اسلام آباد : اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے ملکی ترقی میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے” تعمیر، تعلیم سے” کے سلوگن سے تعمیر پاکستان مہم کا آغاز کر دیا۔ اس مہم کے ذریعے طلبہ کو تعلیمی امور سے آگاہ کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں تعلیمی کلچر کے فروغ کے ذریعے ملک کی تعمیر اور ترقی میں تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے گا، جبکہ دوسری طرف طلبہ اور ماہرین تعلیم کی آراء پر مبنی سفارشات کو وزارت تعلیم اور حکومت پاکستان کے حوالے کیا جائے گا۔ بین الجامعاتی مقابلہ جات، سیمینارز اور کانفرنسز کے ذریعے طلبہ تک رسائی حاصل کی جائے گی جب کہ تعلیمی اداروں میں تعمیری کلچر کو پروان چڑھانے کے لئے طلبہ تنظیمیوں کی سرگرمیوں کو مئوثر کیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان محمد زبیر صفدر نے زبیر حفیظ سیکرٹری جنرل اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان، سہیل بابر راہی، ناظم صوبہ خیبر، حسن جاوید، ناظم صوبہ پنجاب شمالی، عرفان حیدر، جنرل سیکرٹری صوبہ پنجاب جنوبی، عبد الصمد، ناظم اسلامی جمعیت طلبہ، اسلام آباد ڈاکٹر حسان، ناظم، اسلامی جمعیت طلبہ راولپنڈی، افضال محمود، ناظم اسلامی جمعیت طلبہ، بین الاقوامی اسلامی یونیو رسٹی، امجد بخاری مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے ہمراہ پر یس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوکیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے شدید بدامنی کا شکار ہے، خطے میں بیرونی مداخلت کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑرہا ہے۔ بے گناہ پاکستانیوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔
دہشت گردی کی وجہ سے اندرون ملک سرمایہ کاری نہ ہونے پر ملکی معیشت کو شدید بحران کا سامنا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام کو رہن سہن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جہاں مہنگائی میں اضافہ پٹرولیم اور بجلی کی قیمت میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی ہوئی وہاں اس کا براہ راست اثر پاکستان کی تعمیر اور ترقی میں تعلیم کی زبوں حالی کی صورت میں نظرآرہا ہے۔ یوں ملک کی تعمیر اور ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والا شعبہ تعلیم دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بدامنی کی وجہ سے ارباب اختیار کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے بنیادی اور اعلیٰ تعلیم میں بہتری کے اقدامات میں خلا نظر آرہا ہے۔ تعلیم اور مئوثر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے قوم عدم یکسوئی کا شکار ہے۔ اورمختلف طبقات میں تقسیم ہو چکی ہے۔
کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے قومی وحدت کا ہونا انتہائی ضرورہے اور تعلیم قومی وحدت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تعلیم کے ذریعے قوم کی ذہنی اور جسمانی نشو و نما ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کا شعبہ تعلیم کوئی متفقہ پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے مسائل میں گھرچکا ہے، نصاب تعلیم کے ادبی اور معاشرتی مضامین سے نظریہ پاکستان کے تصور کو بتدریج حذف کیا جا رہا جبکہ سائنسی اور پیشہ ورانہ مضامین میں کسی قسم کی جدت پیدا نہیں کی جا رہی۔ بنیادی اور اعلیٰ تعلیم میں خاطر خواہ حکومتی اقدامات نہ ہونے کو جواز بنا کر غیر ملکی اور غیر سرکاری تنظیمات کیلئے شعبہ تعلیم میں مداخلت کے راستے کھول دئیے گئے۔
