
تہران (جیوڈیسک) ایٹمی پروگرام پر عالمی پابندیاں ایران کی ورلڈ کپ امیدوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ ٹیم کی تیاری میں کوچ کیوروز کو مشکلات کا سامنا ہے، اعلان کردہ 30 رکنی عبوری اسکواڈ میں سے 10 پلیئرز ملک سے باہر مقیم ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران کے ایٹمی پروگرام پر عائد عالمی پابندیوں نے کوچ کارلوس کیوروز کی ان کوششوں کو مشکلات کی نذر کر دیا ہے جس میں وہ ایک ایسی ٹیم تیار کرنا چاہتے ہیں جو ورلڈ کپ فائنلز میں کوئی کارنامہ انجام دے سکے، پرتگیز کوچ کو لیونل میسی، سرجیو اگویرو اور ایڈن زیکو جیسے عالمی اسٹارز کا سامنا کرنے کیلیے اپنے کثیر القومی پلیئرز کو خصوصی طور پر تیار کرنے کی ضرورت ہو گی۔
ایران کو گروپ ایف میں ارجنٹائن، نائیجیریا اور بوسنیا کا چیلنج درپیش ہے۔ ایران کو حالیہ مہینوں میں فیلڈ کے اندر اور باہر پریشانیاں اٹھانا پڑیں، کیونکہ ملک کو بینکنگ سسٹم سے باہر اور کیوروز ہر دن برازیل کی مہم کیلیے جدوجہد کرتے دکھائی دیے، اس ہفتے کیوروز اور ان کے چند پلیئرز نے کٹ اور جوتوں کی فراہمی اور چھوٹے موزوں کی شکایت کی تھی، البتہ سامان فراہم کرنے والی کمپنی اور ایران فیڈریشن نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ 1988، 1978 میں انھوں نے امریکا کو ہرایا، 2006 کے بعد ایران اپنے چوتھے ورلڈ کپ فائنلز میں حصہ لے رہا ہے، لیکن وہ کبھی بھی پہلے راؤنڈ گروپس سے آگے نہیں بڑھ سکے، مارچ میں عالمی رینکڈ 53 گیانا سے ہوم گراؤنڈ پر 1-2 شکست نے کیوروز کی تیاریوں میں کوئی مدد نہیں کی۔ کیوروز نے اس کے بعد زبردست کوششوں پر زور دیا تھا لیکن مالی پابندیوں کی وجہ سے تیاریاں اور ہدف بہت مشکل دکھائی دے رہے ہیں۔
