Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

معاشرہ ، میڈیا اور آزادی اظہارِ رائے

September 6, 2014 0 1 min read
Media
Media
Media

کسی بھی جمہوری ملک کے بنیادی اصولوں میں سے ایک بنیادی اصول آزادی اظہارِ رائے ہے۔ یہ آزادی اظہارِ رائے کیا ہے؟ اس کی ایک مختصر سی تعریف یہ ہے کہ کسی بھی فردِ واحد کی وہ آزادی جس میں وہ بغیر کسی دبائو کے اپنی رائے کا اظہار کر سکے۔یعنی ایک فرد خواہ وہ کسی بھی مہذب، طبقے یا نسل سے تعلق رکھتا ہو اس کو اپنے رہن سہن ، اپنی زندگی اپنے اصولوں کے مطابق اور اپنے مہذہبی فرائض آزادانہ سر انجا م دینے اور اپنی سوچ کا پرچار کرنے کی مکمل آزادی ہے بشرط ہے کہ اسکے کسی فعل سے کسی دوسرے فرد کی دلِ آزاری یا معاشرے میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔ اسلام میں بھی معاشرے میں رہنے والے ہر شخص کو چاہے وہ کسی بھی رنگ ، نسل یا زبان کا ہو اس کو ان تمام چیزوں کا حق دیا گیا ہے۔

پاکستان بھی ایک جمہوری ملک ہے جس میں تقریبا ہر نسل اور ہر عقیدے کے لوگ رہتے ہیں اور اپنے اپنے عقائد کے مطابق اپنی زندگیاں گزارتے ہیں ۔ ایک جمہوری مملکت ہونے کی وجہ سے جیسے پاکستان میں رہنے والے ہر شخص کو آزادی اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے ویسے ہی پاکستان میں میڈیا کو بھی آزادیِ اظہارِ رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ میڈیا کامعاشرے سے بڑا گہرا تعلق ہے اس کو معاشرے کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ معاشرے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور آج کے دور میں میڈیا ایک شوشل ایجنٹ کا اہم کرداربھی ادا کر رہا ہے۔

اس بات میں قطعی دو رائے نہیں کے میڈیا نے ہر محاذ پر اپنا فرض بخوبی سر انجام دیا ، پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے بعد میڈیا نے ایسے کئی حقائق سے پردہ اٹھایا جن سے لوگ پہلے بے خبر تھے۔ لوگوں کے اذہان کی تعمیر میں مدد فراہم کی، دودھ میں ملاوٹ سے لے کر بڑے بڑے سیاستدان اور سرمایا داروں اور وڈیروں کے خلاف آواز اٹھائی ۔زلزلہ ہو یا قحط سالی میڈیانے حکمران اور عوام دونوں کی توجہ اسی جانب موڑ دی ۔ کئی اہم ترین کرپشن مقدمات اور جن میں حج کرپشن کیس اور رینٹل پاور کیس ، پاکستان اسٹیل مِل میں ٢٦ ارب کا دھوکہ جیسے مقدمات کا میڈیا کی جانب سے انکشاف قابلِ ذکر ہے۔میڈیا نے ہی معاشرے میں رہنے والے لوگوں کو معاشرے میں ہونے والے ظلم اور ناانصافی سے آگاہ کیا جس کی وجہ سے عوام میں شعور بیدار ہوا اور ان میں اس ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔ اس بات کا ثبوت شاہ زیب قتل کا مقدمہ ہے۔

جس کو کسی جاگیردار کے بیٹے نے اپنی ہی بہن کی عزت بچانے کے جرم میں موت کے گھاٹ اتاردیا تھا معاشرے میں ہوتے والے اس ظلم کے خلاف میڈیا نے اپنی آواز اٹھائی جس کے نتیجے میں عوام کا بھر پور ردِ عمل سامنے آیا اور اس جاگیردار کے بیٹے کو اس کے عمل کی سزا ملی ۔عدالت نے جتنے بھی سوموٹو ایکشن لئے و ہ میڈیا کی ہی مرہونِ منت ہیں ۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ میڈیا کی آزادی نے جمہوریت میں چار چاند لگادیئے ۔مگر میڈیا نے جہاں اپنے اس حق کا بخوبی استعمال کیا وہیں ایسی بہت سی غیر ذمہ دارانہ کوتاہیوں کا ارتکاب کردیا جن سے اس معاشرے میں بگاڑ کا ایک خلاء پیدا ہوتا چلا گیاکیونکہ آج کے دور میں Mass Media شوشلائزنگ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جو لوگوں کے ازہان کو Reshapeکرتا ہے۔ میڈیا کی اس آزادی اظہارِ رائے کے بے جا استعمال نے جہاں پاکستان اور پاکستانی معاشرے کو انتہا پسندی،قوم پرستی ، خود غرضی اور بے حسی جیسی بیماریوں میں مبتلا کردیا وہیں اس کے اثرات نے بچوں اور نوجوانوں کی سوچ کو بھی بری طرح متاثر کیااور پورے معاشرے کو Stereo typeکردیاہے۔

