محلہ سلطان والا کی لاکھوں روپے مالیت کی سڑک کی تعمیر کی سکیم میں ناقص و غیر معیاری میٹریل کے استعمال کی فوری اعلیٰ سطحی ٹیکنیکل کمیٹی سے تحقیقات ، ٹھیکیدار کو کلیئرنس تک تمام ادائیگیاں روکنے اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ
جھنگ (تحصیل رپورٹر) محلہ سلطان والا جھنگ صدر کی لاکھوں روپے مالیت کی سڑک کی تعمیر کی سکیم میں ناقص و غیر معیاری میٹریل کے استعمال کی فوری اعلیٰ سطحی ٹیکنیکل کمیٹی سے تحقیقات ، ٹھیکیدار کو کلیئرنس تک تمام ادائیگیاں روکنے اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیاگیاہے اور کہاگیاہے کہ اگرڈی سی او جھنگ کی طرف سے حکومتی ہدایات کی روشنی میں قائم کردہ ڈسٹرکٹ انسپکشن ، ویجیلنس ، مانیٹرنگ کمیٹی کی کلیئرنس رپورٹ کے بغیر محلہ سلطان والا میں سڑک تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار کو ادائیگی کی گئی تو اینٹی کرپشن میں ٹھیکیدار سمیت محکمہ روڈز ہائی وے ڈویژن جھنگ کے متعلقہ حکام کے خلاف مقدمات درج کروائے جائیں گے لہٰذا تعمیراتی سکیم میں ناقص و غیر معیاری میٹریل کے استعمال کی فوری اعلیٰ سطحی ٹیکنیکل کمیٹی سے تحقیقات کروائی جائے تاکہ قومی خزانہ کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچانے والے ڈسٹرکٹ ہائی وے جھنگ کے کرپٹ افسران اور بد عنوان ٹھیکیدار کو نشان عبرت بنایاجاسکے ۔ محلہ سلطانوالہ جھنگ صدر کے رہائشیوں اور معززین علاقہ نے میڈیاکو بتایاکہ مذکورہ محلہ میں رہائش گاہ قمر عباس زیدی ، شفیق پپو چوک براستہ چوہدری نصرت پرویز ایڈووکیٹ چوک تا تقویٰ مسجد چوک تک سڑک کی تعمیر میں شیڈول سے ہٹ کر انتہائی گھٹیا ، ناقص ، غیر معیاری میٹریل استعمال کیاگیاہے اسی طرح محلہ سلطان والا جھنگ صدر میں تعمیر کی جانیوالی دیگر سڑکات کی تعمیر میں بھی قواعد وضوابط اور ٹینڈرنگ شیڈول کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں ۔انہوںنے بتایاکہ ان سکیموں پر تعینات محکمہ ہائی وے ڈسٹرکٹ روڈز جھنگ کا کرپٹ ترین سب انجینئر کئی سالوں سے ایک ہی جگہ پر تعینات اور خزانہ سرکار کو لاکھوں کا ٹیکہ لگانے میں خصوصی مہارت کا حامل ہے۔ انہوںنے کہاکہ تعمیراتی و ترقیاتی سکیموں کے انتہائی زائد تخمینہ جات لگانے میں ماسٹر اور پہلے سے تعمیر شدہ سڑکات پر نئی سڑکات کی تعمیر ظاہر کرکے صرف لیپا پوچی کی آڑ میں بھاری رقوم کے خرد برد کے باوجود بااثر مافیانے ایک ہی جگہ پنجے گاڑ رکھے ہیں مگر کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔ انہوںنے کہاکہ حکومت پنجاب نے واضح طور پر احکامات جاری کررکھے ہیں کہ ڈسٹرکٹ انسپکشن ، ویجیلنس ، مانیٹرنگ کمیٹیوں کی کلیئرنس کے بغیر کسی سکیم کے بلز پاس نہ کئے جائیں مگر جھنگ میں ان ہدایات پر عملدرآمد نہیں ہو رہاہے ۔ انہوںنے ڈی سی او جھنگ سے بھی صورتحال کافوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے۔ انہوںنے بتایاکہ چوہدری نصرت پرویز ایڈووکیٹ چوک اور رانا سیف چوک کی درمیانی سڑک کی نالیاں بھی ٹھیکیدار کی ٹریکٹر ٹرالی نے تباہ کر دی ہیں مگر ان کی بھی مرمت نہ کی گئی ہے ۔
