Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تیز ترین انصاف سرعام پھانسی میں رکاوٹ کیوں

February 26, 2018 0 1 min read
Hanging
Hanging
Hanging

تحریر : سید عارف سعید بخاری
پاکستان کی تاریخ میں تیز ترین عدالتی ٹرائل میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سپریم کورٹ کے حکم پر 7 روز میں قصور میں معصوم بچی زینب کے ساتھ درندگی اور بعد ازاں قتل کر کے اس کی لاش کوڑے کے ڈھیر پر پھینکنے والے مجرم عمران علی کو 4بار سزائے موت سنا دی ہے ۔عدالتی فیصلے کو بچی کے والد امین انصاری سمیت ہر طبقہ فکر کی طرف سے حقیقی انصاف سے تعبیر کیا جا رہا ہے ۔ بچی کے والدنے مجرم کو سرعام پھانسی کی سزا دینے جبکہ اس کی والدہ نے اسی کچرے کے ڈھیر پر اسے لٹکانے اور نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔عوامی وسماجی حلقے اور شہریوں کی اکثریت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ مجرم کو سرعام پھانسی دی جائے ۔ اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست قبل از وقت قرار دے نمٹا دی گئی اور واضح کیا گیا ہے کہ مجرم کے پاس اپیل کیلئے ابھی فورم موجود ہے، عدالت میں دائر درخواست میں یہ موقف پیش کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل نمبر:22کے تحت مجرم کو سرعام پھانسی کی سزا دی جا سکتی ہے ۔ادھر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آئین پاکستان میں سرعام پھانسی دینے کی کوئی شق موجود نہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کا آئین یا قانون کسی درندے کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ زیادتی کرے یا اُس کی جان ہی لے لے ۔ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے اور نہ ہی ایسا ممکن ہے تو پھرکسی درندے کو سرعام سزا دینے کیلئے آئینی شق کا سہارا لینے کی ضرورت کیوں محسوس کی جاتی ہے ،اگر اس کام میں حکومت کو رکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کو دور کرے اور اس کیلئے آئین اور قانون میںفوری ترمیم کرے۔

سرعام سزا سے بھی زیادہ عام خیال یہ ہے کہ ایسے درندے کو سنگسار کر دینا چاہئے۔اور اُس کی لاش کو بیچ چوہرائے میں لٹکادینا چاہئے ادھر اسلامی نظریاتی کونسل اور چاروں صوبوں نے زینب بی بی کے قاتل عمران کو سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کر دی ہے ۔تاہم اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ مجرم کو کسی چوک یاچوراہے کی بجائے جیل کے اندر پھانسی سے کر مناظر میڈیا پر دکھائے جانا چاہئے ۔سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ سرپیم کورٹ نے سرعام لٹکانے پر پابندی لگا رکھی ہے ،سینٹ قائمہ کمیٹی قانون کے اجلاس میں پنجاب اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اراکین کا کہنا ہے کہ ایک شخص کیلئے قانون سازی کے مثبت اثرات نہیں آئیں گے ، چاروں صوبوں کے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے جیل حکام کا کہنا ہے کہ ہم اس طرح پورے معاشرے کو سزا نہیں دے سکتے۔سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ امریکہ سمیت بڑی مغربی قوتیں سرعام پھانسی دینے کے حق میں نہیں، اسے انسانی حقوق کے منافی قرار دیتی ہیں اور اس حوالے سے پاکستان سمیت اکثر ممالک پر دبابؤ بڑھا دیا جاتا ہے ۔جبکہ پھانسی کے عمل کی تشہیر کے حوالے سے امریکہ کا دوہرا معیار بھی ایک سوالیہ نشان ہے اس کی مثال ایمل کانسی اور عراقی صدر صدام حسین کی ہے کہ جنہیں پھانسی کی سزا دئیے جانے کے بعدمیڈیا پر اس کی مکمل تشہیر کی گئی ۔ امریکی دباؤ پر پاکستان میں سرعام پھانسی دینے کا رواج نہیں ہے۔

سرعام سزا کی صورت میں اس بات کا بھی امکان ہے کہ مشتعل عوام حکومت کیلئے امن و مان کا مسئلہ نہ پیدا کر دیں اور ایک بار بھی یہ عمل مزید انسانی جانیں ضائع ہونے کا سبب بنے۔اسی بناء پر حکومت سرعام پھانسی دینے کے مطالبہ کو نظر انداز کرنے پر مجبور نظر آتی ہے ۔لیکن حالات جس سمت جا رہے ہیں ممکن ہے کہ حکومت کو عوامی دباؤ پریہ اقدام اٹھاناہی پڑے ۔ مجرم عمران کو سنائی جانے والی سزا پر بھی بعض حلقے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں ،میڈیا نے واقعہ کے بعدمبینہ طور پر یہ انکشافات کئے تھے کہ مجرم کا تعلق عالمی پورنو گرافی مافیا سے ہے اور اس واقعہ میں ایک حکومتی وزیر یا کوئی ایسا آفیسر ملوث ہے کہ جو نفساتی جنسی مریض ہونے کے ناطے معصوم پھولوں کا دلدادہ ہے وہ ناہنجار شخص اپنی تسکین کیلئے اب تک کئی بچوں سے زیادتی کا ارتکاب کر چکا ہے جسے حکومت کے ذمہ دار افراد کی پشت پناہی حاصل ہے ۔سانحہ قصور میں ملوث ایک شخص جس کے مکان میں مذکورہ بچی کو رکھا گیا تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس نے بھی خود کشی کر لی تھی ۔یوں عمران کو عدالت نے کم مدت میں سزا سنا دی ہے ۔

کہتے ہیں انصاف وہ ہے جو انصاف نظر آئے ۔ ماضی میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے سزا پانے والے اکثر مجرمان کو اپیل کی صورت میں لازماً ریلیف دیا جاتا رہا ہے ۔سزا پانے والے افراد اور ان کے لواحقین کا عموماً اپنی اپیل میں یہ موقف ہوتا ہے کہ انہیں 30دن میں ٹرائل کرکے سزا سنا دی گئی ہے اس مختصر مدت میں وہ اپنے دفاع میں زیادہ گواہ پیش نہ کر سکے یعنی کہ انہیں صفائی کا پورا موقع ہی فراہم نہیں کیا گیا ۔انسداد دہشت گردی عدالت قانونی طور پر 30دن میں فیصلہ سنانے کی پابند ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ اسی انسداد دہشت گردی عدالت میں بے نظیر بھٹو قتل کیس تقریباًٍ 10سال چلتا رہا ۔ بالآخر 2پولیس افسران کو قید و جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی جنہیں اپیل میںعدالت نے ریلیف دے دیا تھا ۔اسی طرح انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں چلنے والے اکثر کیسوں میں دئیے گئے فیصلوں میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جا سکتے لہذاء اپیلوں میں مجرموں کو کافی حد تک ریلیف ملا ۔پھانسی والوں کی سزا بھی عمر قید میں تبدیل کی گئی اور عمر قید والوں کی سزا میں کمی کی گئی یا انہیں برّی کیا جاتا رہا ہے ۔ اب زینب زیادتی و قتل کیس میں بھی عدالت ہذاء نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں 7دن ٹرائل کے بعد اپنا فیصلہ سنایا ہے ۔دیکھئے اپیل کی صورت میں مجرم کو کتنا ریلیف ملتا ہے ۔ یا اُس کی سزا برقرار رکھی جاتی ہے ۔۔؟اس بات کا قوی امکان ہے کہ کیس چونکہ سنگین نوعیت کا ہے اس لئے مجرم مذکورہ کو کسی قسم کا ریلیف نہیں ملے گا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم انصاف کی فراہمی کے سلسلے میں اپنے عدالتی نظام میں اسقدر تبدیلی لانے کے قابل ہو گئے ہیں کہ مجرموں کو ہفتہ یا 10دن ٹرائل میں سزائیں سنا سکیں اور بعد ازاں ان پر عملدرآمد بھی یقینی طور پر کروا سکتے ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ایسا کم از کم پاکستان کی حد تک تو ممکن نظر نہیں آتا ۔آج بھی طویل عدالتی سسٹم اور قانونی موشگافیوں کی بدولت سینکڑوں بلکہ ہزاروں ،لاکھوں لوگ جن میں خواتین بھی شامل ہیں ،انہی عدالتوں میں دھکے کھانے پر مجبور اور بربادی کی تصویر بنے اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں یا دنیا سے ہی سدھار چکے ہیں ۔۔تھانوں میں درج کرائی جانے والی بیشتر ایف آئی آرزجھوٹ پر مبنی اور پولیس و وکلاء صاحبان کی ملی بھگت کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔یہی جھوٹے مقدمات پولیس اور عدالتی اہلکاروں کی کمائی کا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔ عدالتوں میں دھکے کھانے والوں پر جلد ہی بزرگوں کی یہ بات آشکار ہونے لگتی ہے کہ” کچہری کی دیواریں بھی پیسہ مانگتی ہیں ”۔عدالتی سسٹم میں چلنے والی درخواستیں ،حکم نامے اور ہدایات بھی ”چمک ” کے بغیر سفر نہیں کر سکتیں ۔ان تمام کاموں کیلئے ”کچہری مافیا ” اپنے مضبوط پنجے گاڑے ہوئے ہے ۔یہی مافیا ان اہلکاروں کی اوپر کی آمدنی کا ذریعہ اور رازدار ہے ۔روٹین میں کوئی کام کروانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ وکیلوں کے منشی ، عدالتی کارندے اور ٹاؤٹ ان کاموں میں” سہولت کاری” کا فریضہ بخوبی ادا کرتے ہیں ۔کچہری آنے والے سائل کو کوئی ایک بھی فرد معاف کرنے کو تیار نہیں ۔ایسے میں انصاف ،انصاف اور وہ بھی تیز ترین انصاف کی اُمیدیں رکھنا عبث ہے بیشک ! زینب کے قاتل درندے کو چار بار سزائے موت سنا ئی گئی ہے۔

