Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عالمی یوم مزدور اور محنت کشوں کا حال زار

April 30, 2017 0 1 min read
International Labor Day
International Labor Day
International Labor Day

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
ہر سال یکم مئی کو یوم مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے۔ جسے عالمی سطح پر منانے کی ابتدأ 1886 ء سے امریکہ کے شہر شکاگو سے ہوتی ہے ۔ آج کے دن بیشتر ممالک میں شکاگو میں شہید ہونے والے مزدوروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مزدوروں کی فلاح و بہبود ، ان کی بہتر طرز زندگی اور ان کے حقوق کے لئے سیمنار ، سمپوزیم، اورمزاکرے کے انعقاد کے لئے قومی سطح پرتعطیل بھی ہوتی ہے ۔ لیکن افسوسناک اور المناک پہلو یہ ہے کہ اس دن کی اہمیت او راپنے حقوق سے خود مزدور طبقہ ہی لاعلم ہوتاہے ۔ وہ آج کے دن بھی روز مرّہ کی طرح صبح ہوتے ہی اپنے گھر سے مزدوری کے لئے نکل جاتا ہے اور شام گئے تھکا ، ماندہ، ٹوٹا ، بکھرا ہوا گھر لوٹتا ہے ، کہ وہ اگر تعطیل منائے گا ، تو کھائے گا کیا ؟ اس لئے کہ مزدوروں کو تو روز کنواں کھودنا ہوتا ہے اور اپنی اور اپنے بال بچوں کی بھوک پیاس بجھانی ہوتی ہے۔

مزدور کی جو شبیہ عام طور پر ابھرتی ہے ، وہ ہے ، چلچلاتی دھوپ سے جلتے کالے ،ننگے بدن سے بہتا پسینہ اور چہرے پر، اداسی اور درد و کرب کا پرتو۔ مزدورکو سردی کے دنوں میں ، سردی لگتی ہے، نہ ہی انھیں گرمی کی تپش میں لو کی شدت کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی انھیں برسات کی جھما جھم بارش کی پرواہ ہی ہوتی ہے ،کہ ان تینوں موسم میں ان کے پیٹ کی آگ کی شدت حاوی ہوتی ہے ۔ پہلے مزدور کا تصور یہ تھا کہ وہ صرف جوان مرد ہی ہوتے ہیں ،لیکن اب تو پیٹ کی آگ، بوڑھوں ، عورتوں اور بچوں تک کو بھی مزدوری کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ مزدور عورتیں اکثر عمارتوں کی تعمیر میں حصہ لیتی نظر آتی ہیں ۔ اینٹ کے بھٹوں پر بھی وہ اینٹ ڈھوتی ملتی ہیں ۔ اپنے شیر خوار بچے کو وہ اکثر اپنے جسم کے پچھلے حصہ میں کپڑوں سے باندھ کر بھی مزدوری کیا کرتی ہیں ۔ ان کا جس طرح جنسی اور جسمانی استحصال کیا جاتا ہے ، وہ ایک الگ معاملہ ہے۔مزدوری کرنے کے لئے مزدوروں کے بچے بھی مجبور ہیں ، اکثر ہوٹلوں ، دوکانوں اور چھوٹے موٹے کل کارخانوں میں اپنی جان جو کھم میں ڈال کر یہ بچے مزدوری کرتے مل جاتے ہیں ۔ گرچہ بچوں کو مزدوری کرنا اور کرانا قانوناََ جرم قرار دیا گیا ہے ، لیکن جب قانون ان مزدور بچوں کی غربت وافلاس کا کوئی متبادل پیش کرنے میں ناکام ہے تو پھر انھیں مزدوری کرتے ہوئے کیسے روکا جا سکتا ہے ۔ اکثر ان مزدور بچوں کے والدین کو اپنے بچوں سے مزدوری نہیں کرائے جانے کی بات کہی جاتی ہے، توایسے میں مزدور اپنی غربت وافلاس کا دکھڑا روتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی بھوک وپیا س کا انتظام کر دے ، میں انھیں مزدوری کرنے نہیں بھیجونگا ، ایسے وقتوں میں سوال کرنے والا ہی لا جواب ہو کر رہ جا تا ہے۔

یوم مزدور کے ضمن میں ابتدأ دراصل شکاگو(امریکہ) سے ہوتی ہے۔ جہاں پہلی بار 1886ء میں مزدوروں نے باضابطہ طور پر کام کے اوقات کو آٹھ گھنٹے کرنے اور ہفتہ میں ایک دن کی تعطیل کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جنھیں نہیں ماننے پر مزدوروں نے پہلی بار احتجاج بلند کی اور ہڑتال کردیا ۔ اس ہڑتال اور مظاہرہ کے دوران کسی انجان شخص نے ایک بم بلاسٹ کر دیا ، جس سے ناراض ہو کر وہاں پر موجود پولیس نے فائرنگ شروع کر دی اور اس فائرنگ میں کئی مزدور ہلاک ہو گئے۔

