Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اقبال کوثر۔۔۔جدید غزل اور نظم کے نمائندہ شاعر

September 19, 2017 0 1 min read
Iqbal Kausar
Iqbal Kausar
Iqbal Kausar

تحریر : ڈاکٹر غافر شہزاد

جس طرح لوگ خسارے میں بہت سوچتے ہیں

اقبال کوثر جدیداردو غزل اور نظم کے نمائندہ شاعر ہیں۔ان کا تعلق اگر چہ جہلم شہر کے نواح میں موجود قصبہ کالا گوجراں سے تھا اور انہوں نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ جہلم میں ہی گزارا، مگر اردو غزل اور نظم کے سنجیدہ نقادین اُن کے نام اور کام سے واقف رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی بڑے شہر میں نہ ہونے کے سبب، ان کی شاعری اور شخصیت کو وہ پذیرائی نہ مل سکی، جس کے وہ حق دار تھے۔ مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے، ان کے لکھے ہوئے حروف ہمیشہ تابندہ، روشن اور زندہ رہیں گے اور آنے والے وقت میں وہ اپنا وجود منوا لیں گے۔
اقبال کوثر کا تعارف احمد ندیم قاسمی صاحب سے اس زمانے میں ہوا جب احمد ندیم قاسمی صاحب روزنامہ امروز کے مدیر تھے اور ادبی صفحہ نکالا کرتے تھے۔ اقبال کوثر اُن کو اس وقت اقبال حسین سحر کے نام سے اپنا کلام بھیجتے جسے احمد ندیم قاسمی صاحب بڑے اہتمام سے شایع کرتے تھے۔ پھر جب فنون شایع ہونا شروع ہوا تو اقبال کوثر کی غزلیں اور نظمیں فنون میں باقاعدگی سے شایع ہونے لگیں۔ اقبال کوثر نے اپنی عمر کا ایک حصہ راولپنڈی میں آفتاب اقبال شمیم اور اس عہد کے دیگر دوستوں کی ہمراہی میں آوارگی میں گزارا کہ جب ان سب کا مقصد اچھی اور نئی شاعری کی تخلیق کے علاوہ کچھ نہ تھا، جہلم کی نجی محفلوں میں وہ ان دنوں کا ذکر بڑی محبت سے کرتے تھے۔

اقبال کوثر کی تخلیقی زندگی کی آخری چار دہائیاں جہلم، دینہ، سرائے عالمگیر، گجرات اور اس کے نواح میں چھوٹے قصبوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ وہ صبح بیدار ہونے کے بعد تیار ہوتے، ناشتہ کرتے اور پھر جس طرح کسی ضروری کام سے گھر سے نکلتے ہیں، چل پڑتے۔ کالا گجراں کی سڑک پر چلتے، راستے میں دوستوں سے ملتے، سگریٹ فیکٹری کے بس سٹاپ پر پہنچ جاتے اور پھر وہاں فیصلہ ہوتا کہ عازم سفر دینہ کی جانب ہونا ہے یا جہلم کی جانب۔پیدل، تانگے پر یا پھر ویگن اور بس میں، ہر طرح کی سواری پر سفر میں رہتے اور دن کا بڑا حصہ ایسے ہی گزر جاتا۔سرائے عالمگیر جاتے تو قیام سید عنصر کے میڈیکل سٹور پر ہوتا۔جہلم جاتے تو ٹھکانہ ہمدانی ٹی سٹال ہوتا۔جب تک امداد ہمدانی زندہ رہے، ان کا ٹی سٹال چلتا رہا، اقبال کوثر کی بیٹھکیں وہاں تسلسل سے جاری رہیں۔ اس کے بعد کچھ عرصہ یاسمین سحر کے ہاں بھی جاتے رہے۔ دینہ جاتے تو شہزاد قمر کی ٹیلرنگ شاپ پر کم ہی پہنچ پاتے، راستے میں ہی کہیں نہ کہیں ٹھکانہ مل جاتا، کبھی صدیق سورج کہ جو پہلے صدیق بیدل کہلاتے تھے، کے پاس اور کبھی کسی اور دوست کے پاس۔پاؤں کے اس سفر میں ان کا تخلیقی عمل جاری رہتا اور وہ مسلسل اپنی غزلوں یا نظموں پر نظر ثانی کرتے رہتے۔ عمر کے آخری برسوں میں بیماری نے آن لیا اورچند برس صاحب فراش رہے۔کبھی کبھار دوست ملنے ان کے گھر چلے جاتے۔مگر بیماری کے دنوں میں بھی ذہنی اور تخلیقی صلاحیتیں متاثر نہیں ہوئیں۔

انگلینڈ جانے سے پہلے سلیم فگار نے اپنا بہت سا وقت ان کے ساتھ گزارا۔ سلیم فگار کے ساتھ ان کو قلبی لگاؤ ہو گیا تھا اور سلیم فگار کے ساتھ اُن کا اچھا وقت گزرتا۔سلیم فگار کے انگلینڈ چلے جانے کے بعد اقبال کوثر کی پہلے جیسی مصرفیات شروع ہو گئیں۔سلیم فگار سے بھی بہت پہلے اقبال کوثر کے ساتھ احمد لطیف کا ایسا ہی استاد شاگرد والا رشتہ تھا۔اور احمد لطیف کراچی جانے سے پہلے اپنا بہت سارا وقت اقبال کوثر کے ساتھ ہی گزارتا تھا۔مسرت ہاشمی جب تک جہلم میں رہا، اقبال کوثر اس کی دکان میں بیٹھتے رہے۔نصیر کوی جب تک زندہ رہا، بلال ہوٹل کے سامنے اس کی دکان ان کا ٹھکانہ بنتی۔کبھی کبھار اقبال ناظر کے پاس کالا موڑ کے ساتھ کسی نہ کسی ہوٹل میں بیٹھتے رہے۔جن دنوں جواز جعفری بسلسلہ ملازمت جہلم میں رہے، ان کی ملاقاتیں بھی اقبال کوثر کے ساتھ تسلسل سے ہوتی رہیں۔انجم خیالی لندن سے آتے تو دوست کہیں نہ نہیں اکٹھے مل بیٹھتے، جہاں اقبال کوثر کی موجودگی لازم ہوتی۔چوہدری فضل حسین زمیندارہ کالج سے ریٹائر ہوئے تو انہوں نے ملک انوارالحق کے دفتر میں بزم فیض کی مجلسوں کی رونق بحال کی تو وہاں اقبال کوثر شامل ہوتے۔

اقبال کوثر کو اکثر احباب کتاب کی اشاعت پر اصرار کرتے تھے مگر آپ وعدوں اور دوستوں کے بے پناہ اصرار کے باوجود شعری مجموعے کی اشاعت کے لیے خود کو تیار نہ کر پاتے۔ دوست انہیں تو کچھ کہہ نہ پاتے، یوسف حسن کی جانب اپنی توپوں کا رخ کر دیتے۔ مگر اقبال کوثر کا مسئلہ کیا تھا، اس سے یوسف حسن بخوبی آگاہ تھے۔اور یوں کئی دہائیوں کے اصرار کے بعد ان کی کتاب 2002 ء میں ”مرے راستے، مرے ہمسفر“ کے نام سے تخلیقات نے لاہور سے شایع کر دی جس میں اُن کی 131 غزلیں شامل ہیں۔پس سرورق ان کا معروف شعر تحریر ہے:

