Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

میں کراچی سے اسلام آباد شفٹ ہو گیا

April 19, 2017 0 1 min read
Karachi
Karachi
Karachi

تحریر : میر افسر امان
دو سو سال سے زائد عرصہ گزرا کہ ہمارے بزرگ کشمیر کے راجہ کے مظالم کی وجہ سے ہجرت کر کے پنجاب کے علاقے ضلع اٹک کی تحصیل حضرو میں آباد ہو گئے۔ میں نے حضرو کے گورنمنٹ اسکول سے ١٩٦٣ء میں میٹرک پاس کیا۔ میری والدہ صاحبہ(مرحومہ) مجھے خاندان کے ایک کھاتے پیتے صاحب کے پاس نوکری کے لیے لے گئی۔ وہ صاحب حضرومیونسپل کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ وہ میری والدہ سے کہنے لگے آپ کے بیٹے کو پولیس میں بھرتی کروا دیتا ہوں۔ دو برس بعد اسے اے ایس آئی بنوا دوں گا۔ میری والدہ نے ان سے کہا کہ نہیں میں اپنے بیٹے کو پولیس میں بھرتی نہیں کروائوں گی کیونکہ پولیس والے بڑے ظالم ہوتے ہیں۔ان صاحب نے مجھ سے معلوم کیا کہ کہاں نوکری کرنا چاہتے ہو۔ میں نے کہا کہ آپ مجھے بنک میں نوکر کروا دیں۔انہوں نے کہا کہ اگر بنک کی نوکری کرنی ہے تو پھر تمھیں کراچی جانا ہو گا۔ میں نے لڑکوں سے سن رکھا تھاکہ کراچی میں کئی میل لمبا ایک بندر روڈ ہے۔

ریوالی سینما ہے اور سمندر ہے وغیرہ۔میں فوراً تیار ہو گیا۔ہمارے رشتہ دارکا سندھ کے شہر سکھر لڑائیکی بازار میں سیٹھ دائودسیٹھ حسن دین کے نام سے نسوار کا کاروبارتھا۔میں١٩٦٣ء نصف صدی سے زیادہ عرصہ پہلے ایک دن حضرو سے نسوار سے بھرے ٹرک پر سوار ہو کر سکھر پہنچ گیا۔ دو دن سکھر میں گزارنے کے بعد تیسرے دن ایک رشتہ دار کے ساتھ رات دس بجے ریل گاڑی پر سوار ہو اور دوسرے دن کراچی پہنچ گیا۔ صدر میں سلاطین ہوٹل میںہمارے لیے کمرہ بک تھا۔ ایک دن ایک کوآپریٹو بنک، موتن داس بلڈنگ ،متصل میمن مسجد بندر روڈ ٹرینیی کلرک کے طور پر ١٠٠ روپے ماہوار پر ملازمت کا لیٹر مل گیا۔کچھ عرصہ بعد میں نے بنک کی نوکری چھوڑ دی۔ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ١٥٠ روپے کی ملازمت مل گئی۔پھر ٣١ سال اسی ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کی ١٩٩٩ ء میںریٹائرڈ ہوا۔ اب تک ریٹائرڈ لائف گزار رہا ہوں۔ میں نے