آج میڈیا پر سب سے زیادہ نشر ہونے والی نشریات کرائم شوز ہیں اور ان کو نشر بھی پرائم ٹائمز میں کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کرائم شوز کو دیکھ سکیں جس کی وجہ سے Voilenceکا عنصر معاشرے میں تیزی سے بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ میڈیا نے ایسی معلومات جو معاشرے کا حصہ ہی نہیں تھیں ان کو لوگوں میں اتنا پھیلانا شروع کیا کہ لوگوں نے اس کو Adpotکرنا شروع کردیا جس سے پاکستان کے کلچر کو کافی حد تک نقصان پہنچا۔ پاکستانی ڈراموں نے صرف خاندانی جھگڑوں پر توجہ مرکوز کردی اور اس کے نتیجے میں لوگوںکے اندر شک کے پہلو نے جنم لیاجس نے Joint family system کو شدید نقصان پہنچایااور معاشرے کا Family Instituionکمزو رہوتا چلاگیا ہوگیا۔

میڈیا کے اسی قابلِ مذمت اور غیر منصفانہ رویے نے لوگوں کے دِلوں سے انسانیت کے احساس کو ختم کرکے قومیت اور فرقہ پرستی کی روش کو جنم دیا ۔ اب اگر کہیں سندھی مر جاتا ہے تو صرف سندھی ہی اس کیلئے انصاف کے حق میں احتجاج کرتے نظر آتے ہیں اگر مہاجر ، پنجابی یا پٹھان کی ناحق موت ہوجاتی ہے تو اسی کی قومیت کے لوگوں پر اس کے لئے انصاف مانگنا فرض ہوتا ہے اور یہی حال تمام مسالک کا ہے۔بد قسمتی یہ ہے کہ جو فلسفہ آزادی اظہارِ رائے مغرب سے لیا گیا ہے وہاں بھی اس کی حدود و تعین کا خیال رکھا جاتا ہے اور احتیاط برتی جاتی ہے کہ میڈیا کے ذریعے کوئی ایسی خبر ، غیر اخلاقی بات یا ایسی معلومات جو معاشرے یا ریاست کیلئے بگاڑ کا باعث بنے وہ نشر نہ ہوں۔ اس کی مثال لندن میں دیکھنے کو ملتی ہے جہاں ایک ١٥٠ سالہ اخبار پرلندن کی حکومت نے افواج کے خلاف ایک آرٹیکل شائع کرنے پر پابندی لگادی۔

Society
Society

انڈیا جو کہ خود کو ایک سیکولر اسٹیٹ کہتا ہے اس کا میڈیا ہندواِزم کو فروغ دیتا ہے اور اپنی حکومت یا افواج کے معاملے کوئی خبر شائع کرنے میں بہت احتیاط کرتا ہے۔ امریکہ میں کئی تحقیقات میڈیا کے اثرات کی مد میں ہو چکی ہیں جس کے بعد امریکہ کی سابقہ اور موجودہ حکومت نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی پالسیوں پر نظرِ ثانی کی اور اس بات کو یقینی بنایا کے عوام کے درمیان کوئی انتشار پھیلانے والی معلومات یا مواد نہ جائے جس سے معاشرے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو۔ کئی ایسے ممالک ہیں جہاں میڈیا نے اپنی Social Responsiblity کونہ صرف پالیسی کاحصہ بنایا ہے بلکہ اس پر عمل درآمد بھی کیا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں میڈیا نے عوام کی رسائی ہر اس معلومات تک ممکن بنادی جس سے معاشرے میں عدم تحفظ، انتشار اور بے راروی پھیلتی چلی گئی۔