………………………
……………………………
جھنگ کو دیگر ترقی یافتہ شہروں کی صف میں لانے ،
پسماندگی کے خاتمہ ، میونسپل کارپوریشن کے درجہ اور ڈویژنل دفاتر کے قیام کیلئے عوام الناس سے جھنگ ڈویژن بنائو تحریک کا بھرپورساتھ دینے کی اپیل
جھنگ (تحصیل رپورٹر) جھنگ ڈویژن بنائو تحریک کے ترجمان نے اپیل کی ہے کہ عوام الناس جھنگ کو دیگر ترقی یافتہ شہروں کی صف میں لانے ، پسماندگی کے خاتمہ ، میونسپل کارپوریشن کے درجہ اور ڈویژنل دفاتر کے قیام ، میڈیکل کالج ، یونیورسٹی ، ہائی کورٹ بینچ ، میونسپل کارپوریشن ، اپ گریڈڈ ہسپتال کا قیام یقینی بنانے کیلئے جھنگ ڈویژن بنائو تحریک کا بھرپور ساتھ دیں ۔بدھ کے روز میڈیاسے بات چیت کے دوران انہوںنے کہاکہ جب تک جھنگ کو ڈویژن کا درجہ نہیں ملتا اس وقت تک شہریوں کے مسائل حل نہیں ہو سکے ۔ انہوںنے کہاکہ جھنگ کو 1849ء میں ضلع کادرجہ دیاگیا جس کی حدیں اس وقت ضلع حافظ آباد ، سرگودھا، خوشاب ، بھکر ، لیہ ،مظفر گڑھ ، خانیوال ،ٹوبہ ٹیک سنگھ اور فیصل آباد سے ملتی تھیں۔ انہوں نے بتایاکہ 1851ء میں جھنگ کاکچھ حصہ الگ کرکے ملتان میں شامل کردیا گیا۔ بعد ازاں 1854ء میں کوٹ عیسیٰ شاہ کے جنوبی علاقہ فروکہ کو اس وقت کے ضلع شاہ پور سرگودھا میں ضم کردیاگیا۔ انہوںنے کہاکہ 1890ء میں لیہ کو جھنگ سے الگ کرکے مظفر گڑھ میں شامل کردیاگیا۔ اسی طرح 1895 ء میں حیدر آباد تھل کو ضلع میانوالی اور پنڈی بھٹیاں کو ضلع گوجرانوالہ سے منسلک کردیاگیا۔ انہوںنے کہاکہ جھنگ کے ٹکڑے کرنے کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ ساہیوال کو جھنگ سے الگ کرکے منٹگمری کے نام سے الگ ضلع بنادیاگیا۔ انہوںنے بتایاکہ 1900ء میں ٹوبہ اور سمندری سمیت دیگر 34 دیہاتوں کو تحصیل لائلپورمیں شامل کرکے اسے الگ ضلع کادرجہ دے کر جھنگ کے ٹکڑوں میں ایک اور ٹکڑے کااضافہ کردیاگیا ۔ بعد ازاں فیصل آباد جو کسی وقت جھنگ کی تحصیل تھا کو ڈویژن بنا کر جھنگ کو اس کے ساتھ اٹیچ کردیاگیا۔حتیٰ کہ 2009ء میں جھنگ کی سب سے زیادہ ریونیو دینے والی تحصیل چنیوٹ کو بھی الگ کرکے ضلع بنا دیاگیا۔ انہوں نے بتایاکہ 1881ء کی انٹرنیشنل ٹریڈرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق اس وقت کے ضلع جھنگ میں 8144 کاٹن فیکٹریز ، 10وولن ملز ، 5پیپر ملز، 1730لکڑی کے کارخانوں ، 463 لوہے کے کارخانوں ، 22پیتل و تانبا فیکٹریوں ، 235 ڈائنگ ملز ، 1952 چمڑے کے کارخانوںسمیت یہاں فیکٹریز کی کل تعداد 16178تھی جو ترقی کرکے زیادہ ہونے کی بجائے جھنگ کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے باعث اب صرف 151 رہ گئی ہے جن میں 21 ٹیکسٹائل یونٹ، 19جننگ فیکٹریاں ، 19فلورملز ، 5شوگر ملز ، 4 گھی ملز ،59 رائس ملز ، 24 آئل ملز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 400سے زائد سپوت جھنگ کی مٹی سے جنم لے کر ملک کے مختلف اہم ترین انتظامی و کلیدی عہدوں پر فائز ہیں لہٰذا