Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قائداعظم اور پاکستان موجودہ حالات کے تناظر میں

December 7, 2014 0 1 min read
Quad e Azam Mohammad Ali Jinnah
Quad e Azam Mohammad Ali Jinnah

تحریر : ایس ایم عرفان طاہر

نشا ں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں
کمال صدق و مروت ہے زندگی ان کی معاف کرتی ہے فطرت بھی ان کی تقصیریں
قلندرانہ ادائیں سکندرانہ جلال یہ امتیں ہیں جہا ں میں برہنہ شمشیریں
خو دی سے مرد خود آگا ہ کا جمال و جلال کہ یہ کتاب ہے باقی تمام تفسیریں
شکوہ عید کا منکر نہیں ہوں میں لیکن قبول حق ہیں فقظ مرد حر کی تکبیریں
حکیم میری نوائوں کا راز کیا جانے ورائے عقل ہیں اہل جنوں کی تدبیریں
اسلامی جمہو ریہ پاکستان کی بنیا د ان اغراض و مقاصد پر ہر گز نہیں رکھی گئی تھی جن کی عملی شکل آج دکھائی دے رہی ہے ، افغانستان ، فلسطین ، عراق ، شام اور بہت سے ممالک کی تا ریخ جنگ و جدل ، بد امنی ، انسانی حقوق کی پامالی ، افرا تفری اور درنگی سے بھری پڑی ہے وہا ں پر بارود اور سلحے کی نمائش عام ہے وہا ں پر عدل و انصاف کو بارہا پامال کیا جاتا رہا ہے اور ان سب کے بر عکس جس اسلا می جمہوریہ پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ اور ایک نظریاتی ریاست کے طور پر رکھی گئی اس کا مقصد بڑا واضح اور دوٹوک تھا کہ یہا ں پر اکثریت مسلم عوام اپنی فطری آزادی کے تحت اپنے عقائد ، نظریا ت اور اطوار کے ساتھ ایک عالی شان اور آزادانہ زندگی بسر کریں جن کا ایک اپنا قانون ہو ، نظریہ ہو ، مذہب ہو اور یہا ں بسنے والی اقلیتیوں کو بھی اسلامی اصولو ں اور نظریا ت کے باعث رہنے کی آزادی ہو قتل و غارت گری ، کرپشن ، بد دیانتی ، جھوٹ ، فریب ، دھوکا دہی ، بے

ایمانی ، مہنگا ئی ، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ، بھتہ خو ری ، دہشتگردی ، انتہا پسندی ، ظلم و تشدد ، نا اتفاقی ، خود کش حملو ں ، دوسروں کے حق پر ڈاکہ اور محض چند خاندانو ں کی اقتدار تک رسائی اور عیش و عشرت کے لیے یہ ملک نہیں بنا تھا جس میں نہ توکسی عورت کی عزت محفوظ ہے نہ ہی غیر ت و حمیت نہ تو عدل و انصاف دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی آئین و قانون طاقتور کمزور کو موقع ملتے ہی نگل جانے کے لیے تیا ر ہے نام نہا د شریعیت ، عقائد نظریا ت اور فرقوں کی جنگ میں نہ جا نے کتنے ہی لو گ جل رہے ہیں انتہا پسندی ، دہشتگردی ، شدت پسندی اور نفرت کی علامتیں طالبان ظالمان ہوں یا داعش بدمعاش ہر سمت ایک خوف ظلم اور بربریت کی زندہ تصویر دکھائی دیتی ہے حکمران طبقہ اخلاص ، دیانتداری اور ایمانداری سے عاری اپنی دھن میں اپنا بینک بیلنس بنا نے میں مصروف ہے ٦٢ یا ٦٣ جیسے قوانین اور آئین کو عملی جامہ پہنانے والی عدالتیں بھی کٹ پتلی بنی ہو ئی ہیں یہا ں پر صدر مملکت سے لیکر چیف جسٹس تک کسی کو بھی خریدا اور فروخت کیا جا سکتا ہے

