Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

” انڈین وزیراعظم”گجرات کا قصاب اور ٹاپ 10 مجرم

June 21, 2015June 21, 2015 0 1 min read
Gujrat Violence
Gujrat Violence
Gujrat Violence

تحریر : ابو الہاشم ربانی
انڈیا کی ریاست گجرات میں2002ء میں مذہبی فسادات اور قتل عام اس وقت شروع ہوا جب گودھرا ریلوے اسٹیشن پر ریل گاڑی کے ایک ڈبے میں آگ لگنے سے59انتہا پسند ہندو ہلاک ہوئے۔گجرات میں ریاستی حکومت نریندر مودی کی تھی۔الزام مسلمانوں پر لگایا گیا انسانی سماجی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ریاستی حکومت کی درپردہ اجازت اور سرپرستی میں منظم منصوبہ بندی سے فسادات کروائے گئے۔ جن میں 2500مسلمانوں کو بے رحمی کے ساتھ زندہ جلا دیا گیا۔ مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم عورتوں کی عصمت دری اس قدر کی گئی کہ پانچ سال کی معصوم بچی سے لے کر 70سال کی بوڑھی عورت تک کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔پولیس تماشائی بنی رہی اور کوئی کردار ادا نہ کیا۔بلکہ حقیقت یہ ہے گجرات کے اُس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے قتل وغارت کی خود سرپرستی کی۔وفاق میں بھی بی جے پی کی حکومت تھی فسادات اور قتل عام کو کنٹرول کرنے کی کوئی سرے سے کوشش ہی نہیں کی گئی۔

نریندر مودی نے 8سال کی عمر میں راشٹرایہ سویم سیوک سنگھ کے رضا کار کی حیثیت سے خود کو رجسٹر کرایا۔نریندر مودی نے ملک کو ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کا عزم رکھنے والی آرایس ایس میں اپنی پوزیشن بہت محنت اور انتہائی تعصب سے مستحکم کی۔پارٹی کے بارے میں ان کے مصمم عزائم اور پختہ یقین یا پھر یوں کہہ لیجئے کہ مسلمانوں کے بارے میں سب سے زیادہ زہریلا ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیم اور نہ ہی ان کی نیچی ذات آڑے آئی۔آرایس ایس انہیں بلند ترین منصب پر لے گئی۔2001ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے انھیں گجرات کا چارج تو دیا وہ ریاستی انتخابات میں بھی بھرپور کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔نریندر مودی نے خود کو قومی سطح پر ”قوم پرست”کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔وہ سول سرونٹس کو جو بھی ہدایات دیتے ہیں وہ اس پر خوشی سے عمل کرتے ہیں۔ نریند مودی کو گجرات کے ریاستی فسادات کا ذمہ دار قرار دے کر امریکا نے 2005ء میںانہیں امریکی ویزہ دینے سے انکار کیا تھا۔

3جون2015ء دنیا کا مقبول ترین انٹرنیٹ سرچ انجن “Google”پر بھارت کے 10سب سے بڑے مجرموں کی تلاش پر انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی تصویر سرفہرست ہے۔ فسادات کے وقت بی جے پی کے لیڈر بھی نریندر مودی کو برطرف کرنا چاہتے تھے۔نریندر مودی نے بحیثیت وزیراعلیٰ جس کی حکومت میں2500 سے زائد مسلمان زندہ جلائے گئے، مسلمانوں کے 18ہزار مکانات تباہ ہوئے، 2لاکھ مسلمان بے گھر ہوئے۔ بھارت کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور کئی انسانی و سماجی حقوق کی تنظیموں نے گجرات حکومت کو فسادات روکنے میں ناکام قرار دیاتھا۔ نریندر مودی نے مسلم کش فسادات کے حوالے سے کچھ نہیں کیا پریشانی کا باعث نہیں جو کچھ وہ کرتے ہیں وہ ذہنوں میں بہت شکوک شبہات پیدا کرتے ہیں۔ مایا کوڈیانی جو صوبائی کابینہ کارکن تھاا حمد آباد میں شر پسندوں کے ساتھ ملکر فسادات کرتا رہا اور ایف آئی آر میں نامزد ملزم تھا۔2009ء میں گرفتاری تک مودی کی صوبائی کابینہ کا رکن رہا۔

