Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

انصاف میری دہلیز پر افسانہ

May 8, 2013May 8, 2013 0 1 min read
Pakistan
Pakistan
Pakistan

آج کی دنیا میں ہر جگہ انصاف کا بہت چرچا ہے بائیس برس قبل یہ افسانہ لکھا،نومبر 92 ء کو قومی ڈائجسٹ لاہور میں شامل تھا جب پاکستان میں بھی انصاف دہلیز تک پہنچانے کا شور و غوغا تھا زمین پر جب پہلی لڑائی ہوئی اُس میں مجھے قتل کر دیا گیا ، کمزور تھا انتقام نہ لے سکا ،انتقام کی آگ میں جلتا ہوأ زبردست پکار لئے میر ا لہو زمین کی ابتداء سے انتہا تک پھیلتا چلا گیا اور میرا بدلہ کوئی نہ لے سکا اور نہ خود، اور صدیو ں تک انتقام کے شعلے فضاؤں میں ارتعاش پیدا کرتے رہے۔

پھر جب زمین میرا وطن اور غار میرا مکان بنا تو انتقامی جذبات میں اور شدت آگئی تو بھی مجھ میںوہ طاقت نہ تھی کی میں ظالم سے بدلہ لے سکوں،اِس جنگل کا سیاہ قانون جس کی لاٹھی اُس کی بھینس روئے زمین پر چلتا رہا۔ تب میں زور دار رعد کی کڑک کی طرح گرجا کہ زمین پر گویا بھونچال آگیا تب تمام نحیف و نزاراہل زمیںمیری طرف بڑھے ایک اژدھام جمع ہوأ،اور ایک ہی گونج تھی ہم اب ظالم سے اپنے خون کا حساب لیںسکیں گے،ہم ایک جم غفیر ہونے کے بھی کمزور تھے کے ظالم کے پاس جنگل کے قانون کی لاٹھی تھی۔

اس لئے میں اور میرے ہزاروں ساتھی ہمیشہ کے لئے خاموش کر دئے گئے اور پھر خاموشی چھا گئی ہزاروں صدیوں تک یہی ظالم خاموشی رہی اور میں اپنے ہم نواؤں کے ساتھ کوہلوکے دو پاٹوں پڑتا رہا وقفے وقفے کے بعد میں اور میرے کئی ساتھی یہ کوشش کرتے رہے کہ اس جنگل کے قانون کی باڑ توڑ دیں،مگر اِس مضبوط باڑ کو توڑنے میں ہر بار ناکام ہوتے رہے ،اور پھر اک زمانہ آیا جب سفید جبہ پہنے کچھ لوگ آتے رہے اوراپنی دلآویز میٹھی سریلی زبان میں کہتے تم لوگ یونہی پریشاں ہوتے ہو تمہارا مقدر یہی ہے۔

کہ تم صبر شکر کرو آنے والے دنوں کا انتظار کرو ،میں تو اُن کی زبان سمجھ گیا پر وہ میری بولی نہ سمجھ سکے ،کاش وہ میری بولی بھی سمجھ جاتے . پھر انہوں نے مل کر چند اصول و ظابطے ترتیب دئے جن میں کچھ نہ کچھ میری دل جمعی تو ہوئی اور وقتی طور پر میرا جذبہ انتقام جس میں انتہا کی شدت پیدا ہوچکی تھی ماند پڑ گیا لیکن دوسرے ہی لمحے میرے ہاتھوں میں خوبصورت کنگن پہنا دئے گئے اور کان بھی چھید کر ایک خوبصور ت چھلا پہنا دیا گیا۔

اب میں کیا کر سکتا تھا میری آزادی اور آواز دونوں ہی سلب کر لئے گئے تھے ،اب اپنے آقاؤں کی خوشنودی ہی میرا مقدر تھی اور ان کے حضور جھک کر سلام میرا فرض !صدیوں کے بعد ایک وقت ایسا آیا جب مجھ جیسے لوگوںکی تعداد بڑھنے لگی اور زمین سکڑنے لگی تب یہ خوراک کے زرائع تلاش کرتے ہوئے پھیلنے لگے اور ملکیت کے انفرادی قانون نے جنم لیا پھر بھی طاقت ور کے ہاتھ مضوط تھے ،جیسے چاہتا جو چاہتا وہی کرتا اور میں میں پھر اپنی دھن میں اپنی راہ چلتا رہا اور صدیاں بیت گئیں۔

Poor Man
Poor Man

پھر آہستہ آہستہ صدیوں کی تاریکی جو میرے چاروں طرف پھلی ہوئی تھی چھٹنے لگی ۔ایک مدھم اور پھیکی روشنی کا ہالہ میری طرف بڑھنے لگا میں نے قریب جا کر دیکھا یہ فریب تھا وہاں تو وہی صدیوں پر پھیلا گھپ اندھرا تھا اور یہی تاریکی میرا مقدر تھی ،مگر میں پھر بڑھا اور اس تاریکی کا طلسم توڑنے کے لئے ایک نئے ولولے اور جذبہ سے جد و جہد شروع کی میری آواز میں رعد کی گرج تھی کہ زمین کی انتہا ہل گئی سب لوگ ہاں سب جو کمزور تھے میری طرف بڑھنے لگے۔