جس طرح لوگ خسارے میں بہت سوچتے ہیں
آج کل ہم ترے بارے میں بہت سوچتے ہیں

جب تک تنویر سپرا، مختار جاوید، نصیر کوی، مسرت ہاشمی زندہ رہے، آتے جاتے، دوسرے چوتھے روز اقبال کوثر صاحب ان سے ملاقات کرنے ان کے ٹھکانوں پر پہنچ جاتے۔ چند روز تک اگر ان کا چکر نہ لگتا تو دوست احباب ذکر کرنے لگتے، کئی دن سے اقبال کوثر صاحب نے شرف ملاقات نہیں بخشا، کیا بات ہے، کسی نے انہیں دیکھا ہے، کہاں ہیں، کدھر ہیں؟
اقبال کوثر کا شاعری کے حوالے سے اپنا ایک نقطہ نظر تھا۔ وہ کوئی شعری روایت سے الگ نہیں تھا مگر پھر بھی ان کے اپنے کچھ اصول تھے۔ کسی لفظ کے استعمال یا اس کے تلفظ کے بارے میں شک میں پڑ جاتے تو اس کی سند اقبال سے ڈھونڈتے۔ ان کو یہ اعتماد تھا کہ اقبال کے ہاں مستند حوالہ مل جائے گا۔ وہ دوستوں کو بھی اس بات پر اصرار کرتے کی وہ علامہ اقبال کی شاعری سے سند حاصل کیا کریں، وہاں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یوں لگتا ہے وہ غالبؔ یا میر ؔسے بھی زیادہ اقبال سے متاثر تھے۔اپنے شعری مجموعہ کے دیباچے میں انہوں نے اقبال کے حوالے سے کہی جانے والی بات کہ وہ اشعار یوں لکھواتے تھے جیسے اُن پر اسی وقت نزول ہو رہا ہے،کو مسترد کیا ہے اور اس کو ان کے حافظے کا اعجاز کہا ہے۔یعنی علامہ اقبال شعر پہلے کہہ لیتے تھے، حافظے میں محفوظ کر لیتے اور پھر بعد میں لکھوا دیتے یا خود لکھ لیتے۔ شعر کو بنانے سنوارنے کا عمل اس دوران انکے ہاں حافظے کی بنیاد پر ہوتا رہتا۔

اقبال کوثر کا خیال تھا کہ شاعری ”کسی تخلیقی فکرو خیال کے لمحات میں کچھ الفاظ و عبارات اپنے عصری معانی کے ساتھ“ اترنے کا عمل ہے جنہیں وہ ”وقتاًفوقتاً شعری اظہار کی ترتیب“ میں لاتے رہتے ہیں۔ اقبال کوثر نے اس تخلیقی عمل کے آخری برسوں میں تقریباً غزل کہنا ترک کر دیا تھا۔ ایک بار ان سے اس حوالے سے گفتگو ہوئی تو کہنے لگے، نظم کی لائنیں تو شاید یاد رہ جائیں، مگر نظم یاد نہیں رہتی اور شاعری وہی لوگوں کے حافظے میں محفوظ رہے گی جو یاد رہے گی۔ اس لیے ان کا خیال تھا کہ نظم کے بجائے غزل ہی لکھی جانی چاہئے۔ مزید ُان کا نقطہ نظر یہ بھی تھا کہ غزل کا ہر شعر الگ سے اپنی انفرادیت رکھتا ہو، تا کہ غزل سے الگ بھی وہ اپنے معانی کی پوری ترسیل کر سکے۔ ان کے خیال میں غزل کے اشعارمیں معنی یا موضوع کی سطح پر نظم جیسا تسلسل نہیں ہونا چاہئے۔ وہ اپنی غزلوں پر اس طرح سے بھی نظر ثانی کرتے رہتے۔ وہ غزل کو نظم کے اندر موجود معنوی تسلسل سے بالکل الگ رکھنے کے قائل تھے۔ یہاں تک کہ اُن کے ہم عصروں کے برعکس ان کے ہاں کہیں بھی ہمیں قطعہ بند اشعار نہیں ملتے۔ اُن کے نزدیک ”ایک شعر کو ایک تخلیقی اکائی کی حیثیت سے غزل کی ترتیب سے الگ بھی اپنے مطلوبہ فنی لوازم کے ساتھ ساتھ خیال و حسن اور مفہوم کی ندرت سے مایہ دار“ ہونا چاہئے۔تخلیقی عمل کو تسلسل سے جاری رکھنے کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ایک شعر کے بہتر ہونے اور اس میں کہی جانے والی بات کی موثر انداز سے ترسیل تب ہی ہو سکتی ہے جب بار بار آپ اس میں پیش کردہ معانی کی پیش کش کو بہتر بنانے کے عمل میں لگے رہیں گے۔ ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ کوئی شعر اپنی حتمی صورت میں کبھی بھی شاعر پر نہیں اترتا۔ ایک ہیولہ سا ہوتا ہے جس کو مکمل طور پر الفاظ کا لبادہ پہنانے میں، بنانے اور سنوارنے میں، اُس کے بہترین صوتی اور معنوی حسن تک رسائی کے لئے مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔

اقبال کوثر نے اپنی شاعری میں غزل یا نظم کی ہئیت کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں کیا۔ وہ اس بات کے مخالف نہیں تھے مگر ایسے بھی نہیں تھے کہ قواعدِ شعری میں ایک حد سے زیادہ جدت اختیار کی جائے اور اپنے اور روایت کے درمیان فاصلے پیدا کر لیے جائیں۔ اقبال کوثر کے نزدیک اچھا شعر وہ تھا جو معیار قبولیت پر پورا اترے۔ ان کے نزدیک ایک اچھے شعر میں ”نئے مضمون و خیال، اچھے اور قدرے تہہ دار مفہوم و معانی اور اُن کے مطابق مناسب الفاظ کے درو بست کا قرینہ“ لازمی شرائط میں تھا۔نہ تو ”بوجھل امیجری میں دبا ہوا“ اور نہ ہی ”بے جا آرائشی لفظی تکلف میں ڈوبا ہوا“ ہونا چاہئے۔وہ اس بات کے قائل تھے کہ ”ایک شعری خیال، اپنی تمثال، ہئیت، اسلوب اور الفاظ و عبارات کے ابتدائی اشارات فطری طور پر اپنے ساتھ لے کر آتا ہے“۔ وہ تخلیقی عمل کو فطری ذہنی عمل سمجھتے تھے۔وہ اس بات کی سخت مخالفت کرتے تھے کہ اساتذہ کے ہاں اشعار میں معانی کی ایک سے زائد پرتیں لیے ہوئے شاعری بڑی اور اعلیٰ شاعری ہے۔ ان کے نزدیک شعر میں معنی کی ایک ہی پرت ہوتی ہے اس کے علاوہ جو کچھ جوڑا جاتا ہے وہ نقادوں کی اپنی ذہنی اختراع اور”شارحین کی ذاتی موشگافیوں“ کے سوا کچھ نہیں۔ شاعر اپنے شعروں میں دانستہ ایسا کثیر معنوی پرتوں کا اہتمام نہیں کرتا، اب یہ اتفاق ہے کہ الفاظ کے برتاؤ کی وجہ سے کوئی ایسا کرتب ہو جائے کہ ایک سے زائد مفہوم نکل آئیں۔یا ”مرکزی خیال کے ساتھ کوئی الحاقی خیال وابستہ ہو جائے“۔

