Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سانحہ مشرقی پاکستان کے بیالیس سال

December 16, 2013 0 1 min read
Mumtaz Awan
Bangladesh
Bangladesh

بیالیس سال قبل 16 دسمبر 1971 کو وطن عزیز پاکستان کو دو لخت کر دیا گیا تھا، ہر سال یہ دن آتا ہے اور محب وطن پاکستانی عوام کے زخموں کو تازہ کر دیتا ہے، پاکستان کے دو بازوؤں، مشرقی و مغربی پاکستان، اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان آزاد ہو کر بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا۔ جنگ کا آغاز 26 مارچ 1971ء کو ہوا جس کے نتیجے میں مقامی گوریلا گروہ اور تربیت یافتہ فوجیوں (جنہیں مجموعی طور پر مکتی باہنی کہا جاتا ہے) نے عسکری کاروائیاں شروع کیں اور افواج اور وفاق پاکستان کے وفادار عناصر کا قتل عام کیا۔ مارچ سے لے کر سقوط ڈھاکہ تک تمام عرصے میں بھارت بھرپور انداز میں مکتی باہنی اور دیگر گروہوں کو عسکری، مالی اور سفارتی مدد فراہم کرتا رہا اور بالآخر دسمبر میں مشرقی پاکستان کی حدود میں گھس کر اس نے 16 دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ میں افواج پاکستان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ یہ جنگ عظیم دوئم کے بعد جنگی قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے ہتھیار ڈالنے کا سب سے بڑا موقع تھا۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے نتیجے میں پاکستان رقبے اور آبادی دونوں کے لحاظ سے بلاد اسلامیہ کی سب سے بڑی ریاست کے اعزاز سے محروم ہو گیاتھا۔

16دسمبر 1971ء کو سقوط ڈھاکہ کے بعد اندرا گاندھی نے اگلے دن اپنی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر یہ بات کہی تھی کہ ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں بہا دیا ہے ۔ اس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اب پاکستان کا جواز باقی نہیں رہا اس وقت سے لیکر بھارت آج تک پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک پروان چڑھائی جا رہی ہے ۔حکومتی اہلکار کہتے ہیں کہ انڈیاکے بلوچستان میں مداخلت کے ثبوت ہیں ۔ تو پھر بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے اور اس سے تجارتی معاہدے کرنے کا کیا جواز باقی رہ جا تا ہے ۔ ہم نے پاکستان کو 1857ء کی جنگ آزادی کے زخموں کے نوے سال بعد حاصل کیا جس کیلئے بے شمار قربانیاں دی گئیں ۔ یہ قربانیاں انڈیا کے سامنے جھکنے کیلئے نہیں تھیں ۔حکمران المناک سانحہ مشرقی پاکستان کو بھول چکے ہیں مگر اب بھارت کو دوست کہہ کر شرمناک حرکتیں مت کریں ۔ زندہ قومیں دشمنوں کو دوست نہیں بناتیں۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں سب سے بڑا کردار بھارت کا تھا آج بھی پاکستان سے محبت رکھنے والوں کو بھارتی اشاروں پر پھانسیوں کی سزائیں سنائی جارہی ہیں۔ اندراگاندھی نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبونے کا اعلان کیا افسوس کہ ہمارے سیاستدان اپنی تاریخ بھول چکے اور لاکھوں مسلمانوں کے قاتل بھارت سے دوستی کیلئے بے چین نظر آتے ہیں۔1971ء کی طرح آج ایک بار پھر بنگلہ دیش میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی تاریں بھارت سے ہلائی جارہی ہیں۔عبدالقادر ملاکو پھانسی اور مولانا غلام اعظم سمیت پاکستان سے محبت رکھنے والے دوسرے بنگلہ دیشی لیڈرجنہیں پھانسی کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں اور وہ کال کوٹھڑیوںمیں بند ہیں’ نے قومیت اور وطنیت کیلئے قربانیاں پیش نہیں کی تھیں بلکہ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ لاالہ الااللہ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے بھارتی فوج کے سامنے ڈٹ گئے اور واضح طور پر کہا تھا کہ ہمیں بھارتی فوج کا پاکستانی سرزمین پر وجود برداشت نہیں ہے۔ افسوس اس امر کا ہے کہ ہمارے حکمرانوںنے پاکستان کے ان محسنوں کی قدر نہیں کی۔ بیرونی قوتوں کی خوشنودی کیلئے بنگلہ دیش میں موجود محب وطن پاکستانیوں پر ہونے والے مظالم پر خاموشی کسی صورت درست نہیں ہے۔ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کیا گیا تھا۔بین الاقوامی ساز ش کے تحت ظلم اور جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کو الگ کیا گیا۔ پاکستانی قوم اس تقسیم کو تسلیم نہیں کرتی۔

Kalima
Kalima

جس طرح لاالہ الااللہ کے کسی حصہ کو الگ نہیں کیا جاسکتا اسی طرح اس کلمہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے ملک کو بھی الگ الگ حصوں میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ تقسیم ہند کے موقع پر حیدرآباد دکن، جونا گڑھ اور دیگر مسلم اکثریتی ریاستوں نے بھی لاالہ الااللہ کی خاطر پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا مگر انگریز اور ہندو کے گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں یہ علاقے پاکستان کے ساتھ شامل نہ ہو سکے۔ آج کشمیر ی مسلمان بھی اسی کلمہ کیلئے پاکستان سے ملنا چاہتے ہیں لیکن بھارت سرکار کی جانب سے ان پر بے پناہ مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ کے مخلص بندوں کی قربانیاںکسی صورت رائیگاں نہیں جائیں گی۔ 1971ء میں بھارت نے بین الاقوامی بارڈر کراس کر کے پاکستان پر فوج کشی کی، مکتی باہنی کو کھڑا کیا اور وطن عزیز پاکستان کے ایک حصہ کو الگ کر دیا گیا۔ امریکہ و یورپ اور ملکوں کے فیصلے کرنے والی سلامتی کونسل سارا منظر دیکھتے رہے لیکن بھارتی دہشت گردی کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کا نعرہ سب سے پہلے بنگالی مسلمانوں نے لگایا تھا۔ اس کے بعد پنجاب، سرحد، بلوچستان اور سندھ نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر سب کچھ قربان کرنے کا عہد کیا گیا۔ 1940ء سے شروع ہونے والی اسی مقدس تحریک کے نتیجہ میں اللہ نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ خطہ عطا کیا ۔ یہ پاکستان اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ پاکستان کے دولخت ہونے میں اس وقت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی بڑی غلطیاں ہیں جنہوںنے قرآن کو اس ملک کا آئین اور اسلام کو ملک کا دین نہیں بنایا اور پھر غاصب بھار ت کی سازشیں کامیاب ہوئیں ۔آج بھی جو سیاستدان امریکہ کی خوشنودی کیلئے انڈیا سے دوستی کیلئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں وہ اپنی تاریخ سے ہی واقف نہیں ہیں اور یہ باتیں ان کے ذہنوں سے نکل چکی ہیں کہ پاکستان کس مقصد کیلئے اور کس قدر قربانیاں پیش کرنے کے بعد حاصل کیا گیا تھا۔ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ آج ہمارے سیاستدان سب کچھ بھول کر محض امریکہ کی خوشنودی کیلئے لاکھوں مسلمانوں کے قاتل ہندو بنئے سے دوستیاں پروان چڑھانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ بھارت کی خوشنودی کیلئے اسے پسندیدہ ترین ملک
کا درجہ دیکر دوستی، تجارت اور ویزہ پالیسی میں نرمی جیسے اقدامات اٹھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور پاک بھارت بین الاقوامی بارڈر کو قابل نفرت بنانے کیلئے باقاعدہ تحریک چلائی جارہی ہے۔

