Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اسلام سے رجوع میں خوشیوں کا حصول

November 1, 2013November 1, 2013 0 1 min read
Mohammad Siddiq Madani
Islam
Islam

اسلام کی صداقت و حقانیت نے جب دلوں کی دنیا کو مسخر کر لیا تو وہ مذاہب جن کی بنیاد اوہام پر تھی اور وہ انسانی عقل کی اختراع تھے تلملا اٹھے۔ جن آسمانی مذاہب کی شکلیں ان کے ماننے والوں نے بگاڑ کر رکھ دی تھیں انھیں بھی اسلام کی سچائی اور صداقت سے بیر تھا اور وہ حسد و بغض کے جذبات سے مغلوب۔ اسلام کے مقابل ”شر” کا یہ عمل سامنے آیا کہ نئے نئے افکار و نظریات وجود میں لائے گئے۔ تمدنی و تہذیبی، ثقافتی و نظریاتی، سیاسی و اقتصادی ہر طرح کے حملے کیے گئے لیکن یہ فطری بات ہے کہ حق و صداقت کو دوام و استقرار ہے اور باطل کو ہزیمت و زوال۔فطرت سے انحراف ہی انسانی مسائل کا سبب بنتا ہے۔

اسلام سے عداوت و بغض رکھنے والے افکار و نظریات کی بنیاد چوں کہ انسانوں کے ہاتھوں بنائے ہوئے اصولوں پر تھی اس لیے ان کی ہر فکر نے انتشار و فسادکی فضا استوار کی اور تخریب و تباہی کا سامان ہوا۔ ادیان باطلہ جور و ستم کی راہ پر گام زن تھے۔ انسانی سہاگ لٹ کر رہ گیا تھا، عصمتیں تار تار تھیں، دہشت گردی کا بازار گرم تھا ایسے ماحول میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ہوتی ہے، اور دین فطرت کی ضیا پھیلتی ہے، انسانیت کی زلف برہم سنورتی ہے، سچائی راہ پاتی ہے، ہدایت و صداقت کا آفتاب طلوع ہوتا ہے۔

منفی انداز فکر: جریدة عالم پر اسلام کے اثرات جیسے جیسے بڑھتے گئے ادیان باطلہ میں اضطراب بڑھتا گیا اور دین فطرت سے متعلق پروپے گنڈا کیا گیا کہ اسلام ایک عسکری دین ہے اور علم و فن سے اس کا کوئی رشتہ و تعلق نہیں، اس کی اشاعت بہ زور شمشیر و سناں کی گئی ہے۔ اس فکر غلط کے پرچار میں مغرب میں وجود پانے والے طبقہ مستشرقین کا زیادہ حصہ رہا، گرچہ جنھوں نے سنجیدگی کے ساتھ اسلام کا مطالعہ بھی کیا اور سیرت کا تجزیہ کیا ان میں اکثر نے اعتراف کیا کہ اسلام ایک الہامی دین ہے اور یہ فطرت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔

انسان کی بے بسی: عالمی مبلغ اسلام مولانا عبدالعلیم میرٹھی لکھتے ہیں: ”حصول علم کی اس تمام جدوجہد کے باوجود انسان صرف جزوی طور پر ہی کسی ایسی حقیقت کو پا سکتا ہے جس کا انکشاف حال میں ہو رہا ہے یا ماضی میں ہو چکا ہے۔ مستقبل کے بارے میں وہ بالکل بے خبر ہے۔ وہ استقرائی طریقے سے نتیجہ نکالنا چاہتا ہے مگر اس نتیجے پر خود اسے مکمل یقین نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں علم ہیئت سے بھی مدد لینے کی کوشش کرتا ہے مگر بے سود۔ ماضی، حال اور مستقبل کا جامع اور یقینی علم اس کے بس سے باہر ہے۔

Islamic knowledge
Islamic knowledge

مادیت کی ناکامی: مادی دنیا کے مشاہدے سے بہ آسانی روح کی قدر کا اندازاہو سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان مستقبل کا حتمی علم نہیں رکھتا۔ اس لیے انسانی فکر ٹھوس رہ نمائی نہیں کر سکتی۔ اس لیے کہ ان سب کی بنیاد مادیت پر ہے روحانیت پر نہیں، مبلغ اسلام فرماتے ہیں: انسان (ذہنی) سکون اور (قلبی) چین کے حصول کی خاطر لگا تار جدوجہد کرتا تو ہے مگر صرف مادیات میں، اسی لیے ناکام رہتا ہے کسی مادی سمت سے (اپنی جستجو کا) آغاز کر کے تھوڑی بہت کام یابی حاصل کر بھی لیتا ہے مگر جب اسے اپنے انتہائی مقصود کے آئینے میں دیکھتا ہے تو وہ اسے دور ہی نظر آتا ہے۔ مال و دولت، صحت و تن درستی اور شان دار عائلی زندگی بھی اسے وہ ذہنی و روحانی سکون مہیا نہیں کر سکتی جس کے ہم سب تہ دل سے متمنی ہیں، یہ چیزیں تو ضمنی عناصر کا کام ہی دے سکتی ہیں اور وہ بھی کب؟ جب مقصود کا صحیح احساس ہو۔” مشاہدے سے جو نتیجہ اخذ ہوتا ہے وہ یہ ہے: ”یہ چیز مذہبیت میں دست یاب ہو سکتی ہے جس سے روحانی اور اخلاقی دنیا کے نئے نئے افق سامنے آتے ہیں۔ مذہب ہی میں اس کی جستجو ممکن ہے کیوں کہ وہی اس کا مدعی بھی ہے، حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ (حقیقی مسرت فراہم کرنا) مذہب کا اہم مسئلہ ہے۔

مذہب اور ازم: یہاں ایک سوال یہ بھی سر ابھارتا ہے کہ مذہب کیا ہے؟ انسانوں نے جن افکار کی تشکیل کی وہ در اصل ازم ہیں جن کی ناکامی ظاہر ہو گئی بہ زعم وہ اسے مذہب کہیں لیکن وہ مذہب نہیں، وہ رہ نمائی سے محروم ہیں۔ مولانا عبدالعلیم میرٹھی فرماتے ہیں:”آج دنیا میں بیسیوں مذاہب، فرقے اور ازم ہیں۔ اگر اس کی تعریف یوں کی جائے کہ مذہب اس نظریے کا نام ہے جو بنیادی زندگی سے متعلق ہے اور جو مجموعی طور پر گویا فلسف? حیات ہے تو مختلف نظریات کی کثیر تعداد کا یہی دعویٰ ہے۔ موجودہ دور میں کئی اسکالرز اور مفکر، معلم کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں،اور انھوں نے کوئی نہ کوئی ازم پیش کر کے اسی کو مذہب کا درجہ دے دیا ہے۔ مارکس ازم، ہٹلر ازم اور گاندھی ازم اسی کی چند مثالیں ہیں…… جب ہم سنجیدگی سے ان ازموں پر غور کرتے ہیں توپہلی چیز جو ہمیں کھٹکتی ہے یہ ہے کہ وہ سب انسانی دماغوں کی پیداوار ہیں، کتنے ہی ذہنی ارتقا سے آراستہ کیوں نہ ہوں مگر ہیں تو انسانی فکر کا نتیجہ…… انسان ہونے کی حیثیت سے ان کی اہلیت، علم اور زاوی? نگا ہ محدود تھا لہٰذا نہ تو ان کا علم یقینی ہو سکتا ہے اور نہ وہ فیصلے ہی جو انھوں نے صادر کیے۔ چناں چہ اس صورت حال میں ان ازموں اور ان کے معلموں پر ابدی نجات و فلاح اور حقیقی مسرت کے حصول کے لیے کیوں کر اعتماد کیا جا سکتاہے۔” (اس کے بعد ان کی فطری خامی کی طرف اس طرح اشارہ کرتے ہیں۔

معلوم ہوا کہ اولین ضرورت ہی جو ان ازموں کو معتبر بنا سکتی تھی، مفقود ہے۔ رہیں وہ غلط سلط چیزیں جو ان کی تعلیم میں بنیادی طور پر شامل ہیں سو انھیں تفصیل سے زیر بحث لانے کا یہ موقع نہیں، یہی کہنا کافی ہے کہ وہ انسانی ذہنوں کی پیداوار ہیں جو فطری طور پر نہ تو اب بے عیب ہیں اور نہ کبھی تھے۔

٠٥٩١ء میں دعوتی سفر کے دوران مبلغ اسلام مولانا عبدالعلیم میرٹھی (شاگرد اعلیٰ حضرت محدث بریلوی)جاپان گئے جہاں دانش وروں کے ایک اجتماع میں ایک مقالہ مسلمانوں کی سائنسی کارناموں سے متعلق بہ عنوان The Cultivation of Science by the Muslims پیش کیا اس میں بھی نظریاتی یلغار کے مابین مذہب (اسلام) کی قدر و صداقت سے متعلق فرمایا تھا: رائل ایشیاٹک سوسائٹی آف سنگھائی( Royal Asiatic Society of Shanghai ) کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میں نے واضح کیا تھا کہ سائنس اور مذہب کے باہمی تضادکا مفروضہ صرف غلط فہمیوں کی بنیاد پر ہے اور مجھے انتہائی مسرت ہوئی کہ میری اس بات کو غیر معمولی طور پر سراہا گیا۔ بلا شبہہ جن لوگوں کے نزدیک مذہب اور سائنس کے مابین تضاد موجود ہے وہ حقیقتاً مذہبی نظریہ کو غلط معانی دیتے ہیں، وہ در اصل مذہب نہیں ہے وہ دیومالائی قصے ہیں اور توہمات کے سوا کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب بہ ذات خود ایک سائنس ہے۔”جیسا کہ اسلام کے سائنٹی فک مطالعہ سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ میری اس تحریر سے بھی یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے۔

Quran
Quran

مطالعہ کائنات اور خالق کائنات: مخلوق کا مشاہدہ خالق کی سمت رہ نمائی کرتا ہے۔ مبلغ اسلام فرماتے ہیں: ”جب ہم اپنے ارد گرد (ایک وسیع) کائنات، ستاروں سے بھر پور آسمان اوپر، گونا گوں مخلوق نیچے دیکھتے ہیں اور جا بجا ایک (حسین) ترتیب اور (متوازن) نمونے کا مشاہدہ کرتے ہیں توہم مجبوراً اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ یقینا کسی نہ کسی مصور و صانع اور خالق کا ہونا ضروری ہے۔ جسے بجا طور پر کائنات کا موجد عظیم باعث اول کہا جا سکے۔ عقل اسے کیوں کر تسلیم کر سکتی ہے کہ یہ وسیع کائناتی نظام کسی بنانے والے کے بغیر ہی ظہور پذیر ہو گیا ہو۔ (بہ الفاظ دیگر) مخلوق خود ہی اپنے خالق کی نشان دہی کر رہی ہے۔” مبلغ اسلام کے اس نکتے پر قرآن مقدس سے ایک دلیل دینا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں، جس میں نظام کائنات میں غور و خوض کی تعلیم دے کر خالق حقیقی کی سمت رہ نمائی کی گئی ہے اور دعوت فکر بھی ہے: بے شک آسمانوں اورزمین کی پیدائش اوررات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اوروہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کاباندھا ہے ان سب میں عقل مندوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں۔”(سورةالبقرة:٤٦١/کنزالایمان) مبلغ اسلام کے بیان کردہ اس پہلو کی مزید توضیح انھیں کے ایک اصول سے کرتے ہیں، فرماتے ہیں:”اب ہر عقل مند کا فرض ہے کہ وہ اپنی عقل کو بہ روئے کار لائے اور سوچے کہ کیا اسے انسان کے گھڑے ہوئے نا مکمل نظریات کو اختیار کرنا ہے یا ہر چیز کے جاننے والے خدا کی طرف سے آئی ہوئی مکمل راہِ ہدایت کو……”

