
لاہور (جیوڈیسک) نریندر مودی کے وزیراعظم بنتے ہی اقلیتوں کے خلاف ہندو ذہنیت اس وقت کھل کر سامنے آ گئی جب بھارتی حکومت نے مذہبی تہوار جوڑ میلہ کی تقریبات میں شرکت کیلئے آنے والے سکھ یاتریوں کو ٹرین کے ذریعے پاکستان جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
اور اٹاری جانے والی پاکستانی ٹرین گزشتہ روز مسافروں کے بغیر پاکستان واپس آگئی۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ سکھ یاتریوں کے لئے ٹرین کے ذریعے سفر غیر محفوظ ہے لٰہذا انہیں اجازت نہیں دی گئی جس کے بعد چارسو کے قریب سکھ یاتری پاکستان کی جانب سے خصوصی اجازت ملنے پر واہگہ بارڈر کے راستے بس پر پاکستان پہنچے جہاں بارڈر پر پاکستانی حکام نے ان کا بھرپور استقبال کیا، بعدازاں خصوصی ٹرین کے ذریعے ننکانہ صاحب روانہ کر دیا گیا، سکھ یاتریوں نے بھارت کے روئیے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسکی مذمت کی ہے۔
بھارت نے ٹرینوں پر سفر کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے سکھ یاتریوں کو اٹاری ریلوے سٹیشن پر خصوصی ٹرین سے اتار دیا اور خالی ٹرین پاکستان بھجوا دی۔ بھارتی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سکھ یاتریوں کی ٹرین پر دہشتگرد حملے کا خدشہ ہے اس لئے انہیں ٹرین کے ذریعے پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان کی طرف سے سکھ یاتریوں کیلئے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ سکھ رہنمائوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں نئی ہیں انہیں چاہئے کہ اپنے دیرینہ مسائل کو حل کریں تاکہ خطہ ترقی کر سکے۔ سکھ یاتریوں نے کہا کہ ہمیں پاکستانی حکومت اور اسکی وزارت ریلوے سے کوئی شکایت نہیں اور ہم سہولتوں کی فراہمی پر اسکے شکر گزار ہیں۔
سکھ رہنمائوں نے مزید کہا کہ ہم امن کا پیغام لے کر پاکستان آئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دونوں طرف کی حکومتیں بھی پیار اور محبت سے رہیں تاکہ پاکستان اور دونوں طرف کے پنجاب ترقی کر سکیں۔ ایک سوال کے جواب میں سکھ رہنمائوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان میں کبھی بھی سکیورٹی خدشات نہیں رہے۔ سکھ یاتریوں کو بعد ازاں خصوصی ٹرین کے ذریعے گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب کے لئے روانہ کر دیا گیا جہاں وہ آج 9 جون تک قیام کریں گے جبکہ 10 جون کو گورد وارہ سچا سودا فاروق آبا د کا دورہ کرکے واپس ننکانہ صاحب پہنچیں گے،11جون کو بذریعہ سپیشل ٹرین گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال جائیں گے، جبکہ 13 جون کوحسن ابدال سے گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور آئیں گے اور اپنی مذہبی رسومات ادا کریں گے۔
سکھ یاتری 14 جون ہفتہ کو گوردوارہ ڈیرہ صاحب میںصبح 8 بجے ارمبھ پاٹھ صاحب کی رسم ادا کریں گے اور 15 جون کوصبح 8 بجے مادھ کی ارداس اور مرکزی تقریب بھوگ اکھنڈ پاٹھ کی رسم ادا کی جائے گی جبکہ 16 جون کوصبح آٹھ بجے گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور میں ادا کی جائے گی۔ سکھ یاتری 17 جون کو واہگہ کے راستے اپنے وطن واپس چلے جائیں گے۔ آئی این پی کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے کہا ہے پاکستان میں بھارتی مسافروں کی ٹر ین کو آگ لگانے کی کوئی مثال نہیں مگر سمجھوتہ ایکسپریس کو بھارت میں ضرور آگ لگا ئی گئی۔
بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کو ٹرین کے ذریعے پا کستان آنے سے روکنے کے معاملے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تر جمان دفتر خارجہ نے کہا ہم نے ہمیشہ سکھ یاتریوں کا نہ صرف پاکستان آمد پر بھر پور استقبال کیا ہے بلکہ انکو یہاں پر مکمل سکیورٹی بھی فراہم کی ہے۔ پاکستان میں کبھی سکھ یا ہندو یاتریوں کو کسی طرح کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
