Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

محرم الحرام

November 16, 2013November 16, 2013 0 1 min read
Muharramul Haram
Muharramul Haram
Muharramul Haram

اسلامی مہینوں میں سب سے پہلا مہینہ محرم الحرام ہے۔ یہ مہینہ اللہ تعالی کا مہینہ ہے اور رویات میں اس مہینہ کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی کے مہینہ محرم کی بزرگی کرو جس نے محرم کی بزرگی کی اللہ تعالی اسے جنت میں بزرگی عطا کرے گا۔ اور دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے گا۔

یوم عاشورہ: ماہ محرم الحرام کے دسویں دن کو یوم عاشورہ کہا جاتا ہے یہ دن اور اس کی رات بہت فضیلت و عظمت والے ہیں ۔ اس دن کو عاشورہ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ محرم کا دسواں دن ہے اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس امت کو جو اعزازات عطا فرمائے ہیں ان میں سے یہ دسواں اعزاز ہے۔ ان اعزازات کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

(١)
پہلا اعزاز ماہ رجب ہے۔ رجب اللہ تعالی کا مہینہ ہے اسے تمام مہینوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے یہ امت دوسری امتوں سے افضل ہے۔
(٢)
دوسرا اعزاز ماہ شعبان ہے، اس مہینہ کو دوسرے مہینوں پر اسی طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح رسول اللہ ا دیگر انبیاء کرام سے افضل ہیں۔
(٣)
تیسرا اعزاز ماہ رمضان المبارک ہے۔ اس مہینہ کی فضیلت دوسرے مہینوں پر ایسی ہے جیسے اللہ تعالی مخلوق سے افضل ہے۔
(٤)
چوتھا اعزاز شب قدر ہے جو کہ ہزار مہینوں سے افضل ہے۔
(٥)
پانچواں اعزاز عید الفطر ہے اور یہ روزوں کی جزا کا دن ہے۔
(٦)
چھٹا اعزاز ذی الحجہ کے دس دن ہیں یہ اللہ تعالی کے ذکر کے دن ہیں۔
(٧)
ساتواں اعزاز عرفہ کا دن ہے، اس دن روزہ رکھنا دو سالوںکے صغیرہ گناہوں کاکفارہ ہے۔
(٨)
آٹھواں اعزاز قربانی کا دن ہے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔
(٩)
نواں اعزاز جمعہ کا دن ہے ۔ جو کہ تمام دنوں کا سردار ہے۔

(١٠)
دسواں اعزاز عاشورہ کا دن ہے اور اس کا روزہ ایک سال کے صغیرہ گناہوںکا کفارہ ہے۔
ان تمام دنوں کو ایک خاص فضیلت حاصل ہے اور اللہ تعالی نے یہ اعزازات اس امت کو عطا فرمائے تاکہ یہ مقدس ایام اس امت کے گناہوں کا کفارہ ہوجائیں اور یہ امت خطائوں سے پاک ہوجائے۔ (غنیتہ الطالبین ص ٥٣٤)
انبیاء کرام کے اعزازات :
بعض علماء فرماتے ہیں کہ دس محرم کو عاشورہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس دن دس انبیاء کو دس اعزاز عطا فرمائے۔
(١)
اللہ تعالی نے اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی۔
(٢)
اسی دن حضرت ادریس علیہ السلام کو بلند مقام پر اٹھایا گیا۔
(٣)
اسی دن نوح علیہ السلام کی کشتی کوہ جودی پر ٹھہری۔
(٤)
اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے ۔ اسی دن اللہ تعالی نے انہیں اپنا خلیل بنایا اور اسی دن انہیں نمرود کی آگ سے بچایا۔
(٥)
اسی دن حضرت دائود علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہی ان کو لوٹائی۔
(٦)
اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری سے شفا عطا فرمائی۔
(٧)
اسی دن حضرت موسی علیہ السلام کو دریائے نیل میں راستہ دیا گیا اور فرعون غرق ہوا۔
(٨)
اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے رہائی ملی۔
(٩)
اسی دن حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا گیا۔
(١٠)
اسی دن ہمارے آقا و مولی ۖ کا نور تخلیق کیا گیا، (صاوی ، غنیتہ الطالبین ص ٥٣٤)

یوم عاشورہ کے حوالے سے ایک اور اہم ترین واقعہ یہ ہے کہ اسی دن نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو یزیدی افواج نے کر بلا میںبھوکے پیاسے شہید کردیا۔

