Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ایران میں افغان مہاجرین: ’خوف، تضحیک میرے ساتھ رہے،‘ زہرہ نادر

June 24, 2020 0 1 min read
Afghan Refugees
Afghan Refugees
Afghan Refugees

تہران (اصل میڈیا ڈیسک) صحافی زہرہ نادر نے تہران میں ایک افغان مہاجر کے طور پر اپنے قیام کے دوران ہونے والے تجربات یاد کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایران میں جس تعصب کا سامنا انہوں نے انیس سو نوے کی دہائی میں کیا، وہ آج بھی ختم نہیں ہوا۔

جب میں ایران میں افغان مہاجرین کی صورت حال کے بارے میں کچھ پڑھتی ہوں، تو میرے اپنے پرانے زخم تازہ ہو جاتے ہیں، وہ جانبدارانہ اور متعصبانہ سوچ جس کا تجربہ خود مجھے بھی ایران میں ہوا تھا۔ ایران میں افغان مہاجرین کو دوہرے تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے: ایک وہ منظم نسل پرستی جس کو ملکی قوانین ہوا دیتے ہیں اور دوسرا مقامی آبادی یا برادری کی سطح پر پایا جانے والا تعصب۔

تعصب کی پہلی قسم کے تحت افغان مہاجرین پر اضافی فیسیں اور ٹیکس لگائے جاتے ہیں اور انہیں عوامی شعبے میں حاصل ہونے والی خدمات تک رسائی نہیں دی جاتی۔ لیکن زیادہ خطرناک کمیونٹی کی سطح پر پایا جانے والا تعصب ہے۔ ایرانی عوام روزانہ کی بنیاد پر افغان مہاجرین کی تذلیل کرتے ہیں، اور یہ بات انہیں ذہنی طور پر اس طرح متاثر کرتی ہے کہ ان کی خود اعتمادی ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی مستقبل کے بارے میں ان کی تمام امیدیں بھی۔ یہ اسی ماحول کا نتیجہ ہے کہ ایران میں افغان مہاجرین کی ایک پوری نوجوان نسل خوف اور تضحیک کی فضا میں پرورش پا رہی ہے۔ زہرہ نادر لکھتی ہیں:

انیس سو نوے کی دہائی میں جب افغانستان میں ہزارہ جات کا ہمارا آبائی علاقہ طالبان کے کنٹرول میں تھا، میرے والدین ترک وطن پر مجبور ہو گئے اور ایران وہ واحد ملک تھا جس کے بارے میں وہ کچھ جانتے تھے۔

جب ہم تہران کے نواح میں جعفر آباد کے ایک پسماندہ اور غریب علاقے میں پہنچے تو میری عمر صرف سات سال تھی، ایسی عمر جس میں بچوں کو اسکول جانا چاہیے۔ میری والدہ مجھے چند ماہ کے اندر اندر کئی مختلف اسکولوں میں لے کر گئیں لیکن مجھے ایک طالبہ کے طور پر وہاں قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا۔

اب مجھے یہ علم نہیں کہ تب تارکین وطن یا مہاجرین کے طور پر ہماری قانونی حیثیت کیا تھی لیکن میرے والد کے بقول ان کے پاس جو بھی کاغذات تھے، انہیں اسکولوں حکام نے کچھ بھی نہ سمجھا اور مجھے میرے تعلیم کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ ایک رات جب میری عمر نو سال تھی اور میرا نوجوان بھائی، جس کی عمر ابھی انیس سال سے بھی کم تھی اور جو ایک گلاس فیکٹری میں ڈبل شفٹ میں کام کرتا تھا، گھر لوٹا تو اس کے پاس ایک اچھی خبر تھی۔

