
چکوال : جماعة الدعوة چکوال کے ضلعی امیر مولانا عبداللہ نثار نے کہا ہے کہ اسلام دہشت گردی نہیں امن و سلامتی کا دین ہے۔ کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بلاوجہ کسی کافر کا بھی قتل کرے۔ دشمنان اسلام کی یہ پرانی خواہش تھی کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کا خون بہائیںاور قتل و غارت گری کا بازار گرم کریں۔آج بعض لوگ ان کے ہاتھوں میں کھیل کر ان کی یہ دیرینہ خواہش پوری کر رہے ہیں۔دین کا علم نہ رکھنے والے ان ناسمجھ لوگوں کی غلط حرکتوں کی وجہ سے صلیبیوں و یہودیوں کو اسلا م کو بدنام کرنے کا موقع مل رہا ہے۔مرکز دارالسلام چکوال میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ اسلام اقلیتوں کے جان و مال کے بھی مکمل تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ مسلمان ملکوں میں کسی پر کفر کے فتوے لگا کر خون بہاناجہاد نہیں فساد ہے۔
علماء کرام قرآن و سنت کی روشنی میں لوگوں کی صحیح رہنمائی کریںاور نوجوانوں کو کفار کی سازشوں اور فتنوں کا شکار ہونے سے بچائیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں باہمی لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت گری اللہ کے دشمنوں کی خوفناک سازش ہے۔صلیبی جنگوں میں بھی مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کا یہی کھیل کھیلا گیا تھا۔ ان حالات پر ہر شخص پریشان اور حکومتیں بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ محض قانون سازی کیلئے آئین میں ترمیم اور خصوصی عدالتیں قائم کرنا کافی نہیں۔انہوںنے کہاکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے فتوے دیے گئے جن سے نوجوانوں کی غلط رہنمائی ہوئی اور وہ قتل و غار ت گری کا شکار ہوئے۔ آج یہ معاملہ انتہا تک پہنچا ہوا ہے مگر مسلمان ملکوں کی حکومتوں نے اس طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔ سب سے پہلی ذمہ داری حکمرانوں کی ہوتی ہے کہ وہ خون ناحق روکیں۔ مجرموں کو پکڑ کر سزائیں دیں اور لوگوں کی اصلاح کریں لیکن اگر حکومتیں اس حوالہ سے اپنی ذمہ داری ادا نہ کر رہی ہوں تو پھر علماء کرام جو انبیاء کے وارث ہیں’ ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میںلوگوں کو صحیح دین سمجھائیںمگر ایسا نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے دشمن یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا بچائو اسی میں ہے کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کا خون بہاتے رہیں اور صرف یہی ایک طریقہ ہے کہ جس سے مسلم خطوں و علاقوں پر ان کے قبضے برقرار رہ سکتے ہیں۔ 1965ء میں مسلمان متحد وبیدار ہوئے تو سترہ دن میں اللہ نے پاکستان کے ہاتھوں انڈیا کو زبردست شکست سے دوچار کیا لیکن جب 71ء میں مسلمان اختلافات کا شکارہوئے تو بنگالی پنجابی کے جھگڑے کھڑے ہوئے اور مشرقی پاکستان ہم سے چھن گیا۔ ہمیں تاریخ کے ان واقعات سے سبق حاصل کرنااور بیرونی سازشوں کو بخوبی سمجھنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ایسے خطے جہاں اسلام دشمن قوتوں نے زبردستی قبضے کر رکھے ہیں اور مسلمانوں کی عزتیں، جان و مال اور حقوق محفوظ نہیں ہیںوہاں مسلمانوں کو اپنے مظلوم بھائیوں کی مددکا حکم ہے۔
اس کے علاوہ مسلمان ملکوں میں کسی پر کفرکے فتوے لگا کر خون بہانا جائز نہیں ہے۔کسی مسلمان ملک میں اگر کسی کافر کوبھی بلا وجہ قتل کیا جائے گا تو اس کی بھی اسلامی شریعت نے سزا مقرر کی ہے۔جو دین اسلام غیر مسلموں کے جان و مال کی بھی اس قدر حفاظت کرتا ہے اس میں کسی مسلمان کو کافر قرار دیکر قتل کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟انہوں نے کہاکہ ہر انسان جسے اللہ تعالیٰ نے پید ا کیا اسے زندہ رہنے کا پورا حق حاصل ہے۔