عاشورہ کا روزہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم اجب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں ۔ آپ نے دریافت فرمایا تم اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا۔ یہ عظمت والا دن ہے اس دن اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی۔ ادائے شکر کے لیے حضرت موسی علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھا اس لیے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں نبی کریم انے فرمایا تمہاری نسبت ہم موسی علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کے زیادہ حقدار ہیںچنانچہ حضور علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (بخاری ، مشکوة جلد ١ ص ٤٤٦) انہی سے مروی ہے کہ جب آقا و مولی انے عاشورہ کا روزہ رکھا اور اس کا حکم دیا تو صحابہ نے عرض کی یار سول اللہ ا اس دن کی تو یہود و نصاری تعظیم کرتے ہیں۔

Prophet Muhammad (PBUH)
Prophet Muhammad (PBUH)

حضور اکرم نے فرمایا اگر آئندہ سال حیات (ظاہری ) باقی رہی تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا۔(مسلم ، مشکوة جلد ١ ص ٤٤٢)، یہ ١٠ھ کا واقعہ ہے اگلے سال رحمت عالم انے اس دنیا سے پردہ فرمالیا۔ ان احادیث سے معلوم ہواکہ جس دن اللہ تعالی کی طرف سے کسی بندے پر کوئی انعام ہوا ہو اس دن شکر الہی بجالانا اور اس دن کی یادگار قائم کرنا نبی کریم اکی سنت ہے اور صحابہ کرام کی بھی۔ یہاں تک کہ اگر بالفرض اس میں کفار کے ساتھ کچھ مشابہت کا احتمال ہو تو بھی اس فعل کو ترک نہ کیا جائے گا بلکہ کفار کی مخالفت کی کوئی اور صورت پیدا کی جائے گی۔ سرکار مدینہ ا کاارشاد ہے ۔ رمضان کے بعد افضل روزہ اللہ تعالی کے مہینے محرم کا روزہ (عاشورہ کا روزہ ) اور فرض نمازوں کے بعد افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے۔(مسلم، مشکوة جلد ١ ص ٤٤١) غیب بتانے والے آقا و مولی انے فرمایا مجھے اللہ تعالی کے کرم سے امید ہے کہ وہ عاشورہ کے دن کا روزہ رکھنے والے کے لئے اس روزہ کو پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بنادے گا۔ (مسلم ، مشکوة جلد ١ ص ٤٤٣) حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ محبوب کبریا اہمیں عاشورہ کے دن کے روزہ کاحکم فرماتے ۔ ترغیب دلاتے اور ہماری نگرانی بھی فرماتے تھے (مسلم ، مشکوة ، ج١ ص ٤٤٦)۔

شب عاشورہ کی فضیلت: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم اکا ارشاد ہے، جو شخص عاشورہ کی رات کو عبادت کے ذریعے زندہ رکھے (یعنی شب بیداری کرے ) تو جب تک چاہے گا اللہ تعالی اسے بھلائی پر زندہ رکھے گا۔ (غنیتہ الطالبین ص ٥٣٤) نبی کریم انے فرمایا رمضان کے بعد افضل روزہ محرم کا روزہ ہے اور فرض نمازوں کے بعد عاشورہ کی رات میں نفل پڑھنا افضل ہے۔ (ایضا) حجتہ الاسلام امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے شب عاشورہ کو فضیلت والی راتوں میں شمار کیا ہے اس رات میں کثرت نوافل کی خاص تاکید فرمائی ہے۔ (احیاء العلوم)۔

عاشورہ کے دن نیک اعمال: رحمت عالم اکا ارشاد گرامی ہے ، جو عاشورہ کے دن اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے میں وسعت کرے اور انہیں خوب کھلائے پلائے تو اللہ تعالی اس پر تمام سال رزق میں وسعت و کشادگی فرمادیتا ہے ۔ (فضائل الاوقات للطبرانی، شعب الایمان للبہیقی ، ما ثبت من السنہ ص ٢٣) امام ابن حبان کے نزدیک یہ حدیث حسن ہے امام بیہقی نے بھی اسے حسن کہا ہے ۔ یہی حدیث دار قطنی میں جید سند کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بطریق موقوف بیان ہوئی ہے ۔ (ماثبت من السنہ ص ٢٣۔٢٤) اس حدیث کے متعلق حضرت سفیان بن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ (ہم پچاس سال سے اس کا تجربہ کر رہے ہیں اور ہم وسعت اور کشادگی بھی دیکھ رہے ہیں)(غنیتہ الطالبین ص ٥٣٤) یوم عاشورہ میں صحابہ کرام اور اہلبیت عظام خصوصا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر شہدائے کربلا کی ارواح مبارکہ کو ایصال ثواب کرنا بہت ثواب کا کام ہے اسی لیے مسلمان عموما اسی روز قرآن خوانی کرتے ہیں۔ آیات و احادیث کی روشنی میں شہادت کی فضیلت اور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا ذکر کرتے اور سنتے ہیں پھر شربت ، حلیم اور دیگر طعام پر فاتحہ پڑھ کر ان نفوس قدسیہ کو ایصال ثواب کرتے ہیں۔ یہ سب امور جائز و مستحب ہیں۔

