Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کابل انتظامیہ کو شٹ اپ کال دینا ضروری ہو گیا ہے

May 17, 2016 1 1 min read
Rajnath Singh
Rajnath Singh
Rajnath Singh

تحریر : محمد اشفاق راجا
بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی پاکستان پر دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کی سرپرستی کا الزام لگا کر اس کی سالمیت کے خلاف مذموم بھارتی عزائم کا اظہار کر رہے ہیں اور افغان صدر اشرف غنی بھی پاکستان کے خلاف یہی لب و لہجہ اختیار کئے ہوئے ہیں تو اس سے پاکستان کی سلامتی خدانخواستہ کمزور کرنے کی کابل اور دہلی کی مشترکہ سازشوں کا ہی عندیہ ملتا ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے کردار پر بدستور شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ پاکستان کو اب اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کی خاطر اپنی قومی خارجہ پالیسی پر بہر صورت نظرثانی کرنا ہو گی۔ ہماری معیشت پر گزشتہ چار دہائیوں سے بوجھ بنے افغان مہاجرین کو مزید پالنے پوسنے کا اب کوئی جواز نہیں۔ ان کے پاکستان میں قیام میں مزید توسیع کیلئے کابل انتظامیہ کی مزید کوئی درخواست قبول نہ کرنے کا ہماری جانب سے درست فیصلہ کیا گیا ہے اور اب بہتر یہی ہے کہ تمام افغان مہاجرین کو جلد سے جلد افغانستان واپس بھجوا دیا جائے۔

اسی طرح اب دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن اتحادی کے کردار پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اگر ہماری بیش بہا قربانیوں پر بھی ہمارے ساتھ طوطا چشمی کا مظاہرہ ہو رہا ہے تو ہمیں بھی اب اپنے مفادات ہی عزیز ہونا چاہیں۔ ہماری جانب سے کابل انتظامیہ کو شٹ اپ کال دینا بھی اب ضروری ہو گیا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے پاکستانی طالبان کو علاقے کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ انکے ملک کو پاکستان کی جانب سے غیر اعلانیہ جنگ کا سامنا ہے جس نے انکی امن کی پیشکش کو قبول نہیں کیا۔ گزشتہ روز لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں سیاسی تشدد کی پانچویں لہر کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان مختلف ممالک کے جنگجوئوں کی سرزمین بن رہا ہے۔ ان کے بقول متذکرہ جنگجوئوں میں سب سے زیادہ پاکستان سے لوگ متحرک ہیں۔

ہمارا بنیادی مسئلہ پاکستان کے ساتھ امن ہے جس کی جانب سے ہمارے خلاف غیر اعلانیہ جنگ شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان گیارہ مرتبہ گئے ہیں اور اس دوران پوری کوشش کی کہ امن کی شاہراہ تعمیر ہو مگر ہمارے بڑھائے ہوئے ہاتھ کو تھاما نہیں گیا۔ ہمارے ملک میں بہت سے لوگ کیوں بھیجے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو ٹھکرا دیا کہ افغانستان القاعدہ کیلئے محفوظ جنت بن رہا ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ گروپ افغانستان میں اپنا نیٹ ورک بنا رہا ہے۔ ان کے بقول تحریک طالبان پاک فوج کے آپریشن کے باعث افغانستان آ رہی ہے۔ اگر ملا فضل اللہ کو سات زندگیاں ملیں تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان نے حقانی گروپ یا طالبان قیادت کے خلاف کوئی ایک بھی آپریشن کیا ہے۔ ان کے بقول افغانستان نے جب بھی اپنی بقاء کی جنگ لڑی ہے تو اس میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جس کی ہماری تاریخ گواہ ہے۔

