Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اسلامی یونیورسٹی علمی و عملی عہدوں میں اصلاح کی ضرورت

December 19, 2014 0 1 min read
International Islamic University
International Islamic University

تحریر : عتیق الرحمان
چند روز قبل بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک شرمناک واقعہ پیش آیا۔ جس میں مینجمنٹ سائنسز کی طالبات کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میںعالمی دنیا میں موجود ممالک کی ثقافت کو پیش کرنے کے لیے کلچر سٹال کا اہتمام کیا گیا ۔ان ہی سٹالوں میں ایک سٹال ایسا بھی سجایاگیا جس میں عالم اسلام کے ازلی و ابدی دشمن اسرائیل کی ثقافت کوپیش کرنے کا سٹال بھی لگایاگیا۔اس امر کا طلبہ و اساتذہ کو علم ہوجانے پر احتجاج کیا گیا جس پر وہ ثقافتی سٹال بندکردیا گیا۔مگر یہ خبر جیسے ہی یونیورسٹی کے قائداعظم آڈیٹوریم سے باہر آئی تو اسلام سے محبت و مودت رکھنے والے اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی قربیانیوں کو عزت وقدر کی نگاہ سے دیکھنے والے طلبہ و اساتذہ میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ۔ایسا ہونا ایک فطری امر تھا کیوں کہ نبی کریم نے اور قرآن پاک نے مسلمانوں کو یہود سے دوستی و قرابت کا رشتہ استوار کرنے سے منع کیا ہے۔مگر افسوس عالم اسلام کے تمام ممالک اعلانیہ و غیر اعلانیہ یہود و نصاریٰ سے دوستی قائم کیے ہوئے ہیں۔ اسلامی یونیورسٹی میں اس ان ہونے واقعہ پر ملک بھر میں نوجوانوں اور مذہبی حلقوں اور صحافتی اداروں سے وابستہ تمام افراد احتجاج درج کروانے میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔باعث تشویش امر یہ ہے کہ اس امر سے متعلق افراط و تفریط اور بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے سے کام بھی لیا جارہاہے ۔کہیں یہ باتیں سامنے لاجارہی ہیں کہ یونیورسٹی کے سابق ریکٹر فتح محمد ملک کو یونیورسٹی سے اس لیے نکالاگیا کہ انہوں نے کلچر ویک میں ایرانی سفیر کو بطور مہمان بلایا تھاتو یہ بات سعودیہ کو ہضم نہ ہوئی اس سبب سے ریکٹر صاحب کوگھر جانا پڑا۔کہیں یہ باتیں سامنے آرہی ہیں کہ اس مسئلہ پر یونیورسٹی کے صدر کو استعفیٰ دے دینا چاہیے کیوں کہ یہ واقعہ ان کی انتظامی نااہلی کے باعث پیش آیا۔اسی طرح متعدد کالم نگار اپنے اپنے تجزیے پیش کررہے ہیں اور اپنی من کے مطالبات بھی پیش کررہے ہیں۔اور دوسری جانب سے یونیورسٹی کی جانب سے تین اہم ذمہ داران کو معطل کرنے کا بیان بھی جاری کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی خبریں ہیں کہ اس واقعہ میں ملوث طالبات کو یونیورسٹی سے نکالا جاسکتاہے !۔اس سارے منظر نامے کو دیکھنے کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے جو اپنی رپورٹ جلد پیش کرے گی۔