اسکی اصل یہ ہے کہ اپنی کسی بھی مالی یا بدنی عبادت کا ثواب اپنے زندہ یا مرحومین کوپہنچانا جائز ہے ۔ حدیث شریف میںہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ اہم اپنے مردوں کیلئے صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ان کی طرف سے حج کرتے ہیں اور ان کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں تو کیا یہ سب کچھ انہیں پہنچتا ہے ، ارشاد فرمایا کہ ہاں بلاشبہ ان کو پہنچتا ہے اور یقینا اس کے پہنچنے سے انہیں ایسی خوشی ہوتی ہے جیسی کہ تم میں سے کسی کو ہدیہ کا طباق (تھال) ملنے پر خوشی ہوتی ہے۔ (فتاوی شامی، جلد دوم) بعض علماء نے ان روایات کی صحت پرجرج کی ہے لیکن چونکہ یہ حضور غوث اعظم اور دیگر بزرگان دین سے صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہیں اور ان اعمال میں سے کوئی عمل بھی ناجائز نہیں ہے لہذا محتاط علماء کا مسلک یہی ہے کہ ان اعمال سے روکا نہ جائے۔

تنبیہہ: شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں ۔ (خبر دار ! روافض کی بدعتوں میں شامل نہ ہونا۔ گریہ و زاری آہ و بکا سینہ کو بی ، نوحہ ، ماتم ، غم و الم کے ظاہری اظہار (جیسے سیاہ لباس وغیرہ ) میں مشغول نہ ہوجانا ۔ کیونکہ ان کاموں کا مسلمانوں کے عقائد و اعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے)۔ (ما ثبت من السنہ ص ٢٠)۔

شہادتِ امام حسین ص: رجب ٦٠ ھ میں حضرت امیر معاویہ صکے وصال کے بعد یزید نے مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عتبہ کو لکھا کہ” حسین ، ابن عمر اور ابن زبیرث سے فوری طور پر بیعت لے لو اور جب تک وہ بیعت نہ کریں انہیں مت چھوڑو”۔ (تاریخ کامل ج٤:١٤) امام حسین صنے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور مکہ تشریف لے گئے۔آپ کے نزدیک یزید مسلمانوں کی امامت وسیادت کے ہرگز لائق نہیں تھا بلکہ فاسق وفاجر ،شرابی اور ظالم تھا۔امام حسینص کو کوفیوں نے متعدد خطوط لکھے اور کئی قاصد بھیجے کہ آپ کوفے آئیں، ہمارا کوئی امام نہیں ہے ، ہم آپ سے بیعت کریں گے۔ خطوط اور قاصدوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ امام حسین صنے یہ سمجھا کہ مجھ پر انکی راہنمائی کے لیے اور انہیں فاسق وفاجر کی بیعت سے بچانے کے لیے جانا ضروری ہو گیا ہے۔حالات سے آگہی کے لیے آپ نے حضرت مسلم بن عقیلص کو کوفہ بھیجا جن کے ہاتھ پر بیشمار لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی لیکن جب ابن زیاد نے دھمکیاں دیں تو وہ اپنی بیعت سے پھر گئے اور حضرت مسلم بن عقیل صشہید کردیے گئے۔آپ کو انکی شہادت اور اہلِ کوفہ کی بیوفائی کی خبر اسوقت ملی جب آپ مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔ امام حسین صکی شہادت کے تفصیلی واقعات جاننے کے لیے صدرُ الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللہ کی کتاب ”سوانح کربلا”کا مطالعہ کیجیے۔ مختصر یہ ہے کہ حسینی قافلے میں بچے، خواتین اور مرد ملا کر بیاسی نفوس تھے جوکہ جنگ کے ارادے سے بھی نہیں آئے تھے۔ انکے مقابلے کے لیے یزیدی فوج بائیس ہزار سوار وپیادہ مسلح افراد پر مشتمل تھی۔اسکے باوجود ظالموں نے اہلبیت اطہار پر دریائے فرات کا پانی بند کردیا۔تین دن کے بھوکے پیاسے امام عالی مقام اپنے اٹھارہ (١٨) اہلبیت اوردیگر چوَّن (٥٤)جانثاروں کے ہمراہ دس محرم ٦١ھ کوکربلا میں نہایت بیدردی سے شہید کر دیے گئے۔