ہمارے گھر کے پاس ہی افغان مہاجرین کے بچوں کے لیے ایک اسکول کھل گیا تھا، جسے افغان باشندے ہی چلاتے تھے۔ میں بڑے جوش میں آ گئی اور مجھے ساری رات نیند نہیں آئی تھی۔ میں یہ سب کچھ سوچتی رہی کہ میں اپنے اساتذہ کو کیسے مخاطب کروں گی، کوئی یونیفارم بھی پہننا پڑے گا، جیسے ایرانی بچے اسکول جاتے ہوئے پہنتے ہیں؟

پھر جب ہمارا اسکول میں داخلہ ہوا تو میں اور میری بڑی بہن معصومہ نے اپنے گھر کے لباس میں ہی اسکول جانا شروع کیا۔ کمرہ جماعت افغان بچوں سے بھرا ہوا تھا اور تمام بچے زمین پر ہی چار قطاروں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں اپنی ٹیچر کے سامنے پہلی قطار میں بیٹھی تھی: زہرہ، ایک افغان مہاجر لڑکی جسے اسکول میں داخلہ مل گیا تھا۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق 19 تا 25 نومبر کے دوران ہزاروں افغان مہاجرین کو ایران سے افغانستان واپس لوٹایا گیا۔ اس تنظیم کا کہنا ہےکہ مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجنے کی ایک وجہ ایران میں تارکین وطن کے لیے پناہ گاہوں کی اب تر ہوتی صورت حال ہے۔

ہمیں اسکول جاتے ہوئے ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ ایک روز میری والدہ نے اعلان کر دیا کہ اب ہم اسکول نہیں جا سکتے۔ میرے والد اور بھائیوں کی محنت مشقت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے صرف ہمارے گھر کا کرایہ اور کھانے پینے کا خرچ ہی پورا ہو سکتا تھا۔ اس رات میں اپنے کمبل کے نیچے بہت دیر تک روئی تھی۔ میں نے اپنے اسکول کو خیرباد کہنے کا وعدہ تو کر لیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے تمام خوابوں کو بھی، لیکن میں اس میں کامیاب نہ ہو سکی۔

جب میں نے اسکول جانا بند کر دیا تو گھر میں مجھے یہ کام سونپا گیا کہ میں دن میں دو مرتبہ قلعہ یداللہ نامی قریبی علاقے میں ایک بیکری سے روٹی لے آیا کروں۔ ایک دوپہر میری ہی عمر کی ایک ایرانی لڑکی بیکری سے واپس آتے ہوئے میرے راستے میں کھڑی ہو گئی۔ میں نے سنہری رنگ کے کناروں والا ایک کالا اسکارف پہنا ہوا تھا۔ ”اپنا اسکارف مجھے دے دو،‘‘ اس لڑکی نے کہا۔ میرے ہاتھ میں چار بڑی بڑی گرم گرم روٹیاں تھیں، جنہیں میں نے اپنے سینے سے لگا رکھا تھا۔ میں نے اس لڑکی کو اپنا اسکارف نہ دینے کی جو بھی وجہ پیش کی، وہ اس سے مطمئن نہ ہوئی اور یہی کہتی رہی کہ مجھے اپنا اسکارف دے دو۔ میرا گھر قریب ہی تھا۔ میں نے ہمت کی اور بھاگ کر اپنے گھر جا رہی تھی تو اس لڑکی نے پیچھے سے چیخ کر کہا، ”بدتمیز افغان! میں تمہیں کل دیکھ لوں گی۔‘‘

اگلے چند روز تک جب میں اس لڑکی کے گھر والے علاقے سے گزرتی تو میری والدہ میرے ساتھ ہوتی تھیں۔ بعد میں ثابت یہ ہوا کہ وہ لڑکی افغان بچوں کو ہراساں کرنے والی کوئی واحد ایرانی لڑکی نہیں تھی۔ پھر میں نے اپنے افغان ہونے کی شناخت ہو جانے سے بچنے کے لیے ایرانی فارسی کا لسانی لہجہ بھی اپنا لیا تھا۔ مگر یہ بھی میرے کسی کام نہ آیا۔ میں بیکری سے روٹی لینے کے لیے بڑوں کے ساتھ قطار میں کھڑے ہوئے بھی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی تھی۔ ایرانی عورتیں مجھے کھینچ کر قطار سے باہر کر دیتیں اور میری جگہ لے لیتی تھیں۔