ہم یونیورسٹی کے ان مندرجہ بالافیصلوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کو نہ تو طالبات کو یونیورسٹی سے نکالنا چاہیے اور نہ ہی صرف تین افراد کوبلاکسی ٹھوس ثبوت و شواہد کے بغیر معطل کرناچاہیے ،کیوں کہ اس واقعہ کے حقیقی مجرم پس پشت چلائے جائیں گے اور وہ پھر موقع مناسب دیکھ کر اس یونیورسٹی کے تشخص کو مجروح کرنے کی ناپاک حرکت کا ارتکاب کرسکتے ہیں ۔ یونیورسٹی طالبات کو اس قبیح امرکی جانب ابھارنے یا رہنمائی کرنے والوں کا سراغ ضرور لگانا چاہیے اور یہ بھی جائزہ لینا چاہیے!!! کہ اس ملک کی ثقافت کو پیش کرنے کے لیے جو ضروری سامان اور لوازمات کا انتظام کیا گیا تو یہ سب فراہم کرنے والے کون سے عناصر ہیں؟؟۔اسی طرح اس پروگرام کی اجازت دینے والوں اور نگرانی کرنے والوں کی نشاندہی بھی کی جائے !!!اور اس کے ساتھ ہی یہ سب تحقیقات دفتری کارروائی کی نظر کرنے کی بجائے ان کو یونیورسٹی کے طلبہ اور عوام کے سامنے پیش لائی جائے !!!بصورت دیگر اس امر میں کسی بھی قسم کی غیر ذمہ داری کا ثبوت یونیورسٹی کو دائمی نقصان سے دوچارکرسکتاہے۔اور بعض نادان دوست جو کہ اس مسئلہ کو بڑھاچڑھاکر پیش کرکے اسلامی یونیورسٹی کے اسلامی تشخص کو مجروح کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان سب احباب کے تمام ناجائز مطالبات کو ہم ناصرف مسترد کرتے ہیں بلکہ ان کی مذمت بھی کرتے ہیں کہ وہ انجانے میں سیکولر طبقوں کو کی مددکرنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے اس یونیورسٹی کے اسلامی تشخص کو سخت خطرات لاحق ہیں۔اسی طرح ہم اسلامی یونیورسٹی کولادینی و سیکولر طبقوں کے ہاتھوں میں ہر گز نہیں جانے دیں گے۔ اسلامی یونیورسٹی کے صدر کے استعفیٰ کا مطالبہ بالکل بے جا ہے اور اس کے ذریعے سے دشمنان اسلام اس یونیورسٹی کو لادین طبقے کے ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں اس لیے ہم اس امر کی مذمت میں اپنی آوازکو بلند کرنادینی فریضہ جانتے ہیں ۔البتہ کھلی بات ہے کہ اسلامی یونیورسٹی کے صدر گذشتہ دوسالوں سے بہت سی صریح اور ناقابل بیان غلطیاں کی ہیں، جن پر کان نہ دہرنے کے سبب گاہے بگاہے اس یونیورسٹی میں جانے یا انجانے میں مسائل پیدا کیے جارہے ہیں، جس سے اس یونیورسٹی کے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچنا ایک فطرتی امر ہے۔ان امور میں سے چند اہم غلطیوں کی ہم یہاں نشاندہی کیے دیتے ہیں۔

