
اس قدر گمبھیر صورتِ حال کے باجود حکومت اور طالبان کی کمیٹیوں کی ملاقت اور اس ملاقت میں مذکرات جاری رکھنے کا عمل ایک معجزہ ہی تصور کیا جائے گا۔ 13 جنوری کو رزاق آباد کے پولس ٹریننگ سینٹر کے قریب پولس بس پر طالبان کی جانب سے خود کش حملہ کیا گیا جس میں 12 پولس اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 50 کے قریب زخمی ہوے۔ اس خون آشام کاروائی کی ذمہ داری تحریکِ طالبان نے قبول بھی کرلی ہے۔ جبکہ اس کاروائی سے قبل طالبان کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ گذشتہ دو ہفتوں سے تحرکِ طالبان نے کوئی کاروائی نہیں کی۔ تو پھر کیا وجہ تھی اس بیان کے آجانے کے بعد کراچی میں پولس کے خلاف طالبان نے ایسی کاروائی بغیر کسی جواز کے کر ڈالی؟ اور ایسا کیوں ہوا؟ مگر اگلے روز کے اخبارات میں وہ وجوہات بھی سامنے آگئیں۔ جن کو وجہ بنا کر کراچی میں پولس کے جوانوں پر خود کش حملہ کیا گیا۔
اس حملے کی طالبانی وضاحت یہ ہے کہ اگر صوابی اورپشاور میں تنظیم کے کارکنوں کو ماراجا تا رہا تو اس قسم کے مزید حملے بھی کیئے جا سکتے ہیں…. طالبان وزیر اعظم پر تو بھروسہ کرتے ہیں مگر فوجی اسٹابلشمنٹ پر نہیں!!! یہی وجہ ہے طالبان کمیٹی کے ارکان چاہتے ہیں کہ وہ وزیر اعظم کی موجودگی میں چیف آف آرمی اسٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے مل کر اپنے خدشات واضح کردیں۔ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں اپنے خدشات کی وضاحت ہر گز ہر گز کرنے نہیں دی جائے گی۔ کیونکہ اس وقت طالبان مخالف عناسر کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے۔ وجہ اس کی آج بھی مائٹ رائٹ ہے۔ جو وزیر اعظم اور حکومت کے احکامات ماننے کے اپنے آپ کو پابند نہیں سمجھتے ہیں۔ اسی روئیے نے پاکستان کو موجودہ نہج تک پہنچایا ہے اور اللہ رحم کرے یہ عناصر پاکستان کے ساتھ مستقبل میں اورنہ جانے کیا کرنے والے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پولس والوں پرکراچی میں 13، فروری کو کئے جانے والے اس حملے نے مذاکرات کے عمل کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اب ہر جانب سے خاص طور پر مذاکرات کے مخالف عناصر کی طرف مذاکرات کی شدت کے ساتھ مخالفت ناصرف شروع ہوچکی ہے ۔بلکہ اس کی مخالفت میں انتہا پسندی کا پہلوں بھی نمایاں ہوکر سامنے آرہا ہے۔ طالبان کو چاہئے جہاں وہ اسلام پر چلنے پر مصر ہیں وہیں اپنے رویوں پر بھی نظرے ثانی کر لیں۔ قاتل کا کام تو قتل کرنا ہے۔ مگر طالبان کے لء عرض ہے کہ اسلام تو اپنے ٹارگیٹ سے ہٹ کر بے گناہوں کا خوان بہانے کی شدت کے ساتھ مخالفت کرتا ہے اور صبرو احسان کی بار بار تلقین بھی کرتا ہے۔اگلے دن وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ مذاکرات اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ہیں۔ طالبان سے مذکرات کی کامیابی کے ضمن میں وفاقی وزیرِ داخلہ نے دارلعلوم کرچی کے جید علما سے بھی بات کی جسٹس تقی عثمانی سے بات کرنے کے بعد چوہدری نثار جامعہ اسلامیہ بنوری ٹائون بھی گئے جہاں وزیر داخلہ کو علماء کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ ہر صورت میں پاکستان کے مفادات کے پیش نظر اپنا کردار ادا کریں گے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔
پاکستان سے ہمدردی اور محبت رکھنے ولے لوگوں کی اکثریت اس قتل و غارت گری کی فضاء سے باہر نکلنا چاہتی ہے۔ اسی طرح طالبان کے دلوں میں بھی شائد کہیں یہ رمک دکھائی دیتی ہے کہ ”بس بہت ہوگیا” اب سب کو امن و سکون کی طرف لوٹنا چاہئے۔ ہمارا حافظہ بہت ہی کمزور وقع ہوا ہے،ہم یہ بات بھول گئے ہیں کہ امریکہ نے تو ہمارے فوجیوں کو ہمارے گھر میں گھس کر قتل کیا تھا۔ ہم نے اس استعماری قوت سے تو اپنے فوجیوں کے قتل کرنے پر معافی کا بھی ایک لفظ نہیں سنا اور پھر بھی اُس گھس بیٹھیئے کی غلامی میں اُس کی ڈنڈوت کرتے نہیں تھک رہے ہیں۔ افسوس ہوتا ہے ایسے رویوں پرکہ اپنے ہم وطن بھائی کی تو، تُو سننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اور درانداز کے واری واری جا رہے ہیں۔ اس کی شائد وجہ یہ ہے کہ وہ ہم سب کو جی بھر کے نواز رہا ہے۔
ان تمام مشکل حالات کے باوجود ربِ کائنات کا ہزار بار شکر ہے کہ مذاکرات کی ڈور ٹوٹی نہیں ہے۔ مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات سے قبل تحریکِ طالبان نے موجودہ جنگ بندی کے لئے دو مطالبات پیش کئے ہیں۔ جن میں معصوم بچوں، خواتین اور ضعیف افراد، جو سیکورٹی ایجنسیوں کی حراست میں ہیں کی رہائی اور جنوبی وزیرستان سے فوجی دستوں کی ایف سی کے علاوہ بیرکوں میں واپسی شامل ہیں۔ تا کہ طالبان، حکومت اور فوجی حکام کے ساتھ وہیں پر برائے راست مذاکرات ہو سکیں۔ ذرئع کہتے ہیں کہ طالبان کے مطالبات وزیر اعظم تک پہنچا دیئے گئے ہیں اور ادارے بھی طالبان کے بچوں بوڑھوں اور خواتین کو رلیز کرنے کا سوچ رہے ہیں۔
موجودہ حالات کے پیش نظر جنگ یا مذاکرات کے حوالے سے جمیعت علماء اسلام (س)کے سربراہ جو طالبان کمیٹی کے اہم رکن بھی نے 15، فروری بروز ہفتہ لاہور میں ایک آل پارٹی علماء و مشائخ کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں ہر مکتبہ ِ فکر اور تمام مسالک کے علماء و مشائخ کو مدعو کیا گیا تھا۔ جس کی صدارت مولانا سمیع الحق نے کی۔ تمام مسالک کے نمائندہ علماء و مشائخ نے حکومت ا ور طالبان سے فوری طور پر فائر بندی کے اعلان کا مطالبہ کرتے ہوے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کی شکل میں بھی طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ کیونکہ طاقت اور جنگ سے امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔ درپردہ طاقتیں ملک توڑنے کے لئے آپریشن چاہتی ہیں۔ ہتھیاروں کی بجائے امن کی زبان میں بات کی جائے….اس کنو نشن نے جمعہ کو یوم دعا منانے کی اپیل بھی کی۔
کنونشن کا جاری کردہ اعلامیہ مولانا سمیع الحق نے پڑھ کر سنایا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لئے فائر بندی پہلی شرط ہے۔ حکومت اپنی داخلی اور خارجہ پالیسی پر نظرِ ثانی کرے۔ طالبان قیامِ امن کے لئے علماء کا ساتھ دیں فریقین مذاکرات میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔ مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ یہ وقت ملکی استحکام اور وفاق کو مضبوط کرنے کا ہے۔ مشاورت کرنا اللہ کا حکم ہے۔ گھر میں لگی آگ خون سے نہیں پانی سے بجھانی چاہیئے۔ کنونشن میں علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کی ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو طالبان کے ساتھ مذاکرات
کی کسی نہ کسی صورت میں مخالفت کر رہے ہیں۔ہم سب کو ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہئے۔مولانا شاہ اویس نورانی کا کہنا تھا کہ ہمیں گذشتہ تیرہ سالوں سے لگی آگ کو بجھانا ہے۔طالبان سے طاقت کے استعمال کی بات کرنے والے لوگ ریاست کے اندر ریا ست بنانا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے کو آرڈینیٹر مولانا یوسف شاہ اور پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ طالبان فوری جنگ بندی کے لئے تیار ہیں۔ انہیں موقع دیا جائے جلد بریکنگ نیوز دیں گے۔ مذاکرات سے متعلق قوم جلد خوشخبری سنے گی۔ پروفیسر ابراہیم کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات کا ہر گز مطالبہ نہیں کیا لیکن ہماری کمیٹی نے وزیر اعظم اور ان شخصیات سے ملاقات کی بات کی تھی۔
ہم سجھتے ہیں کہ اس بات کو بہانہ بنا کر پاکستان میں مذاکرات اور امن کی مخالف قوتوں نے زبردست وا ویلا شروع کر دیا تھا۔ دوسری جانب جعلی بھٹو جس کی گرومنگ لیڈر کے طور زرداری اینڈ کمپنی پانی کی طرح پیسہ بہا کررہی ہے نے دھمکی دی ہے کہ وہ طالبان کو عبرت کا نشان بنادیں گے؟؟؟ ہم بلاول زرداری سے سوال کرتے ہیں کہ تمہارے ولد مسٹر آسف علی زر داری گزشتہ دورانئے میں ہول سول پاکستان کی ہر چیز پر مقتدر رہے تھے اور دہشت گردی کی بڑی بڑی وارداتیں بھیان کے دورِ حکومت میں ہوتی رہیں تھیں، اُس وقت تو تم یا تمہار ولد نے کوئی تیر نہیں چلایا۔قوم کو بیوقوف بنا چھوڑو اگر کچھ کر سکتے ہو تو پاکستان کے امن کے لئے کچھ کر دکھائو کہ اس کا امن ہی اس کی سلامتی میں مضمر ہے۔ اللہ میر ے اور ہم سب کے پاکستان کی حفاظت کرے ثمہ آمین۔
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
shabbir4khurshid@gmail.com
