
نیویارک (جیوڈیسک) اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے انسانی حقوق ایون سائیمونووک نے کہا اس بات کے ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ یزیدیوں کی نسل کشی کی کوشش کی جائے گی۔
یزیدیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کرنے والی عسکریت پسند تنظیم داعش نے عراق کے وسیع علاقے پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے جس سے خطرہ ہے کہ انسانیت کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو گا۔
علاوہ ازیں سینکڑوں یزیدی عورتیں اور لڑکیاں داعش کے عسکریت پسندوں کی قید میں ہیں۔ ان کے بارے میں عسکریت پسندوں نے آن لائن کہا تھا کہ وہ ان غلام بنائی گئی یزیدی خواتین کو بیچ دیں گے۔
داعش کی طرف سے اسلام قبول کرنے، یا اطاعت قبول کرنے کے انتباہ کے بعد یزیدی قبیلے کے ہزاروں افراد نے اپنا علاقہ چھوڑ نے اور نقل مکانی کا فیصلہ کر لیا تھا۔اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے انسانی حقوق نے عراق میں اپنی موجودگی کے دوران بہت سارے یزیدیوں کے انٹرویو کیے۔
اس دوران انہیں کئی خوفناک کہانیاں سننے کو ملیں۔انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ یزیدیوں کے کئی گروپوں کو اس لیے ہلاک کر دیا گیا کہ انہوں نے یزیدی مذہب چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس صورت حال کے باوجود 7000 کی تعداد میں یزیدی اپنے علاقوں میں رکے ہیں اور ان پر دباو ہے کہ وہ اسلام کی اطاعت قبول کر لیں۔اس سے پہلے ایک رپورٹ میں کہا جا چکا ہے کہ زیر حراست یزیدی خواتین کے ساتھ عسکریت پسندوں نے جنسی زیادتی کا ارتکاب کیا ہے۔