جس نگر میں علمائ و مشائخ اور امن کی با ت کرنے والو ں کو بارود سے اڑا دیا جا تا ہے جس دیس میں اقلیتوں کو زندہ جلا دیا جا تا ہے ، جس دیس میں بھوک افلاس روز ہی ایک گھر کا چراغ بھجا دیتی ہے جہا ں محنت کشو ں کو بیچ چڑاھے کوئی لو ٹ کر لے جاتا ہے جہا ں حوائ کی بیٹی کی سرعام عزت نیلام کر دی جا تی ہے جہا ں ہر روز ہی انسانی حقوق کی دھجیا ں بکھیری جا تی ہے جہا ں پر شباب و شراب کی محفلیں پارلیمنٹ میں سجائی جا تی ہیں جہا ں ہر روز نئی شریعیت متعارف کروائی جا تی ہے جہا ں رسول اللہ کے چا ہنے والو ں کے گلے کاٹے جا تے ہیں جہا ں انسانی زندگی سے زیاہ دولت و امارت کو سمجھا جا تا ہے جہا ں شادی بیا ہ کے نام پر روز ہی دو جسموں کا سودا کیا جا تا ہے جہا ں جہیز کی لعنت کئی بیٹیو ں کو ماں باپ کے گھروں میں بوڑھا کر دیتی ہے جہا ں پر صوبا ئی ، علا قائی ،لسانی اور نہ جا نے کتنے ہی تعصب انسانوں کو نگل جا تے ہیں

جہا ں پر ہر روز ہی کسی نہ کسی شہر میں بارود ، بم دھماکو ں اور قانون کے رکھوالوں کے ہاتھوں اپنی زندگی کی با زی ہا ر جا نے والوں کے گھروں میں صف ماتم بچھائی جا تی ہے ، جہا ں پر کرپشن ، اقرابائ پروری اور موروثیت نے سیاست کا رخ تبدیل کر کے رکھ دیا ہے جہا ں پر قومی مفادات کی بجا ئے ذاتی مفادات کو ترجیح دی جا تی ہے کیا یہ ہے ہما رے پیا رے قائد محمد علی جنا ح کا پاکستان ؟ کیا اس پاکستان کے لیے انہو ں نے اپنی عیش و عشرت اور سکون سے بھری زندگی کی چھوڑ دیا ؟ کیا اس سلطنت کے قیام کا ادھورا خواب انہو ں نے تعبیر کیا تھا ؟ کیا اس پاکستان کے لیے لاکھو ں جانو ں کی قربانیا ں پیش کی گئی تھیں ؟ کیا اس پاکستان کے لیے بر صغیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا ؟

قائد کے نظریا ت افکا ر اور کردار کو جھٹلا نے والے آج سرخرو اور انکے پیرو کا ر شرمندہ دکھائی دیتے ہیں وہ قائد جو ٢٥ دسمبر ١٨٧٦ کو کرچی میں پیدا ہو ئے آپ کا نام محمد علی جنا ح تھا آپ کے والد پونجا جنا ح اور والدہ مٹھی بائی تھیں آپ کی تین بہنیں مریم ، شیریں اور فاطمہ اور تین ہی بھائی احمد علی ، بندے علی اور رحمت علی تھے ۔آپ اپنے گھر میں سب سے بڑے تھے آپ کے والد محترم گجرات کے نامور تاجر تھے ما دری زبان گجراتی البتہ سندھی ، کچھی انگریزی اور اردو پر بھی عبور حاصل تھا ١٦ برس کی عمر میں بمبئی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اسکے بعد ایک برطانوی کمپنی میں ملا زمت اختیا ر کر لی آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی شادی دور کی رشتہ دار ایمی با ئی کے ساتھ کرادی اور یہ رشتہ طویل نہ چل سکا محترمہ کا انتقال ہوگیا آپ برطانوی کمپنی کے ہمراہ مزید تربیت کے حصول کے لیے برطانیہ منتقل ہو گئے جہا ں پہنچ کر آپ نے دوبارہ تعلیم کا ارادہ باندھا اور لکن لائ کالج لندن میں اس لیے داخلہ لیا کے وہا ں بورڈ پر دنیا کے سب سے اعلیٰ قانون دانو ں میں سب سے اوپر حضرت محمد کا نام لکھا ہوا تھا۔

