Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اسلام سے دوری

August 1, 2015August 1, 2015 0 1 min read
Islam
Islam
Islam

تحریر : زکیر احمد بھٹی
ایک دن میں کالج میں پڑھ رہی تھی کہ میری ایک دوست نے آ کر مجھے بتایا آج پشاور کے آرمی سکول میں کچھ دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے یہ سن کر میرے دل کو پتہ نہیں کیا ہوا میں ایک بت سی بن کر رہ گئی تھی میں نہ کچھ کر سکتی تھی اور نہ کچھ بول سکتی تھی میری سانس جیسے بند سی ہو کر رہ گئی تھیں میری دوست نے مجھے بہت ہلایا میرے ساتھ ایسا کیاہو گیا تھا کہ میرے جسم میں طاقت نام کی چیز ہی نہیں تھی مجھے معلوم ہی نہیں کہ میرے آس پاس کیا ہو رہا تھا میری دوست نے اونچی اونچی شور مچانا شروع کر دیا تھا اور بھی بہت سے دوستوں نے آکر مجھے آوازیںدیں ایسا لگ رہا تھا کہ مجھے کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھااسی وقت میری دوستوں نے کالج کے میڈیکل سٹاف کو بلایا جس نے مجھے جلدی سے ڈرپ لگائی اور پانی کے چند قطرے پلائے میری سانسیں چلنا تو شروع ہو گئیں اور میں نے زاروقطار رونا شروع کر دیا تھا میرے جسم میں عجیب سے کفیت پیدا ہو گئی تھی نجانے جیسے کسی نے میرا دل ہی نکال لیا ہو ۔تقریباایک گھنٹے کے بعد ڈرپ ختم ہوئی کچھ دوستوں نے مجھے کنٹین میں لے جا کو جوس وغیرہ پلایا۔اب میں اپنے آپ کو کافی حد تک بہتر محسوس کر رہی تھی۔

نہ جانے کون سی بات تھی جو میری دل میں کٹھک رہی تھی جو مجھے چین بھی نہیں لینے بھی نہیں دے رہی تھی میں ابھی انہیں سوچوں میں گم تھی کہ میری ایک دوست جس کا نام کرن تھا نے آکر پوچھا کہ آکر صائمہ کو ہوا کیا ہے ۔جس پر میری ایک اور دوست جس کا نام عالیہ تھا نے بتایا کہ پشاور آرمی سکول کا جو واقع رونما ہوا ہے اس کے بارے میں میں نے آکر صائمہ کو خبر دی تھی کہ وہاں سکول میں بہت سے بچے اور ٹیچرز کو ہلاک کر دیا گیا ہے اس کے بعد اس کو نا جانے کیا ہو گیا ۔ میں اس کی باتیں سن رہی تھی اور جواب نہیں دے پارہی تھی ۔میری ایک کلاس فیلو نے کہا کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں معلوم نہیں چاہتیں ہیں آئے دن حملے کر کے بہت سے لوگوں کی جانیں لے لیتے ہیں یہ لوگ سنت رسول ۖ رکھ کر بھی خدا کے خوف سے نہیں ڈرتے ہم کیا کر رہے ہیں ۔ابھی اتنی ہی بات کی تھی کہ میں جلدی سے اٹھی اورعالیہ کو زور سے دکھا دے دیا اس کا سر ایک میز سے ٹکرا گیا اور اس کا سر پھٹ گیا اور خون نکلنا شروع ہو گیا تھا اور میں نے پھر زور زور سے رونا شروع کردیا تھا ۔ کنٹین میں موجود سب لڑکیا ںیہ دیکھ کر پریشان تھیں کہ آخر صائمہ کو ہوا کیا ہے میری دوستوں نے مجھے زبردستی پکڑ کر کنٹین میں ایک طرف لے جا کر ٹھنڈا پانی پلایا جس سے میرے ہوش ہوس قائم ہو گئے ۔میںنے سب کو کہا کہ مہربانی کر کے سب لوگ مجھے اکیلا چھوڑ دو ۔کرن نے کہا کہ میں کوئی بات نہیں کروں گی مگر تمھارے ساتھ ہی رہوں گی۔

