Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کراچی بے پرواہ ہو گیا

December 11, 2018 0 1 min read
Karachi
Karachi
Karachi

تحریر : شیخ خالد زاہد

کراچی کبھی عروس البلاد کہلاتا تھا ، روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ، بین الاقوامی شہر کہلاتا تھا، غریب پرور شہر کہلاتا تھااور ہماری کم علمی کہ معلوم نہیں اور کیا کچھ کہلاتا تھا، کراچی کی سڑکوں کا مقابلہ پاکستان کے کسی اور شہر سے نہیں کیا جاسکتا تھا، کراچی کی سڑکوں کی ناصرف صفائی ستھرائی کی جاتی تھی بلکہ اہم شاہراہوں کی روز صبح ماشکی دھلائی بھی کیا کرتے تھے، تانگہ بھی چلا کرتا تھا، بیل گاڑیاں بھی چلتی تھیں اور بڑی بڑی گاڑیاں بھی سڑکوں کو رونق بخشاکرتی تھیں۔ کراچی کی ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ سواری ڈبلیو ۱۱ ویگن بھی سڑکوں کی رونق تھی ۔ پیدل چلنے والوں کا احترام ہوتا تھا ایک دوسرے سے حال احوال ، خیر عافیت طلب کی جاتی تھی۔ سب طرف رونق ہی رونق تھی، چہل پہل تھی ، ادب تھا ادبی بیٹھکیں تھیں ، میلاد و مجالس کی محفلوں کی طرح گرجا گھراور مندر بھی بلاخوف و خطر آباد تھے ، شعلہ بیان مقررین تھے ، شعراء تھے اور سب سے بڑھ کر صاحب علم لوگوں کی ایک کثیر تعداد شہر کی روشنیوں کے اصلی مینار تھے ، تعلیم اور شعور کی بہتات تھی ،ادب سے لبریز اردو زبان مخصوص لب و لہجہ لئے گلی محلوں اور بازاروں میں گونجتی رہتی تھی اور کانوں میں خوب چاشنی گھولتی تھی۔

تعلیم تھی تربیت تھی ، ادب تھا لحاظ تھا ۔ وہ ادھ کھلی کھڑکیوں سے تانکہ جھانکی تھی اور وہ نقابوں سے جھانکتی محبت کی داستانیں تھیں۔ وہ مٹی کے چولوں میں پھونکنی سے آگ جلانے میں کوئی دقت نہیں تھی ، روٹیاں بنانے میں کسی کو کوئی دقت نہیں تھی، کم گوشت والے جسم تھے، سالن میں بھی پانی کی فراوانی تھی ۔ لوگ محنت مشقت آج سے بھی زیادہ کرتے تھے ، میلوں پیدل چلا کرتے تھے ، لیکن تھکن سے مزاج نہیں بگڑتے تھے لہجے تلخ نہیں ہوتے تھے اورسب سے بڑھ کر وقت بھی بچالیتے تھے اور ذرا دیر کو حقہ سلگا لیتے تھے۔ نا زبان تقسیم کرتی تھی نا مذہب میں اتنی دیواریں تھیں۔معلوم نہیں کہ کراچی حقیقت پسندنہیں تھا لیکن ترقی پسند ضرور تھا ۔ کراچی شہر اپنے ہوش و حواس میں بہت خوش و خرم تھا ہر کسی کی بہت پرواہ کیا کرتا تھا، آؤ بھگت کیا کرتا تھا۔

وقت بدلتا ہے ، وقت بدل گیا، ان دونوں جملوں کے بیچ میں اتنا کچھ ہوا کہ جس کا اندازہ لگانے بیٹھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ انسان نے دنیا کو اپنے رہنے کے قابل بنانے کی کبھی کوئی حد طے نہیں کی اور کر بھی کیسے سکتا تھازیادہ سے زیادہ سہل پسندی(آرام طلبی کی سہولیات) نے انسان کو مسلسل جدوجہد کی عادت ڈال دی اور اب یہ عادت فطرت میں تبدیل ہوچکی ۔ آج ہر کوئی اس فطرت پر عمل پیرا ہے اور اس عمل کی لت میں لتھڑتا ہی چلا جا رہا ہے ۔ بدلاؤ کسی نا کسی طرح من کیلئے تکلیف کا سبب بنتا ہے ، بچہ جب اسکول جانے کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسکے ساتھ ساتھ والدین کیلئے بھی بدلاؤ کا وقت ہوتا ہے اب بچے کو اسکول بھیجنا ہے اپنے سے الگ کرنا ہے پچھلے دو تین سال کا ہر وقت کا ساتھ اب کچھ وقت کی دوری میں بدلنے جا رہا ہے اور جو کہ دل کے کسی نا کسی خانے میں دکھ کی شکل بن کر بیٹھ جائے گا اور یہ دکھ زندگی کے آخری وقت تک ساتھ جائے گا(دوری کا یہ سلسلہ طویل تر ہوتا چلا جائے گا)۔ بدلاؤ میں دکھ کی آمیزش ہوتی ہے برس ہا برس سے گھر میں رکھی ہوئی کرسی جو کہ بارہا مرمت کے بعد اب تبدیل کی جانی ہے اپنے بچھڑنے کا کہیں نا کہیں دل میں تھوڑا بہت دکھ چھوڑتی ہے ۔

گاؤں دیہاتوں کا خالص پن ختم کرنا ہوتو وہاں سڑکیں بنادی جائیں تاکہ ترقی کو سادگی اور ایمانداری کو بے ایمانی سے تبدیل کر کے ترقی کی داغ بیل ڈال دی جائے، شائد یہ باتیں دقیانوسی محسوس ہورہی ہوں لیکن اس بات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے ۔ دورِ حاضر میں تو سڑک سے زیادہ خطرناک انٹرنیٹ کی سہولت بن چکی ہے ۔کراچی جو کہ ایک زندہ جیتا جاگتا، بین الاقوامی شہر تھا ، ترقی کی دوڑ میں شامل ہونا شروع ہوا ۔کراچی کا محل وقوع واضح ہونا شروع ہوا دنیا کے حکمت عملی سازوں نے کراچی کی اہمیت کو بھانپ لیا مگر بد قسمتی سے پاکستانی اس اہمیت کی بوتک محسوس نا کرسکے ۔ترقی کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی ، ترقی نے کراچی کی سڑکوں پر دوڑ لگانا شروع کردی۔ ابھی ترقی کراچی سے دور تھی کے نامعلوم افراد نے کراچی میں ڈیرے ڈال لئے بس پھر کیا تھا کہ کراچی میں خونریزی کی وارداتوں نے جنم لینا شروع کیا ، انسانیت کا قتل عام ہونے لگا کراچی کے شہری ڈر گئے سر شام اپنے اپنے ٹھکانوں کا رخ کرنے لگے ، اسکول کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو تالے لگنا شروع ہوگئے ، کھیل کے میدانوں میں کتے لوٹنے لگے ، کراچی سہم گیا اور سہمتا بھی کیوں نا، کہیں نا کہیں بوری میں بند لاشیں ملنا شروع ہوگئیں، گلی محلوں میں لاشیں پڑی ملنے لگیں۔ سرِ راہ لوٹ کھسوٹ عام سی بات ہوگئی، ایک معمولی سی چیز کی خاطر جان لی جانے لگی، املاک کو گاڑیوں کو آگ لگائی جانے لگی کراچی نے سہمنا ہی تھا (حالات کی سنگینی اس حد تک بڑھی کے کراچی والے ذہنی معذور ہونے لگے)۔دشمنوں کی سازشیں رنگ لائیں، دنیا کی نظروں میں کراچی اپنا مقام کھوتا چلا گیا، جن لوگوں کے پاس وسائل تھے انہوں نے ملک بدر ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ کاروبار اور کاروباری کسی اور شہر کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ پاکستان میں کراچی ایک سیاہ دھبا بنتا چلا گیا۔ بدلاؤ کی اس دوڑ میں کراچی لہولہان ہوگیا، کراچی کی ایک نسل اس بدلاؤ کی بھینٹ چڑھ گئی جبکہ کراچی کی دو نسلیں علم سے دور ہوگئیں ہر دو نمبر کام عام ہوگیا، نا مسجد محفوظ رہی نا ہی مندر اور نا ہی کلیسا ء ساری سجدوں کی جگہیں لہولہان ہوگئیں۔کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ کراچی جو کبھی خوفزادہ نہیں ہوا تھا ، خوفزدہ دیکھائی دینے لگا۔ کراچی نے جنہیں اپنا والی وارث بنایا تھا یا جو کراچی کے والی وارث بنے پھرتے تھے وہی کراچی کو اس حال میں پہنچانے والوں کی صفہ اول میں شامل تھے۔

بدلاؤ میں پھر بدلاؤ آیالیکن کراچی اب وہ کراچی نہیں تھا ،کراچی اب نئے سرے سے آباد ہونا شروع ہوا اورملک کے خصوصی طور پر پسماندہ علاقوں سے لوگوں نے کراچی پہنچنا شروع کیا جس کو جہاں جگہ ملی اس نے پڑاؤ ڈال لیا ۔ کراچی کے دوردراز علاقوں میں نوآبادیاں آباد ہونا شروع ہوگئیں اور کسی گاؤ ں دیہات جیسے مناظر عام دیکھائی دینے لگے۔ شہر لاوارث سا دیکھائی دینے لگا جس کو جہاں جگہ ملی اسنے اپنا ٹھکانا وہیں بنا لیا۔بے تحاشہ ایسے مقامات اندرونِ شہر موجود ہیں جہاں کچی بستیاں باقاعدہ آباد کرلی گئی ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے کراچی کی سڑکیں گنجلک ہوتی چلی گئیں ، بین الاقوامی شہر کی اہم ترین شاہراہوں پر چنگچی نامی سواری اپنی آواز اور دھویں سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرتی بغیر کسی قانون کی اجازت کے دوڑتی پھر رہی ہیں، یہ وہ سواری ہے کہ جس کے باعث شہر میں بے تحاشہ حادثات رونما ہورہے ہیں۔ شہر کی آبادی دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں سے کروڑوں میں منتقل ہوگئی ۔ مختلف مافیائیں تھوڑے ٹھوڑے پیسے لیکر ذاتی مفادات کی خاطر شہر کی خوبصورتی اور اہمیت کو نقصان پہنچاتے چلے گئے ۔ پورا ملک بغیر کسی حکمت عملی کے چلتا رہا اور اسکا سب سے زیادہ نقصان کراچی کو اٹھانا پڑا۔ کسی کو سیاسی احتجاج کرنا تھا تو وہ اٹھا اور سیدھا کراچی پہنچ گیا ، کسی کو مذہبی دھرنا دینا تھا تو وہ کراچی پہنچ گیا کسی کو انسانی حقوق کیلئے ریلی نکلانی تھی تو وہ کراچی پہنچ گیا۔

بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے کراچی میں پانی کاشدید بحران پیدا ہوگیا ، کراچی میں ہر طرف کچرے کے ڈھیر دیکھائی دینے لگے، کراچی میں ٹریفک کا بحران پیدا ہو گیا، کراچی میں نکاسی آب کا مسلۂ طول پکڑتا جا رہاہے، کون سا ایسا مسلۂ ہے جو پاکستان اور خصوصی طور پر کراچی میں نا پایا جاتا ہو۔ ابھی کراچی سے کچرے کا ڈھیر پوری طرح سے اٹھایا نہیں جا سکا تھا کہ کراچی کو ملبے کا ڈھیر بنادیا گیا ہے۔کراچی نے دوبارہ جینے کا حق ہی نہیں مانگا۔

یہ ایک بہت ہی تلخ بات ہے کہ پاکستان حقیقی معنوں میں حکمتِ عملیاں مرتب کرنے والوں سے محروم رہا ہے ۔ پاکستان میں حکمت عملیوں کی ترتیب دی گئی لیکن وہ تھیں ذاتی مفادات پر مبنی حکمتِ۔ جس کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان میں افراد تو امیر سے امیر تر ہوتے چلے گئے لیکن ادارے تباہ و برباد ہوگئے اور جو بچے ہیں وہ تباہی کے سفر پر گامزن ہیں ۔کراچی آج بھی خود ساختہ معاشی حب سمجھا جاتا ہے ۔یعنی حکمتِ عملیوں کا فقدان بھی اس کی اہمیت کو کم نہیں کرپایہ ہے۔

کراچی کو مفادات کی بھینٹ چڑھانے والے کوئی باہر سے آئے ہوئے لوگ تو نہیں تھے، کراچی کو لاوارث کس نے کیا ہے ۔ سیاسی جماعتیں کراچی سے انتخابات اپنی نشتوں کی گنتی بڑھانے کیلئے لڑتی ہیں کراچی کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا ۔اردو زبان کو اپنے لب ولہجے سے گھن آتی ہے ، اب تو ادب بھی بے ادب ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ کراچی میں جب جب تاریکی چھاجاتی ہے ، کراچی روتا ہے ، کراچی کی سسکیاں ہمارے کانوں میں گونجتی ہیں مگر ہم سب بے حس ہوچکے ہیں ۔ کراچی کی زمین رلتی چلی گئی ، نازک مزاج کراچی بستر مرگ پر پہنچنے کوہے۔ کراچی اب سب سے بے پرواہ ہوگیا ہے اب کراچی کو وارثوں کی ضرورت ہے اور نا ہی کسی مسیحاکی، کراچی ایدھی ہوم میں رکھا ہوا ، دنیا و مافیا سے بیخبر ایک مست یا پاگل ہے جسے زندگی کی وحشتوں نے اتنا ستایا کہ وہ اپنے ہو ش حواس کھو بیٹھاہے اور خود کو وقت کی بے رحمی کہ حوالے کر بیٹھا ہے۔

Sh. Khalid Zahid
Sh. Khalid Zahid

تحریر : شیخ خالد زاہد

Share this:
Tags:
city Development karachi lights roads Sh. Khalid Zahid ترقی تعلیم روشنیوں سڑکوں شہر کراچی
Extensions Operations
Previous Post لینڈ مافیا کا این آر او کے سرگرم
Next Post پی ٹی آئی پنجاب کو مضبوط بنانے کے لیے عمر ڈار کا انتخاب
Umer Dar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close