Afghanistan
Afghanistan

افغانستان کی تاریخ تو اس امر کی شاہد ہے کہ کابل کے حکمرانوں نے شروع دن سے ہی پاکستان کے ساتھ خداواسطے کا بیر رکھا ہے۔ چنانچہ ظاہر شاہ سے اب تک ہمیں افغان سرزمین کی جانب سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں آیا۔ سب سے افسوسناک یہ صورت حال ہے کہ افغان جنگ کے دوران، جس کیلئے سابق افغان صدر کرزئی نے امریکی مخبر کا کردار ادا کرتے ہوئے نیٹو فورسز کے ہاتھوں افغانستان کا تورا بورا بنوایا اور اس کے صلے میں اپنے اقتدار کے لئے امریکی بیساکھیاں حاصل کیں، کابل انتظامیہ نے اس خطے کو امن کا گہوارہ بنانے کی خاطر پاکستان کی جانب سے دی گئی بیش بہا قربانیاں بھی یکسر فراموش کر دیں، یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ امریکی نائن الیون کے بعد ہمارے اس وقت کے جرنیلی آمر مشرف نے اپنے اقتدار کی بقاء کی خاطر دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار قبول کیا اور اس کے ردعمل میں ہمارا وطن عزیز خود ملکی اور علاقائی سلامتی کے خلاف دہشت گردوں کے مذموم عزائم کا نشانہ بن گیا۔

دہشت گردی کی جنگ تو درحقیقت پاکستان نے اپنے برادر پڑوسی مسلم ملک افغانستان کے تحفظ کی خاطر لڑی تھی جس میں افغان دھرتی پر موجود امریکی نیٹو افواج کو پاکستان نے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی اور ہمارے ائر بیسز سے ہی نیٹو کے جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر اڑان بھر کر افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے رہے۔ چنانچہ ہمیں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے امریکہ، افغانستان اور نیٹو ممالک کے اتحادی ہونے کی سزا اپنی سرزمین پر بدترین دہشت گردی کی صورت میں بھگتنا پڑی۔ چاہے رسمی طور پر ہی سہی آج پوری دنیا دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے کردار کی معترف ہے اور امریکی پالیسی ساز اداروں کی رپورٹوں میں اس امر کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں جس کے سکیورٹی فورسز کے ارکان سمیت 60 ہزار سے زائد شہری خودکش حملوں، ڈرون حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں میں شہید ہوئے ہیں۔ جبکہ اس جنگ میں ہماری معیشت کا سو ارب ڈالر کے قریب نقصان ہوا ہے۔

مگر اس کا صلہ ہمیں امریکہ کی جانب سے ہمارے کردار پر بد اعتمادیوں کے اظہار، ڈومور کے تقاضوں اور افغانستان کی جانب سے بھارتی لہجے میں سنگین نتائج کی دھمکیوں کی صورت میں ملا جبکہ کرزئی نے نیٹو فورسز کو پاکستان پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دینے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بھارت تو ویسے ہی اپنے مذموم مقاصد کے تحت ہماری سلامتی کے درپے ہے جس نے افغان جنگ میں ہمارے کردار کے باعث ہماری سرزمین کے دہشت گردوں کے عزائم کی زد میں آنے سے پیدا ہونے والے حالات کا فائدہ اٹھا کر خود بھی ہماری سلامتی پر اوچھا وار کرنے کی نیت سے پاکستان کے اندر اپنا جاسوسی کا نیٹ ورک پھیلانا شروع کر دیا جبکہ اس معاملہ میں افغانستان نے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے کر بھارتی عزائم کی تکمیل کیلئے اس کی بھرپور معاونت کی۔

