Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بابائے اردو صحافت مولانا ظفرؔ علی خان

November 26, 2018 0 1 min read
Maulana Zafar Ali Khan
Maulana Zafar Ali Khan
Maulana Zafar Ali Khan

تحریر : ڈاکٹر محمد ریاض چوھدری

27نومبر کوہر سال تحریکِ آزادی کے جلیل اُلقدر رہنما اور ایک نابغہ ء رو گار ہستی مولانا ظفر علی خان ؒ کی برسی منائی جاتی ہے بابائے اردو صحافت مولانا ظفرؔ علی خان ہنگامہ پرور سیاسی رہنما ، صاحب ِطرز انشاء پرداز ، بے باک صحافی، شعلہ بیان مقرر، بے مثل نقاد، اعلیٰ درجے کے مترجم اورقادرالکلام شاعر تھے۔ زبان وبیان ، فصاحت و بلاغت ،خطابت و صحافت ، بذلہ سنجی ، بدیہہ گوئی، شعلہ نوائی اور سخن گوئی کے حوالے سے اُن کی متذکرہ تمام صفات کا ایک عالم معترف ہے ۔ وہ ایک جامع الصفات شخصیت تھے ۔ ظفرؔعلی خان کوٹ میرتھ 19 جنوری 1873ء کو پیدا ہوئے ۔ اُنھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول وزیر آباد سے حاصل کی۔ اُن کے پھوپھا مولوی عبداللہ خان، مہندر سنگھ کالج پٹیالہ میں عربی کے پروفیسر تھے۔ مڈل پاس کرنے کے بعد اپنے پھوپھا کے پاس پٹیالہ چلے گئے۔مہندر سنگھ کالج پٹیالہ سے اُنھوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پھر تحصیل ِعلم کے لیے علی گڑھ چلے گئے، جہاں وہ سر سیّد احمد خان اورسیّد جمال الدین افغانی کے مذہبی اور سیاسی نظریات سے بہت متاثر ہوئے جب کہ اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے وہ بہت جلد علی گڑھ کے علمی و ادبی حلقوں میں مشہور ہو گئے۔

مولانا ظفرؔ علی خان اپنی صحافتی زندگی کا آغاز ’’زمیندار‘‘ اخبار کی اشاعت سے کیا۔ آغاز میں یہ ایک ہفت روزہ اخبار تھا اور اس کا مقصد زمینداروں اور کسانوں کی فلاح و بہبود تھا ’’زمیندار‘‘ مولانا کی زیر ادارت آیا، تو اس نے انگریز کے خرمن اقتدار میں آگ لگا دی۔مولانا نے ’’زمیندار‘‘ کی اشاعت لاہور سے شروع کی، تو لاہور سے شائع ہونے والے بڑے بڑے اُردو اخبارات کے چراغ ٹمٹمانے لگے اور ’’زمیندار‘‘ کی شہرت کا ستارہ آسمانِ صحافت پر جگمگانے لگا ۔ ’’زمیندار‘‘ کو اُس وقت برعظیم پاک و ہند میں غیر معمولی شہرت ملی جب 1911ء میں اٹلی نے ترکوں کے خلاف جنگ شروع کی اور طرابلس پر حملہ کر دیا۔ اس کے بعد جنگ ِبلقان چھڑ گئی ، مسلمانانِ برعظیم پاک و ہند اخوت ِاسلامی کے جذبے سے تڑپ اُٹھے۔ مولانا ظفر علی خان نے ’’زمیندار‘‘ کے ذریعے اس سلسلے میں جو خدمات سرانجام دیں، وہ تاریخ کے چہرے پر آنکھوں کے مصداق بن چکیں۔ مولانا عبدالمجید سالک اس ضمن میں رقم طراز ہیں:

’’زمیندار‘‘ نے مسلمانانِ برصغیر کے سامنے رنگا رنگ نعمتوں کا ایک خوان چُن دیا اور مولانا ظفرؔ علی خان نے اپنی پرُزور خطابت سے اخبارکو تقویت دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دنیاٹوٹ پڑی اور ہر طرف (زمیندار) اور اس کے مدیرکے کمالات کے غلغلہ بلند ہوگیا۔ طرابلس و بلقان کی لڑائیوں کی آگ مولانا ظفرؔ علی خان کے دل میں بجلی بن کر گری، تو اُنھوں نے جرأت اور مردانگی کا اظہار کرتے ہوئے ،ہندوستان میں سب سے پہلے انگریزی حکومت کے اقتدار کو چیلنج دے کر مسلمانوں کے دلوں میں حیاتِ اسلامی کی زبردست لہر دوڑا دی‘‘۔