شوقیا کالم نگاری اختیارکی جواب تک جاری ہے اور انشا اللہ جاری رہے گی۔ جب میں کراچی آیا تو پہلی دفعہ سڑک پر ٹرام چلتی دیکھی۔ محمد علی ٹرام وے کی ٹرامیں بندر روڈ سے کینٹ ریلو ے ا سٹیشن، کیماڑی، سولجر بازار وغیرہ تک چلتی تھیں۔ ان ہی دنوں احمد رشدی گلوکار کا گانا” بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر” بڑا مشہور ہوا تھا۔اس وقت اور اب بھی کراچی غریب پرور شہرہے۔ دوپہر کے وقت ہم ایک آنے کی روٹی اور دال مفت کھایا کرتے تھے۔ اقبال روڈ میمن مسجد کے پاس کپڑا مارکیٹ کی فٹ پاتھ پر کچوری والے سے ایک روپے کی کچوریوں سے بھی پیٹ بھر جاتا تھا۔کبھی کبھی ریوالی سینما کے متصل گلی میں ایک روپے کے دال چاول سے بھی کھاتے رہے۔دوسری طرف مہنگے اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں پیسے والے لوگ مہنگے کھانے بھی کھاتے تھے۔کراچی منی پاکستان کہلاتا ہے۔ بندر گاہ انڈسٹری کی وجہ سے کراچی شہر میں پاکستان کے سارے علاقوں کے لوگ روزی کمانے کے لیے آتے تھے اور اب بھی آ رہے ہیں۔لوگ کراچی میں دن بھرنوکری اور کاروبار کے بعد اپنی فیملی کے ساتھ بے خوف و خطر کھانے پینے کی دکانوں پر جاتے تھے ۔ چھوٹی بڑی جگہوں کے علاوہ، بندر روڈ پر بندو کے کباب بہت مشہور تھے۔ سیر گاہوںمیں چڑیا گھر،کیماڑی،قائداعظم کا مزار اور ہل پارک بہت مشہور تھے۔ پورا شہر روشنیوں سے جگمگا تا رہتا تھا۔ غریب پرور شہر کے بعد کراچی روشنیوں کا شہر بھی مشہور ہو گیا۔ منی پاکستان اس لیے مشہور ہوا کہ کراچی میں بھارت سے ہجرت کر آنے والے کے ساتھ پٹھان،پنجابی،بلوچ، سندھی، کشمیری اور گلگتی بھی جوق در جوق اس شہر میں روزی کمانے کے لیے آتے رہے۔ ہجرت کر کے آنے والوں مہاجروں کی آباد کاری مقصود تھی اس لیے کراچی میں کالونیاں، جیسے پاکستان کواٹر،جمشیدکواٹر، لالوکھیت، ڈرگ کالونی ، ملیر کالونی ،نظام آباد وغیرہ بنائی گئیں۔ ان کالونیوں میں سڑک،سوریج، پانی، بجلی اور گیس کا انتظام کیا گیا۔جبکہ اندرون ملک سے آنے والے ایسی جگہوں پر

آباد ہونے لگے جہاں پر ایسے انتظامات نہیںتھے۔یہ آبادیاںندی نالوں پر آباد ہوئیںجوکچی آبادیاں کہلائیں۔ بعد میں بجلی ،پانی،گیس ، سوریج اور سڑک ان آبادیوں میں مہیا ہو گئیں اور ایک ایک کر کے ان کو حقوق ملکیت بھی دے دیے گئے۔ ساری قومیں آپس میں شیر وشکر کے ساتھ کراچی میں رہتی تھیں۔کراچی کے یہ سارے لوگ مل جل کرکراچی کو سنوارنے میں لگے رہے۔اگر سیاست کی بات کی جائے تو پاکستان میں مشہور تھا کہ کراچی کی سوچ پورا پاکستان اپناتا ہے۔ اس شہر کو دشمنوں کی نظر لگ گئی۔ گو کہ سندھ میں ایک شخص چالیس سال سے قومیتوں کو لڑاتا رہتا تھا۔ اس سندھی قوم پرست شخص نے بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے سندھ میں مداخلت کرنی کی اپیل بھی کی تھی۔ مگر اس کی ایک نہ چلی۔پھرہجرت کر کے آنے والوں میں سے بھی ایک شخص نے قومیت کا نعرہ لگایا۔ اُس نے مہاجروں سے کہا ” حقوق یا موت” ٹی وی اور وی سی آرفروخت کرو اور اسلح خریدو اسلحہ چلانے کی ٹرینیگ سیکھو۔ قوموں کے درمیان نفرت ایسی نفرت پھیلائی کہ شیطان کو بھی شرم آنے لگی ہو گی۔ مسلمان نے مسلمان کر صرف اس لیے قتل کرنا شروع کیا کہ وہ دوسری قوم کا ہے۔ پنجابی پٹھان آبادی والے علاقوں میںمسجدوں سے اعلان ہونے لگے کہ مہاجروں نے حملہ کر دیا۔ مہاجروں والی بستیوں سے اعلان ہونے لگے کہ پنجابی پٹھانوں نے ھملہ کر دیا ہے۔ پورے شہر میں قتل و غارت شروع ہو ئی۔اس پرپھر سندھی قوم پرست نے ایک تاریخی بات کی تھی کہ جو نفرتوں کا کام میں چالیس سال نہ کر سکا وہ مہاجر قوم پرست نے چالیس دن میں کر دیا۔مزدوری کرنے والے پٹھانوں کو لکڑی کے ٹالوں اور روٹی کے تندروں پر قتل کر دیا گیا۔کراچی میں مزدوری کرنے والے پنجابیوں اور پاکستان کے دوسرے مظلوموں کی لاشیں اندرون ملک جانے لگیں۔ ایک دن میں سو پٹھان مظلوں کو شہید کر دیا گیا۔ حیدر آباد میں تین سو مہاجروں کو سندھی قوم پرستوں نے بے گناہ شہید کر دیا۔مہاجر قوم پرست دہشت گرد الطاف نے کراچی میں سو سے زیادہ پر تشدد