اسلامی یونیورسٹی جو کہ11 /9 کے بعد سے عالمی سازش کے کا شکار ہے ۔اس کو صف ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جاتی رہی بس یہ اللہ رب العزت کا احسان ہے کہ یہ یونیورسٹی اب تک تمام سازشوں کے باوجود قائم و دائم ہے اور قائم رہے گی۔اس یونیورسٹی کو سیکولر تعلیمی ادارہ میں بدلنے کی کوشش ماضی میں بھی کی جاتی رہی ہے، یونیورسٹی کو مسلکی و سیاسی عصبیتوں کا مرکز بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ، یونیورسٹی کو ایران نواز بنانے کی کوشش بھی کی گئی اور پھر اب اس یونیورسٹی کوسعودی اور متشددسلفی(غیر مقلدین) یونیورسٹی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اوریہ امر کسی طرح نا تو پاکستان کی فضا میں درست ہے اور نہ ہی یہ یونیورسٹی اس بوجھ کو اٹھانے کی متحمل ہے۔جبکہ یہ مسلمّہ بات ہے کہ ہم اس تعلیمی ادارے کو ہر قسم کی سیاسی و مذہبی ،قومی و لسانی عصبیتوں سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں مگر افسوس کہ اب اس کو ایک خاص فکر کی نشونما کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اسلامی یونیورسٹی کے سعودی صدر نے اپنے آپ کو آمر وقت اور بادشاہ بنا لیا ہے اپنے اور طلبہ کے مابین اس قدر دوریاں پیدا کرلیں ہیں کہ کوئی طالب علم اس تک بآسانی رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔اپنے دائیں بائیں ایسے افراد کو معمورکرلیا ہے جو ایک خاص مسلک سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر اس کی ترجیح یہ ہے کہ کاسہ لیس ،بھکاری و جی حضوری کرنے والے اللے تللے افراد کو نوازا جائے ۔اسی طرح طلبہ و ملازمین کی زبانیں گنگ کرنے کی خاطر عمرہ و حج جیسے مقدس عبادتوں کو بطور ہتھیا راستعمال کیا ہے ۔اسی طرح طلبہ کو سکالرشپس دیکر ان کو کلمہ حق کہنے سے روک لیا ہے۔اپنی آمد و رفت پر درجن بھر سیکیورٹی عملہ کو مامور کر لیا ہے ۔اردو و انگریزی سے عدم واقفیت کے باعث درجن بھر مترجمین کو اپنے آفس میں لگالیا ہے۔یونیورسٹی کو دینی طور پر بہتر و ممتاز مقام دلوانے کے لیے اب تک کوئی بہتر و نیک کام نہیں کیا ہے۔ان دوسالوں میں متعدد کانفرنسیں ہوئی ہیں جن کا عملی نتیجہ تاحال سامنے نہ آسکا اور ان کانفرنسوں پر خرچ ہونے والی رقم کو پانی کی طرح بہایا گیا جو کہ باعث تشویش ہے۔

