Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جسٹس منظوراحمد ملک کا جوڈیشل اکیڈمی سے خطاب

April 1, 2015 0 1 min read
Manzoor Ahmad Malik
Manzoor Ahmad Malik
Manzoor Ahmad Malik

تحریر: محمد صدیق پرہار
چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس منظوراحمد ملک نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں پنجاب بھر کے وکلاء کے نمائندوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عہدے کامطلب عقل کل ہونانہیںہوتا ،لامحدودتوصرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔مسٹر چیف جسٹس نے یہ کہہ کراہم بات کی توجہ دلائی ہے کہ اکثرایسا ہوتاہے کہ جس کوکوئی عہدہ مل جائے وہ خودکوعقل کل سمجھنے لگتا ہے۔ عہدہ مل جانے کے بعدانسان کی ذمہ داریوںمیں اضافہ ہوجاتا ہے۔جس کوکوئی بڑاعہدہ مل جائے تووہ کہتا ہے کہ جومیںکہوں اسی پرعمل کیاجائے۔ مجھے کوئی سمجھانے کی کوشش نہ کرے۔ایسے عہدیداربھی ہیں جواپنے ماتحتوں کے ساتھ مشورہ کرکے اپنے فرائض منصبی اداکرتے ہیں۔ اسلام میں بھی کسی انسان کوعقل کل نہیں کہاگیا۔ کسی انسان کواپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرنے کی اجازت نہیں ہے۔معاملات میںمشورہ کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔خودسرکاردوجہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی کئی باتوںمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا۔ لامحدودذات صرف اورصرف واقعی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ وکلاء کے بغیرنظام عدل کبھی قائم نہیں کرسکتا۔ کیونکہ وکلاء کی مدد سے ہی عدالتیں چلتی اورجج فیصلے کرتے ہیں۔وکلاء عوام کے ساتھ بھی تعاون کرتے ہیں اورعدلیہ سے بھی۔صرف وکلاء ہی نہیں عدلیہ میں کا م کرنے والادیگرعملہ اورکلرک ایڈووکیٹ حضرات بھی نظام عدل کے معاونین میں شامل ہیں۔وکلاء نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کاکہناتھا کہ آپ سب صوبے کے ہزاروں وکلاء کے براہ راست چنے ہوئے نمائندے ہیں۔وکلاء کی اجتماعی سوچ بھی غلط نہیں ہوتی۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ جج اوروکیل میں صرف ذمہ داریوں کافرق ہے۔جوکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے سونپی گئی ہیں۔جج کاکام انصاف کرنا ہے جبکہ وکیل کاکام قانون کی روسے معاونت کرناہے۔

انصاف کی فراہمی میں دونوںکی ذمہ داریاں اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ان کاکہنا تھا کہ یہ پوزیشن تبدیل ہوتی رہتی ہے۔مگردونوںمیں سے کسی کابھی احترام کم نہیں ہے۔ادب واحترام ہمارے مذہب اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔اسلام میں احترام کوبڑی اہمیت دی گئی ہے۔عوام فاضل جج صاحبان اوروکلاء کادل سے احترام کرتے ہیں۔سیاستدانوں کی طرف سے جوبیان بیازیاں ہوتی رہتی ہیں۔عوام اس کی پرزورمذمت کرتے ہیں۔اگرکسی کوکسی فاضل جج سے کوئی شکایت ہے تووہ قانونی راستہ اختیارات کرناچاہیے۔ان سیاستدانوںکوعدلیہ کے احترام کابھی خیال کرناچاہیے۔وکلاء صاحبان قابل احترام ہیں اس سے کسی کوانکارنہیں ہے۔ تاہم کچھ ایسے وکیل بھی دیکھے ہیں جوفریقین کے درمیان صلح کی کوششیں کامیاب نہیںہونے دیتے۔ مسٹرجسٹس منظوراحمدملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سول جج سے لے کرعدالت عالیہ تک تمام جج صاحبان کی تقرری وتعیناتی کے لیے بطوروکیل پریکٹس ہوناضروری ہے۔جج صاحبان دستیاب شہادتوں ، دستاویزات اورقانون کے آئینے میں انصاف کرتے ہیں۔وکلاء اپنے موئکلوں کو انصاف دلانے کے لیے قانون کاباربارمطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ جج صاحبان کے بعد یہ وکلاء ہی ہیں جوقانون کوبہترطریقے سے جانتے ہیں۔جج صاحبان اوروکلاء حضرات قانون خودنہیں بناتے۔ اس کے مطابق مظلوموں کوانصاف فراہم کرتے ہیں۔فاضل چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ ایک چیف جسٹس ہونے سے زیادہ وہ ایک وکیل ہونے پرفخر کرتے ہیں۔ اورآج بھی ان کے گھرکے باہرایڈووکیٹ کی تختی لگی ہوئی ہے۔ جوکبھی تبدیل نہیں ہوگی۔ جج بننے سے پہلے بھی وکیل ہوتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وکیل ہوتے ہیں۔ جسٹس منظوراحمد ملک کی یہ بات وکلاء کے پرفیشن کوان کاخراج تحسین ہے۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ جب سے جوڈیشل کمیشن پاکستان نے انہیں عدالت عالیہ کاچیف جسٹس نامزدکیا ہے۔تب سے انہوںنے صوبے کے تمام جوڈیشل افسران اورعدالت عالیہ کوہدایات جاری کی تھیں۔کہ اکتیس دسمبر دوہزارچودہ تک کے زیرالتواء مقدمات کی حقیقی صورت حال کی تصدیق کے بعد فہرستیں تیار کی جائیں اور پچھلے بیس دنوںمیں تمام عدالتی افسران واہلکاروں نے بغیر کسی چھٹی کے فہرستیں تیارکی ہیں۔

