لاہور: جماعت اسلامی کی صوبائی مجلس شوریٰ کا اجلاس امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر کی زیر صدارت منصورہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں زراعت کی صورتحال کے حوالے سے قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ یہ روایتی جملہ جو ہم گزشتہ 65سالوں سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ زراعت ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔
جب وطن عزیز کا قیام عمل میں آیا تو ہماری مجموعی ملکی پیداوار میں زراعت کا حصہ تقریباً 68فیصد کے قریب تھا جو کہ آج کم ہو کر بھی 24.1 فیصد ہے، روزگار کی فراہمی میں 45فیصد کردار زراعت کا ہے۔ برآمدات کا 60فیصد حصہ زراعت سے متعلق ہے اور 60فیصد آبادی کا مکمل دارومدار زراعت سے وابستہ ہے۔ ستم بالائے ستم کہ 60فیصد ہونے کے باوجود کاشت کار طبقہ گوناگوں مسائل کا شکار ہے۔ اپنے مسائل کے حل کے لیے مقتدر طبقوں اور حکومتی ایوانوں کی سرپرستی سے یکسر محروم چلا آرہا ہے۔ ہماری بیوروکریسی اور حکمران طبقے کو ان مشکلات کا احساس ہی نہیں جن سے کاشت کار کو گزرنا پڑتا ہے۔
اکثریت چھوٹے کاشت کاروں پر مشتمل ہے جو کہ وسائل سے محروم ہیں اور غربت کا حقیقی شکار بھی، ہمارے ہاں 86فیصد کاشت کارساڑھے بارہ ایکڑ تک کے مالک ہیں اور ہماری مجموعی ملکی پیداوار میں کمی کی وجہ یہی وسائل سے محروم چھوٹے کسان ہیں۔ زراعت کی زبوں حالی اور زرعی شعبہ سے وابستہ افراد پر ہونے والے اس ظلم کو دیکھتے ہوئے صوبائی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی کا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ زرعی مداخل کے ریٹ کم کیے جائیں تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے اور اجناس کے ریٹ عام آدمی کی قوت خرید میں آسکیں۔ ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پر فوری طور پر جامع اور متفقہ پالیسی وضع کر کے عمل درآمد شروع کیا جائے کیوں کہ اس میں مزید تاخیر کا ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔ بھارتی آبی جارحیت اور اس کے نتیجے میں پاکستانی زراعت کو پہنچنے والے نقصانات اور حکومت کی طرف سے مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، بھارت کی اس شرانگیزی کو پوری قوت سے عالمی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔
اپنا حق حاصل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ کھاد کی بوری پر قیمت فروخت پرنٹ کی جائے تاکہ کسان کو اندھی مارکیٹ سے نجات مل سکے۔ زرعی مقاصد کے لیے بجلی پر سبسڈی دی جائے، شمسی توانائی کے ذریعے آب پاشی کے نظام کو متعارف کروانے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے کسانوں کو بلاسود قرضوں کی سہولت دی جائے۔ سی پی آر کو چیک کا درجہ دیا جائے۔ موسمی حالات کی سختیوں سے بچنے کے لیے تمام گندم خریداری مراکز اور شوگر ملوں کے باہر کاشت کاروں کے قیام کے لیے شیڈ تعمیر کروائے جائیں جن میں ابتدائی طبی سہولیات کا ہونا لازمی قرار دیا جائے۔
مارکیٹ کمیٹیوں میں سیاسی تقرریاں ختم کی جائیں اور کسانوں کے حقیقی نمائندوں کا تقرر عمل میں لایا جائے۔ زرعی مصنوعات پر لگایا جانے والا ود ہولڈنگ ٹیکس فوری واپس لیا جائے۔ شوگر ملیں کٹوتیوں کے نام پر کاشت کاروں کا جو استحصال کر رہی ہیں اسے فوراً بند کیا جائے۔ سی پی آر میں دی گئی مدت کے دوران ادائیگیوں کو یقینی بنایا جائے۔
زرعی مداخل کی قیمتوں اور فراہمی کے تعین کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز بالخصوص کسانوں کی مشاورت کے ذریعے ایسا نظام وضع کیا جائے جس سے بے جا استحصال اور مشکلات سے نجات پائی جاسکے۔ زرعی مداخل کی قیمتوں، بجلی، ڈیزل کے نرخوں میں حالیہ اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی خریداری کا فول پروف نظام بنایا جائے۔
