
بغداد/ دمشق (جیوڈیسک) شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) نے دعوی کیا کہ تاوان کی ڈیڈ لائن ختم ہونے پر انہوں نے دو جاپانی شہریوں میں سے ایک کا سر قلم کر دیا ہے۔
ادھر جاپان حکومت کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ واقعی ان کے ایک شہری کا سر قلم کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق نئی وڈیو داعش کے کسی پیج سے جاری نہیں گئی۔ ترجمان نے کہا نئی وڈیو میں گوٹو زندہ نظر آ رہے ہیں تاہم اس کا دوسرا ساتھی اس وڈیو میں نظر نہیں رہا۔
واضح رہے گزشتہ دنوں داعش کی جانب سے جاری ویڈیو میں نقاب پہنے اور ہاتھ میں چاقو پکڑے ایک شخص نے ویڈیو پیغام میں دھمکی دیتے ہوئے جاپانی حکومت کو الٹی میٹم دیا تھا کہ اگر اگلے 72 گھنٹوں کے اندر داعش کو 200 ملین ڈالرز کی رقم ادا نہ کی گئی تو یرغمال بنائے گئے دونوں جاپانیوں کے سر قلم کر کے انھیں قتل کر دیا جائے گا۔
ویڈیو میں جاپانیوں کے نام کینجی گوٹو اور ہارونا یُوکاوا بتائے گئے ہیں۔ جاپانی وزیراعظم شینزو آبے نے داعش سے دونوں جاپانی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاپانی شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ جاپانی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ دونوں شہریوں کی زندگی بچانا اوّلین ترجیح ہے اور وہ اس کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ داعش نے گزشتہ سال بھی امریکی اور برطانوی مغویوں کے سر قلم کئے تھے۔