اس سے اس بات کااندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنی تعدادمیں ایسے مقدمات ہیں جوزیرالتواء چلے آرہے ہیں۔کہ بیس دن توصرف ان کی فہرستیں بنانے میں لگ گئے۔ یہ کام کسی ایک عدالت میں نہیں پنجاب کی تمام عدالتوںمیںہواہے۔ اگرایک ہی عدالت میں یہ کام کیاجاتا پھر تو مہینے لگ جاتے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت عالیہ کی پرنسپل سیٹ پر٦٨ ہزار، ملتان بنچ میں تقریباً ٣٦ہزار، بہاوالپور اور راوالپنڈی بنچوں میں تقریباً گیارہ گیارہ ہزار مقدمات زیرالتواء ہیں جبکہ صوبے کی ضلعی عدلیہ سمیت ٨٠ سے زائد سپیشل کورٹس اور ٹربیونلز میں دس لاکھ کے قریب پرانے مقدمات ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ مقدمات کی تعداد دیکھ کر دو پہلو سامنے آتے ہیں کہ جس میں اچھی بات یہ ہے کہ عوام اپنے مقدمات عدالتوں میں لے کرآتے ہیں جوکہ ایک مہذب معاشرے کی نشانی ہے۔ جبکہ دوسری جانب سے یہ امرقابل تشویش ہے کہ انہیں بروقت انصاف فراہم نہیں ہوتا۔یہ ایک تکلیف دہ پہلو ہے۔زیرالتواء مقدمات کی جوتعدادبتائی گئی ہے۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ مقدمات کب سے زیرالتواء ہیں۔ تمام مقدمات کے بارے میں تونہیں بتایا جاسکتا کہ وہ کب کب سے زیرالتواء آرہے ہیں۔ تاہم اس مقدمہ کے بارے میں بتادیاجاتا توبہترتھا جو سب سے زیادہ طویل عرصہ سے زیرالتواء آرہا ہو۔اس سے یہ معلوم ہو جاتا کہ مقدمات کب سے زیرالتواء ہیں۔ یہ تعداد تو عدالتوں میں ان مقدمات کی ہے جوزیرالتواء میں اوریہ تعدادتو صرف اس ایک صوبے کی عدالتوں کی ہے جس صوبے میں دیگر صوبوںکی نسبت انصاف فراہمی کی رفتاربہترہے۔