میں نے غصے میں کہا کہ اگر بات کرنے کی کوشش بھی کی تو بہت برا ہو گا مجھے یہ کہتے ہوئے سب دوستوں نے سن لیااور وہ سب کالج کی عمارت میں داخل ہو گئیں میری سب سے پیاری دوست کرن اب بھی میرے پاس موجود تھی۔اور وہ خاموش مجھے غور سے دیکھے جا رہی تھی اس وقت میری آنکھیں نہ بند تھیں اور نہ ہی کھلیں ہوئی اور نہ جانے میں کن سوچوں میں گم تھی جو کلاس فیلو واپس کالج کی عمارت میں چلی گئیں تھیں ان میں سے ایک دوست پرنسپل صوفیہ میڈم کو جا کرساری صورت حال سے آگاہ کردیا جس پر میڈم نے کہا کہ تم جائو میں آتی ہوں پرنسپل صوفیہ میڈم نے میرے گھر فون کیا اور کہا کہ صائمہ کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے اس نے ایک لڑکی کو زخمی کر دیا ہے اس کی آج تک کو ئی کمپلین نہیں ہے مگر آج۔ آپ آکر اسے لے جائیں ۔فون بند کرتے ہی صوفیہ میڈم میرے پاس آگئیں آتے ہی مجھے بڑے غور سے دیکھنے لگیںمجھ سے بات کرنے کی کوشش کی مگر میں سن تو سکتی تھی مگر بات کرنے کی ہمت نہیں تھی میری شکل دیکھ کر صوفیہ میڈم بھی کچھ ڈر سی گئیں تھیں ۔۔ میری ایک اور دوست کو بولا کہ اب عالیہ ( جس کا سر پھٹ گیا تھا ) کیسی ہے مجھے عالیہ کے پاس لے چلو پرنسپل صوفیہ کے ساتھ کچھ لڑکیا ں میڈیکل سٹاف روم کی طرف جانے لگیں جہاں پر عالیہ موجود تھی میڈم عالیہ کو دیکھتے ہی دوبارہ اپنے آفس میں چلی گئیں اور دوبارہ میرے گھر فون کیا اور کہا کہ آپ لوگ جلدی آکر صائمہ کو لے جائیں میں ابھی صائمہ کو دیکھ کر آئی ہوں مجھے اس کی آنکھوں میں بہت خوف نظر آرہا ہے یہ بات کہتے ہیں میڈم نے فون بند کر دیا میرا گھر کالج سے تھوڑا ہی دور تھا اس لیے میری امی ، بھابی ، اور چھوٹا بھائی آگئے

College
College

جیسے ہی میرے گھر والے کالج میں داخل ہوئے تو کرن نے مجھے کہا کہ صائمہ آپ کی امی اور بھابی آئیں ہیں میرا خیال ہے کہ صوفیہ میڈم نے آپ کے گھر والوں کو کال کی ہو گی کرن بات کر ہی رہی تھی کہ امی اور بھابی میرے پاس آگئیں میری حالت دیکھتے ہی جیسے امی جان رونا ہی شروع ہی ہو گئیں بھابی بہت پریشان ہو گئیں اور سوچا آخر صائمہ کو ہوا کیا ہے بھابی نے میرے سر پر پیار کرتے ہوئے کہا کہ صائمہ بیٹا آپ کو کیا ہواہے یہ کیا حالت بنائی ہے میری گڑیا نے ۔مگر میں ان کو دیکھ تو رہی تھی کچھ کہنے کے قابل نہیں تھی بھابی نے جلدی سے بھائی کو کہا کہ جا کر ٹھنڈا پانی لائو کرن کے بتانے پر کہ کنٹین وہاں ہے بھائی نے کنٹین سے ٹھنڈے پانی کی بوتل لے کر آیا بھائی کیونکہ چھوٹا تھا اس لیے اسے کالج میں آنے کی اجازت مل گئی تھی بھابی نے پانی پلانے کی کوشش کی تو اس میں سے میں نے کچھ تھورا سا ہی پیا ہو گا ۔بھابی نے امی کو کہا کہ آپ صائمہ کے پاس رہیں میں پرنسپل کے پاس جا کر آتی ہوںبھابی نے بھائی ثاقب کو ساتھ لیا اور پرنسپل کے آفس کی طرف چلیں گئیں آفس میں داخل ہوتے ہی سلام کیا اورپرنسپل نے کرسی پر بیٹھنے کااشارہ کیا اور بھابی اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ میں صائمہ کی بھابی ہوں میرا نام نبیلہ آصف ہے صائمہ کو کیا ہوا ہے آج۔

