Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اور صحافتی زندگی کا باب تمام ہو گیا

January 9, 2015 0 1 min read
Journalism
Journalism
Journalism

تحریر: تجمل محمود جنجوعہ
چند روز قبل میری ملاقات اپنے دوست قاسم بشیر گوندل سے ہوئی۔ ہم چونکہ دو سال کے طویل عر صہ بعد ملے تھے اس لئے ہم کئی گھنٹے تک بیٹھے گپ شپ کرتے رہے۔ قاسم میری صحافتی سرگرمیوں کے بارے میں دریافت کرنے لگا اور اپنے ایک کولیگ (رائو عاطف) کے ایک صحافی دوست کا واقعہ سنانے لگا جو چند روز قبل ہی ٹرین کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ آپ بھی انہی کی زبانی سنئیے۔

یہ آج سے پانچ سال پہلے کی بات ہے جب میں میٹرک کے امتحانات دے کر فارغ ہوا تو ایک دن میرا دوست شمس میرے پاس آیا اور اپنے ساتھ شہر چلنے کو کہا۔وہ اس وقت انٹرمیڈیٹ کے امتحانات دے چکا تھا۔ چونکہ میں بھی رزلٹ کا منتظر تھا اور چھٹیاں ہونے کے باعث زیادہ تر وقت گھر ہی گزارتا تھا، لہذا شمس کے ساتھ ہو لیا۔ ایک گھنٹے سفر کرنے کے بعد شمس نے بائیک ایک مقامی اخبار کے دفتر کے باہر روک دی ۔ ہم دفتر کے اندر داخل ہو گئے۔ وہاں ایک صاحب پہلے سے ہی شمس کا انتظار کر رہے تھے۔شمس نے اپنی جیب سے ہزار ہزا ر کے دو نوٹ نکالے اور ان صاحب کو تھما دیئے۔ ( یہ 2005ء کی بات ہے)۔ ان صاحب نے نوٹ پکڑے اور کہا کہ اگلے ہفتے تمہارا کارڈ بن جائے گا، آ کے لے جانا۔ شمس کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں تھے۔ ہم باہر آگئے اور شمس نے بائیک سٹارٹ کی اور مجھے بیٹھنے کے لئے کہا۔ اس وقت تک میں کچھ سمجھ نہیں پایا تھا کہ اس نے پیسے کیوں دئیے اور کو ن سا کارڈ بنوانا چاہ رہا ہے۔ میں اس سے پوچھنے ہی والا تھا کہ وہ خود مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا، ”تم جانتے ہوئے میں صحافی بن گیا ہوں اور آج سے اس اخبار کے رپورٹر کی حیثیت سے کام کروں گا اور اپنے علاقہ کے مسائل کو اجاگر کروں گا”۔ میں پیسوں والی بات اب تک نہ سمجھ پایا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ پیسے آپ نے اس بندے کو کیوں دیئے۔ وہ کہنے لگا کہ وہ صاحب اس اخبار کے ایڈیٹر ہیں اور میں نے انہیںپریس کارڈ کی فیس دی ہے۔ میں اس کی بات سن کر صرف ”اچھا” ہی کہہ سکا۔ شمس کہنے لگا، ”میں تو کہتا ہوں تم بھی کارڈ بنوا لو۔” مگر میں نے انکار کر دیا۔ اس سے اگلے دن شمس نے میرے گھر کے دروازے پر دستک دی۔ میں نے دروازہ کھولا تو شمس بہت خوش دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ خیریت ہے آج بڑے خوش لگ رہے ہو۔ اس نے اخبار میرے سامنے کرتے ہوئے کہا یہ دیکھو۔ اخبار میں میری تصویر چھپی ہے۔ میں نے اس سے اخبار لیا اور دیکھنے لگا۔