Supreme Court
Supreme Court

سپریم کورٹ اور اہم اداروں کی طرف سے انہیں”نیرو”کے مشابہ قرار دینے کی پرواہ بھی نہیں کی۔نیرو رومن شہنشاہ تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب روم جل رہا تھا تب نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ گجرات میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مودی نے ایک بھی مسلم امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ اس امر سے اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ راشٹریا سیوک سنگھ میں مودی کی مقبولیت مسلم دشمنی ہی ہے۔سورت جیسے شہر میں فسادات اس سے زیادہ شدت اختیارکرتے ہوئے نظر آتے تھے۔پولیس نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے پھیلنے سے روک دیا مگر گجرات کے مسلم اکثریت علاقوں ضلع انند،شیخ محلہ،سردار پورہ،گلبرگ سوسائٹی،نروڈا گائوں،نہرودا پاٹیا اور کالو پور میں منظم طور پر مسلمانوں کی نسل کُشی ہوئی۔گلبرگ سوسائٹی اور نیرودا پاٹیا کے مکین 13سال گزرنے کے باوجود بھی آج تک واپس اپنے علاقوں کو نہیں لوٹ پائے۔گجرات میں لگاتار اقلیتی عورتوں پر ظلم تشدد کے اثرات کا معائنہ کرنے کے لیے دہلی، بنگلور، احمدآباد، تامل ناڈو سے6 افراد پر مبنی ایک وفد5 دن کے لیے 27فروری تا3مارچ2002ء کو بھیجا گیاتاکہ علاقے میں ظلم تشدد کی جو وارداتیں ہوئیں ان کی پڑتال کی جائے۔

6رکنی وفد نے اپنے آنکھوں دیکھے حالات ومشاہدات کو ایک کتابی شکل میں قلم بند کیا بعنوان ”گجرات جن کی جان بچی ان کے آنکھوں دیکھے بیانات”۔ اس کتاب سے گجرات کا تشدد، قتل عام اور عصمت تار تار۔۔۔ کی کہانی ظاہر کی گئی ہے۔ ان حادثات کو جن عورتوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ویڈیو سے ریکارڈ کردہ مناظر کو بھی ہمیں دیکھایا ۔ جلائے ہوئے گھروں پر تحریریں تھیں”مسلمانو!ہندوستان چھوڑ کر باہر آباد ہوجائو۔۔۔۔۔۔ ورنہ تمہاری مائوں کو۔۔۔۔۔۔ جیسے وحشت ناک اورغیر مہذب نعرے لکھے ہوئے تھے۔ایسی ہی دل خراش داستان ایک لڑکی کی زبانی سنیے ۔ کہتی ہے ‘ ‘گنگودری کی رہائش گاہوں سے ہمیں باہر نکالنے کے بعد جلتے ہوئے ٹائروں کو ہاتھو ں میں لئے ہجوم کی شکل میں لوگوں نے ہمیں بگانا شروع کردیا۔ اس وقت بستی سے کمسن بچیوں کی انہوں نے عزت لوٹی، ہم نے ایسے آٹھ دس واقعات کو دیکھا۔ سولہ سالہ مہرالنساء کے کپڑے اتارے گئے وہ لوگ بھی اپنے آپ کو ننگا کررہے تھے اور عورتوں کی طرف بھیڑیوں کی طرح بھاگ رہے تھے۔