ہڑتالیں کرائیں۔ لندن میں بیٹھے مہاجر قوم پرست کی ایک فون کال پر شہر بند ہو جاتا اور ایک فون کال پر شہر کھل جاتا۔ پورے الیکٹرونک میڈیا کو یرغمال بنا لیا گیا۔ لندن میں بیٹھے لسانی دہشت گرد شراب میں تھت کئی کئی گھنٹے اول فول تقریریں کرتا رہا۔ دو قومی نظریے کی نفی اور قائد اعظم پر رکیک حملے کیے۔ پرنٹ میڈیا پر لندن میں بیٹھے مہاجر قوم پرست کے حکم کے مطابق سرخیاں لگتیں۔ الیکٹرونک میڈیااور پرنٹ میڈیا کے کئی دفاتر پر حملے گئے کچھ کو جلا بھی ڈالا۔ ١٢ مئی کا کیس سننے والی ہائی کورٹ کو لسانی تنظیم کے ہزاروں غنڈوں نے گھیرے رکھا اور کیس نہیں سننے دیا۔ وکیلوں کو گن پائوڈر پھینک کر زندہ جلا ڈالا گیا۔سنی تحریک کے پروگرام میں خودکش حملہ کروا کے درجنوں علماء کو شہید کر دیا گیا۔ پاکستان کے سبز ہلالی جھنڈے کوجلایا گیا۔ دہلی میں کہا کہ ہند کی تقسیم ایک تاریخی غلطی تھی۔کراچی کی سیاست کو پاکستان کی سیاست کے بجائے مہاجرقوم پرست سیاست بنا دیا۔دانشور حکیم سعید، مشہور دینی عالم شامزئی،اخباری نمائندے سید صلاح الدین، الیکٹرونک میڈیا کے بابر ولی اور خود اپنے ہی بیس ہزار مہاجروں کو شہید کیا گیا۔ جو قوم کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے کا نعرہ دیا۔ مہاجروں کو بھارت بھیج کر دہشت گرد ی کی ٹرینینگ دلانے ،را سے فنڈ لینے ، ٹھپا مافیا نے پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے کر کے ووٹ اپنے نمائندے کے حق میں ڈلوانے، پولنگ ایجنٹوں اورپولنگ کے عملے کو اغوا کرنے، بھتہ خوری، ٹارگیٹڈگلنگ،لینڈ مافیا،پارکوں پر لسانی دہشت گرد تنظیم کے دفاتر کا بننا شروع ہوئے۔ جعلی حقوق کے نام پر لگ بھگ ٢٥ سال تک کراچی پر حکومت کرنے والی مہاجر قیادت نے بجلی، پانی، گیس ، ٹرانسپورٹ، سوریج،صحت اور نہ ہی امن دیا۔ کیسے دیتے ان کا مشن اپنے آقائوں کی ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کو توڑنا، مہاجروں میں نفرت اور علیحدگی پھیلانا تھا جو انہوں نے خوب اچھے طریقے سے کیا۔ دہشت گرد لسانی تنظیم نے مہاجروں کو اُکسا کر جعلی حقوق کے نام پر کراچی شہر کی دوسری قومیتوں سے لڑانا تھا جو خوب لڑایا

