Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بھارتی آبی جارحیت اور ہماری ناقص حکمت عملی

September 14, 2014 1 1 min read
Indian Water Aggression
Pandit Jawaharlal Nehru
Pandit Jawaharlal Nehru

تقریباً ساڑھے تین سو سال قبل مسیح کی بات ہے جب کوٹلیہ چانکیہ نے ہندوستان کے بادشاہوں کو حکومتی اسرار رموز سکھانے کیلئے ایک کتاب ”ارتھ شاستر“ لکھی،یہ کتاب جھوٹ، مکر و فریب، منافقت، دھوکہ دہی، دغا اور چالبازی کے گروں پر مبنی ہے، منافقت، مکروفریب اور دغابازی کے اصولوں پر مبنی یہ کتاب صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی بھارتی سیاست کا مزکر و محور ہے،بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے لے کر موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی تک ہر بھارتی حکمران ہمیں چانکیائی سیاست پر پوری طرح عمل پیرا نظر آتا ہے۔

چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر کا ایک اصول ہے کہ”دشمن کو کبھی اعتماد میں نہ آنے دو، کہو کچھ، کرو کچھ، جب دباؤ آئے، تو وعدہ کرلو، جب دباؤ ہٹے، تو مکر جاؤ۔“ چانکیہ کا یہ منافقانہ گر بھارت کی سیاسی اور خارجہ پالیسی کی اصل بنیاد واساس ہے، قیام پاکستان سے لے کر آج تک ایسے بے شمار مواقع آئے جب بھارت کے بڑے بڑے لیڈروں نے پاکستان کے ساتھ مسائل کے حل کے اعلانات اور وعدے کئے، لیکن بعد میں اپنی کمٹمنٹ سے مکر گئے،اَمر واقعہ یہ ہے کہ بھارت جو اعلان کرتا ہے، ا_±س سے بھاگ جاتا ہے، جو وعدہ کرتا ہے، اس سے مکر جاتا ہے اور جو معاہدے کرتا ہے، اسے خود ہی توڑ دیتا ہے،67سالہ تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ہیں جو بھارت کی دوغلی پالیسی کے آئینہ دار ہیں۔

سردست ہم1961-61 کے سندھ طاس معاہدے کی بات کرتے ہیں جس کے تحت بھارت اِس اَمر کا پابند ہے کہ پاکستان کو ممکنہ سیلابی خطرے سے پیشگی آگاہ کرے، مگر ماضی کی طرح ایک بار پھر بھارت نے پاک بھارت دوستی کی بحالی کے بلند بانگ دعووں اور اعتماد سازی کی یقین دہانیوں کے باوجود انتہائی منفی کردار ادا کرتے ہوئے دریائے چناب اور ستلج میں پیشگی اطلاع دیئے بغیر سیلابی ریلا چھوڑ کر ہمارے ارباب اقتدار کی یک طرفہ محبت کی پینگوں کا برہمنیانہ اندار میں جواب دیا۔

بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے سیلابی ریلوں کی وجہ سے سیکڑوں پاکستانی دیہات وقصبے زیر آب آئے اور اربوں کی املاک ، اراضی اور مویشیوں کا نقصان الگ ہواہے، جبکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کا فرض تھا کہ وہ اپنے اِس اقدام کی پیشگی اطلاع دیتا لیکن اُس نے ماضی طرح اس بار بھی ایسا نہ کیا،لہٰذا اس تناظر میں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ بھارتی حکمران پاکستانیوں سے” آستیں میں دشنہ پنہاں اور ہاتھ میں خنجر کھلا “ قسم کی ”دوستانہ ڈپلو میسی “ بروئے کار لاتے ہیں۔

اَمر واقعہ یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے دریاوں میں پانی چھوڑنے اور بارشوں کے سبب سیلابوں کا آنا ہر سال کامعمول بنتا جارہا ہے،اس کی بڑی وجہ پاکستانی دریاوں پر متنازعہ بھارتی ڈیموں کی تعمیر اور پاکستان میں کالا باغ ڈیم جیسے سود مند منصوبوں پر عمل درآمد کا نہ ہوناہے، جب سے بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈیموں کی تعمیر شروع کی ،اُس وقت سے محب وطن حلقوں حکومت کو آگاہ کرتے رہے کہ بھارتی آبی جارحیت کوفوری روکا جائے وگرنہ بھارت جب چاہے گا پانی روک کر پاکستان میں خشک سالی کی کیفیت اور جب چاہے گا دریاوں میں یکدم پانی چھوڑ کر سیلاب کی صورتحال پیدا کر دے گا، مگر صد افسوس کہ اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