ایساصائمہ کو کتنی دیر پہلے ہوا ہے پرنسپل نے کہا مجھے یہاں شفٹ ہوئے تقریبا 6 ما ہ ہو گئے ہیں آج تک صائمہ کی مجھے کوئی کمپلین نہیں ہے یہ بہت اچھی اور ہو نہار بچی ہے مگر یہ سب کچھ میری سمجھ میں نہیں آرہا آخر صائمہ کو ہوا کیا ہے میں آپ سے کچھ جاننا چاہتی ہوں کہ صائمہ کو کہیں پہلے بھی دورے وغیرے تو نہیں پڑتے تھے آپ لوگوں نے کبھی صائمہ کو ماہر نفسیات کو دیکھایا ہے کیا ۔ ہو سکتا ہے کہ صائمہ کو باہر کی چیز ( جنات وغیرہ ) کا اثر ہو ۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ بھابی کو بہت سخت غصہ آیا اور پرنسپل پر برس پڑیں کہ آپ کا دماغ ٹھیک ہے آپ یہ کسیی باتیں کر رہے ہیں بھابی کی آواز اونچی تھی اس لیے جہاں ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے بھابی کی آوازوہاں تک آرہی تھی کرن بھاگ صوفیہ میڈم کی آفس کی طرف گئی اور بھابی کو چلنے کا کہا ۔ بھابی آپ صائمہ کو گھر لے جائیں اسے آرام اور علاج کی سخت ضرورت ہے بھابی اور کرن جلدی سے میرے پاس آئیں اور مجھے گاڑی میں بیٹھایا اور بھابی گاڑی کو لے کر گھر کی کالج سے نکل آئیں امی مجھے مسلسل دیکھے جا رہیں تھیں کالج سے نکلتے ہی کرن نے بھابی کو کہا کہ کالج کے بعد میں آپ کے گھر آئوں گی۔

ہمارا گھر کالج سے 5 منٹ کی دوری پرتھا بھابی نے گھر آتے ہی کمرے کی بجائے اپنے بیڈ روم میں لے جانا مناسب سمجھا مجھے بیڈ پر بیٹھا نے کے بعد کہا کہ میری گڑیا اب تم لیٹ جائو میں تمھارے لیے جوس بنا کر لاتیں ہوں بھابی کچن کی طرف چلیں گئیں اور میں بیڈ پر لیٹ گئی بھابی میرے لیے آم کا جوس بنا کر لائیں تھیں میں نے بمشکل دو ، تین گھونٹ لیے ہوں گے میرے میں ہمت نہیں تھی میں دوبارہ لیٹ گئی۔امی نے بھابی کو پوچھا کی آخر پرنسپل نے کیا کہا تھا کہ تم اتنے غصے میں بول رہی تھی۔امی جان کچھ نہیں ہوا بس ہماری گڑیا تھوڑا سا آرام کر لے گی کو ٹھیک ہو جائے گی ۔امی ایک بار پھر بھابی سے پوچھا کہ پرنسپل نے کیا کہا صائمہ کے بارے میں ۔بس وہ پاگل ہے کچھ بھی بولتی ہے بھابی دھیمی آوازمیں بھڑبڑاتی ہوئی بولیں ۔ امی کے اصرار پر بھابی نے پرنسپل کے الفاظ کو دہرا دیا کہا کہہو سکتا ہے کہ صائمہ کو باہر کی چیز ( جنات وغیرہ ) کا اثر ہو اس لیے صائمہ نے ایساکیا ہو یہسننے کی دیر تھی کہ امی اور پریشان ہوگئیں۔امی : یا اللہ ہماری بچی کو آرام اور صحت عطا کر اور اسے اپنے حفظ امان میں رکھ امی ایک دم سے کھڑی ہو گئیں بھابی نے پوچھا کہ امی کیا ہو امی نے کہا کہ میںساتھ والی ہمسائی کے گھر جا رہی ہوں اس کے جاننے والے ایک بابا جی ہیں میں اسے کہتی ہوں کہ بابا جی کو جلدی سے بلائے

Call
Call

اتنی بات کہتے ہوئے امی گھر سے باہر چلیںگئیں بھابی نے آصف بھائی کو بھی کال کر دی کہ صائمہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ جلدی گھر آجائیں بھابی ایک بار پھر مجھے دیکھنے کے لیے آئیں ۔پریشانی کی وجہ سے میری آنکھ لگ گئی ۔تھوڑی دیر میں امی جان بھی واپس آگئیں ۔ آتے ہی بھابی کو کہا کہ نبیلہ کمرے کی صفائی کر دوبس تھوڑی دیر میں بابا جی آجائیں گئے امی اور بھابی نے مل کر کمرے کی صفائی کی کالج سے گھر آئے ہوئے مجھے ابھی دو گھنٹے ہی ہوئے ہی ہوں گے کہ دروازے پر گھنٹی بجی ۔امی دروازے پر گئیں توکرن دروازے پر تھی امی کو سلام کرتے ہی امی اسے اس کمرے میں لے آئیں جس کمرے میں تھی مجھے آرام کرتے دیکھ کر کرن نے بھا بی کو پوچھا کہ اب صائمہ کیسی ہے اور صائمہ کو کیا ہو ا تھا ۔ بھابی نے کہا کہ ہمیں پتہ نہیں چل رہا کہ صائمہ کو کیا ہوا ہے امی نے ہمسائی سے کہ کر ایک بابا جی سے بات کی ہے صائمہ کو دم وغیرہ کروانے کے لیے۔ابھی کرن اور بھابی بات کر ہی رہیں تھیں کہ پھر دروازے پر دستک ہوئی اس وقت دروازے پر ہماری ہمسائی حمیدہ اور اس کے ساتھ ایک بابا جی تھے جو تقریبا 40 یا 50 سال کے ہوں گے ۔ گھر کے اندر آتے ہی سب گھر والوں کو غور غور سے دیکھنا شروع کر دیا تھا وہ بابا جی حمیدہ سے آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے

ہمسائی کبھی امی جان کو کبھی باباجی کو دیکھے جا رہی تھی امی پہلے ہی میری وجہ سے پریشان تھیں حمیدہ کی ان حرکتوں کی وجہ سے اور پریشان ہو گئیں خیر جس کمرے کو صاف کیا گیا تھا اس میں بابا جی اورحمیدہ کو بیٹھا دیا گیا تھا بابا جی نے ہر طرف دیکھنا شروع کر دیا تھا امی نے بھابی کو کہا کہ باباجی آئے ہیں ان کے لیے پانی کا بندوبست کرو۔بھابی جوں ہی کمرے میں داخل ہوئیں اور باباجی کو سلام کیا تو بابا جی نے زور زور سے اللہ ھو ، اللہ ھو کا ذکر کرنا شروع کر دیا حمیدہ بولی کہ باباجی اس وقت تک نہ کھاتے ہیں اور نہ ہی پیتے ہیں جب تک کوئی حل نہ ہو جائے آپ کھانے پینے کو رہنے دو آپ بس صائمہ کو لے آئیں ۔ امی نے بھابی کو اشارہ کیا کہ صائمہ کو لے آئوبھابی دوسرے کمرے میں آئیں جہاں میں سو رہی تھی بھابی نے آواز دی کہ صائمہ اٹھو ۔بھابیکی آواز سنتے ہی میری آنکھ کھل گئی بھابی نے کہا کہ اپنا حلیہ درست کرو امی نے ایک بابا جی کو بلایا ہے دم کرنے کے لیے۔ میں بڑے غور سے بھابی کو دیکھنے لگ گئی بھابی نے میرا بازو پکڑا اور بیڈ سے نیچے اتارااور میرے سر پر چادر ڈالی اور میرا کچھ حلیہ درست کیا اس کمرے میں لے آئیں جس کمرے میں بابا جی تھے۔

باباجی میرے جاتے ہی کھڑے ہو گئے اور زور زور سے اللہ ھو ، اللہ ھو کرنے لگے سونے کی وجہ سے میرا حلیہ کافی بگڑا ہوا تھا جس سے لگ رہا تھا کہ جیسے مجھ پر کسی چیز کا سایہ وغیرہ ہو بابا جی نے مجھے سرپر پیار دیتے ہوئے اپنے سامنے بیٹھنے کو کہا باباجی اپنے بیگ سے کچھ سامان نکال کر اپنے سامنے رکھ رہے تھے اور کچھ پڑھ بھی رہے تھے جیسا کہ وہ مجھے دم کر رہے ہوں اور بہت سے ایسے الفاظ بول رہے تھے جن کی مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی ناجانے وہ کون سی زبان تھی کچھ دیر کے بعد بابا جی نے اپنا ( ڈرامہ ) یعنی اپنا دم شروع کر دیا تھوڑی دیر کے بعد بابا جی بولے کہ آپ کی بیٹی پر جن کا سایہ ہے اس لیے مجھے ایک عمل کرنا پڑھے گا عمل تو تھوری دیر کا ہے اس عمل کے لیے کچھ خرچہ ہو گا جو چیزیں عمل کے لیے چاہیں وہ عمل کے دوران میرے پاس ہوں اور میں اپنا عمل باآسانی کر سکوں ۔ اس پر امی جان بولیں کہ کتنا خرچہ ہو گا باباجی بولے مجھے کچھ نہیں چاہے میں اپنے موقلوں( جنات ) سے معلوم کرتا ہوں تھوڑی دیر بابا جی چپ رہنے کے بعد بولے کہ تقریبا 20000 کا خرچہ ہو گا اس پر امی نے بھابی کو کو اشارہ کیا دونوں دوسرے کمرے میں چلیں گئیں ۔جہاں میری دوست کرن موجود تھی کرن نے بھابی سے پوچھا کہ باباجی کیا کہتے ہیں اس پر بھابی نے بتایا کہ باباجی کہتے ہیں کہ اس پر کسی جن کا سایہ ہے میری دوست جوپہلے ہی پریشان تھی اور پریشان ہو گئی ۔ بھابی نے کہا کہ پریشان نہ ہو کیوں کہ باباجی نے کہا ہے کہ میں ایک عمل کروں گا جس سے صائمہ پر سے جن کا سایہ ختم ہو جائے گا ۔کرن کچھ سوچنے لگ گئی اس پر بھابی نے کہا کہ کرن کیا ہوا کرن نے کہا کہ اگر بھابی صائمہ پر جن کا سایہ ہوتا تو اس سے پہلے بھی صائمہ ایسا کرتی مگر اس نے یہ پہلی دفعہ کیا ہے یہ بات بھابی کے بھی دل کو لگ گئی بھابی نے کہا کہ اگر صائمہ کو جن کا سایہ ہوتا تو پہلے بھی ایساکرتی ۔ کرن اور بھابی کی باتیں امی جان بھی سن رہیں تھیں

