
ٹوکیو (جیوڈیسک) جاپان نے تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث بند ایٹمی ری ایکٹرز کو دوبارہ چالو کرنے کیلئے اقدامات تیز کر دئیے۔ ٹوکیو جاپان نے تیل اور گیس سے پاور پلانٹ چلانے کی پیداواری لاگت میں اضافے کے بعد ایٹمی پاور ری ایکٹرز کو دوبارہ فعال بنانی کیلئے اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔ جاپان نے اڑھائی سال قبل فوکوشیما ایٹمی پاور پلانٹ کے سانحہ کے بعد ملک بھر میں ایٹمی توانائی پیدا کرنے والے 50 ری ایکٹرز کو بند کر دیا گیا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان نے تیل اور گیس سے توانائی پیدا کرنے والے پلانٹ کی پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث ایٹمی ری ایکٹرز کو دوبارہ فعال کرنے کیلئے اقدامات شروع کر دئیے ہیں اور اس سلسلے میں 4 ایٹمی ری ایکٹرز کے آپریٹرز نے پیر کو نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو 5 پلانٹس میں نصب 10 ری ایکٹرز کے معائنے کیلئے اپلائی کریں گے جبکہ 2 مزید ری ایکٹرز کے معائنے کیلئے اس ہفتے کے آخر میں ایٹمی ریگولیٹری اتھارٹی سے رابطہ کیا جائے گا۔ ادارے کے مطابق ایٹمی ری ایکٹرز نئے سیفٹی میکنزم نصب کرنے کے بعد ایٹمی ریگولیٹری اتھارٹی سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔
