
روم (جیوڈیسک) اٹلی میں چھ سائنسدانوں اور ایک سرکاری اہلکار کو اس کیس میں چھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور اس فیصلے کی دنیا بھر کے پانچ ہزار سے زیادہ سائنسدانوں نے ایک مشترکہ بیان میں مخالفت کی تھی۔
ایک اپیل کورٹ نے تقریباً ایک ماہ کی سماعت کے بعد چھ سائنسدانوں ایک سرکاری اہلکار کو قتلِ غیر ارادی کے الزامات سے بری کر دیا ہے۔
عدالت کے جج فبریزیا ایڈا فرینکابنڈارا نے فیصلے میں کہا کہ کوئی کیس تھا ہی نہیں جس کا جواب دیا جائے۔ استغاثہ اب بھی سزا کے فیصلے کو برقرار رکھنے کے لئے اعلیٰ عدلیہ میں اپیل کا حق رکھتے ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے پر مقامی افراد نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
اٹلی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے ارضی طبیعات اور آتش فشاں پہاڑوں کے سائنسی مطالعے کے اہلکار سٹیفانو گریسٹا نے سائنسدانوں کی سزا کو ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی کے سائنسدانوں کی تمام برادری کی ساکھ بحال ہو گئی ہے۔ اس مقدمے کے ساتوں ملزمان 2009 میں اٹلی میں قدرتی آفات کے خطرے پر نظر رکھنے والی کمیٹی کے ارکان تھے۔
ایک مقامی سائنسدان نے اس زلزلے سے ایک ہفتہ پہلے خبردار کیا تھا کہ علاقے میں گیس کی بڑھی ہوئی مقدار کی وجہ سے زلزلہ آنے کے امکانات ہیں۔ ان خدشات کی بناء پر آفات نگرانی کمیٹی کے ارکان کو لاقلا بھیجا گیا تھا۔
کمیٹی کے ارکان نے وہاں حکام کے ساتھ ایک مختصر ملاقات کے بعد لاقلا کے لوگوں سے کہا تھا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہے اور انھیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
تاہم اگلے ہی دن چھ اپریل 2009ء کو لاقلا میں چھ اعشاریہ تین شدت کا زلزلہ آیا جس سے تین سو نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ استغاثہ نے ان افراد پر غفلت برتنے، قتل غیر ارادی، زلزلے سے متعلق صحیح معلومات فراہم نہ کرنے اور نامکمل اور متضاد معلومات کی فراہمی کا الزام لگایا تھا۔