Raw
Raw

اس حوالے سے ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس بھارتی مسلح دہشت گردوں کے افغان سرحد عبور کر کے پاکستان آنے اور یہاں بھارتی ایجنسی ”را” کے قائم شدہ نیٹ ورک کی سرپرستی میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں جو پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت سے موجودہ دور حکومت تک بھارتی حکومت کے علاوہ اقوام متحدہ اور امریکی دفتر خارجہ کو بھی فراہم کئے جا چکے ہیں مگر بجائے اس کے کہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف ان بھارتی اور افغان سازشوں پر دہلی اور کابل کو ‘شٹ اپ’ کال دی جاتی، امریکہ نے اپنے فرنٹ لائن اتحادی پاکستان کو ہی آنکھیں دکھانا شروع کر دیں اور بھارت کو اپنا فطری اتحادی قرار دے کر اس کے ساتھ ایٹمی دفاعی تعاون کے معاہدوں کے انبار لگا دیئے جن کی بدولت بھارت نے ہر قسم کے جدید روائتی اور ایٹمی ہتھیار حاصل کر کے پاکستان کی سلامتی کو کھلم کھلا چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ سابق بھارتی آرمی چیف ایس کے سنگھ، نے جو اس وقت بی جے پی حکومت میں اہم منصب پر فائز ہیں امریکہ بھارت معاہدوں کے زعم میں ہی بیجنگ اور اسلام آباد کو 90 گھنٹوں میں بیک وقت ٹوپل کرنے کی بڑ ماری تھی جبکہ سابق افغان صدر کرزئی تو اپنے اقتدار کی آخری ٹرم کے دوران پاکستان کے ساتھ کھلم کھلا دشمنی کا اظہار کرتے نظر آئے۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ افغان جنگ کے دوران بھی اور افغانستان سے نیٹو فورسز کی واپسی کے بعد بھی کابل انتظامیہ نے افغان سرزمین پر محفوظ ٹھکانے بنانے والے دہشت گردوں اور انتہاء پسند افغان تنظیموں کے کریک ڈائون کیلئے ازخود کبھی کوئی آپریشن نہیں کیا اور دہشت گردوں کے ان ٹھکانوں کے حوالے سے بھی الزامات پاکستان پر ہی عائد کئے جاتے رہے حالانکہ افغان سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کرنا کابل انتظامیہ کی اپنی ذمہ داری تھی۔ اس کے برعکس پاکستان نے اپنی سکیورٹی فورسز کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن راہ راست، آپریشن راہ نجات اور اب آپریشن ضرب عضب شروع کیا ہے تو اس کا مقصد صرف پاکستان نہیں بلکہ افغانستان سمیت پورے خطہ کو دہشت گردی کے عفریت سے نجات دلانا ہے جس میں بلا امتیاز تمام دہشت گردوں کے خلاف بے لاگ اور ٹھوس کارروائیاں کرتے ہوئے ہماری سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں نے بیش بہا جانی قربانیاں بھی دی ہیں جبکہ آپریشن کے دوران ہماری سکیورٹی فورسز اور قوم کی جانب سے قربانیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

اس تناظر میں توقع یہی تھی کہ اشرف غنی کے اقتدار میں آنے کے بعد کابل انتظامیہ پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کی سرکوبی کا کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرے گی۔ ا شرف غنی کے گزشتہ سال کے دورہ اسلام آباد اور جی ایچ کیو راولپنڈی میں انہیں دی گئی بریفنگ کی روشنی میں بادی النظر میں پاکستان اور افغانستان کے مابین خیرسگالی کے تعلقات بحال ہوتے بھی نظر آئے مگر پھر اشرف غنی اپنے دورہ بھارت کے موقع پر پاکستان کے کٹڑ دشمن بھارتی وزیراعظم مودی کے چکمے میں آ گئے جن کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کر کے اشرف غنی نے بھی اپنے پیشرو کرزئی کے لب و لہجہ میں پاکستان کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے پلیٹ فارم پر افغانستان میں قیام امن کی خاطر عالمی قیادتوں کے ساتھ تعاون کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ یہ طرفہ تماشہ ہے کہ افغانستان ٹی ٹی پی کے قائد ملا فضل اللہ سمیت پاکستان پر حملہ آور ہونے والے تمام دہشت گردوں کی اپنی سرزمین پر سرپرستی بھی خود کر رہا ہے اور اپنے اور امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے وہ پاکستان کے کردار کا بھی متقاضی ہے مگر پاکستان کی قربانیوں کو دیکھ اور بھانپ کر بھی وہ امریکی اور بھارتی لب و لہجے میں پاکستان ہی کو مورد الزام ٹھہراتا نظر آتا ہے۔

Muhammad Ashfaq Raja
Muhammad Ashfaq Raja

تحریر : محمد اشفاق راجا

Share this:
Tags:
ambitions call Charges essential kabul pakistan terrorists الزام انتظامیہ پاکستان دہشت گرد ضروری عزائم کابل کال
Democracy
Previous Post بہتر عمل جمہوری ہے اور مل بیٹھ کر طے کر لیں
Next Post کیا یہی تحریک انصاف کا انصاف ہے؟
PTI

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close