لاہور: پنجاب فورم کے صدر بیگ راج نے کہا ہے کہ تھر کے معصوموں کا خون قوم پرستوں کے سر ہے جو بھارت کی ایما پر کالا باغ ڈیم کی مخالفت کر کے پاکستان کے ہر شہر کو تھر کی طرح ریگستان بنا نا چاہتے ہیں۔کالا باغ ڈیم نہ بنا تو ملک کی کئی آبادیاں اور لہلہاتے کھیت تھر کا نقشہ پیش کرینگے جبکہ عوام اپنے پیاروں کا پیٹ بھرنے کے لئے بندوق اٹھا لینگے جس کا نتیجہ خوفناک خانہ جنگی ہو گی۔
سینکڑوں بچوں کی اموات میں سندھ حکومت کا بھی ہاتھ ہے جس کی غفلت،نا اہلی و کرپشن مسلمہ ہے جبکہ اب حکومتی پارٹی لولے لنگڑے جواز تراش کر اور اعداد و شمار توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے جس سے اسکی ساکھ کو مزید خراب ہو رہی ہے۔بیگ راج نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سندھ حکومت کے عوامی ہونے کے دعووں کا پول کھل گیا ہے کیونکہ انھیں اس انسانی المیے اور لاکھوں مویشیوں کی ہلاکت کے بجائے سندھ فیسٹول کی فکر کھائے جا رہی تھی۔ بیگ راج نے کہا کہ برسر اقتدارپارٹی تھر سے ووٹ تو لیتی ہے مگر تھر کے مجبور و بے کس عوام کو تیسرے درجہ کا انسان بھی نہیں سمجھتی جو اس المئیے کا ایک اہم سبب ہے۔مزکورہ پارٹی کی قیادت بعض افسران کو معطل کر کے ذمہ داری سے عہدہ براہ نہیں ہو سکتی جب تک کہ وزیر اعلیٰ اور متعلقہ وزراء سے استعفے نہ لئے جائیں کیونکہ وہ خود ایسے اقدام کی اخلاقی جرات سے محروم ہیں اور ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے الزام تراشی کی سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں۔
بیگ راج نے کہا کہ تھر کے عوام آئندہ صرف اسی پارٹی کو ووٹ دیں جو کالاباغ ڈیم بنانے کا اعلان کرے۔ پاکستان کیلئے پانی ثانوی نہیں بلکہ ترجیحی مسئلہ ہے اور اگر اب بھی اگر قوم پرستوں نے بھارت کی ایما پر کالا باغ ڈیم کی مخالفت ترک نہ کی یا حکومت نے انکی پراوہ کئے بغیر سخت اقدامات نہ کئے تو سارا ملک صحرا بن جائے گا۔