حضرت ابن عباس ص سے روایت ہے کہ ایک دن دوپہر کے وقت میں نے رسول اﷲا کو خواب میں دیکھا کہ گیسوئے مبارک بکھرے ہوئے ہیں اور دست مبارک میں خون سے بھری ہوئی ایک بوتل ہے ۔میں عرض گذارہوا ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ کیا ہے؟ فرمایا ،یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے۔ میں دن بھر اسے جمع کرتا رہا ہوں ۔ میں نے وہ وقت یاد رکھا بعد میں معلوم ہوا کہ امام حسین ص اسی وقت شہید کیے گئے تھے۔ ( مسند احمد، مشکوٰة ) حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ زاروقطاررو رہی تھیں ۔میں نے عرض کی، آپ کیوں روتی ہیں ؟ فرمایا، میں نے رسول اﷲا کو خواب میں دیکھا کہ سرِ اقدس اور داڑھی مبارک گرد آلود ہے۔میں عرض گزار ہوئی ،یا رسول اﷲا ! آپ کو کیا ہوا؟ تو آپ نے فرمایا، میں ابھی ابھی حسین کی شہادت گاہ سے آرہا ہوں ۔(ترمذی) امام حسین صکا سرِاقدس جسم سے جدا کر کے ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا ۔ابن زیاد ایک چھڑی آپ کے مبارک ہونٹوںپر مارنے لگا۔ صحابیٔ رسول، حضرت زید بن ارقم صوہاں موجود تھے۔ ان سے برداشت نہ ہو سکا اور وہ پکار اٹھے، ”ان لبوں سے چھڑی ہٹا لو۔خدا کی قسم! میں نے بارہا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رسول کریم ا ان مبارک لبوں کو چومتے تھے”۔ یہ فرما کر وہ زاروقطار رونے لگے۔ ابن زیاد بولا، خدا کی قسم ! اگر تو بوڑھا نہ ہوتا تو میں تجھے بھی قتل کروا دیتا۔ (عمدة القاری شرح بخاری) حضرت انس بن مالک صسے بھی ایسا ہی واقعہ مروی ہے جو ترمذی کے حوالے سے پہلے تحریر کیا جا چکا ہے۔