گیا۔ ٹارچل سیل بنائے گئے۔ مخالفوں کے گھٹنوں پر ڈریل مشینیں چلائی گئی۔ہسپتال میں لسانی تنظیم کے ڈاکٹروں نے دوسری قوم کے زخمیوں کا علاج کرنے سے انکار دیا اور وہ ہسپتال کے باہرپڑے دم توڑ گئے۔ فیکٹری سے بھتہ نہ ملنے پر ٢٦٠ مزدروں کو زندہ جلا ڈالا گیا۔ ان حالات میں کراچی کے سرمایا دار اور پوش علاقوں کے لوگ بیرون ملک منتقل ہونے شروع ہوئے جس سے شہر کی معاشی ترقی کا پہیہ رک گیا۔کیا کیا بیان کیا جائے بڑی دکھ بھری داستان ہے۔ صاحبو!پھر اللہ نے مظلوموں کی سنی گئی اور اللہ کی مدد آئی۔ فوج نے پاکستان میں ضرب عضب اورکراچی میں خصوصاً ٹارگیٹڈ آپریشن شروع کیا۔ رینجرز کے بھر پور کاروائیوں کی وجہ سے دہشت گرد شہر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ کچھ دہشت گردوں کو رینجرز نے خصوصی اختیار کے تحت گرفتار کر کے قانون کے حوالے کیا۔ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح کراچی روشنیوں کے شہر کی روشنیاں پھر سے بھال ہونے لگیں۔تاجروں نے سکھ کا سانس لیا۔ ہڑتالیں ہونا بند ہو گئیں۔بھتہ خوری ، اغوا برئے تاوان اور ٹارگیٹڈ کلنگ ختم ہوئی۔لوگ پھر سے اپنی فیملی کے ساتھ شہر میں تفریحی مقامات اور سیر گاہوں پر جانے لگے ۔قومیتں آپس میں پھرسے شیر و شکر ہو گئیں۔برسوں سے روکا ہوامعاشی ترقی کا پہیہ چلنے لگا۔ شہر کی روشنیاں پھر سے واپس لوٹ آئیں۔الیکٹرونک میڈیا ا زاد ہو گیا اینکر اپنے پروگراموں میں اب سچ اور حق کے تجزیئے کرنے لگے۔ اب پرنٹ میڈیا پر مرضی کی سرخیاں لگانے والے کی اپنی سرخیاں لگنے لگیں۔کل تک فرعوں بننے والا خود نشان عبرت بن گیا۔ پھر ٢٢ اگست کو وقت کے فرعون نے پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگا یا۔ اپنے کارکنوں کومیڈیا پر حملہ کرنے کے لیے اُکسایا۔ لسانی دہشت گرد تنظیم کے ایک دھڑے کے کچھ لیڈروںنے ایک رات رینجرز کے ہیڈ کواٹر میں حراست میں رہنے کے بعد دوسرے دن فارق ستار کی سربراہی میں اپنی قیادت کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان بنا کر ایم کیو ایم لندن اورد ہشت گرد لسانی لیڈر الطاف سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ آفاق احمدخان کی قیادت میںمہاجر قومی موومنٹ پہلے سے موجود ہے۔ پاکستان سرزمین پارٹی سید کمال مصطفےٰ کی سربرائی میں لسانی لیڈر الطاف حسین کی پاکستان کے خلاف سارا کھٹا چھٹا دنیا کے سامنے بیان کر چکا ہے۔خود الطاف کا بچا کچھا ٹولہ ایم کیو ایم لندن کی چھتری میں چھپا ہوا ہے۔پاکستان مین الطاف کی تصویر و تقریر پر عدلیہ نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔

عوام نے پاکستان کے شہروں شہر الطاف پر غداری کے کے مقدمات قائم کروائے۔ پاکستان کی سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلیوں میں الطاف کے خلاف آرٹیکل نمبر چھ کے تحت غداری کے مقدمات قائم کرنے کی قراردادیں پاس ہو چکی ہیں۔اب یہ وفاقی حکومت کے ارباب اقتدار کے ذمہ ہے کہ وہ غدرا وطن الطاف کے خلا ف آئینِ پاکستان کے مطابق کب کاروائی کرتے ہیں۔ مکافات عمل دیکھیں کہ پاکستان کو توڑنے والے الطاف کی دہشت گرد لسانی تنظیم خود چار ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ پاک فوج اور سندھ پولیس کی قربانیوں کی وجہ سے کراچی کی روشینیاں واپس لوٹ آئی ہیں۔میں کراچی میں اوپر بیان کردہ حالات کا چشم دیدہ گواہ ہوں۔ مجھے اللہ نے قوت عطا کی تھی اور قومی پریس اس بات کی گواہ ہے کہ میںان حالات کو قومی پریس میں بیان کرتا رہا ہوں۔باب الاسلام سندھ کی دھرتی کے شہر کراچی نے مجھے بہت کچھ دیا۔ میں بھی اس کا مقدمہ اپنی بساہت کے مطابق کالم لکھ کر ادا کرتا رہا۔ بعض دفعہ کراچی کے اخبارات میرے کالم شائع نہیں کرتے تھے مگر اندرون ملک کے اخبارات میں میرے کالم شائع کرتے رہے۔کراچی میرا ہے اور میں کراچی کا ہوں۔ میں نے کراچی میں نصف صدی سے زیادہ وقت گزرا ہے۔ کراچی مجھے یاد رہے گا۔ اب میں٥٤ سالہ رفاقت کو خیرآباد کہہ کر اپنے گھر میں کراچی سے اسلام آباد شفٹ ہو رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کراچی اور پاکستان کو دشمنوں کی نظر بد سے بچائے آمین۔ میں اسلام آباد میں بیٹھ کر بھی منی پاکستان کراچی کا مقدمہ لڑتا رہوں۔ انشاء اللہ۔

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Tags:
family islamabad karachi Mir Afsar Aman pakistan Shift violence اسلام آباد پاکستان خاندان شفٹ کراچی مظالم
Panama Leaks
Previous Post پانامہ کا پیمانہ کمیشن بنے گا
Next Post بے وقت ہی مسافت پر اکسا رہا ہے
Distance

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close