Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اسرائیل امریکا دجالی گٹھ جوڑ

June 24, 2018June 24, 2018 0 1 min read
Israel - America
Israel - America
Israel – America

تحریر: قادر خان یوسف زئی

اقوام متحدہ کا ادارہ رکن ممالک کے درمیان تنازعات کے حل سمیت کئی تصفیہ طلب امور کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ تاہم امریکا کے اثر و نفوذ کے باعث اقوام متحدہ کردار متنازع رہا ہے اور خاص کر مسلم امہ کے خلاف اقوام متحدہ کی حیثیت عضو معطل سے زیادہ نہیں رہی ہے ۔ تاہم رسمی طور پر سہی دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اقوام متحدہ کے ادارے خواب غفلت سے بیدار ہوبھی جاتے ہیں تو ویٹو پاور رکھنے والے ممالک اپنے مفادات کے تحت قرارداوں کو ویٹو کردیا کرتے ہیں۔ امریکا اسرائیل کا سب سے بڑا حلیف و اتحادی ملک ہے۔ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف ساری دنیا ایک طرف اور امریکا ایک جانب نظر آتا ہے۔امریکا نے یاسر عرفات کو غزہ، خان یوسف، جبالیا، الخلیل، نابلس، رفح ورام اللہ دیئے تھے۔ فلسطین میں موجزن دریا.طبریہ اوربحر المیت(نمک کا دریا ہے) کے علاوہ بقیہ اراضی یعنی26320کلومیٹر مربع خشکی پر مشتمل کل رقبہ کا 22فیصد یاسر عرفات کو دیا گیا تھا۔ جبکہ غاصب اسرائیل کو 78فیصد حوالہ کیا گیا۔ جانب دارانہ تقسیم کے باوجود اسرائیل کی جانب سے فلسطینی مسلمانوں کے خلاف سفاکانہ رویہ اختیار کیا گیا اور مسلسل مسلم نسل کشی کی جا رہی ہے ۔ اب امریکا نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا۔

امریکا نے انسانی حقوق کونسل کو معتصب قرار دیا ۔یہ اعلان واشنگٹن میں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اور اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا ۔ امریکا نے یہ اقدام اسرائیلی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام کی تحقیقات کے لئے سلامتی کونسل میں کویت کی جانب سے پیش کی جانے والی قرار داد کے ردعمل میں کیا ۔گو کہ امریکا نے ایک مرتبہ پھر یہ قرارداد کو ویٹو کردی لیکن اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل انسانی حقوق سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے امریکا پر عالمی برادری کا دبائو بڑھتا جارہا تھا ۔مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق نکی ہیلی نے الزام عائد کیا کہ کونسل کے ارکان اسرائیل کے خلاف ایک عرصے سے ”تعصب” برتتے آرہے ہیں اور انسانی حقوق غصب کرنے والوں کے محافظ بنے ہوئے ہیںاور بین الاقوامی کونسل ”سیاسی تعصب کا گٹر” بن چکی ہے۔ حالاں کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹو نیو گو ٹیرس نے فلسطین میں جارحیت کے خاتمے ، مذاکرات اور بنیادی حقوق کو یقینی بنانے پر زور دیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اسرائیلی مظالم کو بین الاقوامی امن کے خلاف خطرناک سازش قرار دیا ہے۔ جس پر امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے انسانی حقوق کونسل کو ”منافقت کے بے شرم مشق” قرار دے دیا۔ اسرائیل نے امریکی اقدام کا بے شرمی سے خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے لیے سرگرم بین الاقوامی تنظیم ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل’ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ” ایک بار پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ظاہر کردیا ہے کہ وہ ان تمام بنیادی حقوق اور آزادیوں پر یقین نہیں رکھتے جن کا امریکہ بزعمِ خود پرچم بردار ہے”۔امریکہ میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم 12 نمایاں غیر سرکاری تنظیم نے بھی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کے نام ایک خط میں امریکی فیصلے پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔ واضح رہے کہ2006میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام انسانی حقوق کونسل کا قیا م عمل میں لایا گیا تھا ۔اس کونسل کا صدر دفتر جنیوا میں ہے اور اس کے 47 ارکان کا انتخاب تین سال کی مدت کے لیے کیا جاتا ہے۔امریکہ ڈیڑھ سال قبل کونسل کا رکن منتخب ہوا تھا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ انسانی حقوق کونسل اپنے ایجنڈے کا ساتواں نکتہ ختم کردے جس میں فلسطین اور دیگر مقبوضہ عرب علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر نظر رکھنے کو کونسل کے اہداف میں شامل قرار دیا گیا ہے۔