یہی وہ خطرناک کھیل ہے جو 16 دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان میں کھیلا گیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت بھارت نے فوج کشی کر کے پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا تھا اور اب وطن عزیز پاکستان چونکہ ایٹمی قوت رکھتا ہے اس لئے سازشوں کا انداز تبدیل ہو گیا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل جب مہاتما گاندھی کی جانب سے ہندو مسلم بھائی بھائی کا نعرہ لگایا جاتا تھا اور بانی پاکستان محمد علی جناح اور علامہ اقبال نے مسلمانوں میں یہ شعور بیدار کیا تھا کہ ہندو الگ مسلمان الگ ہیں۔ وہ تین کروڑ خداؤں کا پجاری اور مسلمان ایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرنے والے ہیں یہ بھائی بھائی نہیں ہو سکتے۔ اس وقت بھی بعض لوگ گاندھی کی حمایت میں ایسی ہی باتیں کیا کرتے تھے۔ آج جو لوگ یہ باتیں کرتے تھے کہ پاکستان اور بھارت کا موسم ایک، رنگ، نسل اور زبان ایک ہے۔ وہ جذباتی لوگ تھے، جنہوں نے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگایا تھا اس لئے پرانی باتیں چھوڑ کر ہمیں آگے کی جانب بڑھنا چاہیے اور نفرت کی لکیریں ختم کرنی چاہئیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی سوچ رکھنے والے لوگ ہی پڑھنے لکھنے کے سوا پاکستان کا مطلب کیا؟ کے نعرے لگا رہے ہیں تاکہ نوجوان نسل کے ذہنوں سے نظریہ پاکستان اور کلمہ طیبہ کی بنیادوں پر مبنی تصور اور سوچ کو کھرچ کھرچ کر نکالنے کی کوششیں کی جائیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ مشرقی و مغربی پاکستان کے محب وطن نوجوانوں نے ہندوستان کی بنائی گئی مکتی باہنی کا مقابلہ کیاتھا اور آج بھی پاکستان کے محب الوطن نوجوان اس مملکت خداداد پاکستان کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ پاکستان کے موجودہ حالات بھی مفاد پرست حکمرانوں کی بدولت خراب ہورہے ہیں اور آج ہمیں ہر صوبے میں لسانیت اور زبان کی بنیاد پر نفرتیں جنم لیتی ہوئی نظرآ رہی ہیں جس کی وجہ سے عوام کے درمیان دوریاں پیدا ہورہی ہیں، بلوچستان کے عوام کے ساتھ حکمرانوں کا رویہ اس قدر برا ہے کہ وہاں احساس محرومی بہت بڑھ گیا ہے اور آزادی کے نعرے بلند ہونے لگے ہیں۔ حکمران اپنا قبلہ درست کریں اور عوام میں پیدا ہونے والا احساس محرومی اور نفرتیں ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔اس ملک میں ایک بڑی آبادی نوجوانوں پرمشتمل ہے جو محب وطن بھی ہیں اورپاکستان کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر آج پاکستان میں امریکا و دیگر بیرونی ممالک کی مداخلت، پرچی سسٹم، طبقاتی تقسیم، فساد اور انتشار، سیاستدانوں کی چالبازیاں، ملکی سالمیت کو لاحق خطرات، ڈرون حملوں کی صورت میں پاکستان کی خود مختاری پر شب خون،بیروزگاری،مہنگائی ،کرپشن،سفارشی کلچر اور تعلیم کے یکساں مواقع نہ ہونے پر پاکستان کا نوجوان مایوس اور فکرمندہے اورناقص حکمت عملی کی وجہ سے آج اس نوجوان طبقہ میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔حکمرانوں کو اس بات سے ڈرنا چاہیئے کہ کہیں اور مشرقی پاکستان جیسا سانحہ نہ ہو۔

Mumtaz Awan
Mumtaz Awan

تحریر:ممتاز اعوان
برائے رابطہ:03215473472

Share this:
Tags:
East Pakistan tragedy years سال سانحہ مشرقی پاکستان
Altaf Hussain
Previous Post سقوط ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے، الطاف حسین
Next Post گوجرانوالہ: کیری ڈبہ، آئل ٹینکر میں تصادم، خواتین، بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق
Gujranwala

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close