صدر جامعہ نے یونیورسٹی کے اہم عہدوں پر قبضہ جما رکھاہے جن میں اصول الدین فیکلٹی کی ڈین شپ،دعوة اکیڈمی کی ڈائریکٹر کی شپ قابل ذکر ہیں۔اصول الدین فیکلٹی کو ناکارہ کرنے کی مکمل کو شش کی جارہی ہے ۔شعبہ حدیث میں خالص فکر کے حامل پاکستانی اساتذہ کو لایا گیا ہے جو کہ صدر جامعہ کی جائز و ناجائز امورمدد کرسکیں۔اصول الدین فیکلٹی ان اساسی فیکلٹیوں میں سے ایک ہے جویونیورسٹی کی تاسیس کے ساتھ قائم کی گئی۔ مگر افسوس آج اس فیکلٹی اہل علم و دانشور وں کی تیاری کا کام معدوم ہوچکا ہے ۔یہاں من پسند اور بھاری بھر اسناد کے حامل اساتذہ کو مقرر کیا جاتاہے اور ان کی ہر خواہش کو پوراکیا جاتا ہے بھلے وہ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ ہی کیوں نہ کھیل رہے ہوں بس چونکہ وہ استاذ مقرر ہوچکے ہیں اس لیے وہ نئی نسل کو تختہ مشق بنائیں گے ۔اس امر سے واضح یہ سبق لیا جاسکتاہے کہ صدر جامعہ اور ان کے مخصوص فکرر کے حامل پیروکار اصول الدین فیکلٹی کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے انتہائی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔عرب اساتذہ کے ساتھ ظالمانہ و آمرانہ و دشمنانہ سلوک روارکھا جارہاہے ۔جب کہ ان حضرات کو یونیورسٹی کے تمام طلبہ عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں شائد اسی وجہ سے یونیورسٹی کے اہم معاملات سے ان کو دور کردیاگیا ہے،جن میں دعوتی و فکری نشستیں جو طلبہ کی دینی رہنمائی کے لیے سارے ہفتہ یونیورسٹی کے ہاسٹلز کی مسجدوں میں لیکچر دینے کے لیے اپنے خرچوں پرعرب اساتذہ آتے تھے ان حضرات سے دعوتی شعبہ ہی چھین لیا گیا جس کے باعث اب طلبہ دین کے اہم و ضروری مسائل سے واقفیت حاصل کرنے میں پریشانی محسوس کررہے ہیں ۔لیکن یہ پاکستانی اساتذہ اور سعودی صدر اور اس کی ہاں میں ہا ں ملانے والی انتظامیہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ پاکستان ہے اور اس پاکستان میں کوئی بھی ظالم و جابر زیادہ عرصہ اپنی مرضی جبراًمسلط نہیں کرواسکتا۔یہ ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں طلبہ اپنا حق لینا اچھی طرح جانتے ہیں بس ان کے جائز حقوق کی فراہمی میں لیت و لعل کے ذریعہ نظر انداز نہ کیا جائے۔ اسلامی یونیورسٹی میں بہت سے ایسے افراد برسر اقتدار اہم عہدوں پر موجود ہیں جو صرف نفرتیں بانٹیں کا کام سرانجام دیتے ہیں یونیورسٹی کی تعمیر کی بجائے تخریب کی فضا بنانے میں اپنا کردار ڈالتے ہیں ۔ان میں مسلک پرست،سیاست زدہ،اور قوم پرست لوگ اہم کردار اداکررہے ہیں۔اسی طرح یونیورسٹی کے ہوسٹلوں میں چرس نوشی اور اس کی خریدوفروخت کا بازار سجا نظر آتا ہے اور خبر یہ بھی ہے کہ یہاں شراب بھی بیجی و استعمال کی جاتی ہے جس کی گواہی یونیورسٹی کے اہم ذمہ دار خود دے سکتے ہیں مگر یہ الگ بات ہے کہ وہ اس امر پر نوٹس لینے میں متردد نظر آتے ہیں۔