نائن الیون کے بعد بھارت نے اسرائیلی ماہرین اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تعاون سے جنگی بنیادوں پر ڈیموں کی تعمیر مکمل کرنا شروع کی، مگر پرویز مشرف اوربعد میں آنے والی حکومتیں خاموش تماشائی بنی رہیں بلکہ متنازعہ ڈیموں کی تعمیر کے مقدمات بھی عالمی ثالثی عدالت میں صحیح معنوں میں نہیں لڑے گئے اور بھارت سے یکطرفہ دوستی پروان چڑھانے کیلئے پاکستان کے اصل موقف کوعالمی ثالثی عدالت میںپیش ہی نہیں کیا گیا،جس کا نقصان یہ ہوا کہ بھارت ڈیموں پر ڈیم تعمیر کرکے پانی ذخیرہ کرنے اور روکنے کی صلاحیت بڑھاتا رہا ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جب پاکستان میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو فصلوں کو پانی نہیں ملتا اور جب ضرورت نہیں ہوتی تو بھارت یکدم پانی چھوڑ کر ملک میں سیلاب کی صورتحال پیدا کر دیتا ہے۔

Indian Water Aggression
Indian Water Aggression

اَمر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنے والا ازلی دشمن بھارت 2020 ءتک تمام دریاوں کے پانیوں کو اپنی حدود میں ذخیرہ کرنے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہے جس کی تصدیق بھارتی انسٹی ٹیوشن آف انجینئرزنے نیپال کانفرنس 2011 ءمیں کرچکے ہیں،جبکہ عالمی ماہرین کی جائزہ رپورٹ کہتی ہے کہ 1922 ءسے 1961 ءتک تقریباًچالیس سال میں دریائے سندھ میں 93 ملین ایکڑ فٹ پانی، دریائے جہلم میں 23 ملین ایکڑ فٹ اور دریائے چناب میں 26 ملین ایکڑ فٹ پانی رہ گیا۔

اس ناقابل تردید جائزہ رپورٹ کے مطابق بھارت نے پاکستان کے حصہ میں آنے والے مغربی دریاوں چناب، جہلم اور سندھ کا 56 ملین ایکڑفٹ یعنی کہ 5 کروڑ 60 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ہڑپ کر لیا ہے، حالانکہ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 3 شق نمبر 1 کے تحت پاکستان کو بغیر کسی پابندی کے مغربی دریاوں کے پانیوں کو استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، اسی طرح آرٹیکل 3 شق نمبر 2 میں بھی تاکید کی گئی ہے کہ بھارت پرلازم ہے کہ وہ مغربی دریاوں کو بہنے دے اور اس حوالہ سے بھارت کو کسی قسم کی مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہو گا اور وہ ان پر سٹوریج ڈیم ہرگز نہیں بناسکتا اور نہ ہی کسی دریا اور نالے کا رخ موڑ سکتا ہے، لیکن بھارت کے جو دل میں آتا ہے وہ کر رہا ہے کوئی اسے پوچھنے والا نہیں ہے۔

یہی وہ حکومتی کمزوریاں ہیں جس سے غاصب بھارت کے حوصلے بڑھ رہے ہیں، بھارت نے پن بجلی کی آڑ میں پاکستان کی جانب بہنے والے دریاوں کے 56 ملین ایکڑ فٹ پانی کا رخ شمال سے جنوب کی طرف موڑنے کی مکمل صلاحیت حاصل کرلی ہے،یوں 1961 ءکے مقابلہ میں پاکستانی دریاوں میں دو تہائی پانی کم ہو چکا ہے،بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی آڑ میں پہلے ہی پاکستان کی طرف بہنے والے مشرقی دریاوں ستلج، بیاس اور راوی کا 33ملین ایکڑ فٹ پانی روکا اور 12 بڑی نہریں نکال کر راجھستان کا غیر آباد بنجر علاقہ آباد کیا، 9 ملین ایکڑ فٹ پانی مشرقی دریاوں کی زندگی، آبی حیات، جنگلی جانوروں، چرند پرند اور ان دریاوں کے کناروں پر عہد قدم سے آباد کروڑوں انسانوں کے پینے و دیگر گھریلو استعمال کے لئے مختص تھا ،بھارت نے اُسے بھی روک لیا ہے۔

حالانکہ یونیورسل ڈیکلریشن 1948 ءکے آرٹیکل 3 کے تحت یہ پانی بھارت کسی معاہدے اور قانون کے تحت ہرگز نہیں روک سکتا،مگر کھلی جارحیت اور ہٹ دھرمی کے باوجود پاکستانی حکمرانوں نے اس مسئلہ پر مجرمانہ خاموشی اور غفلت کا مظاہرہ کیا اورہماری کرپٹ بیوروکریسی اور نااہل حکومتوں کی وجہ سے بھارت کو دریاوں پر غیر قانونی ڈیموں کی تعمیر کا موقع ملا اور وہ ابھی تک پاکستانی دریاوں کے علاوہ مقبوضہ کشمیر سے پاکستان کی جانب بہنے والے ندی نالوں پر بھی ڈیم تعمیر کر رہا ہے تاکہ پاکستانی پانی ایک ایک بوند کو ترسیں اور وہ بغیر جنگ لڑے اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکے،ایک طرف بھارتی آبی دہشت گردی پورے زور وشور سے جاری ہے تو دوسری جانب ہمارے حکمران بھارت سے یک طرفہ محبت و دوستی کی پینگیں بڑھانے کیلئے انہیں آموں کی پیٹیاں بھیج کر ہندو بنیئے کی کاسہ لیسی میں لگے ہوئے ہیں۔