ایک کونے پر اس کو نمائندگی دئیے جانے کا اعلان بمع تصویر چھپا تھا۔ میں نے اسے مبارکباد دی۔ بس اسی طرح ہر روز کوئی نہ کوئی خبر چھپوانے لگا۔ اس کا شوق اس قدر بڑھ چکا تھا کہ اپنی بھیجی ہوئی خبر اخبار پر دیکھنے کے لئے وہ خراب سڑکوں اور لوکل ٹرانسپورٹ میں چالیس کلو میٹرسفر کر کے اخبار کے دفتر پہنچ جاتااور اس اخبار کی دو یا تین کاپیاں لے کر دوبارہ اتنا ہی سفر طے کر کے گائوں واپس آتا۔ اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا اور چار ماہ کے بعد اس نے اپنے شہر کے ایف ایم ریڈیو کے لئے اپنی یونین کونسل سے بطور رپورٹر کام کرنا شروع کر دیا۔(یہ الگ بات کہ اسے ایف ایم کی نمائندگی کے لئے بھی اسے دو ہزار روپے سکیورٹی فیس کی مد میں ادا کرنا پڑے تھے۔) اس نے فرسٹ ڈویژن میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کر لیا تھا اور اب اسی کالج سے گریجوایشن کرنے لگا۔اب کبھی کبھار وہ پریس کلب بھی جانے لگا تھا۔ چونکہ ان دنوں گائوں میں کیبل کی سہولت نہ تھی اور ہمارے شہر میں ایف ایم ریڈیو کو بنے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا، اسلئے گائوں کے لوگ ایف ایم پر رات آٹھ بجے خبریں ضرور سنا کرتے تھے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ ان خبروں میں زیادہ تر مقامی خبریں ہوا کرتی تھیں۔ ایف ایم ریڈیو کے نیوز پریزنٹر رپورٹر کے نام کے ساتھ خبر پڑھا کرتے تھے۔

Tajammal Mahmood Janjua
Tajammal Mahmood Janjua

چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ میں وہ اپنے گائوں سمیت قریبی علاقہ جات میں بھی جانا جانے لگا۔ اب تو میں کبھی کبھی سوچا کرتا کہ کاش اس دن میں بھی اخبار کی نمائندگی لے لیتا اور ایسے ہی لوگ مجھے بھی پہچانتے مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ پریس کلب میں جانے کے باعث قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے رپورٹرز کے ساتھ اس کی خاصی دوستی ہو گئی تھی لہذا پریس کلب میں اس کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ اسے شعبہ صحافت سے منسلک ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا ۔ گریجوایشن کے امتحانات کے بعد اس نے مقامی اخبارات میں کالم لکھنا بھی شروع کر دیا۔ پھر ایک سال کے عرصہ میں اس کی تحریر میں اس قدر نکھار آ چکا تھا کہ قومی اخبارات میں اس کے کالم شائع ہونے لگے اور پاکستان کے معروف ترین اخبارات سے اہم قومی دنوں یا اہم واقعات کے حوالہ سے کالم کے لئے اسے کالز آنے لگیں۔گریجوایشن پاس کرنے کے بعد اب وہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے لگا اور ساتھ ہی ساتھ ایک قومی اخبار اور ٹی وی چینل کے ساتھ بطور تحصیل رپورٹر کام کرنے لگا۔ لیکن اب کی بار اسے نمائندگی کے لئے دو ہزار نہیں بلکہ تیس ہزار روپے ادا کرنا پڑے۔ اپنی محنت اور شوق کے باعث اس نے جلد ہی رپورٹنگ میں بھی اپنا نام پیدا کر لیا۔ لیکن اب شاید اس کے تارے گردش میں آنے والے تھے۔

یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ہی اس کے والد کا انتقال ہو گیا اور اس کے چند ماہ بعد ہی اس کی والدہ بھی اللہ کو پیاری ہو گئیں اور ڈاکٹریٹ کے خواب آنکھوں میں سجانے والاتنگی حالات کے باعث ماسٹر بھی مکمل نہ کر سکا اور میڈیا میں کسی مناسب نوکری کی تلاش کرنے لگا۔اپنے کام کے باعث وہ ضلع کی تمام میڈیا تنظیموں کا اعزازی ممبر اور اپنے ادارے کا ڈسٹرکٹ رپورٹر تو بن چکا تھا مگر کوئی پیڈ جاب حاصل نہ کر سکا تھا۔ اسے نہ تو کرپٹ افسران کے تلوے چاٹنے کی عادت تھی اور نہ ہی آج تک اس کے کسی استاد نے اسے دوسروں کاحق مار کر اپنی جیب گرم کرنے کا سبق دیا تھا ۔ اس لئے وہ میرٹ پر ہی نوکری بھی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے دس سے زائد ٹی وی چینلز اور قریباً اتنی ہی تعداد میں اخبارات میں نوکری حاصل کرنے کی کوشش کی مگر اس کی قسمت پر تو جیسے تالا لگ چکا تھا۔ کچھ عرصہ اسی طرح مختلف میڈیا ہائوسز کے چکر کاٹنے کے بعد اس نے دیگر شعبہ جات کی طرف بھی اپلائی کرنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ میڈیا میں بھی اپنی نوکری کے لئے کوشش کرتا رہا۔ مگر اسے سفارش نہ ہونے اور رشوت کے لئے رقم نہ ہونے کے باعث مختلف بہانے بنا کر انکار کر دیا جاتا۔ایک ٹی وی چینل میں وہ نیوز پریزنٹر اور رپورٹر کے لئے انٹرویو دینے گیا تو وہاں اسے انٹرویو لئے بغیر، اس کے تجربے اور لگن کو پرکھے بغیر انکار کر دیا گیا اور اسے رسیپشنسٹ کی نوکری کے لئے آفر کی گئی۔ وہ مایوس ہو چکا تھا۔ پڑھا لکھا ہونے اور باشعور کے باوجود وہ مایوسی کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔اس نے صحافت کو خیرباد کہنے اور تارک الدنیا ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے کالم نویسی،رپورٹنگ اور حتیٰ کہ فیس بک اور موبائل فون تک استعمال کرنا چھوڑ دیا۔ وہ کسی سے ملنے سے بھی گریز کرنے لگا۔ ایک دن اسی اندر کی گھٹن سے تنگ آکر وہ زندگی کی قید سے آزاد ہو گیا اور پچیس سالہ شمس ٹرین سے ٹکرا کر اپنے خوابوں سمیت پاش پاش ہو گیا۔ مجھے آج بھی اس کا آخری سٹیٹس یاد آتا ہے۔ ” اور صحافتی زندگی کا باب تمام ہو گیا۔”اور ”ہم نہ ہوں گے تو کوئی ہم سا ہو گا۔فیس بک کے دوستو اللہ حافظ و ناصر۔ میرے لئے دعا کرنا کہ میں اپنے فیصلوں پر ثابت قدم رہ سکوں۔ آپ سب کے لئے بہت سی دعائیں۔ ”

اتنا کہہ کر قاسم نے نے سرد آہ بھری اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ”تجمل بھائی ! یہ بات سچ ہے کہ پانچوں انگلیاں برابرہوتیں اور سب لوگ برے نہیں ہوتے۔ آپ اپنے شعبہ کو ہی لے لیں، ایک طرف تو ایسے لوگ جو مڈل پاس بھی نہیں اور شہر کے معروف ترین صحافی ہیں اور ناجائز ذرائع سے جمع کردہ پیسوں سے اب ان کے کئی کاروبار بن چکے ہیں اور دوسری طرف شمس جیسے لوگ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور صحافت کو عبادت سمجھنے والے ہوتے ہیں، ان کا کوئی مستقبل نہیںہوتا۔ایسے میں مَیں کسے قصور وار ٹھہرائوں۔ چند نوٹوں کی خاطر نمائندگیاں اور پریس کارڈ فروخت کرنے والوں کو یا شمس جیسے لوگوں کو جو اس باطل زدہ دور میں بھی حق کو نجات سمجھتے ہیں اور اس پر قائم ہیں۔پہلے وڈیرے اورجاگیردار اپنے غلط کاموں کو منظر عام پر لانے کی پاداش میں صحافیوں کی جان کے دشمن بن جاتے تھے اور آج کل ایماندار صحافی خود ہی اپنی موت آپ مر رہے ہیں۔بھائی، شمس کا خون کس کے سر ہو گا۔” نوجوان صحافی کی دردناک کہانی سن کر میرا دماغ مائوف ہو چکا تھا۔ یقینا فیلڈ ورک کرنے والے بہت سے صحا فیوں کی کہانی شمس جیسی ہو گی اور ان کا انجام خدا جانے کیا اور کیسا ہوتا ہو گا۔ میرے پاس اپنے دوست قاسم کو کہنے کے لئے کچھ نہ تھا۔ کیا آپ ان سوالات کا کوئی جواب دے سکتے ہیں…..؟؟؟

Tajammal Mahmood Janjua Logo
Tajammal Mahmood Janjua Logo

تحریر: تجمل محمود جنجوعہ
tmjanjua.din@gmail.com
0301-3920428
www.facebook.com/tajammal.janjua.5

Share this:
Tags:
meeting newspaper Reporter Tajammal Mahmood Janjua اخبار باب رپورٹر ملاقات
Lahore High Court
Previous Post لاہور ہائیکورٹ نے بے یارو مددگار بچے ماں کے حوالے کردیئے
Next Post ایس ایس پی چوہدری اسلم کی شہادت کو ایک برس بیت گیا
Chaudhry Aslam

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close