اس بستی ميں افغان مہاجرين کے لگ بھگ سات سو خاندان آباد ہيں۔ بستی کے رہائشی شمع گُل پچھلے سينتيس سال سے پاکستان ميں رہائش پذير ہيں۔ اس بستی ميں وہ پچھلے چھ سال سے مقيم ہيں۔ گُل کے مطابق بستی انتہائی برے حال ميں ہے اور بارش کے موسم ميں ہر طرف پانی کھڑا ہو جاتا ہے۔ ايک اور مسئلہ پکی سڑک تک رسائی کا بھی ہے۔ بستی جس علاقے ميں ہے، وہ کسی پکی شاہراہ سے کافی فاصلے پر ہے۔

ایک واقعے نے مجھے ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ تہران سے شمال مشرق کی طرف بحیرہ کیسپیئن کے کنارے واقع ایرانی شہر عباس آباد میں پیش آیا تھا۔ میں دوپہر کے وقت ایک سٹور سے واپس گھر جا رہی تھی تو چند نوجوان ایرانی لڑکے گلی میں فٹ بال کھیل رہے تھے۔ ایک لڑکے نے فٹ بال کو بڑے زور سے کک لگائی اور وہ میرے کان کے قریب سر پر لگا۔ مجھے بہت درد ہوا اور میرے کان گونجنے لگے۔ میں رو پڑی تھی اور گھر کی طرف بھاگی۔ وہ لڑکا ہمارا ہمسایہ تھا اور گلی کے کونے پر ہی رہتا تھا۔ میری والدہ مجھے لے کر اس کے گھر کے دروازے تک گئیں تو اس کی ماں سنتی رہی اور اس نے کچھ نہ کہا۔ ایک اور ہمسایہ، جس کا بیٹا بھی فٹ بال کھیلنے والے لڑکوں میں شامل تھا، ہمارے سامنے آ کر چیخ کر بولا، ”تمہیں ہمت کیسے ہوئی ہمارے دروازے تک آنے کی؟ یہ ایران ہے۔ میری خواہش ہے کہ میرے بیٹے نے تمہاری بیٹی کو پیٹا ہوتا اور میں تمہارے گھر کا سامان اٹھا کر باہر گلی میں پھینک دیتا۔ بدتمیز افغان! جاؤ، اپنے ملک واپس جاؤ!‘‘

وہ آدمی بولتا رہا لیکن مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ اس روز میں نے اپنی بچی کھچی ہمت بھی ہار دی۔ اگلے دن میری سماعت تو کافی حد تک لوٹ آئی لیکن میں وہ ٹین ایجر لڑکی نہیں رہی تھی جو میں ایک روز پہلے تھی۔ اس کے بعد سے میں نے اپنی والدہ کے ساتھ کسی بھی معاملے میں کبھی دوبارہ کوئی شکایت نہ کی۔ میں نے وعدہ کر لیا تھا کہ میں نسل پرستی اور تعصب کے سامنے خاموش رہوں گی تاکہ کوئی میری ماں کی سرزنش نہ کرے۔ میں نے یہ وعدہ برسوں تک نہیں توڑا تھا۔ یہ وعدہ میں نے آج توڑا ہے۔ 2003ء کے بعد سے میں کبھی واپس ایران نہیں گئی، لیکن میرے اندر خوف اور تذلیل کا یہ احساس تو ہمیشہ موجود رہے گا۔