اقبال کوثر مشاعروں کو عوام تک پہنچانے کے لیے مشاعروں کی اہمیت کے قائل تھے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے مشاعرے کی روایت دم توڑتی چلی گئی۔ انہوں نے دیکھا کہ دو اور تین نمبر شاعر یا تیسرے درجے کے شاعر مشاعروں میں اسٹیج پر براجمان ہونے لگے تھے۔ آج سے تیس برس پہلے انہوں نے ایسے مشاعروں میں جانا کم کر دیا اور بتدریج جوں جوں بیرون ملک سے آئے متشاعر اسٹیج پر قابض ہوتے گئے وہ مشاعروں سے دور ہوتے چلے گئے۔ سامعین کا مزاج بھی ”تفنن طبع اور تماش بینی کی مشغلہ بازی“ کے مطابق بدلتا چلا گیا۔ اقبال کوثر کے نزدیک مشاعرے ”مناسب درجے کے شعرو سخن کی پیش کش اور فروغ کا ایک معتبر میڈیم تھے، گھٹیا اور مسخرے شاعروں کی مقبولیت“ کا معیار بنتے چلے گئے۔ اقبال کوثر جیسے جینوئن شاعر کو ایسے مشاعروں اور متشاعروں کے خلاف ردعمل ظاہر کرنا چاہئے تھا، جو انہوں نے کیا۔ اور بتدریج مشاعروں میں شرکت کم کرتے چلے گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ”شاعری سے بے بہرہ لوگ بھی دیکھا دیکھی شاعر کا بہروپ بھر کر باہر نکلے آ رہے ہیں۔ آج کسی شاعر کے پاس بیٹھے ہیں، اور دو روز کے بعد کوئی ایسا شارٹ کٹ مار لیا کہ مانگے تانگے کی غزلوں،نظموں کے ساتھ مشاعرے کی اسٹیج پر یکایک بحیثیت شاعر نمودار ہوئے نظر آتے ہیں“۔ اقبا ل کوثر نے تین دہائیاں قبل اپنے خدشات کو اظہار کر دیا تھا جسے تحریری طور پر انہوں نے اپنے شعری مجموعے کا حصہ بھی بنایا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایس صورتحال کو نظر انداز کرنا، دراصل، ”شعرو ادب کی جینوئنٹی کے بتدریج ختم ہوتے چلے جانے کے یقینی امکانات کو کھلے طور پر قبول کر لینا ہے“۔ ان کے اس خدشے کی سچائی نے آج کل ادب کو ایک سماجی سرگرمی قرار دینے والے شعرا کی صورت میں ہر تقریب کے اسٹیج پر بٹھا دیا ہے۔

اقبال کوثر کی شاعری سے انتخاب پیش خدمت ہے:
پھر نظر ملا مجھ سے، پھر بغور سن مجھ کو جو
میں اسی خموشی کو ابتدا سے بولوں گا
اب اپنا ہی گھر گویا، وہ گھر ہے جہاں بیٹے
لیتے ہیں بزرگوں سے جینے کا کرایہ بھی
زمینیں اس لیے دو گے کہ قبریں کھود لیں اپنی
ملے گا اس لیے کپڑا کہ ہم کفنا دئیے جائیں
میں نے جو تصویر بنائی آپ ادھوری رکھی ہے
جتنی قربت قدر نہ کھو دے، اتنی دور ی رکھ ہے
وہ جانتا تھا سجدہ فقط تجھ کو روا ہے
پلٹا نہ پھر اس حکم سے تعمیل تو یہ تھی
ترے خیال میں یوں بھی سفر کٹا اکثر
کہ گھر کی راہ میں بھی میرا گھرنہیں آیا
کہیں کیا حال قبروں کا کہ اب کے اس نے بستی میں
جنازے بھی گزرنے کا کوئی رستا نہیں چھوڑا
گر کر مرا گھر بن تو گیا ہے مگر اب کے
اس میں مرے بچوں کی صدائیں نہیں آتیں

Iqbal Kausar Book
Iqbal Kausar Book

تحریر : ڈاکٹر غافر شہزاد

Share this:
Tags:
jhelum poem جہلم شاعر نظم
Adbi Nashist
Previous Post ادارہ آدب افروز جہلم کی شاندار ماہانہ آدبی نشست میجر محمد اکرم شہید لائبریری پارک نزد شاندار چوک جہلم میں منعقد کی گئی
Next Post کلثوم نواز، جیت کر بھی ہار گئیں
Kalsoom Nawaz

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close