یہ ٹرمپ پالیسی کا دوہرا معیار ہے جو کھل کر سامنے آیا ہے۔امریکا کی جانب سے اسرائیل کی حمایت میں انسانی حقوق کونسل کی رکنیت چھوڑنے کا فیصلہ خالصتاََ فلسطین کی مخالفت میں کیا گیا۔امریکا ، اسرائیل کا سب سے بڑا حمایتی ہے اور اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف مظالم کا سب سے بڑا اتحادی ہونے کے ناطے امریکا نے فلسطین میں اسرائیلی مظالم پر سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی ہر قرار داد کو ویٹو کیا۔انسانی حقوق کیا ہوتے ہیں اور ان کی اساس کیا ہوتی ہے ،غالباََ امریکی صدر ٹرمپ کو اس کا ذرا بھی ادارک نہیں ہے۔ ٹرمپ پالیسی کے تحت جہاں قابض اسرائیلی افواج کی مدد کی جاتی ہے تو دوسری جانب فلسطینی مسلمانوں کو ان کے مذہبی اور انسانی بنیادی حقوق سے محروم کرکے ہزاروں کی تعداد میں نہتے فلسطینیوں کو شہید کیا جاتا ہے۔ امریکا اپنے مالی مفادات کے خاطر کسی بھی ملک میں جارحیت کرکے ہزاروں لاکھوں انسانوں کو ہلاک کردیتا ہے ۔ اس کے نزدیک یہ عمل انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ امریکا عراق میں جھوٹے پروپیگنڈے کی آڑ لیکر عراق کی سرزمین کو تہس نہس اور لاکھوں عراقیوں کی نسل کشی کر تا ہے تو اس کے نزدیک یہ بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ شام میں نہتے عوام پر بمباریاں کرنا بھی امریکا کے نزدیک انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کہلاتی۔ افغانستان میں گزشتہ17برسوں سے نہتے اور بے قصور افغان عوام کو نیزے کی نوک پر رکھا ہوا ہے ۔ مساجد مدارس ، گھروں، بازاروں، اسکولوں،عام شہریوں ، نہتے معصوم بچوں، بزرگ ، مرد اورخواتین کو بمباریوں کا نشانہ بناتا ہے یہ بھی امریکا کے نزدیک انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے، کشمیر میں بھارت کی شدت پسند اور عالمی دہشت گرد قرار پانے والی ہندو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے نہتے مسلمانوں پر سفاکیت امریکا کے نزدیک انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی نہیں ہے۔

حیران کن طور پر امریکا ایران، عراق ، افغانستان ، پاکستان ،چین، شام، وینزویلا اور شمالی کوریامیں امریکی مداخلت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر نہیں کرتا ۔ بلکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے منافقت بھرا اعلامیہ بھی جاری کرتا رہا ہے ۔ امریکی مشن برائے اقوام متحدہ کے دفتر اطلاعات و عوامی سفارتکاری نے 20 اپریل 2018 کو ایک بیان جاری کیا تھاکہ ”آج دفتر خارجہ نے 2017 میں انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی رپورٹس جاری کی ہیں۔ یہ سالانہ رپورٹ 199 ممالک اور خطوں میں انسانی حقوق کا ریکارڈ جانچتی ہے۔ اس سے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پامالیوں کی نوعیت، وسعت اور شدت سامنے لانے کا موقع ملتا ہے اور یہ تجزیہ ممکن ہوتا ہے کہ آیا حکومتیں انسانی حقوق کے تحفظ کی کوششیں کر رہی ہیں یا اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں ناکام ہیں۔نکی ہیلی نے کہا ہے کہ’انسانی حقوق کا تحفظ اور فروغ امریکی اقدار میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے مرتکب ایران، چین، شام، وینزویلا اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو اس میدان میں چیلنج کرتے رہیں گے۔ اس رپورٹ کا اجرا انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث ممالک کو خبردار کرتا ہے کہ امریکہ ان پر نظر رکھے ہوئے ہے اور یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کے لیے یاددہانی ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے”۔

