
کوئٹہ (جیوڈیسک) چیئرمین نیب (قومی احتساب بیورو) چوہدری قمر الزمان نے کہا ہے کہ ایک سال کے اندر کرپشن میں کمی واقع ہوئی ہے۔ میاں برادران کے خلاف جو ریفرنس بنے تھے ،انکے خلاف انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی ہوئی ہے۔ بلوچستان میں تین کیسوں میں سے ایک کیس ریفرنس کیلئے تیار ہے باقی دو کیس بند کر دیئے گئے ہیں کیونکہ انکے بارے میں کوئی ثبوت نہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا نیب گذشتہ 14-15 سال سے موجود ہے۔ تاہم اس ادارے کی کارکردگی کمزور ضرور تھی مگر یہ کام کر رہا تھا۔ بلوچستان میں نیب نے جو اب تک کارکردگی دکھائی وہ بہتر ہے۔ نیب کے پاس 2013ء میں تین سو کیس دائر کئے گئے تھے جن میں سے 45 کیس ایسے تھے جنہیں ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بند کر دیا۔ نارگیننگ کا مطلب شاید عام آدمی کے سمجھ میں نہیں آتا جس نے کرپشن کی اس کے پاس تین چانس ہوتے ہیں کہ پہلے جب تحقیقات ہو رہی ہو تو وہ مان لیں کہ میں نے جرم کیا دوسرا راستہ ہوتا ہے کہ جو رقم اس نے لوٹی ہے وہ واپس کر دے۔
اگر وہ یہ بات بھی نہ سمجھیں تو اس کے خلاف ریفرنس عدالت میں بھیجا جاتا ہے ہم پر کسی قسم کا کوئی دبائو نہیں ہم بالکل آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ میڈیا کا مکمل تعاون ہمیں حاصل ہے۔ جو آدمی، سیاستدان یا سرمایہ دار نااہل ہو جاتا اس پر دس سال کیلئے پابندی ہوتی ہے وہ پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بن سکتا ہے۔ اگر کوئی تاجر کرپشن میں پکڑا جائے تو آٹھ سال تک کسی بینک سے نہ قرضہ لے سکتا ہے۔
ہمارے نزدیک یہ نہیں ہوتا کہ کونسا شخص کسی سیاسی جماعت سے ہیں یا نہیں ہم ثبوت کی بنیاد پر ریفرنس تیار کر کے عدالت میں دائر کر دیتے ہیں۔ 2011 سے لیکر 2013 تک سوا تین سو کیس تھے جن میں سیاست دان بھی تھے اور دوسرے لوگ بھی شامل تھے ان میں سے دو سو کیسوں کا فیصلہ ہو گیا ہے باقیوں کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ بلوچستان سے تین کیس ایسے تھے جن کے بارے میں مکمل تحقیقات کی گئی۔ اب تک پورے ملک سے 1543 ملین لوٹی ہوئی رقم کو واپس حاصل کیا گیا۔
ڈی جی نیب بلوچستان خالد اقبال نے کہا کہ ہم نے ایک ٹرک پر چھاپہ مارا یہ ٹرک مسلم باغ جا رہا تھا جس میں گندم موجود تھی مگر محکمہ خوراک کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے یہ ٹرک ایک گودام میں خالی کیا جا رہا تھا۔ ہمارے پاس جب ثبوت ہوتے ہیں اس وقت ہم کیس تیار کرتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی نیب نے بتایا کہ گذشتہ روز بھی ایک فلور مل پر چھاپہ مار کر گندم سے بھرا ہوا ٹرک قبضے میں لیا ہے تمام کیسز میں قانونی قواعد و ضوابط پورے کرنے پڑتے ہیں۔
حکومتی دبائو کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سات ماہ سے کام کر رہے ہیں کسی قسم کا کوئی دبائو نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہ میڈیا ہائوسز کے خلاف کوئی شکایت نہیں ملی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام بھرتیاں صوبائی کوٹہ سسٹم کے تحت ٹیسٹ اینڈ ٹرائل سمیت تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کی گئیں۔ آئی ایل پی کے مطابق قمر الزمان چودھری نے کہا کہ ججوں اور فوجی افسروں کے خلاف کرپشن کی تحقیقات ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں۔
گذشتہ ایک سال کے دوران کرپشن کی شرح میں کمی آئی ہے۔ 1999ء سے اب تک 2 سو 60 ارب روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔ اس وقت تک 941 کیسز سے متعلق معلومات اور 624 مقدمات کی تحقیقات جاری ہے۔ 705 ریفرنسز دائر کیے جا چکے ہیں۔ عاطف سنجرانی اور اسلم بزنجو سے متعلق مقدمات کو بند کر دیا گیا ہے، مقبول احمد لہڑی کے خلاف کیس کو آگے لے جایا جا رہا ہے۔