Hazrat Imam Hussain
Hazrat Imam Hussain

امامِ پاک اور یزید پلید:بعض لوگ کہتے ہیں کہ یزید کا اس واقعہ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا، جو کچھ کیا وہ ابن زیاد نے کیا۔ چند تاریخی شواہد پیشِ خدمت ہیں جن سے اہلِ حق و انصاف خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ان تمام واقعات سے یزید کا کس قدر تعلق ہے۔ عظیم مؤرخ علامہ طبری رحمہ اللہ رقمطراز ہیں، یزید نے ابن زیاد کو کوفہ کا حاکم مقرر کیا اور اسے حکم دیا کہ ”مسلم بن عقیل کو جہاں پاؤ قتل کردو یا شہر سے نکال دو”۔ (تاریخ طبری ج٤:١٧٦) پھر جب حضرت مسلم بن عقیلص اور ہانی کو شہید کر دیا گیا تو ابن زیاد نے ان دونوں کے سر کاٹ کر یزید کے پاس دمشق بھیجے۔ اس پر یزید نے ابن زیاد کو خط لکھ کر اس کا شکریہ ادا کیا۔(تاریخ کامل ج٦:٣٦) یہ بھی لکھا، ”جو میں چاہتا تھا تو نے وہی کیا، تو نے عاقلانہ کام اور دلیرانہ حملہ کیا”۔ (تاریخ طبری ج٤:١٧٣) اب یہ بھی جان لیجیے کہ امام حسین صکی شہادت کے بعد یزید کا پہلا ردعمل کیا تھا؟ علامہ ابن جریر طبری رحمہ اللہ لکھتے ہیں، ابن زیاد نے امام حسینص کا سرِاقدس آپ کے قاتل کے ہاتھ یزید کے پاس بھیج دیا۔ اس نے وہ سرِاقدس یزید کے سامنے رکھ دیا۔ اسوقت وہاں صحابیٔ رسول، حضرت ابوبرزة الاسلمیص بیٹھے ہوئے تھے۔ یزید ایک چھڑی امام حسین صکے مبارک لبوں پر مارنے لگا اور اس نے یہ شعر پڑھا: ‘انہوں نے ایسے لوگوں کی کھوپڑیوں کو پھاڑ دیا جو ہمیں عزیز تھے لیکن وہ بہت نافرمان اور ظالم تھے”حضرت ابوبرزةص سے برداشت نہ ہو سکا اور انہوں نے فرمایا، ”اے یزید! اپنی چھڑی کو ہٹا لو۔خدا کی قسم! میں نے بارہا دیکھا ہے کہ رسول کریم ا اس مبارک منہ کو چومتے تھے”۔(تاریخ طبری ج٤:١٨١) مشہور مؤرخین علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ والنہایہ میں اور علامہ ابن اثیر رحمہ اللہ نے تاریخ کامل میں اس واقعہ کو تحریر کیا ہے۔اس میں یہ زائد ہے کہ حضرت ابوبرزةص نے یہ بھی فرمایا،”بلاشبہ یہ قیامت کے دن آئیں گے تو حضرت محمد مصطفیا ان کے شفیع ہونگے اور اے یزید! جب تو آئے گا تو تیرا سفارشی ابن زیاد ہو گا”۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور محفل سے چلے گئے۔(البدایہ والنہایہ ج٨:١٩٧) اب آپ خود ہی فیصلہ کیجیے کہ امام حسینص کی شہادت پر یزید کو کس قدر افسوس اور دکھ ہوا تھا۔جو سنگدل نواسۂ رسول ا کے سرِاقدس کو اپنے سامنے رکھ کر متکبرانہ شعر پڑھتا ہے اور ان مبارک لبوں پر اپنی چھڑی مارتا ہے جسے محبوبِ کبریا ااکثر چوما کرتے تھے، کیا وہ لعنت وملامت کا مستحق نہیں؟اہلبیتِ نبوت سے اس کی عداوت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب اہلبیت نبوت کا یہ مصیبت زدہ قافلہ ابن زیاد نے یزید کے پاس بھیجا تو اس نے ملک شام کے امراء اور درباریوں کو جمع کیا پھر بھرے دربار میں خانوادۂ نبوت کی خواتین اسکے سامنے پیش کی گئیں اور اس کے سب درباریوں نے یزید کو اس فتح پر مبارکباد دی۔ (طبری ج٤:١٨١، البدایہ والنہایہ ج٨:١٩٧) یزید کے خبثِ باطن اور عداوتِ اہل بیت کی ایک اور شرمناک مثال ملاحظہ کیجیے۔اس عام دربار میں ایک شامی کھڑا ہوا اور اہل بیت میں سے سیدہ فاطمہ بنت حسینص کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا، یہ مجھے بخش دو۔ معصوم سیدہ یہ سن کر لرز گئی اور اس نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا دامن مضبوطی سے پکڑ لیا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہانے گرج کر کہا، تو جھوٹ بکتا ہے۔ یہ نہ تجھے مل سکتی ہے اور نہ اس یزید کو۔ یزید یہ سن کر طیش میں آ گیا اور بولا، تم جھوٹ بولتی ہو۔ خدا کی قسم! یہ میرے قبضے میں ہے اور اگر میں اسے دینا چاہوں تو دے سکتا ہوں۔سیدہ زینب رضی اللہ عنہانے گرجدار آواز میں کہا، ہرگز نہیں ۔خدا کی قسم! تمہیں ایسا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے کوئی حق نہیں دیا۔ سوائے اسکے کہ تم اعلانیہ ہماری امت سے نکل جاؤ اور ہمارے دین کو چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کر لو۔

یزید نے طیش میں آ کر کہا، تو ہمارا مقابلہ کرتی ہے ، تیرا باپ اور تیرے بھائی دین
سے خارج ہو گئے ہیں۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہانے کہا، اللہ کے دین اور میرے باپ، میرے بھائی اورمیرے نانا کے دین سے تو نے، تیرے باپ نے اور تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے۔ یزید نے کہا، تو نے جھوٹ بولا ہے۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہانے کہا، تو زبردستی امیرُ المؤمنین ہے، تو ظالم ہو کر گالیاں دیتا ہے اور اپنے اقتدار سے غالب آتا ہے۔ یزید یہ سن کر چپ ہو گیا۔ اُس شامی نے پھر وہی سوال کیا تو یزید نے کہا، دور ہو جا، خدا تجھے موت دے۔ (تاریخ طبری ج٤:١٨١، البدایہ والنہایہ ج٨:١٩٧) بعض لوگ یزید کے افسوس وندامت کا ذکر کر کے اسے بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی ندامت کی حقیقت علامہ ابن اثیررحمہ اللہ کے قلم سے پڑھیے۔ وہ رقمطراز ہیں، ”جب امام عالی مقام کا سرِ اقدس یزید کے پاس پہنچا تو یزید کے دل میں ابن زیاد کی قدرو منزلت بڑھ گئی اور جو اس نے کیا تھا اس پر یزید بڑا خوش ہوا۔ لیکن جب اسے یہ خبریں ملنے لگیں کہ اس وجہ سے لوگ اس سے نفرت کرنے لگے ہیں، اس پر لعنت بھیجتے ہیں اور اسے گالیاں دیتے ہیں تو پھر وہ امام حسین صکے قتل پر نادم ہوا”۔(تاریخ کامل ج٤:٨٧) پھر اس نے کہا،” ابن زیاد نے حسینص کو قتل کر کے مجھے مسلمانوں کی نگاہوں میں مبغوض بنا دیا ہے، انکے دلوں میں میری عداوت بھر دی ہے اور ہر نیک و بد شخص مجھ سے نفرت کرنے لگا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ امام حسین صکو قتل کر کے میں نے بڑا ظلم کیا ہے۔ خدا ابن زیاد پر لعنت کرے اور اس پر غضب نازل کرے، اس نے مجھے برباد کردیا”۔ (ایضاً)یزید کی ندامت وپشیمانی کی وجہ آپ نے پڑھ لی ہے۔ اس ندامت کا عدل وانصاف سے ذرا سا بھی تعلق نہیں ورنہ ایک عام مسلمان بھی قتل کر دیا جائے تو قاتل سے قصاص لینا حاکم پر فرض ہوتا ہے۔ یہاں تو خاندانِ نبوت کے قتلِ عام کا معاملہ تھا۔ ابن زیاد، ابن سعد، شمر ملعون وغیرہ سے قصاص لینا تو درکنار کسی کو اس کے عہدے سے برطرف تک نہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی تادیبی کاروائی ہوئی۔