Students
Students

اسلامی یونیورسٹی میں طلبہ کو داخلے میرٹ کی بجائے پیسہ بٹورنے کے لیے بنا کسی نظم وترتیب کے دیے جاتے ہیں مگر ان طلبہ کو سنبھالنے کے لیے ان کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں ۔اس یونیورسٹی میں تعلیمی بلاک کی تعداد ناکافی ہے کہ جہاں طلبہ بآسانی اپنی کلاسز لے سکیں اور اسی سبب بہت سے اساتذہ چھوٹی کلاسوں کو اپنے دفتروں میں پڑھالیتے ہیں مگر بڑی کلاسوں کے لیے اپنے سارے دن کو ضائع کرنا پڑتاہے اس صورت میں استاذ و طلبہ سبھی کا قیمتی وقت ضائع ہوجاتاہے۔اسی طرح نئے آنے والے طلبہ کے لیے ہاسٹل کا کوئی نظام موجود نہیں تین تین سمسٹر تک طلبہ ہاسٹل کے حصول میں ذلیل و خوار اور دربدر کی ٹھوکر کھانے پر مجبور ہوتے ہیں ۔البتہ سیاسی و مذہبی،قومی و لسانی گروپ سے تعلق کی صورت میںہاسٹل کی فراہمی کے لیے یونیورسٹی کے تمام قوانین تبدیل کیے جاسکتے ہیں۔ یونیورسٹی میں طلبہ کو سکالرشپس کا اجراء صرف اس صورت میں کیا جاتاہے جب وہ کاسہ گدائی لے کر صدر جامعہ کے دربار پر مہینوں طواف کرے،لازم بات ہے غریب و مجبور طالب علم اس قدر اپنا وقت ضائع نہیں کرسکتا اس سبب سے یہ سکالر شپس مالدار طلبہ کا مقدر ٹھہرتی ہے۔جب کہ ہونایہ چاہیے کہ اس یونیورسٹی کے اساسی شعبوں اصول الدن،شریعہ اینڈ لاء اور عربی میں داخل ہونے والے تمام طلبہ کو مفت تعلیم دی جائے چونکہ دین سے محبت کرنے اور اس کو پڑھنے والے افراد اکثر و بیشتر متوسط و کمزور گھرانوں سے ہوتے ہیں ۔مگر یہاں نیکی و بھلائی کا کام تو کوئی نظر نہیں آتا بلکہ بھکاری گداگری کے ہنر سے متصف ہونے والے کو مستحق مدد سمجھا جاتاہے۔اسی طرح حال ہی میں بعض اساتذہ کو یونیورسٹی سے صرف اس بنیاد پر نکالا گیا کہ یونیورسٹی ان کو تنخواہیں نہیں دے سکتی افسوس ہے اس بات پر کہ صدر جامعہ اپنے پروٹوکول اور آمد و رفت اور اپنی بادشاہت و آمریت کو باور کروانے کے لیے لاکھوں روپے صرف کریں تو کوئی بات نہیں جب اساتذہ کی بات آئے جو سالہاسالوں سے یونیورسٹی کی جان و دل اور خون و پسینہ بہاکر طلبہ کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کررہے ہیں ان کو یونیورسٹی سے نکال دیا جائے۔جب کہ یہ کھلی بات ہے کہ یونیورسٹی کے پاس پیسہ وافر مقدار میں موجود ہے تبھی تو لغو و عبث کانفرنسوں کا انعقاد بار بار مختلف عنوانات سے کیا جاتاہے اور ان میں شرکت کرنے والے مقالہ نگار سوائے چند کے سبھی بار بار ہر کانفرنس میں نئے میک اپ کے ساتھ نظر آتے ہیں اور ان میں سے اکثر نااہل و وقت برباد کرنے والے اور پیسہ پرست ہوتے ہیں ۔جس سے اسلام و مسلمانوں کو ایک ذرہ بھر کا بھی فائدہ نہیں ہوا اور نہ ہی ایسی کانفرنسوں سے کچھ فائدہ ہوگا کیوں کہ یہ تعمیری تو ہوتی نہیں ہیں بس صرف فوٹو سیشن و کاغذی کارروائی کو مکمل کرنے کے لیے کھیل کھیلا جاتاہے۔صرف یہی نہیں خود صدر جامعہ ادارہ تحقیقات اسلامی پر قبضہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنی کتابوں کو اردو میں ترجمہ کروارہے ہیں جب کہ تسلیم شدہ بات ہے کہ پاکستان ایک ممتاز اسلامی ریاست ہے اور اس میں فقہی و معاملاتی ومعاشرتی موضوعات پر بڑے بڑے اہل قلم طبع آزمائی کرچکے ہیں ایسے میں صدر جامعہ کی کتب کو ترجمہ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔

ان تمام بکھری میٹھی و کڑوی باتوں کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ صدر جامعہ پر یہ امر واضح کیا جائے کہ ہم آپ کا استعفیٰ تو نہیں مانگتے مگر آپ سیچند اہم امور پر غور وفکر کی دعوت ضرور دیتے ہیں ۔جن سے آپ گذشتہ دوسالوں سے مسلسل آنکھیں چرارہے ہیں ان پر سنجیدگی سے غور کریں اور اپنی ان غلطیوں اور کمزوریوں کا ازالہ کریں تاکہ آپ اپنا مقررہ وقت عزت و عظمت کے ساتھ بسر کرسکیں آخر میں جن امور کو انجام دینا صدر جامعہ پر لازم ہے وہ درج کیے دیتاہوں۔اولاً:صدر جامعہ اپنے اور طلبہ کے مابین قائم کردہ آمرانہ و جابرانہ دیوراکو ختم کریں ۔اگر انہوں نے طلبہ کے ساتھ نیک و اچھا سلک رکھا تو ان کو طلبہ اپنے حقیقی والدین سے زیادہ عزت و احترام دیں گے اور رہی بات سیکیورٹی تھرڈ کی تو ان کو یہ جان لینا چاہیے جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں آسکتی پھر بھی اگر کوئی مسئلہ ہے تویونیورسٹی سے باہرسیکیورٹی کا استعمال کریںمگر یونیورسٹی کے اندر طلبہ کو ذلیل و خوراکرنے کے لیے راستے جدا کرنا اور ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک روا رکھنا درست امر نہیں ۔ثانیاً:اسلامی یونیورسٹی میں کسی بھی قسم کی سیاسی و مذہبی یا قومی و لسانی عصبیتوں کو پنپنے یا فروغ دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے چہ جائے کہ خود صدر جامعہ ایک خاص فکرجو عالمی و داخلی سیاست سے مرکب ہو کو فروغ دینے میں کردار اداکررہے ہوں۔کیوں کہ پاکستان کی فضا کسی طور پر بھی فرقہ ورانہ خیالات کو ہوادینے والے عناصر کو قبول نہیں کرتی کیوں کہ ہم پہلے ہی اس ایندھن میں جل کر اپنے ستاسٹھ سال ضائع کرچکے ہیں ۔خدارا!اب یہاں بریلوی ،دیوبندی اور اہل حدیث سمیت دیگر عصبیتوں کو پھلنے و پھولنے نہ دیں۔ اصول الدین فیکلٹی کو بالخصوص فرقہ ورانہ عصبیت سے پاک کیا جائے ،ہم اس یونیورسٹی میں علم و عمل اور اخلاق و تربیت کے اسلحہ سے مسلح ہونے کے لیے آئے ہیں ورنہ پاکستان میں مسالک و گروہی تعلیم دینے والے تو ادارے بہت ہیں۔ثالثاً:عرب اساتذہ جن کو یونیورسٹی سے ذاتی بغض و عناد کے سبب نکالنے کا فیصلہ کیا گیا تھا صرف تنخواہ نہ دے سکنے کا بہانہ استعمال کیا گیا اور پھر طلبہ کے شدید احتجاج و اصرار پر ان کو جنوری تک کے لیے دوبارہ بحال کیاگیا ہے ۔ہم مطالبہ کرتے ہیںکہ ان محترم و مکرم اساتذہ کو طلبہ و یونیورسٹی کے علمی وعملی مفاد میں مستقل طورپر بحال کیاجائے اور ان حضرات کے ساتھ کسی بھی قسم کی سازش رچانے کی کوشش نہ کی جائے چونکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ اساتذہ علم دوست و محبت و مودت کو بانٹنے والے ہیں اور ان کا وجود پاکستان کے مسلم عوام کو علم و عمل کے شعبہ سے وابستہ رکھنے کے لیے ازحد ضروری ہے۔رابعاً:ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ یونیورسٹی میں فی الفور طور پر تعلیمی بلاک تعمیر کیے جائیں تاکہ طلبہ بروقت استفادہ کرسکیںاور ان کا وقت لہولعب میں ضائع نہ ہو۔اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ اصول الدین فیکلٹی جس کے چھ شعبے ہیں ان شعبوں کو مستقل کمرے دیے جائیں تاکہ حصول علم میں کسی طرح کا حرج واقع نہ ہو۔خامساً:ہمیں معلوم ہے کہ یونیورسٹی کے پاس مال کثیر صدقات و زکوٰة اور عطیات کی مدمیں موجود ہے جس سے اصول الدین ،شریعہ اور عربی فیکلٹی کے طلبہ کی فیسیں اداکی جائیںاور طلبہ کو ذاتی جیب خرچ میں سے اپنی کتب خریدنے کی ترغیب دی جائے۔