پرنٹ میڈیا ہو یا الیکڑانک میڈیا ہر کوئی ریٹنگ کی دوڑ میں آگے جانا چاہتا ہے اور ہر کسی نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے پالیسی ترتیب دی ہوئی ہے سوائے چند ایک اداروں کے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک مشہور صحافی اور اینکر پرسن پر قاتلانہ حملہ ہونے کہ بعد ان کے ادارے نے پاکستان کے دو بڑے اور اہم ترین اداروں آئی ایس آئی اور افواجِ پاکستان کے خلاف نشریات چلانی شروع کردی محض اس لئے کہ ان کو فوج اور آئی ایس آئی پر تحفظات تھے ۔ وہ نشریات ٨ گھنٹے تک چلائی گئی۔ ان حضرت کی جان بچ گئی اور وہ صحت یاب ہوکر پاکستان سے کوچ کر گئے جو ان کے تحفظات تھے وہ بے بنیاد تھے اور ایسے شواہد نہیں مل سکے جس میں فوج یا آئی ایس آئی کے ملوث ہونے امکانات بھی ہوںمگر ان ٨ گھنٹوں کی نشریات نے ریاست کی سالمیت پر جو قاتلانہ حملہ کیا وہ ناقابلِ تلافی ہے۔

اس سے نہ صرف پاکستان کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی بلکہ اس کا بھر پور فائدہ پاکستان مخالف ممالک نے بھی اٹھایا ۔ مہران بیس پر حملہ کی براہِ راست نشریات بھی ایک نہایت احمقانہ فعل تھا جس نے پوری دنیا کو یہ تاثر دیا کے پاکستان کی اندرونی سیکورٹی کتنی کمزور ہے اور پاکستان کا کتنامالی نقصان ہواہے۔اسی طرح راولپنڈی کاشرمناک واقعہ جہاں دو مسالک کے درمیان ہونے والی کشیدگی کو میڈیا نے اتنی زیادہ ہوا دی کہ اس کشیدگی کی لہر پورے پاکستان میں پھیل گئی اور اس کے ردِ عمل میں کئی مساجدو امام بارگاہوں کو نظرِ آتش کردیا گیا اور پوری مسلم امہ کو شرمسار کیا۔یہ وہ چندافسوسناک حادثات ہیں جو میڈیا کی ناقص حکمتِ عملی کی وجہ سے رونماء ہوئے۔ اس کے علاوہ جتنے بھی غیر اخلاقی فعل یا جنسی زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں ان کو ڈرامائی انداز میں دوبارہ نشر کیا جاتا ہے اور رشتوں کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے جو بچوں اور نوجوان نسل کے لئے انتہائی مضر ہیں اور ان کے روشن مستقبل کی راہ میں ایک بڑی روکاوٹ بن جاتے ہیں ۔ایسی کئی غیرذمہ دارانہ روایتیں قائم کرنے میں پاکستانی میڈیا سرِ فہرست رہا ہے۔

آزادیِ اظہاررائے کا حق نہ صرف میڈیا بلکہ معاشرے میں رہنے والے ہر شخص کو حاصل ہونا چاہئے مگر ہر فرد کو انفرادی طور پر اپنی اخلاقی ذمہ داری کا احساس ہونا بھی لازم ہے ۔دورِ حاضر میں میڈیا ریاست کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ لوگوں کی ذہن سازی کرنے کا سب سے موثر اور مضبوط ذریعہ ہے لحاظہ میڈیا کا ملک کی فلاح و بہبود اور معاشرے کی تکمیل کیلئے ایک مثالی کردار اداکرنا سب سے اہم فرض ہونا چاہئے ایسے چینلنز یا اخبارات جن سے ماضی میں کو تاہیاں ہوتی رہی ہیں ان کو اپنی پالیسیوں پر گہری نظرِ ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Pakistan
Pakistan

میڈیا کی آزادی اظہارِ رائے سے کسی کو کہیں اختلاف نہیں مگر اس کے ساتھ ایک حد کا تعین بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں رہنے والے وہ تمام طبقات جن کا تعلق مختلف مذاہب سے ہے ان کااور ان کے حقوق کا احترام کرنا میڈیا کی اہم ذمہ داری ہے تاکہ معاشرے میں نفرت اور شدت پسندی کی جو فضاء قائم ہوتی جارہی ہے اس پر قابو پایا جاسکے یہی پاکستان اور پاکستان میں بسنے والے لوگوں کے حق میں بہترین اقدام ثابت ہوگا۔

تحریر:رضا حیدر نقوی

Share this:
Tags:
expression Freedom Islam Media آزادی اسلام مطابق معاشرہ میڈیا
Pakistan Flood
Previous Post سیلاب میں ”شہباز کی پرواز”
Next Post پہلا ٹیسٹ : ویسٹ انڈیز کے بنگلہ دیش کے خلاف تین وکٹ پر 264 رنز
West Indies, Bangladesh

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close