اس حادثہ کے بعد 1889 ء میں پیرس میں عالمی جنرل اسمبلی کی دوسری میٹنگ میں فرنچ انقلاب کو یاد کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کیا گیا کہ اس سانحہ کی تاریخ یعنی یکم مئی کو عالمی سطح پر یوم مزدور کے طور پر منایا جائے ۔ اس قرارداد کے منظور ہوتے ہی اسی وقت 80 ممالک نے یوم مئی یا یوم مزدور کے موقع پر قومی تعطیل کا بھی اعلان کر دیا ۔ اس طرح یوم مزدور وجود میں آیا اور اس وقت نعرہ دیا گیا تھا ” دنیا کے مزدور ایک ہوں ” ۔ ہمارے ملک بھارت میں 1923 ء سے یوم مزدورکے طور پر منانے کے لئے یکم مئی کو قومی تعطیل کا اعلان ہوا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ مزدوروں کی فلاسھ وبہبود کے لئے یوم مزدور وجود میں آیا ضرور ، لیکن جب تک سوویت یونین کا دور دورہ یا یوں کہیں کہ عروج رہا ، ا سوقت تک یقینی طور پر دنیا کے مختلف ممالک میں مزدوروں کی بہتر طرز زندگی کے لئے اور ان کیحقوق کی پامالی پر قد غن لگانے کے لئے طرح طرح کے پروگرام ، منصوبے اور قوانین بنتے رہے اور ان پر عمل بھی ہوتا رہا ۔ مزدوروں کی اس تحریک کو بین الاقوامی سطح پراس زمانے میں اس قدر اہمیت دی گئی کہ ایک وہ زمانہ بھی آیا جب ترقی پسند تحریک کے رہنما شاعر فیض احمد فیض نے یہاں تک مطالبہ کر دیا تھا کہ……

ہم محنت کش جگ والوں سے جب اپنا حصہ مانگیں گے
اک کھیت نہیں ، اک دیش نہیں ، ہم ساری دنیا مانگیں گے

لیکن افسوس کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے اور بکھرنے کے بعد مختلف ممالک میں مزدورں کی آواز اٹھانے والے بھی سرد پڑ گئے ۔ اپنے ملک میں بھی مختلف ٹریڈ یونین کا جو حال ہو ا ، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ بھارت میں کمیونسٹ پارٹی اور ان کی تحریک کے دن بہ دن کمزور پڑنے کے بعد تو اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں مزدوروں کا کوئی پرسان حال نہیں رہا ۔ حال کے برسوں میں نئی اور جدید تکنالوجی کی آمد اور صنعتی انقلاب نے بھی مزدوروں کی مزدوری پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔ جس کے باعث مزدوروں کی ملازمت کے بہت سارے راستے مسدود ہو گئے ہیں ۔ سنگرور اور نندی گرام وغیرہ میں مزدوروں کا احتجاج ، مظاہرہ اور ان کی اموات لوگوں کو اب تک ضرور یاد ہوگا ۔ مزدوروں کو بھی اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ موجودہ حالات میں ان کا اور ان کے بچوں کا مستقبل تاریک ہی ہے ۔ آج وہ جس حال میں ہیں ، ان میں کوئی مثبت تبدیلی آنے والی نہیں ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں جس طر ح مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ، اس سے ان ممالک میں پناہ لینے والے مہاجرین بھی اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے مزدوری کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ سقوط بنگلہ دیش کے بعد حکومت پاکستان کی نظر عنایت کے منتظر لاکھوں کی تعداد میں ڈھاکہ اور اس کے ارد گرد کے ہزاروں کیمپوں میں پناہ گزیں مرد ، عورتیں اور بچے مزدوری کررہے ہیں ۔ ان پناہ گزینوں کی نا گفتہ بہ زندگی کو بہت قریب سے دیکھنے والے امریکی شہری احتشام ارشد نظامی نے ان کے درد و کرب اور ان کی بد ترحالات کو جس طرح بیان کیا ہے ۔ وہ یقینی طور پر انسانی اقدار کو پشیماں کرنے والا ہے۔