Cases Law
Cases Law

اگر سپریم کورٹ ، اور ملک بھر کی ہائی کورٹس، ڈسٹرکٹس اینڈسیشن ججز کی عدالتوں ، سول عدالتوں، سپیشل کورٹس اور عدالتی ٹربیونلز میں زیرالتواء مقدمات کی فہرست سامنے آجائے تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔اس سلسلہ میں ایک اورقابل غوراورقابل تشویش پہلو یہ بھی ہے کہ یہ تعدادتوایک صوبے میںان مقدمات کی ہے جوزیرالتواء ہیں۔جتنے عرصہ کی یہ تعدادہے ۔ اتنے عرصہ میںصوبے کی عدالتوںنے کتنے مقدمات کے فیصلے کیے ہیں۔ان کی تعدادان سے کہیں زیادہ ہے۔قارئین میں سے کسی کوعدالت میں پیش ہوناپڑا ہے مدعی کے طور پر یا مدعا علیہ کے طور پر تو جس عدالت میں وہ پیش ہواہے اس کے باہر لگی ہوئی اس دن کے مقدمات کی فہرست پران مقدمات کی تعداددیکھ کر اندازہ ہو گیا ہو گا کہ کتنے مقدمات اس دن زیر سماعت ہیں۔ یہ تو ایک دن کی ایک عدالت کی صورت حال ہے۔ اسی عدالت میں تمام عدالتوںکے باہرلگی ہوئی مقدمات کی فہرست دیکھ لی جائے تو یہ تعداد ایک اندازے کے مطابق کم وبیش ایک ہزاربنے گی۔پھر جس دن کی فہرست دیکھی ہے۔ صرف یہی مقدمات ہی نہیں ہوتے جواس فہرست میں ہیں۔ان میں سے کچھ ایسے مقدمات ہوںگے جن کومہینہ بعد پیشی ملتی ہوگی۔ کچھ ایسے مقدمات ہوں گے جن کوپندرہ دن بعد پیشی ملتی ہوگی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عدالتوں پر مقدمات کا کتنا بوجھ ہے۔ انصاف میں تاخیر اور مقدمات میں اضافے کی ذمہ دار عدالتیں نہیں ہم عوام ذمہ دارہیں۔ ہم معمولی معمولی معاملات کو بھی عدالتوںمیں لے جاتے ہیں۔دوسروںکوالجھائے رکھنے ،نیچادکھانے اورزچ کرنے کے لیے جان بوجھ کرمقدمات کوطول دلایا جاتا ہے کہ مخالف فریق عدالتوں کے چکرلگالگا کرزچ ہوجائے پھر جیسے ہم منواتے جائیں وہ مانتاجائے۔اکثرایسا ہوتا ہے کہ جس کے خلاف فیصلہ ہوجائے وہ اپیل کردیتا ہے۔مقدمہ ایک عدالت سے دوسری عدالت میں چلاجاتا ہے۔یہ اس کا آئینی حق ہے۔ بہت کم ایسے مقدمات ہیں جن میں جس فریق کے خلاف فیصلہ ہووہ اپیل نہیںکرتے۔ہم نے توایسے افرادبھی دیکھے ہیں جن کے حق میں فیصلہ ہوا انہوںنے بھی اپیل کردی کہ وہ اس فیصلہ سے مطمئن نہیںہیں۔جس کے خلاف فیصلہ آجائے وہ تواس فیصلہ کے خلاف اپیل کرے یہ بات توسمجھ میں آتی ہے۔جس کے حق میں فیصلہ ہوجائے اوروہ بھی عدالتوں میں اپیل کرتا پھرے یہ عدالتوں کاوقت ضائع کرنا نہیں تو اور کیا ہے۔ جج شہادتوں، دستیاب ثبوتوں اورقانون کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی پسند یاناپسند نہیں ہوتی۔ ان کی کسی سے دشمنی یاکسی سے دوستی نہیں ہوتی۔ وہ ذاتیات پربھی فیصلے نہیں کرتے۔

چیف جسٹس منظوراحمدملک نے کہا کہ صوبائی عدلیہ کاٹارگٹ ہے کہ دوہزارسات تک کے تمام پرانے مقدمات کورواں سال جولائی تک نمٹادیا جائے گا۔اوراس میں وکلاء برادری کاتعاون بہت اہم ہے۔انہوںنے بتایا کہ عدالت عالیہ میں آج سے جاری کی گئی کازلسٹوںمیں دوہزارسات تک کے مقدمات والی فہرست کولال رنگ کے پیپرپرپرنٹ کیا گیا ہے تاکہ جج صاحبان اوروکلاء کوہمارے طے کردہ ٹارگٹ کااحساس ہو۔اوران مقدامات کاجلدازجلدفیصلہ ہوسکے۔زیرالتواء مقدمات کوجلد سے جلد نمٹانے اورعوام کو جلد سے جلد انصاف فراہم کرنے کی کوششیں پہلے بھی کی جاتی رہی ہیں۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ریٹائرڈ افتخار احمد چوہدری نے بھی عوام کوجلد سے جلد انصاف کی فراہمی کے لیے جوڈیشل ایکشن پالیسی کااعلان کیا تھا جس میں مقدمات کی نوعیت کے لحاظ سے ان مقدمات کی مدت سماعت مقرر کی تھی۔جسٹس منظوراحمدملک نے کہا سائلین کوانصاف کی عدم فراہمی سے معاشرے میں بگاڑ پیداہوتا ہے۔اورلوگ اپنے مسائل کواپنے طورپرحل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس میں لوگوںکوزندہ بھی جلادیا جاتاہے۔انہوںنے بار عہدیداروں کو احساس دلایا کہ ہمارے سسٹم کے اسٹیک ہولڈرز ہم سے مطمئن نہیں ہیں۔جوکہ نہایت ہی مایوس کن بات ہے۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ سسٹم کوچلانے کے دوطریقے ہیں۔ایک توسسٹم کواسی طرح چلنے دیاجائے ،انصاف نہیں ملتاتونہ ملے،لوگ پریشان ہیں تو رہیں، جبکہ دوسرا طریقہ اس سسٹم کی خامیوں کی نشاندہی کرکے اس میں اصلاحات لانا ہے۔ جسٹس ملک نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھی ججزکے ساتھ مل کر دوسرے طریقہ کاانتخاب کیا ہے۔

جوکہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ انہوں نے کہ اکہ وکلاء کی بہترمعاونت سے عدالت عالیہ سے لے کرسول عدالت تک بہت سی مثبت اصلاحات لائی جائیں گی۔ جس سے انصاف کی فوری فراہمی کویقینی بنایا جائے گا۔اورعوام کے اعتمادمیں اضافہ ہوگا۔فاضل چیف جسٹس نے وکلاء سے اپیل کی کہ وہ اپنے تعاون کوجاری رکھیں۔اورچھوٹے چھوٹے معاملات پرہڑتال کے کلچرکوختم کریں ،کیونکہ ہڑتال سے جج پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مگر مسائل میں گھرے عوام کو مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنا ہوگا کہ وہ چھوٹے چھوٹے معاملات خودبیٹھ کرافہام وتفہیم سے حل کرلیا کریں۔ فیملی مقدمات یونین کونسل کی سطح ہرمصالحتی کونسل میں حل کرائے جائیں ۔مصالحتی کونسل میں ناکامی کی صورت میں عدالتوںمیں لائے جائیں۔جوفیملی مقدمہ عدالت میں آئے توفریقین کوتین ماہ کا وقت دیاجائے کہ وہ آپس میں معاملات طے کرلیں ہوسکتا ہے کہ اس سے گھراجڑنے سے بچ جائیں۔ جھوٹے مقدمات اورگواہوںکی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے۔کہ اس سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بھی بڑھتا ہے اوران کاوقت بھی ضائع ہوتا ہے۔ جھوٹے مقدمات کرنے والوں کو جرم ثابت نہ ہونے کی صورت میں اسی جرم کی سزامدعی کودی جائے۔ عدالتوں پر مقدمات کے بوجھ میں اضافے ایک وجہ حقوق نسواں بل بھی ہے ۔سیاسی مقدمات بھی مقدمات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ سیاستدانوں کو بھی مخالفین کے خلاف عدالتوں میں جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے وکلاء کے لیے انعام مقرر کیا جائے کہ اس نوعیت کا مقدمہ اس مدت میں مکمل ہو جائے تو وکلاء کو اتنا انعام دیاجائے گا وکلاء ہڑتال کے کلچرکوختم کردیں تومقدمات کی مدت سماعت کم ہوسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے عدالتوں اورججزکی تعدادمیں اضافہ بھی ضروری ہے۔ جج بھی انسان ہیں انہیں بھی کام پڑسکتا ہے۔ جوجج چھٹی پرہواس کی جگہ ڈیوٹی جج بٹھایا جائے تاکہ سائلین کوجج کی چھٹی کی وجہ سے سائلین کوایک اورپیشی نہ لینی پڑے ۔یہ فاضل ججز اوروکلاء ہی بہتر جانتے ہیں کہ کس طرح مقدمات کی تعداداورمدت سماعت کوکم کیاجاسکتاہے۔ہم نے توصرف مشورے دیے ہیں۔اس میں پارلیمنٹ کوبھی اپنا کرداراداکرناچاہیے۔

Mohammad Saddiq Perhar
Mohammad Saddiq Perhar

تحریر: محمد صدیق پرہار
siddiqueprihar@gmail.com

Share this:
Tags:
justice Mohammad Siddique جسٹس خطاب محمد صدیق
Mufti Mohammad Naeem
Previous Post اسلام دشمن قوتیں حوثی باغیوں کے پشت پناہی کررہی ہیں، مفتی محمد نعیم
Next Post یوم جھوٹ۔۔۔۔۔
Lies

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close