امریکا انسانی حقوق کو بس اسرائیل کے لئے ہی مختص کرتا ہے ، مسلم کشی کے واقعات پر امریکا کا آنکھیں بند کرلینا عیارانہ فطرت کی عکاسی ہے۔ امریکا قوام متحدہ اور سلامتی کونسل سمیت تمام اداروں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کا خواہاں ہے اور اس کو خبط ہے کہ وہ واحد سپر پاور ہونے کی وجہ سے ہر ناجائز فائدہ اٹھا کر کسی کو بھی کسی قسم کا نقصان دینے کا حق رکھتاہے۔ دنیا بھر میں مسلم ممالک میں خانہ جنگیاں کرانے والا انسانی حقوق کی پامالی کی بات کرتا ہے تو حیرانی ہوتی ہے کہ امریکا کس منہ سے ” بین الاقوامی کونسل کو’سیاسی تعصب کا گٹرقرار دے رہا ہے” ۔ کیا امریکا کبھی یہ ثابت کرسکتا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ و سلامتی کونسل کا استعمال کسی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے لئے بھی کیا ہو۔ امریکا کے نزدیک اس دنیا میں جینے کا حق صرف یہودیوں کو ہے ۔ اسرائیل امریکا کے نزدیک سیاسی تعصب سے مبرا ہے۔ نکی ہیلی نے شرم و حیا کئے بغیر اسرائیل کو معصوم قرار دیتے ہوئے کہہ دیاکہ کونسل کے ارکان اسرائیل کے خلاف ایک عرصے سے ”تعصب” برتتے آرہے ہیں اور انسانی حقوق غصب کرنے والوں کے محافظ بنے ہوئے ہیں”۔ نکی ہیلی کو فلسطینی بچوں کو گلے دباتے فاشٹ اسرائیلی فوجی نظر نہیں آتے ۔ جو معصوم بچے کے سینے پر بیٹھ کر اس کا گلہ گھونٹ رہا تھا ۔ نکی ہیلی کو یہ بھی نظر نہیں آتا کہ طالب علموں کو سربازار گولی مار جاتی ہے ۔ نکی ہیلی کو صرف اسرائیل سے محبت نظر آتی ہے۔ باقی اس کے نزدیک دنیا کے تمام ممالک اسرائیل سے اس لئے ” تعصب ” برت رہے ہیں کیونکہ امریکا کے سفارت خانے کو یروشلم کی منتقلی کی حمایت نہیں کی گئی تھی ، سلامتی کونسل میں جہاں امریکا کو سبکی کا سامنا ہوا تو اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس میں بھی رکن ممالک نے امریکی اقدام کی شدید مخالفت کی۔ حیرت ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے انسانی حقوق کونسل کو ”منافقت کے بے شرم مشق” قرار دیا ہے۔

امریکا کے نزدیک منافقت کی بے شرم مشق قرار دینا خودمنافقت کی انتہا ہے ۔ عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی جھوٹی رپورٹ بنا کر منافقت کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے عراق کو تاراج کر دیا ۔ نہ جانے کیوں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو عراق پر امریکا کی بے بنیاد چڑھائی کو ” منافقت کی بے شرم مشق ” قرار نہیں دیتے۔ افغانستان میں سویت یونین کے خلاف منافقانہ رویہ اور پھر نائن الیون کے بعد خطے میں ایران ، چین اور روس پرنگرانی کے لئے طویل المدتی مذموم منصوبہ بندی بھی امریکا کے نزدیک منافقت نہیں ہے۔ کشمیر کی تحریک آزادی و مقبوضہ کشمیر میں حریت کی تحریک کو دہشت گردی قرار دینا بھی امریکا کو منافقت نہیں لگتی ۔ پاکستان کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرکے ٹشو پیپر کی طرح پھینکنے والے خود کو منافق نہیں قرار دیتے ۔ اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا امریکا کے نزدیک ” منافقت کی بے شرم مشق” نہیں ہے۔ مسلم ممالک میں مالی فوائد کے لئے خانہ جنگیاں کراکر عرب ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنا بھی امریکا کے لئے منافقت نہیں ہے۔داعش کی پرورش کرکے عراق ، شام اور افغانستان میں تباہی پھیلانا بھی امریکا کو ” منافقت کی بے شرم مشق” نہیں لگتی۔ دراصل یہی امریکا کا بدترین منافقت بھرا کراہت زدہ چہرہ ہے۔امریکا دراصل خود منافقت کی بے شرم مشق اور تعصب کا استعارہ ہے۔