قیام لند ن کے دوران ہی والدہ بھی چل بسیں شریک حیا ت کے بعد والدہ ماجدہ کی وفات نے آپ کو انتہائی غمزدہ کردیا والدہ کی بے حد عزت و احترام اور ان سے پیا ر کرتے تھے ان کی والدہ نے مرنے سے قبل اس با ت کی پیشن گوئی بھی کی تھی کے محمد علی جنا ح ایک بہت بڑا کام کریں گے جو بعد میں پورا ہوتا بھی دکھائی دیا ، لند ن سے ١٨٩٥ میں محض ١٩ برس کی عمر میں با ر ایٹ لائ کی ڈگری حاصل کی آپ اس طرح سب سے کم ترین ہند و ستانی با ر ایٹ لا ئ تھے اسکے بعد جب وطن واپس پہنچے تو آہستہ آہستہ ہندوستان کی سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا کیونکہ برطانیہ کی سکونت نے آپ کا ویثرن بہت بلند کردیا تھا اور اس ماحول اور کامیاب معاشرے کا قیام اپنے وطن میں بھی عملی سطح پر چا ہتے تھے آپ ابتدائی احوال میں آزاد اور خود مختار ہندوستا ن کے حامی تھے اور آپ کی نظر میں انگریزو ں سے آزادی حاصل کرنے کا بس قانونی اور آئینی راستہ تھا آپ جنگ و جدل اور ہتھیاروں کے قائل نہ تھے ، پہلے آپ کچھ عرصہ کانگریس کے ساتھ وابستہ رہے

انہی دنو ں جب مسلمانو ں کی نمائندہ جما عت آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ہوا تو اس کے ساتھ شامل ہو گئے ١٩٠١ میں جب مالی حالا ت مستحکم ہو ئے تو اپنے والد محترم اور بہن بھائیو ں کو بھی بمبئی اپنے ساتھ بلالیا اور ان کی دکھ بال کا حق ادا کیا آپ کی سب سے چھوٹی بہن فاطمہ جنا ح پڑھنے لکھنے کے بعد آپ کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتی رہیں انہی خدما ت کے باعث پاکستان بننے کے بعد فاطمہ جناح کو ما در ملت کا خطا ب دیا گیا ۔ اپریل ١٩١٨ کو آپ کی دوبارہ شادی رتن بائی سے ہو ئی جنہو ں نے اسلام قبول کرلیا تھا جن میں سے ایک بیٹی ڈینا چودہ اگست ١٩١٩ میں لندن میں پیدا ہوئی قائد اعظم محمد علی جنا ح نے مسلمانو ں اور ہندوئوں کو قریب لا نے میں انتھک کوشش کی آپ کی کاوشوں کے نتیجہ میں ١٩١٦ میں معا ئدہ لکھنئو طے پایا مسلم لیڈرز کے ساتھ اختلا فات کے باعث آپ کچھ عرصہ لند ن میں بھی رہے