جس سے ملک کے نظریاتی تشخص کو شدید نقصانات درپیش ہیں۔ یوں تعلیمی اداروں کا کلچر معاشرتی اور اخلاقی روایات سے دور ہوتا چلا جارہا ہے۔ ملکی ماہرین تعلیم پر انحصار کی بجائے غیر ملکی مشیران تعلیم کے ذریعے تعلیمی اقدامات کو حکومتی تائید حاصل ہے، تعلیم کی نجکار ی اور بورڈ آف گورنر کے قیام اور ذریعہ تعلیم پر متنازعہ اقدامات منظر عام پر آرہے ہیں، آٹھاریوں ترمیم کے بعد شعبہ تعلیم کو صوبوں کے ذمہ کردیا لیکن گزشتہ تین سالوں میں کوئی بھی شعبہ خاطر خواہ کام منظر عام پر نہیں لایا جاسکا۔ پاکستان میں بنیادی تعلیمی سے لے کر اعلیٰ تعلیم کا مستقبل حکومتی عدم توجہی کی بنا پر ہمیشہ کی طرح آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
جہاں ایک جانب تعلیمی پالیسی کی متعلق یہ تمام امور توجہ طلب ہیں وہاں دوسری طرف موجودہ تعلیمی بجٹ فی الوقت کی تعلیمی ضروریا ت کو پوراکرنے کے لئے ناکافی ہے جس کی وجہ سے فیسوں میں اضاہوتا جا رہا ہے۔ اور طلبہ کی بنیادی ضروریات مشکلات میں بدلتی جا رہی ہیں۔سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹی کی فیس ایک جیسی ہوتی جارہی ہیں۔ڈگری یافتہ طالب علم کے پاس ہنر ہونے کے باوجود روزگار نہیں ہے۔ لیبارٹیز، تحقیقی سہولیات، ہاسٹلز اور ٹرانسپوٹ کی عدم دستیانی کا مسئلہ تمام تعلیمی اداروں کو درپیش ہے۔ تعلیمی اداروں میں سیاسی بھرتیوں نے اداروں کواساتذہ کی سیاست کا گڑھ بنا دیا ہے۔
اور مئوثر امتحانی نظام نہ ہونے کی وجہ سے میرٹ کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے، ایک طرف خواتین کی تعلیم کے لئے بھی قابل عمل اقدامات نہیں کئے جا رہے تو دوسری طرف یونیورسٹیز میں طالبات کی بھرتی ہوئی تعداد کی وجہ سے طلبہ کی نشستیں محدود ہوتی جارہی ہیں۔ جبکہ ملکی ترقی کے لئے بہترین قیادت کی تیاری کی بنیادی نرسری طلبہ یونین بھی کئی سال گذرنے کے باوجود بحال نہیں ہو سکی۔ ایسے حالات میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان، نسل نو کے سامنے ان تعلیمی مسائل کو جاگر کرتے ہوئے حکومتی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے۔
کہ وہ پاکستان کی تعمیر اور ترقی کے لئے تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے، غیروں کی جنگ سے پاکستان کو باہر نکال کر عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ جمعیت تعلیمی اداروں میں اس تعمیری اور آگاہی مہم کو چلا کر نہ صرف طلبہ کو تعمیری سرگرمیوں میں شامل کرے گی بلکہ ہر یونیورسٹی کے طلبہ او ر طالبات کی طرف سے عملی سفارشات کا خاکہ حکومت کے حوالے کرے گی اس سے ایک جانب طلبہ کی تعمیری سرگرمیاں نظر آئیں گی وہاں دوسری جانب طلبہ سیاست کے رخ کو تبدیل کیا جائے گا۔ ملک بھر کے چاروں صوبوں، گلگت اور جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں کے تعلیمی اداروں میں یہ سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔ بیس لاکھ سے زائد طلبہ سے رابطہ کیا جائے گا۔ اکتوبر کو یوم تکریم اساتذہ، نومبر کو بین الجامعاتی مقابلہ لاہور اور ٢٨ نومبر کو اسلام آباد میں طلبہ کنونشن جیسے مرکزی پروگرام اس مہم کا حصہ ہوں۔