امریکا انسانی حقوق کی بات کرتے ہوئے خود کو انسانی حقوق کا چیمپئن سمجھنے کے خبط میں مبتلا ہے۔ گزشتہ دنوںٹرمپ انتظامیہ و پالیسی کی بدترین اقدامات میں پناہ گزینوں سے اُن کے معصوم بچوں کو الگ کرکے حراستی مراکز میں رکھنا شاید امریکا کے نزدیک انسانی حقوق کی” عظیم مثال” ہے۔ امریکا نے نئے قانون کے تحت پناہ گزینوں کے بچوں کو والدین سے الگ کرکے حراستی مراکز میں جانوروں کی طرح لوہے کے پنجروں میں قید کردیا ہے۔معصوم بچوں کی بلکتی اور انسانیت سوز تصاویر آنے اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے زبردست احتجاج کے باوجود صدر ٹرمپ نے میکسکو کے راستے آنے والے پناہ گزین تارکین وطن کو گرفتار کرنا شروع کردیا اور بچوں کو والدین سے الگ کرنے کی بدترین مثال قائم کی۔امریکا حکام نے صرف چند ہفتوں میں ہزاروں بچوں کو اپنے والدین سے الگ کردیا۔

عالمی ابلاغ نے ٹرمپ پالیسی کے نتیجے میں والدین کو بچوں سے الگ کئے جانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ اس کا اندازہ عالمی ذرائع ابلاغ و سماجی رابطوں کی ویب سائٹس میں پوسٹ کئے جانے والی تنقید سے کیا جاسکتا ہے ۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے مطابق” ریچل میڈو نے ایم ایس این بی سی کے ایک اور رپورٹر جیکب سوبوروف کے چند گھنٹے پہلے کے ایک پیغام کو ری ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے امریکی محکمہ صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘چلڈرن ایلین پروگرام’ میں گیارہ ہزار سات سو چھیاسی بچے ہیں جن میں تین ہزار دو سو اسی لڑکیاں ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں ان بچیوں یا چھوٹے بچوں تک رسائی نہیں دی گئی”۔جیکب نے نشریاتی ادارے ‘دی ٹیکساس آبزرور’ کی ایک خبر بھی ری ٹویٹ کی جس میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ ‘ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم یہاں پہنچے کیسے؟ کیسے سنہ دو ہزار اٹھارہ میں امریکی قیادت اور امریکی شہریوں کی قابل ذکر تعداد کو یہ خیال ٹھیک لگا کہ پناہ گزینوں کو قید کر کے ان کے بچوں کو ان سے الگ کر کے فوجی اڈوں پر بنے مراکز میں بھیج دینا چاہیے’۔

ٹیکساس سے بیٹی او رورک نے بظاہر والدین سے الگ کیے گئے ایک ایسے ہی بچے کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ وہ اپنے سات سالہ بچے کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی عمر کے بچوں کو ‘حراستی مراکز’ میں کیوں رکھا جا رہا۔ ‘وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ ان کا کیا قصور ہے؟’انہی خبروں کے ساتھ ٹوئٹر پر سٹیو سمتھ کے نام سے ایک اور ٹرینڈ نمودار ہوا۔ سٹیو سمتھ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے تھے اور اب صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے انہوں نے اس پارٹی کو چھوڑ دیا ہے۔سٹیو سمتھ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ وہ ریپبلکن پارٹی سے اپنی 29 سالہ پرانی رفاقت ختم کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بچوں کو والدین سے الگ کرنے کی پالیسی کے خلاف 30 جون امریکہ بھر میں احتجاج کے پیغامات بھی بار بار ٹویٹ کیے جا رہے ہیں۔

کیا یہ امریکا کی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی نہیں ہے جو صدر ٹرمپ نے اپنی معتصب پالیسی کے تحت روا رکھی ہوئی ہے۔صدر ٹرمپ کے ڈیڑھ سالہ دورِ اقتدار کے دوران یہ تیسرا موقع ہے کہ امریکہ کسی عالمی ادارے یا معاہدے سے الگ ہوا ہے۔اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے طے پانے والے پیرس معاہدے اور ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں ہونے والے جوہری معاہدے سے الگ ہوچکی ہے۔ٹرمپ حکومت اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت (یونیسکو) کی جانب سے فلسطین کو رکنیت دینے پر اسے اسرائیل مخالف قرار دیتے ہوئے رواں سال کے اختتام تک یونیسکو سے بھی الگ ہونے کا ارادہ ظاہر کرچکی ہے۔ہیوسٹن (سنہوا) یونیورسٹی آف ہیوسٹن ڈاؤن ٹائون کے چینی ایسوسی ایٹ پروفیسر پیٹر جے لی نے کہا ہے کہ امریکہ کو اپنے انسانی حقوق کے ایشوز پر پردہ نہیں ڈالنا چاہئے۔ امریکہ کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا امریکہ میں مذہبی آزادی پر حملے ہوتے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بدترین ہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے بعض مسلمان ممالک پر سفری پابندیوں سے امریکی اقدار کا مذاق اڑایا گیا۔ امریکہ ”تقسیم ملک” ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹ جاری کی گئی ہے لیکن امریکہ میں ایسی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالا گیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ دوسرے ممالک کیلئے لالچ اور دھمکی نہیں ہو سکتی بلکہ یہ امریکہ کیلئے خود ایک وارننگ ہے۔