رواں برس مئی میں کابل میں جرمن سفارت خانے پر دہشت گردانہ حملے کے بعد پہلی مرتبہ بارہ ستمبر کو پندرہ ایسے افغان تارکین وطن کی ایک پرواز کابل روانہ ہوئی جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی تھیں۔ جرمن سیاسی جماعتوں ’دی لنکے‘ اور ’گرین‘ نے ملک بدری کے سلسلے کے دوبارہ آغاز پر حکومت کو تنقيد کا نشانہ بنايا ہے۔

جب ہم نے ایران چھوڑا تو میرا ایک کزن جو ہمارے ساتھ ہی ہمارے رہائشی احاطے میں رہتا تھا، اس کی ایک دو سال کی بیٹی بھی تھی، جس کا نام زہرہ تھا۔ وہ آج بھی ایران میں ہی رہتے ہیں اور اس کی بیٹی خوش قسمت ہے کہ وہ اب ایک مقامی پبلک اسکول جاتی ہے۔ جب میں نے اس وقت انیس سالہ زہرہ سے بات کی، اور اس سے اس کی مستقبل کے بارے میں امیدوں سے متعلق دریافت کیا، تو اس نے اپنا جواب صیغہ ماضی میں دیا، ”مجھے ڈاکٹر بننا پسند تھا، بڑا شوق تھا مجھے۔ میں بہت اچھے نمبر لینے کے لیے سخت محنت بھی کرتی رہی تھی۔ لیکن جب میں نے دیکھا کہ افغان طلبا و طالبات یونیورسٹی جانے کے متحمل نہیں ہو سکتے، تو میری امیدیں ناامیدی میں بدل گئیں۔‘‘

زہرہ کی باتیں سن کر میں سمجھ گئی کہ ایران میں افغان مہاجرین کی زندگی آج بھی زیادہ نہیں بدلی۔ زہرہ نے مجھے بتایا، ”ہمارے ایک ایرانی ہمسائے کا فون گلی میں گم ہو گیا۔ وہ ہمارے دروازے تک آ گیا، لیکن ہم گھر پر نہیں تھے۔ صرف میرا سب سے چھوٹا بھائی حسین گھر پر تھا۔ اس ہمسائے نے حسین کو پیٹا اور اس پر فون چوری کرنے کا الزام لگایا۔ پھر اس نے اسے دھمکیاں بھی دیں اور گالیاں بھی، یہ کہتے ہوئے کہ اس نے خود دیکھا تھا کہ اس کا فون حسین نے ہی چرایا تھا۔ اگلے روز اس شخص کے ایک اور ہمسائے کو اس کا فون گلی میں گرا ہوا ملا اور اس نے وہ فون اس کے مالک کو لوٹا دیا تھا۔‘‘

زہرہ اگلے سال اپنی اسکول کی تعلیم مکمل کر لے گی۔ لیکن وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتی کہ وہ یونیورسٹی جا سکے گی، ”اگر میرے بہت اچھے نمبر آ بھی گئے اور میں نے داخلے کا امتحان پاس بھی کر لیا، مجھے پھر بھی اضافی فیس تو ادا کرنا پڑے گی۔ کیونکہ میں ایک افغان مہاجر ہوں۔ ‘‘ زہرہ کے ماں باپ دونوں ہی زرعی شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ کاشتکاری کرتے ہیں اور سلاد اگاتے ہیں۔ زہرہ کے مطابق، ”اگر میں خود کو مستقبل میں آگے بڑھتے ہوئے دیکھ ہی نہیں سکتی، تو یہ سب کچھ فضول ہی تو ہے۔ میرا جوش و جذبہ ختم ہو چکا ہے۔‘‘

Share this:
Tags:
Afghan refugees Fear iran Zahra Nader افغان مہاجرین ایران خوف، زہرہ نادر
Israeli Airstrikes
Previous Post اسرائیلی فضائی حملوں میں دو شامی فوجی ہلاک، متعدد زخمی
Next Post فلسطینیوں کا اسرائیل سے قطع تعلق، آٹھ ماہ کے بچے کی موت
Omar Yaghi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close