دعوت فکر: وجود باری سے متعلق عقلاے زمانہ کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے مبلغ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم میرٹھی فرماتے ہیں: ”اسے معمولی عقل سے بھی سمجھا جا سکتا ہے، ہر سچا اور غیر متعصبانہ فلسفہ اور سائنسی نظریہ بھی اس کا مؤید ہے۔ (یہ طے ہو چکا تو) منطقی جرح وقدح کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ وہ (باعث ہستی) خلاق اکبر، ہمہ داں اور (اپنے علم و قدرت سے) ہر جگہ موجود ہے۔”……منکرین عقل سے بے بہرہ تھے اسی لیے یہ بات جو آسان بھی ہے اور مشاہداتی بھی ان کی سمجھ میں نہ آئی اور اسلام کی صداقت کا دلائل دیکھتے ہوئے بھی انکار کر بیٹھے، مبلغ اسلام فرماتے ہیں: ”حیات انسانی میں اس اعتقاد کو (وجود باری تعالیٰ کے عقیدے کو) عالم گیر حیثیت حاصل رہی ہے اس سے فقط انہی افرادنے انکار کیا ہے جن کے جذباتی تعصب نے انھیں عقل و خرد سے بے نیاز ہو کر سوچنے پر آمادہ کیا۔”

عقل گو آستاں سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں

نظام کائنات پر تفکر یہ بتاتا ہے کہ پورا نظام کسی کے تابع ہے اور ہر ایک فطرت کے مطابق حرکت پذیر۔ دوسرے الفاظ میں کائنات کا ہر جزخدا کے احکام کی متابعت کی بنیاد پر ”مسلم” ہے: اور اسی کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے اور مجبوری سے اور اسی کی طرف پھریں گے” (سورة آل عمران:٣٨)گویاان کی زندگی اسلام کی زندگی ہے۔

انبیا کا آفاقی پیغام: انسانوں کی رہ نمائی کے لیے انبیا تشریف لائے اور خدا کی اطاعت کی تعلیم دی۔ فطرت سے انحراف کرنے والوں کو مبلغ اسلام، انبیاے کرام کے مشن سے متعلق عقلی بات سمجھاتے ہیں: خدا سے پیغامات حاصل کرنے اور خلق تک پہنچانے کی بنا پرانھیں مذہبی اصطلاح میں رسول یا نبی کہا جاتا ہے۔ مکتبی بلکہ ہر قسم کی ظاہری تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود ، وہ بلند ترین عقل و علم کی باتیں سکھاتے ہیں۔ ” رب کریم نے انھیں چھپی باتوں کا علم دیا جسے ”علم غیب” کہا جاتا ہے اسی لیے قرآن پاک میں غیب پر ایمان لانے کی ترغیب بھی موجود ہے۔

انبیا کے پیغام کو جب فراموش کر دیا جاتا تب دوسرے نبی جلوہ گر ہوتے اور پیغام کی تکمیل فرما دیتے اور حقانیت کی راہ دکھاتے۔ بعثت انبیا کا سلسلہ جاری رہا اور آخر وہ وقت بھی آیا جب پوری انسانیت تاریکی کی نذر ہو گئی اور عالم گیر رہ نمائی کی محتاج ، …… عالم گیر اصلاح کے لیے ایک عالم گیر پیغام کی ضرورت تھی اور جس خداے واحد و یکتا نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک سب رسولوں کو وحی بھیجی تھی، حضرت محمد مصطفی علیہ الصلاة والسلام والتحہ والثنا کو بھی وحی بھیجی۔ وہی جنھوں نے تاریخ انسانیت میں بالکل پہلی بار خدائی حکم کے مطابق یہ دعویٰ کیا: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں”(پ٩،ع٠١) اس میں ختم نبوت کی یہ دلیل بھی مل گئی کہ دوسرے انبیا کسی خاص علاقہ یا قوم میں کام کرتے تھے لیکن سرکار اقدس صلی ا? علیہ وسلم نے جو دعوت پیش کی وہ عالم گیر تھی اور اس آفاقی دعوت سے تمام انسانیت کورہ نمائی و ہدایت ملی جس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ دعوت بے مثال اور دعوت دینے والی ذات بھی بے مثل و بے مثال۔ جو نوری و خاکی ہر ایک کے لیے مشعل راہ و ذریعہ ہدایت ہے۔ اس لیے آپ کی نورانیت و بشریت کے دونوں پہلو عظمت والے ہیں۔

آخری پیغام کی عقلی دلیل: مبلغ اسلام اپنے دعوتی اسلوب میں عقلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف لائے جب پریس (Press) اور پیغام کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کے دوسرے ذرائع ان سائنسی کوششوں کے نتیجے میں رونما ہونے ہی والے تھے جن کا آغاز خود آپ کے غلاموں نے کیا۔ آپ کا پیغام مستقل اور ابدی ہے کیوں کہ رب تعالیٰ نے خود درج ذیل الفاظ میں اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے: بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں” (سورةالحجر:٩) اور اس کے کامل ہونے کا اعلان یوں فرمایا ہے: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا”( المائدة:٤) یہاں قرآن کے الفاظ میں یہی پیغام کھل کر سامنے آتا ہے: جس میں اسلام کے اصولوں پر عمل بالخصوص سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کی ترغیب،حقیقی مسرت کے حصول کا راز اور قوانین الٰہی کی اطاعت و پیروی کی تلقین بھی ہے……سچی مسرت اور حقیقی کامرانی خداے تعالیٰ کے مقرر کردہ اور برگزیدہ رسولان کرام کے لائے ہوئے قوانین کے مطابق زندگی کے جسمانی اخلاقی اور روحانی پہلوؤں کی متوازن نشو و نما ہی سے حاصل کی جا سکتی ہے…… قوانین اسلام پر عمل کرنے کے نتیجے میں سکون قلب، تسکین روح اور مسرت کا حصول ہو گا۔

کیا رب قدیر نے جو ہم پر والدین سے زیادہ مہربان ہے اور جس نے اسی بنا پر اپنے رسولان کرام علیہم السلام کے ذریعے ہماری رہ نمائی کا بندوبست فرمایا، اپنے ذکر کا کوئی بہترین طریقہ بھی سکھایا ہے، کیا عبادت کی معینہ صورتیں یا ایک ہی وقت کی عبادت سود مندیا کافی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہمارے دماغ میں ابھرتے ہیں، اور جن کا جواب
خود قرآن حکیم نے دیا ہے، ہمیں حکم ہے کہ پانچ دفعہ تو فرض نمازیں ادا کریں اور ان کے علاوہ زندگی کا لمحہ لمحہ اپنے رب کی یاد سے معمور رکھیں، الہامی کلام کے الفاظ میں:”جوا? کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے” (آل عمران:١٩١)

اذانِ سحر: مبلغ اسلام مولانا عبدالعلیم میرٹھی اسلام پر ثابت قدمی کا پیغام عقیدے کی بنیاد پر ان الفاظ میں دیتے ہیں جن میں ادیان باطلہ کی تردید کے ساتھ ہی تنبیہ بھی ہے اور قلبی واردات کی کیفیت بھی:”خبردار! خدا ہی آپ کا مالک حقیقی اور شہنشاہ ازلی ہے، اس کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کر کے اس کے رسولوں کی اتباع کیجیے، جن میں آخری حضرت محمد مصطفی علیہ التحیہ والثنا ہیں۔ اسی راستے پر خود چلیے اور اسی کی دوسروں کو تلقین کیجیے اور اسی پر چل کر فوز و فلاح، ابدی سکون اور دوامی مسرت حاصل کیجیے۔”اس پیغام کو ہم ”اذانِ سحر” بھی کہہ سکتے ہیں جس میں حق کی اشاعت کا جذب? صادق موجود ہے، جس سے گلستان حیات میں تازگی کا احساس ہوتا ہے، اقبال رح نے کہا تھا ? وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود ہوتی ہے بندہ مومن کی اذاں سے پیدا اسلام فطرت کا دین ہے۔اس فطرت سے انحراف کی بنیاد پر ہی دنیا طرح طرح کے مسائل سے گزر رہی ہے۔ انسانی مسائل کا حل صرف اسلام میں ہے اور حق کی راہ روشن ہے، خوب واضح ہے اور اسی میں حقیقی مسرت و کامیابی ہے اور انسانی فلاح و فوز کا ساماں بھی: ترے دین پاک کی وہ ضیا کہ چمک اٹھی رہِ اصطفا جو نہ مانے آپ سقر گیا کہیں نور ہے کہیں نار ہے۔

Mohammad Siddiq Madani
Mohammad Siddiq Madani

تحریر : محمد صدیق مدنی۔چمن

Share this:
Tags:
Achievement happiness Islam Mohammad Siddiq Madani possible refer اسلام حصول خوشیوں رجوع ممکن
Aqeel Khan
Previous Post آئی سی سی کا دوہرا معیار کیوں؟
Next Post حکومت اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حسن ظفرنقوی

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close