ان کا قانونی ، اخلاقی ، انسانی فریضہ ہے کہ وہ اپنی مٹی کاقرض اتارنے کیلئے جھنگ کو ڈویژن بنوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوںنے کہاکہ جھنگ کے سیاستدان ہردور میں اہم مناصب پر براجمان رہے لیکن انہوںنے جھنگ کی ترقی کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ انہوںنے کہاکہ اب وقت آگیاہے کہ جھنگ کے عوام اپنا حق لینے کیلئے میدان عمل میں آئیں اور وزیر اعظم و وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی جائے کہ جھنگ جہاں ہردور میں مسلم لیگ (ن) کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی کی محرومیوں کے ازالہ کیلئے جھنگ کو ڈویژن کا درجہ دینے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ انہوںنے جھنگ کے تمام شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے طور پر وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو مطالباتی خط تحریر کریں جن میں ان سے اپیل کی جائے کہ وہ جھنگ کی عوام کی خواہشات کے احترام میں جھنگ کو ڈویژن کا درجہ دینے کے احکامات جاری کریں۔
………………………
……………………………
پانی کی کمی فصلات کو بری طرح متاثر کر رہی ہے ۔ فوری اقدامات نہ کئے گئے توملکی معیشت روز بروز کمزور سے کمزور تر ہو تی چلی جائے گی ۔چیئرمین پاکستان کسان ویلفیئر کونسل
جھنگ (تحصیل رپورٹر) پاکستان کسان ویلفیئر کونسل کے چیئرمین چوہدری عبداللطیف سہو نے کہاہے کہ ملک میں ڈیمز کی تعمیر نہ ہونے اور آبی ذخائر کی کمی کے باعث فصلوں کو سیراب کرنے کیلئے پانی کی کمی کا مسئلہ خطرناک صورت اختیار کر تا جا رہا ہے لہذا حکومت شعبہ زراعت کو تباہی سے بچانے کیلئے فوری نئے ڈیمز اور آبی ذخائر کی تعمیر کا اعلان کرے تاکہ ملکی معیشت و اقتصادیات کو بربادی سے بچانا ممکن ہو سکے۔ میڈیا سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت کا زیادہ تر دار و مدار زراعت پر ہے لیکن پانی کی کمی سے فصلات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے جس سے ملکی معیشت روز بروز کمزور سے کمزور تر ہوتی جار ہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ اگر حکومت نے سیاست ، لسانیت ، علاقائیت ، جذباتیت سے بالا تر ہو کر نئے آبی ذخائر کی تعمیر کا فیصلہ نہ کیا تو ملک کا لاکھوں ایکڑ رقبہ بنجر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو بے دردی سے لوٹنے والے افراد کا بھی احتساب کرے۔ انہوں نے کہا کہ کھاد کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اس کی قیمتوں میں اضافہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی اداروں نے کسانوں کا استحصال جاری رکھا تو وہ سخت احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔
Related Posts
یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے
March 21, 2022
امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس
March 21, 2022
یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا
March 21, 2022
