
اصفہان (جیوڈیسک) ایران کے تاریخی شہر اصفہان میں حالیہ کچھ عرصے میں خواتین پر پے در پے تیزاب حملے کیے گئے ہیں۔ پولیس نے ان حملوں کے محرکات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے ، تاہم اب تک متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ تیزاب سے حملوں کے 13 واقعات ہو چکے ہیں اور یہ حملے ان متاثرہ خواتین کے غلط انداز سے نقاب کرنے پر ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں برے نقاب میں ملبوس خواتین ڈرائیوروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
جن کی گاڑیوں کے شیشے بند نہیں تھے۔ واضح رہے کہ خواتین پر تیزاب حملوں کے واقعات میں پاکستان ، افغانستان اور بھارت آگے آگے ہیں ، جہاں حالیہ چند برسوں میں غیرت کے نام پر متعدد خواتین کو اس بربریت کا سامنا کرنا۔ پڑا۔ جب کہ ایران میں اس سے قبل بھی تیزاب حملوں کے متعدد واقعات دیکھے جا چکے ہیں۔ یہ بات اہم ہے۔
کہ 1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد سے خواتین کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ چست لباس زیب تن نہ کریں اور حجاب لیں ، جس کے ذریعے سر اور گردن کو ڈھانپا جائے۔ حالیہ کچھ عرصے میں تاہم ایران میں کچھ آزادی دیکھی جانے لگی تھی۔ ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا کے مطابق ان کا کہنا ہے۔
کہ اگر کوئی خاتون بری ترین حالت میں بھی سڑک پر آئے ، تب بھی کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایسی کوئی حرکت کرے۔ ادھر متعدد ایرانی ارکان پارلیمان نے صدر حسن روحانی کو حالیہ کچھ ماہ میں مراسلے تحریر کیے ہیں ، جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پولیس کو ہدایات کی جائیں کہ وہ خواتین کے سخت پردے کو یقینی بنائیں۔