میں نے نہائت سریلے لفظوں میں،اِس خوبصورت کنگن اور کان میں پڑے چھلے کی کہانی سنائی تب سب لوگ جھک گئے اور میرے ساتھ مل کر ظالم کے خلاف نعرہ لگایا کہ ایک زلزلہ آگیا ظالم کے محل میں ارتعاش پیدا ہوأکہ اس کے درو دیوار ہلنے لگے سب لوگوں نے ہاتھوں کے کنگن اور کان میں پڑے چھلے اتار پھینکے ہم ان کے نغیر ہی زندہ رہیں گے اور اپنے بعد آنے والوں کو ان کے بغیر زندہ رہنے کی نوید دیں گے۔

انتقام کے پھیلے ہوئے خون کی باس ہر ایک نے محسوس کی تو پکار اُٹھے انتقام انتقام مگر نہیں ہمیں بھی صرف طاقت چاہئے جو آج تک صرف ظالم کے قبضہ میں ہے اور پھر اب ہم سب نے مل کر عہد کیا کہ اپنا قانون بنایا جائے گا اور پھرایسا ہی ہوأ اور اسے جمہور کا نام دیا گیاتو اگر میں تنہا اِس طاقت سے ٹکر لیتا تو ماضی کی طرح پھر سے تھپکی دے کر کر سلا دیا جاتا لیکن اب کی بار اپنے ذہن کے گوشوں کو کھولااور خلیوں کی مدد و رانمائی سے طاقت ور کا مقابلہ کروں گا۔

چنانچہ تمام چھوٹے بڑے خلئے ساتھ چلنے کو متفق ہووے اور اک نئی صبح کا آغاز جس کے لئے ہزاروں صدیاں تپتے صحراؤں اور اندھیرے غاروں میں بسر کیں،لیکن پھر بھی ایک سایہ تھا جو میرے ساتھ ہی رہا اور جب میں اقتدار کے ایوانوں میں پہنچاتب اقتدار کے مسحور کن نشہ ہی میں سب کچھ اور اپنا ماضی بھی بھول گیاْتب ایک اور فرب کاآیا اور اُس نے سنہری سکوں کی جھنکا کا ایک اچھوتا نغمہ سنایااور میں سحر زدہ ہو کر بے خود ہوگیا اِس نے میرے مرقد کی زمین کو مزید بڑہا دیا ،اور پھر چند سائے میری طرف بڑھے یہ وہی سفید جبہ پہنے سائے جو کبھی کبھی میرے ساتھ کچھ دیر کے لئے رہتے۔

دوران سفر مجھے تسلیاں بھی دیتے وہ اس مرتبہ ایک اور خوشخبری سنانا چا ہ رہے تھے اور کہہ رہے تھے ،آج سے تمہاری سیہ بختی کا دور ختم ہو رہا ہے اور خوش بختی کا دور شروع ہو رہا ہے خوشی کے نغمے گاؤ خوشیا ںمناؤ کہ تمہارے لئے بڑا سنہرا وقت تیزی سے آ رہا ہے ۔بلکہ دروازے پر ہے جس میں ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی ،اور میں اِس دل نواز مسحور کن آواز سے ہمیشہ کئے لئے میٹھی نیند سو گیا ،اور صدیا ںبیت چکی کہ پھر کسی نے آکر مجھے جھنجوڑا اور میں خواب ِغفلت سے یکبارگی جاگا۔

مجھے کہا جا رہا تھا ہوش میں آؤ جاگو انتقام لینے کا وقت آگیا ہے ،مگر میں تو آج بھی کم زور ہوں ؛ ہاں تو کمزور ہے مگر تیرے اندر ایک قوت ہے جس سے تو نابلد ہے وہ تیری رائے،اور میں پھراُس پر فریب نعرے کی زنجیروں میں جکڑدیا گیا …اور میں پھر اقتدار کی تلاش میں دوڑا کہ میرے اندر صدیوں سے سویا ہوأ انتقام پوری قوت سے میرے اعصاب پر سوار تھا جاگ چکا تھا مگر ہر بار جرس کی آواز دور ہی دور ہٹتی جا رہی تھی اور میں سر پٹ اِس اندھیرے نگر میں جہاں ہر طرف پتھر ہی پتھر تھے کچھ تلاش کر رہا تھا مگر میں کیا تلاش کر رہا ہوں وہ سب تو سراب ہے جس حسین صبح کی نوید سنائی گئی تھی۔