سادساً:یونیورسٹی میں فی الفور ترجیحی بنیادوں پر سٹوڈنٹس ہاسٹل تعمیر کرائے جائیں تا کہ طلبہ دربدر کی ٹھکریں کھانے میں وقت برباد کرنے کی بجائے اپنے ہاسٹلوں میں رہ کر علم کی پیاس بجھاسکیں ۔سابعاً:یونیورسٹی میں تمام اساتذہ کو اخلاقی و معاملاتی تربیت اور حس سلوک و حسن معاملہ کی تربیت دی جائے اور اسی طرح اساتذہ کے ذریعہ سے یہ طلبہ تک یہ دعوت منتقل ہونی چاہیے۔ثامناً:اصول الدین فیکلٹی کو اسلام کی ترجمان فیکلٹی کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے نہ کہ یہاں پر صرف سعودیہ سے تعلیم یافتہ سعودی افکار کو فروغ دینے والوں کا تقرر کیا جائے بلکہ ہم پوری شدت کے ساتھ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یونیورسٹی میں تمام مقامات پر ہم آہنگی و اتحاد کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے مسالک کی تفریقات سے بالاتر ہوکر تقرریاں کی جائیں اور اسی طرح نااہل و کٹھ پتلی افراد کو نوازنے سے اجتناب کیا جائے بالخصوص صدرجامعہ اصول الدین فیکلٹی کی ڈین شپ ترک کر کے جلد از جلد نیک و باصلاحیت اور علم دوست خودمختار ڈین کا تقرر کریں کیوں کہ ان کا اس عہدے پر براجمان رہنا نہ تو قانوناً درست ہے اور نہ ہی اخلاقی طور پر کیوں کہ یہ فیکلٹی اب ایک خاص مسلک کی ترجمان بن چکی ہے اگر یہ ظلم در ظلم جاری رہا تو عالم اسلام میں یونیورسٹی کا منفرد علمی مقام تھا وہ ہمیشہ کے لیے خاک میں مل جائے گا۔تاسعاً:اسلامی یونیورسٹی میں ہر قسم کی تنظیموں کو ایک دائرہ کار کا پابند بنایا جائے جس میں نہ تو دین اسلام کے دائرے سے نکلنے کی اجازت ہو اور نہ ہی امربالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ بازور بازو اور طاقت کے ساتھ مسلط کرنے کی اجازت دی جائی۔عاشراً:صدر جامعہ پر لازم ہے کہ وہ اپنے گرد نواح میں متعین ایک خاص مسلک کے چنگل سے نجات حاصل کریں کیوں کہ ان کی موجودگی میں وہ اسلام اور یونیورسٹی کو فائدہ دینے کا کوئی بھی قابل ذکر کام سرانجام نہیں دے سکتے۔یہ سب ایک خاص قسم کی سوچ و فکر کے حامل ہیں ان کا وجود یونیورسٹی کو تباہی و بربادی کی کہائیوں میں لے جانے کا باعث ہوگا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اگر صدر جامعہ اور ان کے متعلقین اگر ان مندرجہ بالاگذارشات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرلیں تو چنداں ان سے استعفیٰ مانگنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور اگر خداناخواستہ وہ اپنی موجودہ ضدو عناد اور منفی ذہنیت پر کاربند رہے تو بعید نہیں کہ یونیورسٹی کے اسلامی تشخص کو اہمیت دینے والے ان سے اپنے ملک لوٹ جانے کا مطالبہ کریں اور اس لیے صدر جامعہ کو معلوم ہونا چاہیے پاکستانی قوم کسی بھی بیرون ملک کے آلہ کا رنہیں بن سکتی اور ان کو اپنے ملک سے بے دخل کرنا اچھی طرح جانتی ہے۔چونکہ ہم نے پاکستان صرف اسلئے حاصل کیا ہے کہ یہ ایک اسلامی فلاحی مملکت ہوگی اس میں کسی کی بادشاہت و جبروتیت کو نہیں پنپنے دیا جائے گااور ہمیں اسلام ہر قیمت پر عزیز ہے شخصیات و ممالک کے مفادات کو تحفظ دینا یہ ہماراکام نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس کو انجام دیں گے ۔بس اس پہ بات ختم کرتاہوں۔
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے۔

Atiq ur Rehman
Atiq ur Rehman

تحریر : عتیق الرحمان
03135265617

Share this:
Tags:
international islamabad Islamic University knowledge needs optimization positions practical اسلام آباد اسلامی یونیورسٹی اصلاح بین الاقوامی ضرورت علمی عملی عہدوں واقعہ
Previous Post شاہ فیصل زون کے تحت جشن عید میلاد النبی کے انتظامات کے حوالے سے اجلاس آج منعقد ہو گا
Next Post بھمبر کی خبریں 19/12/2014

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close