لیکن اپنے قریبی دوستوں اور با الخصوص شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے کہنے پر آپ دوبارہ وطن واپس آگئے ١٩٣٤ میں آپ نے مسلمانو ں کی مضبوط نمائندہ جما عت آل انڈیا مسلم لیگ کی قیا دت سنبھالی ١٩٢٠ کی قرارداد کی روشنی میں مسلمانو ں کے لیے ایک علیحدہ ملک کے حصول کے لیے مصروف عمل ہو گئے اس حوالہ سے آپ نے اپنے چودہ نکا ت بھی پیش کئے اور دوقومی نظریے کی بھی بنیاد رکھی ١٩٤٦ کے انتخابات میں مسلمانوں نے بیشتر نشستوں پر کامیابی حاصل کی لیکن انہیں حکومت میں شامل نہ کیا گیا آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے آپس میں اتفاق نہ ہو نے پر تاج برطانیہ کو پاکستان اور ہندوستان کی آزادی کو تسلیم کرنا پڑا۔آپ کی شبانہ روز محنت اور تگ و دو رنگ لے آئی اور یوں ١٤ اگست ١٩٤٧ کو دنیا کے نقشے پر ایک عظیم ریا ست اسلامی جمہوریہ پاکستان وجود میں آئی جس کی تعمیر و ترقی ، معاشی استحکام ، آئین اور قانون کی خاطر قائد اعظم محمد علی جنا ح شب ورز محنت کرتے رہے آپ پاکستان کے پہلے گورنرجنرل بنے ڈا کٹر علا مہ محمد اقبال کا آپ با رے کہنا تھا کہ برطانوی ہند میں اس وقت صرف آپ ہی ایسے لیڈر ہیں جن سے رہنمائی حاصل کرنے کا حق پو ری ملت اسلامیہ کو حاصل ہے۔

کلیمنٹ اٹیلی وزیرِ اعظم برطانیہ کا کہنا تھا کہ نسب العین پا کستان پر ان کا عقیدہ کبھی غیر متزلزل نہیں ہوا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے جو انتھک جدوجہد کی وہ ہمییشہ یاد رکھی جائے گی ۔ برٹرینڈرسل برطانوی مفکر کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی پوری تاریخ میں کوئی بڑے سے بڑا شخص ایسا نہیں گزرا جسے مسلمانوں میں ایسی محبوبیت نصیب ہوئی ہو۔ مہاتما گاندھی کا کہنا تھا کہ جناح کا خلوص مسلم ہے۔ وہ ایک اچھے آدمی ہیں۔ وہ میرے پرانے ساتھی ہیں۔ میں انہیں زندہ باد کہتا ہوں۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور مسز وجے لکشمی پنڈت کا کہنا تھا کہ
اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندھی اور دو سو ابوالکلام آزاد ہوتے اورکانگریس کے پاس صرف ایک لیڈر محمد علی جناح ہوتا تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا۔ ماسٹر تارا سنگھ سکھ رہنما کا کہنا تھا کہ قائدِ اعظم نے مسلمانوں کو ہندوئوں کی غلامی سے نجات دلائی۔ اگر یہ شخص سکھوں میں پیدا ہوتا تو اس کی پوجا کی جاتی۔

سر ونسٹن چرچل برطانوی وزیرِ اعظم کا آپ کے حوالہ سے کہنا تھا کہ
مسٹر جناح اپنے ارادوں اور اپنی رائے میں بے حد سخت ہیں۔ ان کے رویے میں کوئی لوچ نہیں پایا جاتا۔ وہ مسلم قوم کے مخلص رہنما ہی نہیں سچے وکیل بھی ہیں۔ مسز سروجنی نائیڈو بلبلِ ہند اور سابق گورنر یو پی کے تاثرات قائدِ اعظم کےمتعلق۔ ایک قوم پرست انسان کی حیثیت سے قائدِ اعظم کی شخصیت قابلِ رشک ہے۔ انہوں نے ذاتی اغراض کے پیشِ نظر کسی شخص کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اپنی بے لوث خدمت کے عوض ہندوستان کے مسلمانوں کے لیڈر ہیں۔ ان کا ہر علامہ شبیر احمد عثمانی کا کہنا تھا کہ آل انڈیا مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ممتاز عالمِ دین جنہوں نے قائدِ اعظم کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ قائدِ اعظم کے متعلق فرماتے ہیں۔” شہنشاہ اورنگزیب کے بعد ہندوستان نے اتنا بڑا مسلمان لیڈر پیدا نہیں کیا جس کے غیر متزلزل ایمان اور اٹل ارادے نے دس کروڑ شکست خوردہ مسلمانوں کو کامرانیوں میں بدل دیا ہو”۔ارادہ ہر مسلمان کے لیے حرفِ آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا ہر حکم مسلمانوں کا آخری فیصلہ ہے جس کی انتہائی خلوص کے ساتھ لفظ بہ لفظ تعمیل کی جاتی ہے۔