Rupees
Rupees

امی نے بھابی کو پوچھا کہ تمھارے پاس کتنے پیسے ہیں بھابی نے جھوٹ بول دیا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں کچھ پیسے تھے صائمہ کے بھائی صبع جاتے ہوئے لے گئے تھے کہ ان کو کوئی کام تھا اس لیے ساتھ لے گئے ہیں امی نے کہا خیر ہے میرے پاس دس ہزار ہیں وہ میں دے دیتی ہوں اور ہمسائی کو کہتی ہوں کہ باقی کل مل جائیں گئے امی ، بھابی اور کرن وہاں آگئیں جس کمرے میں موجود تھی امی کو دیکھ کر جو بابا جی آہستی آہستہ بول رہے تھے جو میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا آخر بابا جی کیا بول رہے تھے ۔نیند سے بیدار ہونے کی وجہ سے جو تھکاوٹ تھی کافی حد تک ٹھیک ہو گئی تھی اور میں پہلے سے کافی بہتر محسوس کر رہی تھی اچھی طرح تو نہیں میں دیکھ اور سمجھ پا رہی تھی ۔امی جان نے باباجی کو پیسے دے اور کہا کہ اس وقت میرے پاس صرف دس ہزار روپے ہیں میرا بیٹا گھر میں نہیں ہے شام تک وہ آجائے گا میں اس سے لے کر حمیدہ جو کہ ہماری ہمسائی ہے اسے دے دوں گی صبع تک آپ کو باقی دس ہزار مل جائیں گئے یہ سنتے ہی میرے میں عجیب سی کفیت پیدا ہوئی ۔ کہ باباجی تھوڑی دیر کے لیے آتے ہیں دم کے بہانے کتنے کتنے پیسے لیتے ہیںلوگوں سے ۔ ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ باباجی بولے کہ میری کوئی بات نہیں ان باتوں میرے موقل ( جنات ) نہیں مانتے۔اگر اس وقت پیسے نہیں ہیں تو میں کل آجائوں گا مگر میں اس وقت جنات کو خاضر نہیں کر سکتا

اس دوران اگر آپ کی بیٹی کے ساتھ کچھ ہوا اس کے زمہ دار آپ خود ہوں گئے ابھی یہ بات چل ہی رہی تھی کہ دروازے پر پھر دستک ہوئی امی تو بابا جی سے بات کر رہی تھیں تو بھابی نے دروازے پر دیکھا کہ ہماری پرنسپل صوفیہ میڈم اور کچھ میری دوست تھیں بھابی ان کو جس کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی اسی کمرے میں لے آئیں وہ سب میرے پیچھے آکر بیٹھ گئیں امی کہہ رہیں تھیں کہ بابا جی میرا یقین کرو میرا بیٹا جوں ہی گھر واپس آئے گا میں اس سے پیسے لے کرحمیدہ کو دے دوں گی میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں خدا کے لیے اس سایے سے میری بیٹی کو نجات دلا دو بابا جی تھے کہ ماننے کا نام ہی نہیں لے پا رہے تھے بابا جی کو بس اپنے پیسے چاہیں امی جان نے بابا جی کے پائوں پکڑنے کی بھی کوشش کی اس پر مجھے بہت سخت غصہ آیا ۔ باباجی اٹھ کر جانے لگے تو امی جان نے دوبارہ باباجی کے پائوں پکڑنے کی کوشش کی اس پر میرا دماغ ہی گھوم گیا دل میں آنے لگا کہ ماں باپ بھی کیا چیز ہوتے ہیں اپنی اولاد کی خاطر کس حد تک چلے جاتے ہیں مگر بچے بڑے ہو کر ماں باپ کی عزت اخترام نہیں کرتے ان سب باتوں کی وجہ سے میر دماغ بہت گھوما ہوا تھا ۔ میں نے کھڑے ہونے کی کوشش کی جس میں ناکام رہی ۔میری دوست جو میرے پاس بیٹھی ہوئیں تھیں

