
مقبوضہ بیت القدس (جیوڈیسک) اسرائیل نے قبلہ اول مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگاتے ہوئے 1967 کے بعد پہلی مرتبہ قبلہ اول کو بند کر دیا ہے۔
اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر فلسطینیوں میں اشتعال پھیلانے کے لئے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی عائد کردی جبکہ فلسطین کے صدر محمود عباس نے صیہونی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگا کر اعلان جنگ کیا ہے جبکہ مقبوضہ بیت المقدس میں شرانگیزی کی ذمہ دار بھی صیہونی ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کے نتیجے میں ماحول میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے جبکہ فلسطینی حکومت اسرائیل کے اس اقدام کے خلاف تمام ترقانونی چارہ جوئی کرے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز مسجد اقصیٰ کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں ایک یہودی شہری ہلاک ہو گیا تھا جس کے بعد آج صیہونی پولیس نے فائرنگ کر کے ایک فلسطینی کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔
