Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کراچی سرکلر ریلوے سنہری یادیں

August 17, 2016 1 1 min read
Karachi Circular Railway
Karachi Circular Railway
Karachi Circular Railway

تحریر : ارشد قریشی
تقریباً دو کروڑ آبادی والا پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی اب تک مناسب پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات سے محروم ہے۔ کراچی کی تیزی سے بڑھتی اپنی آبادی اور پاکستان کے مختلف شہروں سے روزگار کے لیئے آنے والے لوگوں میں روز بروز اضافے کے باوجود اس شہر میں رہنے والے شہریوں کو وہ سفری سہولیات میسر نہیں ہیں جو ہونی چاہیئے یوں تو ہر آنے والی حکومتوں نے اس شہر کی ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیئے کئی اعلانات کیئے جن میں گرین بس اور میٹرو بس وغیرہ شامل ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کسی بھی اعلان کردہ منصوبے پر عمل نہیں ہوا یا پھر اگر کسی پر ہوا بھی تو اسے کچھ ہی عرصے بعد ختم کردیا گیا ماضی میں اس شہر میں بہت سی سرکاری بسیں (کے ٹی سی) کے تحت چلتی تھیں جن میں اسٹیوڈینٹس کو بھی رعایتی کرائے پر سفری سہولت حاصل تھی لیکن رفتہ رفتہ یہ بسیں بند کردی گئیں ان بسوں کے ٹرمینلز جنھیں ڈپو کہا جاتا ہے وہ شہر کے کئی مقامات پر اب بھی موجود ہیں۔

اسی طرح ماضی میں اس شہر کراچی میں ایک ریلوے کا مربوط نظام سرکلر ریلوے موجود تھا جس سے اس شہر کو صاف ستھری بہترین سفری سہولت میسر تھی سرکلر ریلوے کا منصوبہ 1969 میں پاکستان ریلوے کی جانب سے شروع کیا گیا تھا جس کے تحت ڈرگ روڈ سے سٹی اسٹیشن تک خصوصی ٹرینیں چلائی گئیں جو نہایت کامیاب رہیں ایک اندازے کے مطابق اس سہولت سے سالانہ ساٹھ لاکھ افراد کو فائدہ پہنچتا تھا عوام میں بے پناہ پذیرائی اور ریلوے نظام کو کافی فائدہ ہونے کی بنا پر اس سرکلر ریلوے سروس کی مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے 1970 سے 1980 کے درمیان کراچی سرکلر ریلوے کے تحت روزآنہ کی بنیاد پر 104 ٹرینیں چلائی جانے لگیں جن میں سے 24 ٹرینیں لوکل لوپ ٹریک اور 80 مین ٹریک پر چلائی گئیں۔ کراچی سرکلر ریلوے لائن ڈرگ روڈ اسٹیشن سے شروع ہوکر لیاقت آباد سے ہوتی ہوئی کراچی سٹی اسٹیشن پر ختم ہوتی تھی جب کہ پاکستان ریلوے کی مرکزی ریلوے لائن پر بھی کراچی سٹی اسٹیشن سے لانڈھی اور کراچی سٹی اسٹیشن سے ملیر چھاونی تک ٹرینیں چلاکرتی تھیں جن سے سینکڑوں لوگ روز مستفید ہوتے تھے۔

لیکن بدقسمتی سے 1992 کی دہائی میں کئی ٹرینیں ریلوے کو خسارہ ہونے کی بنیاد د بتا کر بند کردی گئیں لیکن اس وقت کی زیادہ تر جو خبریں اخبارات کی زینت بنیں اس میں ایک ہی وجہ نظر آئی کہ ایسے افراد کو ریلوے کی وزارتیں سونپ دی گئیں جن کا کاروبار ٹرانسپورٹ سے منسلک تھا کراچی کی پرائیویٹ ٹرانسپورٹ مافیا اور رشوت کے زہر آلود نظام کے اژدھے نے بلاآخر 1999 میں عوامی بھلائی کے اس منصوبے کو مکمل طور پر نگل کر ختم کردیا۔ بعد میں ہر آنے والی حکومتوں نے اس شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کو دوبارہ بحال کرنے کے لیئے کئی بار فزیبیلٹی رپورٹ تیار کی اور اس کی منظوری ہونے کے باوجود اس منصوبے کو شروع نہ کیا جاسکا۔