انہوں نے مدد کی تو میں کھڑی ہوگئی میں نے امی کو پکڑ کر ایک طرف کیا اور بابا جی کو غصے سے مخاطب ہوئی اور کہا کہ اسلام آپ کو یہی سیکھاتا ہے کہ آپ ایک عورت کی اتنی تذلیل کریں ۔آپ ہو کیا مجھے کیا مسلہ ہے اگر آپ کے پاس کوئی جنات وغیرہ ہیں ان سے پوچھ کر بتائیں کہ مجھے کیا مسلہ ہے بابا جی غصے میں آگئے کہنے لگے کہ میں ابھی جنات کو خاضر کر کے سب کچھ فنا کر سکتا ہوں اور تیری ساری کہانی بھی ختم کر سکتا ہوں میں کوئی عام عامل نہیں ہوں میں نے بڑے بڑے کام کئے ہیں عاملوں کی دنیا میں میرا بڑا نام ہے میرے پاس جو جنات ہیں ان سے میں یہ سب کچھ کر سکتا ہوں ایک منٹ میں تمھاری سارے گھر کو تباہ برباد کر سکتا ہوں میں نے تمھاری جیسی بہت ٹھیک کئی ہیں تمھارا کام تو بس ایک منٹ کا کھیل ہے میرے لیے۔ تمھارے ساتھ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب میں جانتا ہوں ایک ایک پل کی خبر ہے جیسے ہی بابے نے یہ الفاظ بولے تو میں نے بابے کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مار دیا اور کہا تمھارے جنات نے یہ کیوں نہیں تمھیں بتایا کہ تمھیں تھپڑ لگنے والا ہے نکال جو بھی جنات ہیں تمھارے پاسآج یہ سب لوگ تمھارے جنات دیکھیں اور تمھاری اصلیت سب کے سامنے آجائے گئی میں اونچی اونچی آواز میں بول رہی تھی اتنے میں میرے بڑے بھائی آصف بھی آگئے بھائی میری اس طرح کی آواز سن کر پہلے تو ڈر گئے پھر میرے پاس آئے سر پر پیار دیا اور مجھے پوچھنے لگے کہ صائمہ میری گڑیا کیا ہوا ہے اور یہ سب ڈرامہ کیا ہو رہا ہے یہ باباجی کون ہیں اور ان کو گھر میں کون لے کر آیا

Baba
Baba

اتنی دیر میں امی جان بولیں یہ بابا جی دم درود کرنے والے ہیں میں نے حمیدہ کو کہا کہ میری گڑیا کو اس طرح کا معاملہ ہو گیا ہے تو اس نے ان باباجی کو لے کر آئی ہے بھائی بولے کوئی تو بتائے آخر صائمہ کو ہوا کیا ہے یہ سب ہو کیا رہا ہے اس پر میں بولی یہ جو صاحب اپنے آپ کو بابا جی کہتے ہیں یہ سب ڈرامہ ہے اور ہمیں دھمکی دے رہا ہے کہ وہ اپنے جنات بلا کر ہمارے گھر کو تباہ برباد کردوں گا اس پر بھائی نے باباجی کو گریبان سے پکڑ لیا اور مارنا شروع کر دیا بھائی اسے کہتا رہا نکال اپنے جنات میں بھی دیکھوں تیرے جنات ۔بھائی کی آواز اونچی تھی اس لیے محلے کے چند لوگ بھی وہاں آ گئے بھائی نے اسے مار مار کر اس کی حالت خراب کر دی تھی اب وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا وہ بھائی سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہا تھامجھے معاف کر دو میں تو صرف دم وغیرہ کرتا ہوں میرے پاس کوئی جنات وغیرہ نہیں ہیں جو کچھ پڑھ کر دم کرتا ہوں اس کے پیسے لیتا ہوں میں نے بھائی کو کہا کہ اس نے مجھے دم کرنے کے بہانے امی سے دس ہزار روپے لیے ہیں بھائی نے ایک اور زور دار طمانچہ مارتے ہوئے کہا کہ نکال وہ پیسے جو امی جان نے تمھیں دیے ہیں بھائی نے اس ڈرامے باز کو رسی سے باندھ دیا ۔ اور پولیس کو فون بھی کر دیا اور کہا کہ اس ڈرامے باز کو آکر لے جائیں بھائی بڑبھڑانے لگے نہ جانے اس نے کتنے لوگوں کو بے وقوف بنا کر پیسے لوٹے ہوں گئے بھائی دوبارہ اس کی طرف مخاطب ہوئے ، باباجی بتائو ہمارا اسلام ہمیں یہی سیکھاتا ہے کہ کسی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا جائے

آخر تم لوگ آخرت کو کیوں نہیں یاد رکھتے آخر تم لوگ پیسوں کے لیے کتنے لوگوں کو بے وقوف بناتے ہو اس کا احساس ہونا چاہے کہ ہمیں ایک دن اللہ کے پاس خاضر ہونا ہے جو عمل ہم نے دنیا میں کئے ہیں اس کا حساب بھی دینا ہو گا ۔ تم جیسے لوگوں نے ہی اسلام کو بدنام کر کے رکھ دیا ہے۔ اتنی دیر میں پولیس ہمارے دروازے تک پہنچ گئی بھائی نے سب کو اپنے دوپٹے درست کرنے کو کہا پولیس والوں میں سے کچھ اہلکاروں نے دروازے پر دستک دی ۔ بھائی نے دروازہ کھولا بھائی نے اپنا تعارف کروایا ، پولیس والوں میں سے جو آفسیر تھا اس نے اپنا تعارف کروایا ، میرا نام آوانی ہے اور میں اس علاقے کا ۔۔ ایس ۔ایچ۔آو۔ ہوں بھائی نے ان کو اندر آنے کا کہا اندر آتے ہی بھائی نے ساری صورت حال سے آگاہ کیا تو جناب آوانی صاھب نے اپنی تفتیش شروع کرنے سے پہلے اس ڈرامے باز کو بڑے غور سے دیکھااور کہا کہ یہ بندہ کافی عرصہ سے پولیس کو مطلوب تھا یہ ایک اشتہاری مجرم ہے اس پر دولاکھ کی رقم بھی مقرر کی گئی تھی ۔ آپ لوگوں کی مہربانی کہ آپ لوگوں نے ہمیں کال کر کے بلا لیا باقی ہم دیکھتے ہیں یہ کیا کیا کر سکتا ہے اور اس کے جنات ہم لوگ تھانے لے جا کر نکالتے ہیں سر آوانی نے اپنے ایک ماتحت کو حکم دیا کہ اسے گرفتار کر لیا جائے آوانی صاحب جانے لگے تو میں نے کہا کہ سر مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے آوانی صاحب پاس آئے اور کہا بیٹا کیا کہنا چاہتی ہو سب مجھے دیکھنا شروع ہو گئے صائمہ اب پتہ نہیں پولیس والے کو کیا کہے گی۔

میں دل میں سوچ ہی رہی تھی کہ کیا بولوں اتنے میں سر آوانی بولے بیٹی کیا کہنا چاہتی ہو، بیٹی جو بھی بولنا چاہتی ہو بے خوف اور ڈرے بغیر بتائوآوانی سر نے بھائی عاطف کو پانی کا کہا بھائی نے بھابی کو اشارہ کیا بھابی جلدی سے کچن میں گئیں اور پانی کا ایک گلاس لائیں اور بھائی کو دیا بھائی نے ایس ایچ او سر آوانی کی طرف کیا تو سرآوانی نے کہا مجھے نہیں صائمہ بیٹی کو دیں بیٹی آپ پانی پیو اور آرام سے کہو کیا کہنا چاہتی ہو میں نے پانی پی کر گہرا سانس لیا اور بولنے کی کوشش کرنے لگی میں نے بڑی مشکل سے بولنا شروع کیا میں ایک کالج میں سٹوڈینٹ ہوں آج صبع جب میں کالج گئی تو میری طبیعت بلکل نارمل تھی کالج میں ایک دو لیکچر لینے کے بعد فری تھی تو میں لائبریری میں چلی گئی تاکہ میں اپنے دوسرے مضامین کی تیاری کر سکوں ۔میری ایک دوست نے آکر مجھے بتایا کہ آج پشاور میں آرمی پبلک سکول میں کچھ دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ہے

Army Public School
Army Public School

میں بہت سے بچے شہید اور بہت سے زخمی بھی ہوئے ہیں یہ سنتے ہی مجھے معلوم نہیں کیا ہوا میرا سر درد میںشروع ہو گیامیری کچھ دوستیں اصرار کر کے کنٹین میں لے آئیں۔جہاں انہوں نے مجھے جوس پلایامیرے کالج کی اور کچھ سٹوڈینٹ بھی وہاں آگئیں اور میری طیبعت کا پوچھنے لگیں میری ایک اور کلاس فیلو عالیہ بھی وہاں آگئی اس نے دوبارہ آرمی پبلک سکول کا زکر کیا جس سے میرا سردرد معلوم نہیں کیا ہوا میں نے عالیہ کو زور دار دھکا دے دیا جس سے اس کا سر ٹیبل کے ایک کونے پر لگا اور اس کا سر زخمی ہو گیا میری کچھ دوستوں نے مجھے کنٹین سے باہر ایک پارک کی طرف لے آئیں جو کہ ہمارے کالج کی ایک طرف تھا ۔ایک سٹوڈینٹ نے جا کر پرنسپل صوفیہ میڈم کو بتایاصوفیہ میڈم نے میرے گھر فون کر کے میرے گھر والوں کو بلایاکہ وہ آکر مجھے لے جائیں ہماری پرنسپل نے میرے گھر والوں کو شک دلایا کہ ہو سکتا ہے کہ مجھے کسی جن بھوت وغیرہ کا سایہ ہو گیا ہے گھر آتے ہی میری امی جان ہماری ہمسائی جو کہ حمیدہ بی بی ہیں ان کو بتایا حمیدہ نے ایک باباجی کا بتایا جس پر وہ ایک باباجی کو لے کر ہمارے گھر آئیں

باباجی نے دم کرنے کے امی جان سے بیس ہزار روپے مانگے اس طرح یہ ڈرامہ شروع ہوا باقی آپ کے سامنے ہے جو کچھ ہواابھی میں بول رہی تھی کہ ہماری پرنسپل صوفیہ میڈم بولیں صائمہ بیٹی میں آپ سے اور آپ کے گھر والوں سے معافی مانگتی ہوں ۔ میں نے میڈم کے الفاظ کاٹتے ہوئے کہا کہ میڈم آپ ہمیں شرمندہ نہ کریں آگے کی آپ نے ہی ہمیں آگے کی تعلیمات دینی ہیں آپ ہمیں شرمندہ نہ کریں ۔اور جو بھی میڈم ہوتا ہے اللہ کی طرف سے ہوتا ہے مگر آپ سب کو ایک بات بتانا چاہتی ہوں آج صبع پشاور میں آرمی پبلک سکول میں جو واقع رونما ہوا ہے اس میں بہت سارے بچے جو شہید ہوئے ہیں بہت بچے نہ جانے کتنے گھروں کے چراغ تھے جو بجھا دیے گئے ہیں جہاں بھی کوئی ایسا واقع رونما ہوتا ہے ۔ تو غیر مسلم تو غیر مسلم اپنے مسلمان لوگ بھی یہ کہنا شروع ہو جاتے ہیں یہ کام فلاں تنظیم نے کیا ہو گا ۔ میں کہنا چاہتی ہوں کوئی بھی مسلمان ایسا کام نہیں کر سکتا مسلمانوں نے اللہ کے خوف سے داڑھیاں رکھیں ہوئیں ہیں یہ مسلمان کسی کے گلے تو لگ سکتا ہے کسی کا گلہ نہیں کاٹ سکتا بس ہمارے ہی ایمان کی کمزوری ہے جو ہم غیر مسلوں کے ہاتھ پیسوں کا نشہ دیکھ کر اپنے پیارے دین سے دور ہو کر ایساکام کرتے ہیں

ہمیں کسی غیر کے نہیں اپنے دین اسلام کی تعلیمات پر عمل پیراہ ہونا چاہیے یہ جو کچھ آج ہمارے درمیان ہو رہا ہے یہ سب دین اسلام سے دوری کے سبب ہو رہا ہے آج سے ہم نماز ، روزہ ، حج ، زکواة ، قرآن مجید پر عمل کرنا شروع ہوں جائیں تو یہ معاملات ٹھیک ہو جائیں گئے ہم سب کو مل کر رہنا چاہے اپنا کون ہے اور پرایا کون ہے اس میں تمیز کرنی ہو گی۔میری دلی خواہیش اور دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں نیک اور ایک ہونے کی توفیق عطا فرمائے میری بات ختم ہوتے ہی سب نے میری حوصلہ افزائی میں تالیاں بجائیں اور ایس ایچ او آوانی نے کہا اگر بیٹی تمھارے جیسا اگر سب کا نظریہ ہو جائے ۔ ہمارے ملک میں کبھی بھی ایسا نہ ہو اس پر ایس ایچ او میرے بھائی اور امی کو کہنے لگے آپ لوگ پریشان نہ ہوں یہ بچی بلکل ٹھیک ہے ۔ اللہ تعالی سب کو ایسی بیٹیوں سے نوازے ۔ ابھی بات چل ہی رہی تھی کہ صوفیہ میڈم جو کہ ہمارے کالج کی پرنسپل ہے بولیں یہ بچی ہمارے کالج کی سٹوڈینٹ ہے اس کی عجیب و غریب حرکت کی وجہ سے میں بھی بہت پریشان ہو گئی ۔سر آوانی بولے یہ بچی بہت اچھی ہے باتیں بھی بہت اچھی کرتی ہے اور یہ بلکل ٹھیک ہے ۔مگر آپ لوگوں نے ہمارا بھی کام کر دیا جس مجرم کی ہمیں کافی عرصہ سے تلاش تھی اب ہماری گرفت میں ہے آپ کوشش کیا کریں کہ کالج میںسب مثبت رویہ اختیار کریں اور اچھی سوچ بنائیں ۔اللہ تعالی آپ سب کو صحت اور تندرستی عطا فرمائے اور کامیابیوں سے ہم کنار کرے امین

Zakeer Ahmed
Zakeer Ahmed

تحریر : زکیر احمد بھٹی

Share this:
Tags:
College distance friends Islam Medical teachers اسلام ٹیچرز دوری دوست رونا کالج میڈیکل
Abdel Fattah Sisi
Previous Post خطے کی سلامتی کیلئے غیر معمولی نگرانی اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے: مصری صدر
Next Post معروف مزاحیہ اداکار فرید خان انتقال کر گئے

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close