ۔ مودی کے اعزاز میں ہونے والی تقریبات احتجاج کی وجہ سے گہنا گئیں ۔ برطانوی حکومت کو غیر معمولی سیکورٹی اقدامات لینا پڑے ۔ دورۂ امریکہ کے موقع پر نریندر مودی کو جو پذیرائی ملی ، برطانوی دورے میں اس کا صرف تصور ہی کیاجاسکتا تھا۔ اُس وقت برطانوی وزیر اعظم نے نریندر مودی کے حق میں کوئی جاندار بیان بھی نہیں دیا ۔ دہلی اور بہار کے انتخابات میں ناکامی کے بعد نریندر مودی کو تشدد اور انتہا پسندی کو بطور سرکاری پالیسی ترک کردینا چاہئے ۔ مشترکہ اعلامیے میں بھی روایتی باتوں کے علاوہ کوئی موثر اور متاثر کن بات نہیں تھی ۔ زیادہ سے زیادہ بھارت اب مغربی کمپنیوں کی منڈی بننے جارہا ہے۔

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر: میر افسر امان، کالمسٹ
کنوینر کالمسٹ کونسل آف پاکستان اسلام آباد(سی سی پی)

Share this:
Tags:
India narendra modi pakistan United Kingdom USA امریکہ برطانیہ طالبان نریندر مودی ہندو ہندوستان
Rangers
Previous Post رینجرز کا کورنگی میں ایم کیوایم کے سیکٹر آفس پر چھاپہ
Next Post فرانس میں مارے جانے والے بیگناہ انسانوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی اور دہشتگردی کے خلاف یکجہتی کا اظہار
MP khalid Mahmood

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close