جگہ جگہ گلیوں میں عورتوں سے انہوں نے بدفعلی کی۔ میں نے دیکھا ایک کمسن بچی کی شرم گاہ کو کاٹ کر پھاڑ دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان تمام عورتوں کو زندہ جلا دیا گیا۔کوئی بھی ثبوت نہ چھوڑا گیا”۔ (کتاب نارودا پاٹیا احمد آباد28فروری2002ئ، صفحہ 5)۔ اگر ہمت ساتھ دے تو دل پر ہاتھ رکھے ایک اور منظر دیکھ لیجیے ” کٹو اور سارا کو میں نے فرزانہ کی عزت لوٹتے ہوئے دیکھا۔ فرزانہ کی عمر تقریبا13سال ہوگی وہ حسین نگر کی رہنے والی تھی۔ فرزانہ کے پیٹ میں انہوں نے ایک لوہے کی سلاخ گھسیڑ دی ۔ بارہ سالہ نور جہاں کی عزت بھی لوٹی گئی۔ اس کی عزت لوٹنے والے بھی کٹو، نریش،ہریااور سارا تھے۔ سرکاری بس چلانے بھوانی سنگھ وغیرہ کو میں نے پانچ مرد اور ایک بچے کا خون کرتے ہوئے دیکھا۔( شاہ عالم کیس 28 فروری 2002ئ) کبیر گائوں کاآیا ہجوم شام کے قریب5بجے جو بھی ان کی نظر میں آیا پکڑ کر جلانا شروع کردیا۔ میری 23سالہ بیٹی سمیت علاقے کی تمام عورتوں کی عزت لوٹی۔ میری بیوی دو بیٹے اور بیٹیاں سب کے سب زندہ جلا دیئے گئے(کتاب گجرات صفحہ2)۔ بچوں کے مدرسے مذہبی تعلیم کے مراکز ہوتے ہیں ان بچیوں اور معلمات کی مدرسوں میں عزتیں لوٹی گئیں اور زندہ جلا دی گئیں۔ احمد آباد میں گانگریس سے تعلق رکھنے والا سابق رکن پارلیمان احسان جعفری گلبرگ سوسائٹی میں ان کی رہائش گاہ پر69 افراد سمیت ان کو قتل کردیا گیااور گھر کوجلا دیا گیا۔ 2ہزار افراد نے ان کے گھر کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ وہ بے شمار ٹیلی فون کال مقامی انتظامیہ کو کرتے رہے لیکن کسی نے بھی جواب نہیں دیا۔ 520مساجد، مدارس، در گاہیں اور قبرستان تباہ و برباد کر دیئے گئے۔

India
India

یہ سب سوچھی سمجھی سازشیں نہیں تو کیا ہیں؟ ہندوستان کی تاریخ میں اتنی بڑ ی مذہبی تباہی وبربادی پہلے کبھی نہیں ہوئی۔احمد آباد میں قیامت صغریٰ برپا ہوئی ۔ پولیس کہتی ہے کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں ٹائمز آف انڈیا جیسے صحافت کے نام نہاد علمبردار نے بھی کہا ایسا کوئی بھی واقعے کا کوئی حوالہ نہیں مل سکا۔ سندوش اخبار جھوٹ کے بنڈل کھول رہا تھا ۔ دی ٹائمز آف انڈیا نے بھی اپنے اخبار میں صرف ایک عصمت دری کے واقعے کے متعلق لکھا ہم لوگ وہاں موجود تھے ہم ان رپورٹرز اور صحافیوں کو ذاتی طور پر جانتے تھے تو سوال پر انہوں نے جواب دیا ”ایسی خبریں پھیلانے سے فسادات مزید پھیلتے ہیں”۔ ریاستی عدالتوں کی کاروائی مشکوک ٹھہری تو سپریم کورٹ نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ احسان جعفری کی بیوہ کی درخواست پر تفتیشی ٹیم تشکیل دے گئی اور 2008ء میں ایک کمیشن بھی بنایا گیا۔تفتیشی ٹیم اور کمیشن نے تو نریندر مودی سمیت بہت سے مجرموںکو کلین چٹ دینا تھی جو بڑی صفائی کے ساتھ دے دی گئی۔

بے گھر ، لٹے افراد کو ریاستی حکومت نے پچاس ہزار روپے کے معاوضہ کا اعلان کیا تھالیکن یہ رقم ان تک نہیں پہنچی ۔ مرکزی حکومت نے فی کس سات لاکھ روپے کی امداد دے دی تھی جسے ریاستی حکومت نے کچھ خرچ کرنے کے بعد یہ کہہ کر واپس کر دی کہ اس کی ضرورت نہیں۔ ”سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس” نامی تنظیم نے اس سلسلہ میں گجرات ہائی کورٹ میں مقدمہ کر رکھا ہے کہ یہ امداد حقوق انسانی کی تنظیموں کے ذریعے متاثرین میں تقسیم کی جائے۔ اس سے پہلے جتنے فسادات ہوئے ان سب سے بڑھ کر اس فساد میںگجرات کی عورتوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مردوں اور بچوں کا قتل عام کیا گیا۔ ان کی حفاظت کا ذمہ پولیس کا تھا لیکن انہوں نے بھی ان فسادیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر پرزور حملہ کیا ہے۔ حملہ آوروں کی پولیس والے نہ صرف مدد کرتے بلکہ قیادت کرتے ہوئے انہیں اُکساتے اور حملے کے لیے نشاندہی بھی کرتے۔ میونسپل کیمٹی کے ملازمین لسٹوں کے ساتھ مسلمانوں کے علاقوں، گھروں اور افراد کی نشاندہی کرتے تھے۔