اسرائیل کو لگام دینے کی مسلم اکثریتی ممالک کی کوششیں مفادات کے ٹکرائو کی وجہ سے ہمیشہ ناکام ہوتی رہی ہیں۔ مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان عدم اتفاق کی وجہ سے اسرائیل کے مظالم بڑھتے جا رہے ہیں۔ اب امریکا نے اقوام متحدہ کو مکمل طور پر بلیک میل کرنے کے لئے انسانی حقوق کونسل سے نکلنے کا اعلان کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک بد مست ہاتھی بن کر دنیا کے امن کو تباہ کرنے میں تلا ہوا ہے اور امریکا کا دوہرا معیار اور ٹرمپ کی جارحانہ پالیسوں کی وجہ سے زمین ہی نہیں بلکہ خلا میں بھی ایک نئی جنگ کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ امریکی امداد کی وجہ سے امریکا و اسرائیل کے خلاف کوئی عملی کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر امریکا پر پابندیاں عائد کیں جاتی لیکن الٹا امریکا اقوام متحدہ کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھ رہا ہے۔یہ اقوام متحدہ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیا اقوام متحدہ ہمیشہ امریکی خواہشات پر چلتی رہے گی اور امریکاو اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر کوئی اقدام نہیں اٹھا سکے گی۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک ، بالخصوص مسلم ممالک کو سنجیدگی کے ساتھ امریکی غلامی سے باہر نکلنا ہوگا ۔ امریکااپنے ذاتی مفاد کے لئے مسلم امہ کو تقسیم در تقسیم کررہا ہے ۔ اقوام متحدہ روہنگیا، کشمیر، فلسطین، شام،عراق ، یمن،افغانستان اور بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر امریکا کے خلاف کسی قسم کا سخت قدم اٹھانے سے گریز کرتی ہے۔ امریکا اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کو بھاری فنڈ دے کر امریکی انتظامیہ کا من پسند ادارہ بنا چکا ہے۔ اقوام متحدہ کو امریکا سے ڈکٹیشن لینے کی عادت پر چکی ہے۔ اقوام متحدہ کا کوئی ادارہ بھی امریکی تسلط سے آزاد نہیں ہے۔ اب انسانی حقوق کونسل کو تعصب کا گٹر، منافقت کی شرمناک مشق جیسے القابات دے کر عالمی برادری کا مذاق اڑا رہا ہے۔

امریکا کی غلامی سے آزاد ہوئے بغیر اقوام متحدہ کے رکن ممالک آزادنہ فیصلے نہیں کرسکتے ، جب تک اقوام متحدہ امریکا کے آگے سرنگوں رہے گا اور امریکی ڈکٹیشن پر دہشت گردی کی لیبل اپنے مخالفین پر لگاتا اور اسرائیل کو مظلوم ثابت کرتا رہے گا ۔ دنیامیں پائدار امن کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔مسلم اکثریتی ممالک کو حتمی فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہیں مسلم امہ کی بقاعزیز ہے یا پھر فروعی اختلافات۔ ہنود ، یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں بن سکتے۔ آج فلسطین پر ڈھائی جانے والی قیامت اور ہزاروں شہیدوں اور لاکھوں زخمی مسلمانوں کے لئے مسلم ممالک یکجا نہ ہوئے تو قدرت کے قانون مکافات عمل سے کوئی بھی مسلم اکثریتی ملک شکار ہوسکتا ہے۔ امریکا کو فلسطین سے لیکر افغانستان تک انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر جواب دینا مسلم امہ کا فرض بنتا ہے ۔ سب کو اللہ کی مضبوط رسی کو تھام کر ایک ہوکر امریکا کو جرات مندانہ جواب دینا چاہیے۔

Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر: قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
america israel muslims palestine rights اسرائیل امریکا حقوق فلسطینی مسلمانوں
Gastro
Previous Post جنوبی پنجاب میں گیسٹرو بے قابو
Next Post سیاست نہیں انسانیت
Nawaz Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close