”جناح آف پا کستان”کے مصنف پروفیسر اسٹینلے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا امریکہ اپنے کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں۔”بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کر دے۔ محمد علی جناح ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے بیک وقت تینوں کارنامے کر دکھائے ۔ ایسے عظیم محسن رہبر و رہنما کی پو ری قوم ممنون و احسان مند رہے ساری زندگی تو بھی حق ادا نہیں ہوسکتا ہے اپنے پرائے سبھی تو ان کے بے مثال کردار اوصاف اور افکا ر کے معترف رہے تا حیا ت آج نام نہا د پاکستانی ان کی ذات پر بھی کیچڑ اچھا لنے سے باز نہیں آتے ہیں کوئی انہیں سنی اور شعیہ کی بحث میں گھسیٹتا ہے تو کوئی یہ کہہ کر اپنی نا اہلی اور کرپشن کو چھپاتا ہے کہ محمد علی جنا ح بھی گریجویٹ نہیں تھے عظیم قا ئد کو انگریزوں کا ایجنٹ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ہے جو لو گ اپنے محسنو ں اور آبا ئو اجداد کی قدر نہیں کرتے اور انہیں اچھے نامو ں اور کامو ں سے نہیں پہنچانتیں تو ان کا اپنا وجود بھی مٹ جاتا ہے

Pakistan
Pakistan

غرق ہوجاتی ہے وہ جاہلیت اور ہیبت کے گرداب میں ان کی اکلوتی صاحبزادی ڈینا جناح نے اپنی زیادہ تر زندگی پاکستان کے با ہر ہی گزار دی اور کسی حاکم یا سیاستدان کو یہ تو فیق بھی نہ ہوئی کہ انہیں وطن عزیز میں لاکر ان کی عزت و تعظیم کی جا ئے بلکہ ان کی بہن شیریں جنا ح کی نواسی اور قا ئداعظم کی نواسی خو رشید بیگم جو ١٩٩٨ میں منظر عام پر آئیں کے حقیقی صا حبزادے کو پو لیس حراست میں قتل کردیا گیا جو ٢٥ دسمبر کو مزار قائد پر گیا اور ٩ جنوری کو اسکی لا ش ملی بانی پاکستان اپنے خاندان کے ہر ایک فرد کو معتبر جانتے اور اس سے محبت رکھتے تھے اسکے علاوہ قا ئداعظم محمد علی جنا ح کے نواسے اسلم جنا ح بھی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں محسن پاکستان کا خاندان انصاف کا طلبگا ر ہے اور قوم کو انصاف کون دلا ئے گا ؟