یزید فاسق وفاجر تھا: بعض جہلاء کہتے ہیں کہ امام حسینص پر لازم تھا کہ وہ یزید کی اطاعت کرتے۔ اس خیالِ بد کے رَد میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’یزید امام حسین صکے ہوتے ہوئے امیر کیسے ہو سکتا تھا اور مسلمانوں پر اسکی اطاعت کیسے لازم ہو سکتی تھی جبکہ اُسوقت کے صحابہ کرام اور صحابہ کی جو اولاد موجود تھی، سب اس کی اطاعت سے بیزاری کا اعلان کر چکے تھے۔ مدینہ منورہ سے چند لوگ اسکے پاس شام میں زبردستی پہنچائے گئے تھے۔ وہ یزید کے ناپسندیدہ اعمال دیکھ کر واپس مدینہ چلے آئے اور عارضی بیعت کو فسخ کر دیا۔ ان لوگوں نے برملا کہا کہ یزید خدا کا دشمن ہے، شراب نوش ہے، تارک ُ الصلوٰة ہے، زانی ہے،فاسق ہے اور محارم سے صحبت کرنے سے بھی باز نہیں آتا”۔(تکمیل الایمان:١٧٨) یزید کے فسق وفجور کے متعلق اکابر صحابہ و تابعین کے اقوال تاریخ طبری، تاریخ کامل اور تاریخ الخلفاء میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں ۔ اختصار کے پیشِ نظر حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اللہ عنہما کا ارشاد پیشِ خدمت ہے۔ آپ فرماتے ہیں،”خدا کی قسم ! ہم یزید کے خلاف اُس وقت اٹھ کھڑے ہوئے جب ہمیں یہ خوف لاحق ہو گیا کہ( اسکی بدکاریوں کی وجہ سے)ہم پر کہیں آسمان سے پتھر نہ برس پڑیں کیونکہ یہ شخص ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ نکاح کو جائز قرار دیتا تھا، شراب پیتا تھا اور نماز چھوڑتا تھا”۔(طبقات ابن سعد ج٥:٦٦، ابن اثیر ج٤:٤١، تاریخ الخلفائ:٣٠٦) امام حسین صنے یزیدی لشکر کے سامنے جو خطبہ دیا اس میں بھی یزید کے خلاف نکلنے کی یہی وجہ ارشاد فرمائی،”خبردار! بیشک ان لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیار کر لی ہے اور رحمان کی اطاعت کو چھوڑ دیا ہے اور فتنہ وفساد برپا کر دیا ہے اور حدودِ شرعی کو معطل کر دیا ہے۔ یہ محاصل کو اپنے لیے خرچ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ باتوں کو حلال اور حلال کردہ کو حرام قرار دیتے ہیں”۔ (تاریخ ابن اثیر ج٤:٢٠) شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ہمارے نزدیک یزید مبغوض ترین انسان تھا۔ اس بدبخت نے جو کارہائے بد سرانجام دیے وہ اس امت میں سے کسی نے نہیں کیے۔شہادتِ امام حسین صاور اہانتِ اہلبیت سے فارغ ہو کر اس بدبخت نے مدینہ منورہ پر لشکر کشی کی اور اس مقدس شہر کی بیحرمتی کے بعد اہلِ مدینہ کے خون سے ہاتھ رنگے اور باقی ماندہ صحابہ وتابعین کو قتل کرنے کا حکم دیا۔مدینہ منورہ کی تخریب کے بعد اس نے مکہ معظمہ کی تباہی کا حکم دیا اورحضرت عبداللہ بن زبیرص کی شہادت کا ذمہ دار ٹھہرا۔ اور انہی حالات میں وہ دنیا سے رخصت ہو گیا۔ (تکمیل الایمان:١٧٩)اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں،” یزید پلید قطعاً یقیناً باجماعِ اہلسنّت، فاسق وفاجر و جری علی الکبائر تھا”۔پھر اسکے کرتوت ومظالم لکھ کر فرماتے ہیں،”ملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق وفجور نہ جانے، قرآن کریم میں صراحةً ا س پر لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فرمایا”۔ (عرفانِ شریعت) ‘یزید پلید فاسق فاجر مرتکب کبائرتھا۔معاذ اللہ اس سے اور ریحانۂ رسول ا سیدنا امام حسین صسے کیا نسبت۔آج کل جو بعض گمراہ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے معاملے میں کیا دخل ہے ہمارے وہ بھی شہزادے وہ بھی شہزادے۔ایسا بکنے والا مردود، خارجی،ناصبی،مستحقِ جہنم ہے”۔ (بہارشریعت حصہ ١:٧٨) کیا یزید مستحقِ لعنت ہے؟ محدث ابن جوزی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل صسے انکے بیٹے صالح رحمہ اللہ نے عرض کی، ایک قوم ہماری طرف یہ منسوب کرتی ہے کہ ہم یزید کے دوست اور حمایتی ہیں۔ فرمایا، اے بیٹا! جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ یزید کی دوستی کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے۔ بلکہ میں کیوں نہ اس پر لعنت بھیجوں جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں لعنت بھیجی ہے۔ میں نے عرض کی، رب تعالیٰ نے قرآن میں کس جگہ اس پر لعنت بھیجی ہےِ؟ فرمایا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے!

فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْحَامَکُمْ O اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمْ وَاَعْمٰی اَبْصَارَہُمْ O(محمد:٢٢،٢٣)

”تو کیا تمہارے یہ لچھن (کرتوت) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔ یہ ہیں وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور اُنہیں حق (سننے)سے بہرا کردیا اور اُن کی آنکھیں پھوڑ دیں(یعنی انہیں حق دیکھنے سے اندھا کر دیا)”۔ (کنزالایمان) پھر فرمایا، فہل یکون فساد اعظم من ھذا القتل۔ بتاؤ کیا حضرت حسین صکے قتل سے بھی بڑا کوئی فساد ہے؟ (الصواعق المحرقة:٣٣٣) علامہ سعد الدین تفتازانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،” حق یہ ہے کہ یزید کا امام حسینص کے قتل پر راضی اور خوش ہونا، اور اہلبیتِ نبوت کی اہانت کرنا ان امور میں سے ہے جو تواترِ معنوی کے ساتھ ثابت ہیں اگرچہ انکی تفاصیل احاد ہیں۔ تو اب ہم توقف نہیں کرتے اسکی شان میں بلکہ
اس کے ایمان میں۔ اللہ تعالیٰ اس(یزید)پر، اس کے دوستوں پر اور اسکے مددگاروں پر لعنت بھیجے”۔(شرح عقائد نسفی:١٠٢) امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ علیہ شہادتِ امام حسینصکا ذکر کر کے فرماتے ہیں، ”ابن زیاد، یزید اور امام حسینص کے قاتل، تینوں پر اللہ کی لعنت ہو”۔ (تاریخ الخلفاء :٣٠٤) مشہور مفسر علامہ محمود آلوسی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں، میرے نزدیک یزید جیسے معیّن شخص پر لعنت کرناقطعاً جائز ہے اور اس جیسے فاسق کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ظاہر یہی ہے کہ اس نے توبہ نہیں کی اور اسکی توبہ کا احتمال اسکے ایمان سے بھی زیادہ کمزور ہے۔یزیدکے ساتھ ابن زیاد، ابن سعد اور اسکی جماعت کو بھی شامل کیا جائے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ان سب پر ، انکے ساتھیوں اور مددگاروں پر اور انکے گروہ پر اور جو بھی انکی طرف مائل ہو قیامت تک اور اسوقت تک کہ کوئی بھی آنکھ ابوعبداللہ حسین صپر آنسو بہائے”۔ (روح المعانی ج ٢٦:٦٦) پس ثابت ہو گیا کہ یزید پلید لعنت کا مستحق ہے۔ البتہ ہمارے نزدیک اس ملعون پر لعنت بھیجنے میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ ذکرِ الہٰی میں اور نبی کریم ا اور انکی آل پر درودوسلام پڑھنے میں مشغول رہا جائے۔

Madinah
Madinah

مدینہ منورہ ومکہ مکرمہ پر حملہ: جب ٦٣ ھ میں یزید کو یہ خبر ملی کہ اہلِ مدینہ نے اس کی بیعت توڑ دی ہے تو اس نے ایک عظیم لشکرمدینہ منورہ پر حملہ کے لیے روانہ کیا۔ علامہ ابن کثیررحمہ اللہ اس لشکر کے سالار اور اسکے سیاہ کارناموں کے متعلق لکھتے ہیں۔ ”مسلم بن عقبہ جسے اسلاف مسرف بن عقبہ کہتے ہیں، خدا اس کو ذلیل ورسوا کرے، وہ بڑا جاہل اور اجڈ بوڑھا تھا۔ اس نے یزید کے حکم کے مطابق مدینہ طیبہ کو تین دن کے لیے مباح کر دیا ۔اللہ تعالیٰ یزید کو کبھی جزائے خیر نہ دے، اس لشکر نے بہت سے بزرگوں اور قاریوں کو قتل کیا اور اموال لوٹ لیے”۔ (البدایہ والنہایہ ج٨ :٢٢٠) مدینہ طیبہ کو مباح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں جس کو چاہو قتل کرو، جو مال چاہو لوٹ لو اور جسکی چاہو آبروریزی کرو(العیاذ باللہ)۔یزیدی لشکر کے کرتوت پڑھ کر ہر مومن خوفِ خدا سے کانپ جاتا ہے اور سکتہ میں آجاتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اس شخص نے حلال کردیا جسے آج لوگ امیرُ المؤمنین بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں، ”یزیدی لشکر نے عورتوں کی عصمتیں پامال کیں اور کہتے ہیں کہ ان ایام میں ایک ہزار کنواری عورتیں حاملہ ہوئیں”۔ (البدایہ ج٨:٢٢١) تاریخ میں اس واقعہ کو واقعۂ حرّہ کہا جاتا ہے۔اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”شک نہیں کہ یزید نے والیٔ ملک ہو کر زمین میں فساد پھیلایا، حرمین طیبین وخود کعبۂ معظمہ و روضۂ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں، مسجد کریم میں گھوڑے باندھے، ان کی لید اور پیشاب منبر اطہر پر پڑے، تین دن مسجدِ نبوی بے اذان ونماز رہی، مکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ وتابعین بے گناہ شہید کیے گئے۔ کعبۂ معظمہ پر پتھر پھینکے، غلاف شریف پھاڑا اور جلایا، مدینہ طیبہ کی پاک دامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کر دیں”۔ (عرفانِ شریعت) حضرت سعید بن مسیب صفرماتے ہیں کہ ایامِ حرّہ میں مسجدِ نبوی میں تین دن تک اذان واقامت نہ ہوئی۔جب بھی نماز کا وقت آتا تو میں قبرِ انور سے اذان اور اقامت کی آواز سنتا تھا۔(دارمی، مشکوٰة، وفاء الوفائ) بقول علامہ سیوطی رحمہ اللہ،”جب مدینہ پر لشکر کشی ہوئی تو وہاں کا کوئی شخص ایسا نہ تھا جو اس لشکر سے پناہ میں رہا ہو۔ یزیدی لشکر کے ہاتھوں ہزاروں صحابہ شہید ہوئے، مدینہ منورہ کو خوب لوٹا گیا، ہزاروں کنواری لڑکیوں کی آبروریزی کی گئی۔

مدینہ منورہ تباہ کرنے کے بعد یزید نے اپنا لشکر حضرت عبداللہ بن زبیرص سے جنگ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ بھیج دیا۔ اس لشکر نے مکہ پہنچ کر ان کا محاصرہ کر لیا اور ان پر منجنیق سے پتھر برسائے۔ ان پتھروں کی چنگاریوں سے کعبہ شریف کا پردہ جل گیا، کعبہ کی چھت اور اس دنبہ کا سینگ جو حضرت اسماعیل کے فدیہ میں جنت سے بھیجا گیا تھا اور وہ کعبہ کی چھت میں آویزاں تھا، سب کچھ جل گیا۔یہ واقعہ صفر ٦٤ ھ میں ہوا اور اس کے اگلے ماہ یزید مرگیا۔جب یہ خبر مکہ پہنچی تو یزیدی لشکر بھاگ کھڑا ہوا اور لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیرص کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ (تاریخ الخلفائ:٣٠٧)۔

تحریر: محمد عبداللہ قادری

Share this:
Tags:
Hazrat Imam Hussain Muharramul Haram Prophet Muhammad (PBUH) virtue فضیلت محرم الحرام
Mohammad Siddiq Madani
Previous Post معاشرہ کیا ہے؟
Next Post ختم ہوتی پاکستانی کرکٹ
M Shakir Abbasi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close