Karachi Circular Railway Project
Karachi Circular Railway Project

2005 کے اوائل میں اس وقت ایک امید کی کرن نظر آئی تھی جب جاپان انٹرنیشنل کوپریشن ایجنسی نے کراچی سرکلر ریلوے کے لیئے آسان شرائط پر قرضہ دینے کی پیشکش کی اور اس پیشکش کی منظوری کی صورت میں اس ایجنسی کے اشتراک سے کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے پر کام شروع کرنے کا اعلان کیا گیا جاپان کی ایجنسی نے اس منصوبے کے لیئے دو ارب چالیس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی لیکن نہ جانے کن وجوہات کی وجہ سے ایک بار پھر اس منصوبے کا فائلوں کی نظر کردیاگیا۔اس کی بھی بنیادی وجہ جو سامنے آئی تھی وہ یہ کہ جاپان نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کو کرپشن سے پاک رکھنے کے لیئے اپنی زیر نگرانی سخت مانیٹرنگ سے مشروط کیا تھا ااور دوسری شرط یہ رکھی گئی تھی کے اس پچاس کلو میٹر طویل سرکلر ٹریک کے روٹ میں آنے والی ریلوے اراضی پر جو لوگ قابض ہیں انھیں حکومت قبضہ ختم کرنے کے عوض معاوضہ دے یا متبادل اراضی دے۔ جاپان کی طرف سے اس اعلان اور متوقہ طور پر 2010 میں یہ منصوبہ شروع ہونے کے امکان کے تحت با اثر شخصیات نے نہ صرف ان ریلوے اراضی پر بڑی تعداد میں لوگوں کو بٹھا دیا بلکہ اندورن سندہ سے آئے ہوئے سیلاب زدگان کو بھی دانستہ ان زمینوں پر آباد کردیا تھا۔

ساتھ ہی ٹرانسپورٹ مافیا جسے اس سرکلر ریلوے سروس شروع ہونے سے شہر میں اپنی گرفت کمزور اور اجارہ داری ختم ہوتی نظر آرہی تھی وہ بھی اس منصوبے کی راہ میں مشکلات پیدا کرنے میں متحرک ہوگیا، بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ مزید آگے بڑھتی ہے یہ بات اس وقت کی ہے جب انڈیا کی وزارت ریلوے لالو پرشاد کے پاس تھی اور انھوں نے انڈیا کے ریلوے نظام میں ایک نئی جان ڈال کر دنیا کو حیران کردیا تھا لیکن افسوس کے ہمارا ریلوے نظام اس عشرے میں بھی تنزلی کا شکار تھا بجائے اس کے کہ ریلوے نظام پر توجہ دی جاتی اور اسے بہتر کیا جاتا مزید دو اہم ٹرینیں اچانک بند کردی گئیں یہ ٹرینیں مہران ایکسپریس اور شاہ لطیف بھٹائی ایکسپریس تھیں جو کراچی سٹی اسٹیشن سے میرپورخاص تک دن میں مختلف اوقات میں چلا کرتی تھیں ان ٹرینوں سے حیدرآباد، ٹنڈوجام، ٹنڈوالہیار اور میرپورخاص کے لوگوں کو بہت سہولیات میسر تھیں جن میں سب سے زیادہ فائدہ ان ملازمت پیشہ لوگو ں کو تھا جو روزآنہ حیدرآباد سے کراچی یا کراچی سے حیدرآباد جایا کرتے تھے کیونکہ ایک ٹرین صبح میرپورخاص سے چلتی تھی کراچی کے لیئے اور دوسری اسی وقت کراچی سے چلتی تھی میرپورخاص کے لیئے ان ٹیرینوں کے بندش سے بھی دراصل فائدہ پہنچایا گیا۔

ان ٹرانسپورٹروں کو جن کی کوچز کراچی سے میرپورخاص چلا کرتی ہیں اس بلاگ کو لکھنے کیحوالے سے جب میں نے محکمہ ریلوے کے ایک ریٹائرڈ افسر سے پوچھا کہ سرکلر ریلویتو بہت عمدہ نظام تھا پھر اسے بند کرنے کی کیا وجہ تھی میرے اس سوال کا جواب انھوں نے کچھ یوں دیا کہ کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک ناکام نہیں ہوتا جب تک اسے اس کے اندر سے نقصان نہ پہنچایا جائے کراچی سرکلر ریلوے سے لوگوں نے اس وقت منہ موڑنا شروع کردیا تھا جب ان ٹرینوں کا تاخیر سے آنا جانا روز کا معمول بن گیا تھا ظاہر ہے ان ٹرینوں میں طالب علم، ملازمت پیشہ افراد اور تاجران کی کثیر تعداد سفر کرتی تھی لیکن جب وہ وقت پر اپنے اداروں میں نہیں پہنچ پاتے تھے تو ان کے لیئے یہ سفری سہولت بے فائدہ تھی جب میں نے ان سے پوچھا کہ ٹرینیں کیوں تاخیر کا شکار ہونے لگیں تو انھوں نے بتایا کہ انہیں دانستہ تاخیر سے لایا جاتا تھا جن میں ریلوے کے افسران اور ملازمین ملے ہوئے تھے جنہیں اس کے عوض معاوضہ دیا جاتا تھا گویا یوں کہنا بجا ہوگا کہ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔

Train
Train

اب کچھ ذکر ماضی کے اس سنہرے سفر کا جن لوگوں نے کراچی سرکلر ریلوے سے سفر کیا ہے وہ اس پر لطف سفر سے بخوبی آگاہ ہیں اس سرکلر ریلوے میں ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد سفر کرتے تھے یہاں تک دیکھا جاتا تھا کہ لوگ اپنی کاریں ریلوے اسٹیشن پر پارک کر کے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیئے اس سرکلر ریلوے کے سفر کو ترجیح دیتے تھے طالب علم، ملازمت پیشہ افراد، تاجر اور کارباری حضرات نہ صرف روزآنہ ٹکٹ لے کر سفر کرتے تھے بلکہ ماہانہ پاس بھی بنوائے جاتے تھے اور ٹکٹ بھی بوگی میں ہی فراہم کردیئے جاتے تھے صبح کے اوقات میں ان بوگیوں میں وہ منظر دیکھائی دیتے تھے کہ جیسے کہ کوئی پوری سوسائیٹی ریلوے لائین پر دوڑ رہی ہو، خواتین کی بوگیوں میں اسکول و کالج کی بچیاں مطالعہ کرتے ہوئے سفر کرتی تھیں تو ایک بوگی میں لوگ قرآن کی تلاوت کرتے نظر آتے تھے کسی بوگی میں درس قرآن ہورہا ہوتا تھا، کسی میں سیاسی حالات پر بحث مباحثہ ہورہا ہوتا تھا، کسی بوگی میں اخبارات کا مطالعہ ہورہا ہوتا تھا تو کسی میں اخبار ات کے ہاکر اخبارات کو ترتیب دے رہے ہوتے تھے۔

اسی طرح شام میں جب لوگ اپنے گھروں کو لوٹتے تھے تو ان ٹرینوں کا منظر کچھ اور ہوتا تھا کسی بوگی میں لوڈو، کسی میں کیرم اور کسی میں تاش کھیلا جارہاہوتا تھا کسی میں غزل کی محفل جمی ہوتی تھی آج کل کے شوشل میڈیا سے وہ شوشل ٹرینوں کے رابطے کہیں زیادہ مضبوط تعلقات کا زریعہ سمجھے جاتے تھے ۔لیکن افسوس یہ اب ماضی کا حصہ بن چکا۔ 07 جون 2013 کو سندھ کے وزیراعلی سید قائم علی شاہ نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیئے 2.6 ملین امریکی ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی جس میں کئی نئے اسٹیشن اور ان اسٹیشنوں کے مطابق کئی نئے بس روٹس چلانیکا اعلان بھی کیا گیا لیکن ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر یہ منصوبہ کھٹائی کا شکار ہوگیا اور اب کچھ معلوم نہیں کہ یہ سرکلر ریلوے منصوبہ کبھی بھی پایہ تکمیل تک پہنچ سکے گا یا اس شہر کے لوگ ایک آہ بھر کر اس ماضی کی سنہری یاد کو ہمیشہ ماضی کا ایک خوبصورت باب جان کر ہی یاد کریں گے ، یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں زرائع نقل و حمل کسی بھی ملک کی ترقی کا ایک اہم زریعہ ہوتے ہیں اور پوری دنیا میں زرائع نقل و حمل میں ریلوے نظام کو بہت اہمیت حاصل ہے۔

اس حوالے سے گذشتہ دہائی کے دوران تیز رفتار ترقی کرنے والے ممالک کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان ممالک نے ریلوے نظام اور خاص طور پر سرکلر ریلوے پر بہت زیادہ توجہ دی جن میں چین،بھارت، تھائی لینڈ، ملائیشیائ، انڈونیشیائ، امریکہ، جرمنی، جاپان اور سنگاپور شامل ہیں ان تمام ممالک نے سرکلر ریلوے پر بھر پور توجہ دی جس کی وجہ سے ان ممالک کی ترقی میں اس نقل و حمل کے زرائع نے بہت کلیدی کردار اد کیا جب کہ پاکستان میں بدقسمتی سے اس نظام کو ایک سوچے سمجے منصوبے کے تحت کمزور کیا گیا جو نہ صرف کراچی کے عوام کے لیئے تکلیف کا باعث بنا بلکہ وطن عزیز کی ترقی کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور یہ عمل تا حال جاری ہے۔

Muhammad Arshad Qureshi
Muhammad Arshad Qureshi

تحریر : ارشد قریشی

Share this:
Tags:
Facilities memories pakistan population systems transportation آبادی پاکستان ٹرانسپورٹ ریلوے سہولیات کراچی نظام یادیں
Previous Post کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
Next Post حویلی لکھا کی خبریں 17/8/2016
Haveli Lakha

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close