اگر اس بدتر دور میں محمد علی جنا ح خود بھی موجود ہو تے تو انہیں بھی یہ مفاد پرست حکمران ماننے سے انکا ر کر دیتے قائد اعظم محمد علی جنا ح اور ہما رے آبا ئو اجداد کے خواب چکنا چور ہو کر رہ گئے آج پاکستان میں کسی با صلاحیت اور محسن کی کوئی قدر نہیں ہے انسانیت اور انسانی حقوق جیسی کوئی چیز دکھائی ہی نہیں دیتی کیا یہی تھا قائد اعظم محمد علی جنا ح کا وطن اور علامہ محمد اقبال خواب شرم آتی ہے موجودہ حالات دیکھ کر خود کو قائد اعظم کا جا نشین کہلوانے والے پو رے اقوام عالم میں بدنامی و بربادی کی تصویر بنے ہو ئے ہیں اور آج پھر اس مخلص با وقار اور با کردار قا ئد کے حقیقی اصولو ں کی پیروی کرنے وا لے ایماندار اور دیانتدار رہنما کی ضرورت ہے جس کا محور و مسکن دولت و امارت اور جائیداد نہ ہو بلکہ تمام تر مفادات کو پس پشت ڈال کر حقیقی معنو ں میں پاکستان کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کا بیڑا اٹھا ئے اور اسے خالصتا قائد اعظم محمد علی جنا ح کا پاکستان بنا دے جہا ں خوشحالی ہو جہا ں انسانی حقوق کا تحفظ ہو جہا ں خود کش حملے کرنے والو ں کو براجانا جا ئے جہا ں پر انسانیت کی توقیر اور عزت کی جا ئے جہا ں عورت کو قدر کی نگا ہ سے دیکھا جائے جہاں بچیوں کی تعلیم و تربیت کو گناہ نہ کہا جا ئے جہا ں پر با صلا حیت افراد کو نظر انداز نہ کیا جا ئے جہا ں پر محسنین کی تکریم کی جا ئے جہا ں ظالم کے خلا ف علم حق بلند کیا جا ئے جہا ں کرپشن اور دہشتگردی کا ناسور جنم نہ لے جہا ں پر عدل و انصاف عام ہو جہا ں پر اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیاجائے جہا ں پر امن ہو محبت ہو سکون ہو اتحاد و اتفاق اور حقیقی عوامی جمہوری حکومت بھی ہو برطانیہ اور ترقی یا فتہ ممالک کی طرح ۔

خا کسار تحریک کے بانی اور قائدِ اعظم کے انتہائی مخالف علامہ مشرقی نے قائد کی موت کا سن کر فرمایا ”اس کا عزم پائندہ و محکم تھا۔ وہ ایک جری اور بے باک سپاہی تھا، جو مخالفوں سے ٹکرانے میں کوئی باک محسوس نہ کرتا تھا”۔
حضرت واصف علی واصف فرما تے ہیں زندگی خود ایک ایسی بیما ری ہے جس کا انجام مو ت ہے اور مسلمان کا ایمان یہ ہے کہ نہ وقت سے پہلے مو ت آنی ہے اور نہ وقت کے بعد زندگی ٹھہرنی ہے

قا ئد اعظم محمد علی جناح آخری ایام میں ٹی بی کے عارضہ میں مبتلا رہے اور ڈاکٹروں کی نصیحتوں کے باوجود انتھک محنت کرتے رہے کیوں کے ان کا عزم اور ارادے بہت ہی بلند تھے اپنی جان قربان کردی لیکن رہتی دنیا تک ان کا نام قائم و دائم رہے گا اور وہ آج بھی ہما رے سا تھ ساتھ کئی چا ہنے والو ں کے دلو ں میں زندہ و جا وید ہیں اور قیامت کی صبح ہو نے تک انکا نام ہمیشہ روشن اور جگمگاتا رہے گا اب سوچنا یہ ہے کہ زندگی ہم نے اپنے قائد کی طرح لازوال گزارنی ہے کہ موجودہ حکمرانو ں کے نقشے قدم پر چلتے ہو ئے خود کو تباہ و برباد کرنا ہے جن کی نہ تو دنیا اچھی ہے اور نہ ہی عاقبت

S M IRFAN TAHIR
S M IRFAN TAHIR

تحریر : ایس ایم عرفان طاہر
ای میل :smirfantahir@gmail.com

Share this:
Tags:
context India Jinnah muslims pakistan پاکستان تناظر حالات قائداعظم مسلمانوں موجودہ ہندوستان
Previous Post سیاسی مفاہمت و اتحاد کا مشرف کا مطالبہ عصری ضرورت اور خوش آئندہے ، روشن پاکستان پارٹی
Next Post سربراہ تحریک صراط مستقیم پاکستان ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا ہے کہ مقام ابراہیم کی جگہ کی تبدیلی

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close