
تحریر : ایاز محمود ایاز
ایک ایسا معاشرہ جس کی سوچ پہ آج بھی غلامی کی زنجیریں بندھی ہوئی ہوں پھر بھلا وہ اپنے حقوق کے لئے آواز کیسے نکال سکتا ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بسنے والے کروڑوں لوگ ووٹ کی توہین کرتے ہوئے پھر سے انہی چور ڈاکوؤں کو اسمبلیوں تک پہنچانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتے ہیں۔
گاہے بگاہے ان غلام ذہنوں پر کوئی نہ کوئی دستک دیتا رہتا ہے کبھی اسمبلیوں کے اندر کوئی ایک آدھ مدھم سی مخلص آواز کبھی سڑکوں پہ ڈاکٹر قادری اور عمران خان کی صورت میں مگر ; گھروں میں ٹی وی پہ بیٹھے ہوئے بے حس لوگ اندر کی آواز کو دباتے ہوئے ضمیر سے مفرور ہو جاتے ہیں اور باہر نہیں نکلتے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ایک ایسا معاشرہ جہاں مجرموں کو چھڑانے کے لئے وکیل نہیں جج خریدے جاتے ہیں وہاں پر بے حسی کا تناسب سو فیصد ہے 17 جون کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھآ۔
جب ماڈل ٹاؤن میں بے گناہ افراد کو انکی اپنی محافظ پولیس نے درندگی سے گولیوں کا نشانہ بنایا سب کچھ میڈیا کی آنکھوں کے سامنے ہوا ساری دنیا نے بربریت کے یہ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے ایف آئی آر کاٹی گئی اس پہ باقر نجفی کو تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ بنایا گیا مگر آج 2 سال ہو گئے ہیں اس کمیشن کی رپورٹ کو منظرعام پر نہیں لایا گیا چودہ بے گناہ افراد کی موت پر انصاف کی جھوٹی تسلیاں دینے والے حکمران جماعت کے وزرا کے پاس آج بھی ٹاک شو میں اس ظلم پہ شرمندگی کے سوا کوئی جواب نہیں ہوتا آخر اسکی وجہ کیا ہے اس کیس کے لئے کمیشن کے ججوں کو تبدیل کیا گیا۔
حکومتی من پسند ججز کو بٹھا کر اپنی مرض کا فیصلہ لیا گیا بےگناہ لوگوں کے لواحقین کو کروڑوں روپے کے حوض خریدنے کی کوشش کی گئی جو ناکام رہی ۔۔۔خادم اعلیٰ پنجاب جہاں بھی جاتے ہیں اپنی اداکاری سے حبیب جالب کی وہ نظم ً; میں نہیں مانتا آج بھی بڑے جوش سے سناتے ہوئے عوام کو بے وقوف بناتے ہیں انہی کے دور میں انکے گھر سے محض چند میل دور سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا جہاں معصوم بچیاں اپنی چادروں سے گولیاں روکتی رہی۔
چودہ نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا مگر انصاف تو دور کی بات لواحقین کی بات تک نہ سنی گئی ڈاکٹر قادری کے حوالے سے ہمیشہ پروپیگنڈا کرکے اس کیس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر منہاج القرآن والے اپنے لوگوں کا خون بھولے نہیں ہیں اور یہ بات حکمران بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب بھی حکومت تبدیل ہوئی تو یہ کیس شہبازشریف کے گلے کا پھندا بن جائے گا۔
17 جون کو طاہر القادری نے ایک بار پھر سے احتجاجی تحریک چلانے اور حکومت کےخلاف سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کیا ہے جسکا مقصد انصاف کا حصول ہے اور ہمیشہ کی طرح ن لیگ کے وزرا اپنی جان بچانے کے لئے انکی کردار کشی پہ اترے ہوئے ہیں جہاں مختلف سیاسی جماعتوں نے طاہر القادری کے ساتھ نکلنے کا اعلان کیا ہے وہی کچھ جماعتیں ابھی دھرنے کے دنوں میں انکے ساتھ شامل ہوں گی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے آرمی چیف سے انصاف کی اپیل کی ہے اور اس بار حکومت کے لئے حالات کافی مشکل نظر آ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : ایاز محمود ایاز