مسلمان جب پولیس کو مدد کے لیے پکارتے تو حملہ آور نعرے لگاتے کہ ”پولیس ہمارے ساتھ ہے” ۔ اگر پولیس والوں سے سوال ہوتا کہ مسلمانوں کی مدد کرو تو وہ صاف کہتے کہ ہمارے اعلیٰ افسران کا حکم ہے کہ ہم تمہاری مدد نہیں کرسکتے ۔ فسادیوں پر گولی چلانے کے بجائے مسلمانوں کو گولیاں ماری جاتیں ۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی پولیس کی دہشت گردی کو حق بجانب کہتے ہیں(گجرات پولیس کا کردار: صفحہ 24-25)۔ احمد آباد میں اسمبلی میں بی جے پی کے ایم ایل اے مایا گوت سے ہمارے وفد کی ملاقات ہوئی ۔ نروداپاٹیا کے فسادات میں خود حصہ لینے والے ہیں۔ایک ایف آر میں ان کا نام بھی درج ہے (کتاب گجرات: دوسراباب صفحہ 21)۔ صبر کندا ضلع لکشمی پور گائوں کے پنچایت پرسیڈنٹ ناتی بن سے وفد کی ملاقات۔ کہتے ہیں لکشمی پور گائوں میں ایک ہزار مسلمان رہتے تھے۔ اب وہ گائوں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ اب وہاں کوئی مسلمان نہیں رہتا ۔ (کتاب گجرات : صفحہ82) ۔
گودھرا ریل کے جلانے کے مقدمہ کی چارج شیٹ میں تبدیلی (بشکریہ وڈیل و للی اگست 2002ء )
1۔ 28 فروری 2002ء کو گودھرا میں ایک ریل گاڑی کا ڈبہ جلایا گیا تھا۔ لیکن مسلمانوں پر تہمت ڈا ل کر ایک قتل عام کر دیا ان فاشسٹوںنے۔
2۔ فسادات، عصمت دری اور قتل عام کیا ہندو حملہ آوروں نے لیکن حکومت کے دستاویزوں میں ملزموں کے خانوں میں مسلمانوں کے نام درج کر رکھے ہیں۔
3۔ پہلے کہا گیا اس مقدمہ میں ”بلال ” ہی اصل ملزم ہے اسی بنیاد پر کئی ظلم ڈھائے گئے مگر بعد میں بلال کو اہم ملزم کی فہرست سے نکال کر معمولی ملزم قرار دیا گیا۔
4۔ چھ ماہ بعد ایک نیا ملزم دھونڈنکالا ۔۔۔۔۔ ان کا نام ہے رزاق کُر کُر تھا۔ اس کو ملزم بنانے کے لیے دو گواہ بھی لائے گئے لیکن ان کا اب تک کہیں بھی اتہ پتہ نہیں۔
5۔ ایک گواہ دلیپ سنگھ کہتا ہے کہ حاجی بلال کی صدارت میں مسلمانوں کو سابرمتی ایکسپریس کو جلاتے ہوئے اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

Muslims
Muslims

حاجی بلال ایک بیوپاری تھا لیکن حاجی بلال ایک بیوپاری نہیں بلکہ ایک ٹیچر ہے۔ تو ثابت ہوا جس دن گودھرا کا حادثہ ہوا وہ گودھرا میں موجود ہی نہیں تھا۔ حاجی بلال گودھرا سے 25 کلو میٹر دور ”نبرد” گائوں کے اسکول میں بطور ٹیچر کام کر رہا تھا۔ حکومت کی شرمناک چالیں ہی تھیں کہ عدالتوں میں اپنی جانب سے سرکاری وکیل کے طور پر ایسے وکلا کو نامزد کیا ہے جو پہلے فساد کے ملزمان کے وکیل رہ چکے ہیں۔ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں ونود ڈی گجر کو بحیثیت وکیل نامزد کیا ہے۔ جو گلبرگ سوسائٹی قتل عام کے30ملزمان کے وکیل ہیں۔ پولیس گواہان کو پریشان کر رہی ہے، ان کے تحفظ کا کوئی انتظام نہیں۔