مزدوروں کی مشکل بھری زندگی کو اردو ادب میں بھی کافی جگہ دی گئی ہے ۔ مشہور افسانہ نگار راجند سنگھ بیدی نے اپنے ایک افسانہ ”جنازہ کہاں ہے ” میں مزدوروں کی غم سے نڈھال ، مایوس اور تھکن سے چور زندگی کو بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا ہے ۔ انھوں نے اپنے اس افسانہ میں بتایا ہے کہ مزدور جب اپنے کام سے لوٹتے ہیں تو ان کے چہرے پر اتنا درد و کرب اور اداسی ہوتی ہے کہ ایک حساس انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ مزدور، مزدوری کر کے نہیں بلکہ کسی جنازے کو سپرد خاک کرنے جا رہے ہیں ۔ خواجہ احمد عباس کی کہانی پر مبنی فلم ”شہر اور سپنا ” آج بھی لوگوں کے ذہن پر ہتھوڑے برساتی ہے کہ بڑے شہر میں کس طرح مزدور طبقہ ہیوم پائپ میں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ مزدوروں کو موضوع بنا کر اور ان کی حالت زار کو بیان کرنے والے کئی اشعار منور رانا نے بھی کہے ہیں ، مثلاََ …..

تم اس کی لاش کو دیکھو نہ یوں حقارت سے ٭ یہ شخص پہلے امیروں کے گھر بناتا تھا
مزدوروں کی زندگی کو سامنے رکھ کر منور رانا کا دوسرا شعر ہے …..
ہم پرندوں کی طرح صبح سے دانے کے لئے ٭ گھر سے چل پڑتے ہیں کچھ پیسے کمانے کے لئے
منور رانا کا یہ ایک شعر تو زبان زد خاص و عام ہے کہ ……
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر ٭ مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
مزدوروں کا یہ بڑا المیہ ہے کہ ان کا ہر سطح پر استحصال ہو تا ہے ۔ لیکن ان کے لئے اب کوئی بولنے والا نہیں ۔

ان کے لئے کوئی فکر کرنے والا نہیں ۔ ہم اس امر سے انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ مزدوروں کے حقوق اور ان کی بہتر طرز زندگی کے لئے پہلی بار جہاں سے یہ آواز اٹھی تھی ، یعنی امریکہ ( شکاگو)سے ، وہاں کے مزدور دوسرے ممالک کے مقابلے بہت بہتر ہیں ۔ میں نے خود امریکہ میں وہاں کے مزدوروں کی حالت کو قریب سے دیکھا اور یہ محسوس کیا کہ یہاں مزدوروں کے حقوق ، ان کی بہتر طرز زندگی کے لئے جو قوانین ہیں ، ان پر پوری طرح عمل کیا جاتا ہے ۔ امریکہ میں گھاس کاٹنے والے مزدور کو بھی میں نے دیکھا کہ وہ جس طرح اپنی چمچماتی کار میں لگے ٹریلر میںگھاس کاٹنے کی مشین وغیرہ کے ساتھ آتے تھے، وہ انداز ہمارے ملک میں اچھے اچھوں کو نصیب نہیں ۔ امریکہ میں مزدوروں کے لئے ان کے کام کے دوران ان کے لئے سارے حفاظتی انتظامات ہوتے ہیں ۔انھیں کبھی کسی غلطی سے کوئی حادثہ پیش آ جائے تو ان کے علاج ومعالجہ کی بھی بہت بہتر سہولیات دستیاب ہیں۔ دوسری طرف اس کے ٹھیک برعکس ہمارے ملک میں صبح صبح جس طرح بھیڑ بکریوں کی طرح، ٹرکوں اور ٹریکٹروں میں لد کر مزدور اپنے گاؤں سے شہر کی جانب مزدوری کرنے جاتے ہیں ، انھیں دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ یہ بھی انسان ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ مزدور اگر دوسروں پر بھروسہ کرنے کی بجائے خود پر زیادہ بھروسہ کریں اور اپنے غم غلط کرنے کے لئے شراب سے دور رہ کر اپنے بچوں کی خاطر ایثار و قربانی دے کران کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں تو، اتنا ضرور ہے کہ ان کے بچوں کا مستقبل ضرور سنو رجائے گا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کم از کم ہر یوم مزدور کے موقع پر ایسے تمام ممالک میں ، جہاں مزدوروں کی حالت حیوانوں سے بھی بدتر ہے ، وہاںان کی اور ان کے بال بچوں کی بہتر طرز زندگی کے لئے بہت سنجیدگی سے لائحہ عمل تیار کیا جائے ، تاکہ زندگی کے دوڑ میں یہ بہت پیچھے نہ رہ جائیں۔

Dr. Syed Ahmed Qadri
Dr. Syed Ahmed Qadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری رابطہ: 09934839110

Share this:
Tags:
observed situation women Workers عورتیں محنت کشوں منایا
Faisalabad
Previous Post فیصل آباد کی خبریں 30/4/2017
Next Post جلال الدین محمد اکبر اور سیاسی بیر بل
Nawaz Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close