اس فیصلے کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔لیکن ابھی اس کی سزا پر عملدرآمد میں کچھ وقت لگے گا ۔گذشتہ دنوں دنیا پور (لودھراں)میں بھی 6 سالہ عاصمہ کواس کے تایا زاد بھائی حیدر نے زیادتی کے بعد قتل کرکے اس کی لاش اس کے گھر کے قریب ہی واقع جوہڑ میں پھینک دی، عاصمہ 19 فروری کی شام لاپتہ ہوگئی تھی اور 4 روز کے بعد اس کی لاش برآمد ہوئی۔ ڈی پی او امیر تیمور کے مطابق ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔، ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اعتراف جرم کرلیا ہے ،سانحہ قصور کے بعد ملک بھر میں اس قسم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے عدالتی سسٹم میں موجود خرابیوں کو جلد سے جلد دور کرنے کی تدبیر کی جائے ۔ مجرم عمران کو سرعام پھانسی دے کر” نشانِ عبرت”بنا نے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ عدالتوں میں چلنے والے سالہا سال پرانے کیسوں کے فیصلے جلد از جلد نمٹائے جا سکیں خصوصاً زیادتی اور قتل کے واقعات میں ملوث درندوں کو مختصر وقت میں ٹرائل کے ذریعے سرعام ”نشان عبرت” بنانے کیلئے ضروری اقدامات اٹھانا ہونگے ۔ مجرم عمران کو قصور شہر میں خصوصاًاُس کے محلے اور اُس مقام پر کہ جہاں اُس نے معصوم بچی پر ظلم ڈھائے سرعام الٹا لٹکانا ہوگا اوراس کے بعدبھی ایسے جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ یہی سلوک کیا جانا چاہئے۔میڈیا نے جس طرح سانحہ قصور میں متاثرہ بچی کی مسلسل تصویر دکھا کر انصاف کی دہائی دیتا رہا اسی طرح مجرم عمران کو بھی پھانسی دینے کے سارے عمل کو میڈیا پر دکھانے کی اجازت ملنا چاہئے ۔ ہمیں اُمید ہے کہ حکومت پاکستان اس معاملے میں عالمی دباؤمیں نہیں آئے گی ۔ کیونکہ اس وقت بچی کے والدین سمیت ساری قوم مجرم عمران کو سرعام پھانسی پر لٹکادیکھنا چاہتی ہے ۔حکومت کو بچی کے والدین اور عوام کی خواہش کا احترام کرنا ہوگا ۔جب تک درندوں میں سزا کا خوف پیدا نہیں ہوگا ایسے واقعات کی روک تھام مشکل ہے ۔ معاشرتی برائیوں کے تدارک اور انسانی درندوں کو نکیل ڈالنے کیلئے حکومت کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہو گی عمران کو نشان عبرت بنانے سے ہی معصوم بچی کی روح کو تسکین مل سکے گی۔

Syed Arif Saeed  Bukhari
Syed Arif Saeed Bukhari

تحریر : سید عارف سعید بخاری
Email:arifsaeedbukhari@gmail.com

Share this:
Tags:
barrier justice pakistan supreme court Syed Arif Saeed Bukhari terrorism انصاف پاکستان پھانسی دہشت گردی رکاوٹ سپریم کورٹ
Paris Adbi Forum Ceremony
Previous Post پیرس : شام محبت” کی تقریب کا انعقاد، تقریب کی سربراہی سینئر کشمیری رہنما زاہد ہاشمی اور معروف پاکستانی شاعرہ ثمن شاہ نے کی
Next Post سچ اور جھوٹ کا نتارا
Justice

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close