دسمبر2002ء میں اجتماعی قبر کا انکشاف بھی ہوا تھا ۔سی جے پی کے رابطہ کار رئیس خان کی موجودگی میں اس قبر سے21لاشوں کو نکالا گیا تو پتا چلا ان لوگوں کو اجتماعی طور پر قتل کرکے تمام لاشوں کو ایک ساتھ دفن کردیا گیا۔ گودھراریل حادثہ سے ملی اشیاء کی جانچ پڑتال کرنے والے ماہرین کی رپورٹ سچائی پیش کرتی ہے۔1۔ ڈاکٹر ایم ڈاکیا سیپشلسٹ ہیں۔گودھرا ریلوے اسٹیشن پر جلنے والے ڈبے جس سے آگ لگائی گئی۔اس کے بارے میں رپورٹ دی گئی ہے کہ وہ ڈبہ اس علاقے کا نہیں بلکہ وہ آگ لگانے والا ڈبہ ریل کے اندر سے مسافر ہی سیٹ نمبر72کے نیچے رکھ کر لائے ہیں۔
2۔ریل کے پورے ڈبے کو جلانے کے لیے کم از کم60لیٹر ایندھن کی ضرورت ہے۔

60لیٹر ایندھن کو کوئی باہر سے یکدم اندر پھینک نہیں سکتا ۔ لہٰذا یہ60لیٹر ایندھن بھی اندر ہی سے مہیا کیا گیا۔3۔ماہرین کے مطابق گودھرا ریل اسٹیشن سے جیسے ہی ریل نکلی تھوڑے ہی عرصہ میں خطرہ کی زنجیر کھینچ کرر یل رکوادی گئی ۔ اند رسے بس والوں نے فوراََکھڑکیوں کو بند بھی کردیا ۔ تو بھلا بند کھڑکیوں سے باہر سے اندر چیز کیسے پھینکی جاسکتی ہے؟ اس سے جیتا جاگتا ثبوت یہ کہ جوریل کا ڈبہ زیادہ جلاتھا وہ اندرسے زیادہ جلاہوا پایا گیا۔ شہادت پیش ہوئی تھی کہ سلمان نامی ایک شخص نیچے سے آگ لگا رہا تھا تو ڈبہ نیچے زیادہ جلا ہوا ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں تھا۔ مشہور قاتل مودی کی حکومت میں حصہ لینے والے ان کے وزیر داخلہ گوردان بائی جڈابیا دھڑا دھڑ بیان دے رہے تھے ۔یہ سارے بیانات وشو ا ہندو پریشد اور بجرنگ دل والوں کے بیانوں کی ہو بہو عکاسی کررہے تھے۔ وہ بنیاد پرست مسلمانوں اور پاکستانی محکمہ آئی ایس آئی پہ الزام لگارہے تھے ۔ جب یہ سب حقیقت سامنے آ گئی تو اب معلوم یہ ہوا کہ تمام جھوٹ تھا ]گجرات صفحہ 92-95[۔یہ کالے کرتوت انڈین وزیر اعظم ٹاپ 10 نریندر مودی کے۔۔۔۔۔
بقول شاعر
تم ہی قاتل تم ہی منصف معلوم تھا کہ قصور ہمارا نکلے گا۔

Abu Hashim
Abu Hashim

تحریر : ابو الہاشم ربانی

Share this:
Tags:
butchers guilty gujrat Indian murder Prime Minister violence انڈین فسادات قتل قصاب گجرات مجرم وزیراعظم
Walls Collapsed
Previous Post بھکر میں طوفانی بارش ، دیواریں گرنےسے 2 بچے جاں بحق
Next Post گال ٹیسٹ: سری لنکا کی ٹیم دوسری اننگز میں 206 رنز پر آئوٹ

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close