اس لہر نے ہمہ گیر انگریز دشمنی کی صورت اختیار کر لی ، سوائے مسلمانوں کے ایک مفاد پرست ، مختصر طبقے کے ، باقی سب عوام و خواص اس لہر میں بہنے لگے ۔ مسلمانوں میں انگریز دشمنی کا یہ جذباتی طوفان دراصل ردِ عمل تھا، اُن بے پناہ مظالم اور مسلسل فریب کاریوں کا، جو گزشتہ دو صدیوں سے انگریز اسلامی ملکوں کے ساتھ کررہے تھے۔ مولانا ظفرؔ علی خان کی عملی و ادبی زندگی کو ایک خاص رُخ پر ڈالنے میں مذکور واقعات کا بہت بڑا حصہ ہے ۔ وہ نہ صرف ان سے متاثر ہوئے اور سرتاپا انگریز دشمنی کا پیکر بن گئے بلکہ اُنھوں نے اپنی زبان و قلم دونوں سے اسے بالخصوص پنجاب میں عام کیا اور لاہور کی فضا تو بالکل اسی رنگ میں رنگی گئی ۔ ’’زمیندار‘‘ ہر دَور کے ابتلا میں ثابت قدم رہا، حکومت نے 15مرتبہ اس کی ضمانتیں ضبط کیں ،جو ہمیشہ ادا کر دی گئیں اور ’’زمیندار‘‘ اعلیٰ صحافتی اقدار کے پیش نظر مسلمانانِ برعظیم پاک و ہند کی نمایندگی کرتا رہا۔ ’’زمیندار‘‘کی اس کامیابی کا راز مولانا کی حق گوئی و بے باکی کے علاوہ یہ بھی تھا کہ اُن کے عملے میں ہمیشہ لائق ترین، صحافی ، ادیب اور شعرا شامل رہے، 1934ء میں جب حکومت نے ’’ زمیندار‘‘ پر پابندی عائدکر دی، تو مولانا ظفرؔ علی خان ،جوبے پناہ جرأت اور شاندار عزم کے مالک تھے ،اُنھوں نے حکومت پر مقدمہ کردیا اور عدلیہ کے ذریعے حکومت کو اپنے احکامات واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ اگلے دن اُنھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ایک طویل نظم لکھی ، جس کے ابتدائی اشعار یہ ہیں :

یہ کل عرش اعظم سے تار آ گیا
’’زمیندار‘‘ ہو گا نہ تا حشر بند
تری قدرت کاملہ کا یقین
مجھے میرے پروردگار آ گیا

مولانا ظفر علی خان اخبار کی کتابت، طباعت اور عبارت کی طرف خاص توجہ دیتے تھے۔ مولانا ظفر ؔعلی خان، صحافت ، خطابت اور شاعری کے علاوہ ترجمے میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ حیدر آباد میں قیام کے دوران مولانا نے ’’لارڈ کرزن‘‘ کے انگریزی سفرنامہ ایران کا ترجمہ ’’خیابانِ فارس‘‘ کے نام سے شائع کیا، تو پنجاب یونیورسٹی نے آپ کو پانچ صد روپے انعام دیا۔ ’’لارڈ کرزن‘‘ نے سونے کے دستے والی چھڑی آپ کو پیش کی۔ اس کے علاوہ مولانا ظفرؔ علی خان کے تراجم میں: فسانۂ لندن، سیر ِظلمات اور معرکۂ مذہب و سائنس بہت معروف ہوئے ۔ اُنھوں نے ایک ڈراما ’’جنگ روس و جاپان‘‘ بھی لکھا

مولانا ظفر علی خان غیر معمولی قابلیت کے حامل خطیب اور استثنائی معیار کے انشائیہ پرداز تھے ۔صحافت کی شاندار قابلیت کے ساتھ ساتھ مولانا ظفر علی خان شاعری کے بے مثال تحفہ سے بھی مالا مال تھے۔ ان کی نظمیں مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے بہترین کاوشیں کہلاتی ہیں۔ وہ اسلام کے سچے شیدائی، محب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اپنی نعت گوئی کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ ان کی شاعرانہ کاوشیں بہارستان، نگارستان اور چمنستان کی شکل میں چھپ چکی ہیں۔ جب کہ شہرۂ آفاق تخلیقات میں ’’جسیات‘‘ اور’’ بہارستان‘‘نظموں کے مجموعے ہیں، بہارستان کے تین حصے ہیں : ’’خیالستان‘‘، ’’چمنستان‘‘ اور ’’نگارستان‘‘۔ مولاناظفرؔ علی خاں کا اُسلوب منفرد تھا اوراُن کی تحریریں نثری ہو یا شعری دونوں ہی ملّی اُمنگوں کی ترجمان ہیں ۔ علاوہ ازیں عشق رسولؐ اُن کا سرمایۂ حیات تھا ۔ اُن کی نعتیں اس جذبے کی بھر پور ترجمان ہیں ۔چند اشعار پیش ِ خدمت ہیں:

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمھی تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دُنیا تمھی تو ہو
اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب
صبحِ ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب
وہ شمع اُجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
اک روز جھلکنے والی تھی سب دُنیا کے درباروں میں
جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں
ہوتا ہے جن میں نامِ رسولِ خدا بلند ان محفلوں کا مجھ کو نمایندہ کر دیا
سردار دوجہاں کا بنا کر مجھے غلام میرا بھی نام تابہ ابد زندہ کر دیا