Weak Man
Weak Man

ایک بار تندرست و توانا اور کمزور خلیئے جمع ہوئے اور مجھے تسلی دی کہ اب تم گھبراؤ نہیں تمہارا انتقام لیا جائے گا اور تمہیں اقتدار میں بھی جگہ ملے گی فقط تمہاری اُس آواز جو صدیوں سے تمہارے اندر چھپی ہے کی ضرورت ہے اور میں نے اپنی رائے اُن کے حق میں سنا دی اور ایک بار اُنہوں نے میرے جذبہ انتقام کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مجھے بتایا کہ اب اِس کا خوبصورت نام اِنصاف ہو گا اور اِس کے حصول کے لئے تمام ضروری اقدامات بھی ترتیب دے دئے گئے ہیں اور تم بے فکر ہو کرلمبی تان کر پھر سو جاو مگر پھر کیا تھا۔

میں اِس اِنصاف کی تلاش و جستجومیں نکلا صدیوں کی سر گردانی کے بعد ایک سُہانی صبح مجھے گجر کی مدھم سریلی آوازسنائی دی اور میں سرپٹ اُس آواز کی سمت بھاگا کہ جا کر دیکھوں کیا ہے اور کیا ہو رہا ہے اور مجھے یہاں کیا ملے گا اِس جستجو وتلاش میں وہاں پہنچادیکھا تو یہ ایک کلیسا تھا ،جِس کا گھڑیال ایک سفید جبہ زیب تن کئے شخص بجا رہا تھا بجاتے بجاتے اُس کی کمر دوہری ہو چکی تھی اور بظاہر وہ بہت ہی تھک چکا کہ یہ گھڑیال وہ کب سے بجا رہا ہے کہ اہلِ زمیں کا ایک جم غفیر وہاں پہنچ چکا تھا اور چہ مہ گویاں جاری تھی مگر گھڑیال اب بھی بدستور بجے جا رہا تھا۔

اِسے تو اب خاموش ہو جانا چاہئے تھا مگر وہ تو مسلسل بجایا جا رہا ہے آخرش سفید جبہ میں سفید ریش شخص آتا ہے اور گھڑیال کی رسی کھینچنے والے شخص کو کہ اس وقت تک اُس کی کمر دہری ہو چکی تھی گھڑیال بجانے سے روکا اور چلا کر پوچھا رک جاؤ بتاؤ کون مر گیا جس کی موت کا اعلان کیا جا رہا ہے اور پھر گھریال کی آواز جو ،مدتوں سے گونج رہی یکبارگی خاموش ہو گئی اور وہ شخص سیدھا کھڑا ہوأایک سرد آہ ؛! لی اور کہا سُنو ! ائے اہل ِ زمیں !سُنوکل قاضئیِ شہر نے سونے کے چند چمکتے سکوں کے عوض اِنصاف کو سرِبازار قتل کر دیا ہے۔

میں اسی کی موت کا اعلان کر رہا تھا ،آؤ مل کر اِس کی آخری رسومات ادا کریں کہ کل پھر اِس کی تلاش میں کوئی مارا مارا نہ پھرے میںنے یہ منظر جو انتہائی خوفنا ک تھا دیکھاچکر ا کر گرا اور مدتوں وہیں پڑا رہا اور جب مجھے ہوش آئی تو دیکھا انصاف کا لاشہ وہیں پڑا تھا .. آہ ! انصاف صدیوں کے بعد ملا وہ بھی اُس کا لاشہ وہ تو اب مر چکا ہے ،اور استحصالی قوتیں پھر سے ایک جھنڈے تلے جمع ہو چکی ہیں اور میرے سامنے پھر سے ایک مشکل کھڑی تھی ہر ایک نے اپنے حصے بخرے کے مطابق میرا استحصال شروع کر دی۔

میں آج بھی ان کے لئے تختہ مشق ہوں اور وہ سب بھوکے گدھ کی طرح میرا گوشت نوچ رہے اور اس طرح کھا رہے ہیں جیسے مدتوں کے بھوکے ہوں ،اور میںاُ س متعفن لاشے کو جس سے سڑاند آ رہی تھی، تو بھی میں نے اُسے اپنے کندھے پر اُٹھایا …آج پھر وہی سفید جبے میں ملبوس سائے مجھے تسلیاں دے رہے اور شائد وہ میری آواز اور میری بولی کا مفہوم سمجھنے سے یکسر قاصر ہیں انصاف مر چکا ہے اُس کا لاشہ کندھوں پر اُٹھائے لوگوں کو دکھا رہا ہوں، اور خوشی سے خود کو تسلیاں بھی خود ہی دے رہا ہوں کہ اب تو انصاف اور اِس لاشے کو اُٹھائے بہت خوش تھا کہ اب تو انصاف میری دہلیز تک پہنچ چکا ہے۔
تحریر : بدرسرحدی

Share this:
Tags:
justice pakistan افسانہ انصاف پاکستان
Previous Post اقتدار نہیں عوامی حقوق کا حصول ہمارا مشن ہے ،قائد تحریک الطاف حسین کے فکرو فلسفے پر عمل کرکے انقلاب لائیں گے ۔نشاط ضیاء قادری
Next Post اٹلی کے ساحل پر کنٹینر کنٹرول ٹاور سے ٹکرا گیا،3افراد ہلاک

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close