اس وقت حال یہ ہے کہ بھارت کی جانب مزید پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے پاکستانی دریاوں میں سیلاب بڑھ رہا ہے ، دریائے چناب میں ہیڈ خانکی اور قادر آباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جہاں سینکڑوں دیہات زیر آب آگئے اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں،اسی طرح دریائے جہلم میں منگلا اور رسول کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب سے پانی درجنوں دیہات میں داخل ہو گیا ہے،جبکہ 5 لاکھ کیوسک سے زائد کا ریلا جہلم شہر میں داخل ہو گیا، ادھر سیالکوٹ کاپسماندہ دیہاتی علاقہ بجوات کا سیالکوٹ سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

دریائے جہلم کی قریبی تحصیل ملک وال کے 30 سے زائد دیہات پانی میں گھر گئے اور زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلاب سے صوبے پنجاب میں کم از کم دس لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں،پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے،جبکہ سیلابی ریلے میں سینکڑوں مکانات منہدم، سڑکیںاور ہزاروں ایکڑ رقبے پر مشتمل کھڑی فصلیں الگ تباہ ہو گئی ہیں، موجودہ سیلاب نے دو ہزار دس کے سیلاب کی یاد تازہ کر دی جو ملک کی تاریخ کا بدترین سیلاب تھا، جس میں 1,700 سے زائد افراد ہلاک اور 18 ملین متاثر ہوئے تھے۔

قارئین محترم ! یہ درست ہے کہ آبی تنازعہ پاکستان اوربھارت کا بنیادی مسئلہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری ہر حکومت نے اس سلسلے میں اپنا فریضہ ادا کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کیا ہے،ذرائع ابلاغ اور سیاسی قیادت ایک طویل عرصے سے بھارت کی آبی دہشت گردی پر آگاہ کرتے رہے ہیں،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ارباب اقتدار کے پاس اس مسئلہ کے حل کیلئے کوئی فوری اور طویل المیعاد منصوبہ بندی موجود نہیں ہے،جبکہ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا سلسلہ روزبروز طول پکڑتا جا رہا ہے، وہ ایک طرف پاکستانی دریاوں پر غیر قانونی ڈیم بناکراپنی بنجر زمینوں کو سیراب اور ہمارے ہی دریاوں سے بجلی پیدا کر کے ہمیں فروخت کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔

ساتھ ہی بارشوں کے دوران ڈیموں میں ذخیرہ کیا گیا زائد پانی چھو ڑ کر ہمارے لہلہاتے ہوئے کھیتوں اورکھلیانوں کو برباد بھی کر رہا ہے،یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کوہر تیسرے چوتھے برس سیلابوں کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہر برس آنے والے چھوٹے بڑے سیلابوں کے طوفانی ریلے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں،مگر اس کے باوجود مقامِ حیر ت ہے کہ فلڈ کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کو حکومت نے سردخانے کی نذر کر رکھا ہے۔

دوسری طرف ہماری حفاظتی تدابیر کے فقدان کا عالم یہ ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی ہنگامی اطلاع دینے والے صرف 7 ریڈار ہیں، محض بڑا ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں اب تک کروڑوں ایکڑ فٹ پانی ضائع ہو چکاہے، جبکہ بارانی پانی کو محفوظ کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، اگر ملک میں چھوٹے اور بڑے ڈیموں کا نیٹ ورک موجود ہوتا توکروڑوں ایکڑ فٹ قیمتی پانی کے ضیاع کو روکا جا سکتاہے، اَمر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کا اقتصادی، زرعی، صنعتی، دفاعی اور ریاستی استحکام ڈیموں کی تعمیرسے مشروط ہے۔

Pakistan
Pakistan

چنانچہ ہم اپنے ارباب اقتدار کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ بڑے ڈیموں کے ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ناگزیر ہے اور اسے ہمیں اپنی قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھنا چاہیے اور یہ کہ موجودہ صورتحال پر ہمارے حکمرانوں کو کسی صورت خاموش نہیں رہنا چاہئے، بلکہ بھارتی آبی جارحیت روکنے کے لئے بھرپور کردار بھی اداکرنا چاہئے،یاد رکھئے بھارت کے تعمیر کر دہ متنازہ ڈیم وطن عزیز پاکستان کے دفاع کیلئے سخت نقصان دہ ہیں ،اس لئے حکومت کو بھارتی آبی دہشت گردی کے مسئلہ پر سنجیدگی سے سوچناہوگا اور اس کے تدارک کیلئے عملی اقدامات کرنے ہونگے۔

تحریر :۔محمد احمد ترازی
mahmedtarazi@gmail.com

Share this:
Tags:
aggression government India power Water آبی اقتدار بھارتی تعمیر جارحیت حکمت عملی حکومت ڈیموں ناقص
Adiala Jail
Previous Post دھرنے کے شرکا کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد اڈیالہ جیل میں جگہ کم پڑ گئی
Next Post لاہور میں تیز آندھی کے بعد بارش ، حافظ آباد میں چھت گرنے سے 4 افراد جاں بحق
Rains

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close