ترکی کی امداد کے لیے سرمایہ اکٹھا کرنے کیلئے 30 نومبر 1912ء کو باغ بیرون موچی گیٹ میں ایک جلسہ عام ہوا، جس میں علامہ اقبالؒ نے اپنی مشہور نظم ’’جواب شکوہ ‘‘ پڑھی ۔ اشرف عطا لکھتے ہیں : ’’ علامہ اقبالؒ کے نظم پڑھنے سے قبل مولانا ظفرؔ علی خاں نے کہا : ہم لوگ بھی نظمیں کہتے ہیں مگر ڈاکٹراقبالؔ کی اور ہی بات ہے ۔ وہ کبھی کبھی نظم کہتے ہیں، مگر اس میں جبرائیل کی پرواز کا رنگ ہوتا ہے ‘‘۔ 1912ء میں ہی مولاناظفرؔ علی خان نے ایک نظم کہی، جس کا ایک شعر یہ ہے :

حاسدان تیرہ باطن کو جلانے کے لیے
تجھ میں اے پنجاب اقبالؔ و ظفرؔ پیدا ہوئے

1920ء میں جب انجمن حمایت اسلام کے حالات ٹھیک نہ رہے تو مولانا ظفرؔ علی خاں اور دیگر اصحاب کی خواہش پر علامہ اقبالؒ کو اس کا سیکریٹری چن لیا گیا ۔ اس پر اپنی خوشی کا اظہار کرنے کے لئے مولانا نے نظم ’’حمایت اسلام لاہور ‘‘ لکھی

پھر یک بیک ہوا گئی پنجاب کی
پلٹ گردش میں آخر آ ہی گیا چراغ

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب پاکستان کا واحد صوبہ تھا، جس نے اُردو کو اپنی زبان کے طور پر اپنایا اور اسے کام کی زبان بنایا باوجود اس کے کہ پنجابی اس صوبے کی مادری زبان ہے اور سب سے زیادہ بولی جاتی ہے ۔ اس طرح اُردو انگریزی کے ساتھ پنجاب کی اہم لکھی جانے والی زبان بن گئی اور دونوں تقریبا ایک جتنی مقدار میں سرکاری اور تعلیمی زبان کے طور پر استعمال ہوتی رہیں۔ پنجاب کے دانشوروں ، لکھاریوں ، شاعروں اور صحافیوں نے ، جن میں سر فہرست علامہ اقبال ؔاور مولانا ظفر ؔعلی خان تھے ، اُردو کی زلف گرہ گیر کو محبت اور توجہ سے اس طرح سنوارا کہ وہ صوبے کی لاڈلی زبان بن گئی ۔ دلّی اور لکھنو کے بعد پنجاب(لاہور) نے اُردو کی ترقی و ترویج میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا۔مولاناظفر ؔعلی خاں کے چند ضرب المثل اشعار ملاحظہ کریں:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
سلیقہ مے کشی کا ہو تو کر لیتی ہے محفل میں
نگاہِ مستِ ساقی مفلسی کا اعتبار اب بھی
قلم سے کام تیغ کا اگر کبھی لیا نہ ہو
تو مجھ سے سیکھ لے فن اور اس میں بے مثال بن
کرانا ہے قلم ہاتھوں کو، رودادِ جنوں لکھ کر
تو اس دور ستم پرور میں میرا ہم قلم ہو جا

مولانا ظفر علی خاں نے پُر آشوب دور میں قلم کی حرمت کا پرچم بلند کرکے سچائی کا ساتھ دیا۔ انگریزی سامراجیت کے خلاف وہ امن کا پرچم لے کر آگے بڑھے۔ اُنھوں نے صحافتی اقدار کے فروغ کے لیے کسی بھی سودے بازی کو قبول نہ کیا۔ عصر حاضر میں سچ لکھنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے ۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ترکی میں مصطفی کمال کی تلوار اور ہندوستان میں ظفر علی خاں کے قلم نے مسلمانوں کو بیدار کیا ۔ موجودہ دور کے صحافیوں کے لیے ان کی زندگی ایک نمونہ ہے ۔مولانا ظفر علی خان کی ساری زندگی انگریز سامراج سے قلمی جہاد کرتے ہوئے گزر گئی۔ اوسطاً اُن کو زندگی کے ہر تیسرے روز پابند سلاسل ہونا پڑا۔ اُن کی صحت قابلِ رشک تھی، لیکن پاکستان بننے کے دو سال بعد اُن پر ضعف کا اعصابی حملہ ہوااور آخر کار 27نومبر 1956ء کو دن کے گیارہ بجے ،وہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔

Dr. Muhammad Riaz Chaudhry
Dr. Muhammad Riaz Chaudhry

تحریر : ڈاکٹر محمد ریاض چوھدری

Share this:
Tags:
abilities journalism life mathematics Urdu اردو زندگی صحافت صلاحیتوں میٹرک
Imran Khan
Previous Post غربت مٹاؤ پروگرام کیلئے 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز قرض لینے کی منظوری
Next Post چینی قونصیلٹ حملے پر سیاست
Chinese Consulate Attack

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close