
کراچی (جیوڈیسک) پاکستان کے باصلاحیت نوجوان سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کالوہا عالمی سطح پرمنوا چکے ہیں اور ب ہارڈویئر کے میدان میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑرہے ہیں۔
اکراچی کے 23 سالہ نوجوان طالب علم فرخ بھابھا نے مقامی سطح پرتھری ڈی پرنٹر تیارکیاہے جس کی لاگت انٹرنیشنل مارکیٹ کے مقابلے میں 4 گنا کم ہے۔ فرخ بھابھانے ایکسپریس کو بتایاکہ تھری ڈی پرنٹرپلاسٹک کے میٹریل سے کوئی بھی آبجیکٹ منٹوںمیں تیار کرسکتا ہے۔ پرنٹرکو کنٹرول کرنے کے لیے سافٹ ویئربھی مقامی سطح پرتیار کیاجا رہاہے جسے موبائل فون کے ذریعے بھی مانیٹراور آپریٹ کیا جاسکے گا۔ تھری ڈی اسکینرکی تیاری کے پروجیکٹ پربھی کام شروع کردیا ہے جو KINECTسینسرز پرمشتمل ہوگا۔ تھری ڈی پرنٹرکی مقامی سطح پر تیاری پاکستان میںتھری ڈی ٹیکنالوجی کودوام حاصل ہوگا۔
یہ انجینئرنگ کے شعبے میں انقلابی پیش رفت ہے جس سے پاکستان میں آٹوسیکٹر، میڈیکل اینڈسرجری، دندان سازی کے شعبے کے ساتھ مقامی مینوفیکچرنگ سیکٹرکو بھرپور فائدہ ہوگا۔ تھری ڈی پرنٹرکے ذریعے پلاسٹک کے ساتھ لچک دارپلاسٹک، ربراور لکڑی جیسے میٹیریل کی اشیابھی تیارکی جاسکیں گی۔ فرخ بھابھا SZABISTمیں بیچلرآف سائنس(کمپیوٹنگ) کے فائنل ٰایئرکے طالب علم ہیں۔ انھوںنے دنیامیں تھری ڈی پرنٹنگ کے شعبے میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کی ترقی کے امکانات کودیکھتے ہوئے پاکستان میںتھری ڈی پرنٹنگ پرکام کافیصلہ کیااور اپنے فائنل پروجیکٹ کے طورپر تھری ڈی پرنٹنگ کاانتخاب کیا۔ وہ اب تک 3تھری ڈی پرنٹرزتیار کرچکے ہیں، چوتھاپرنٹر زیرتکمیل ہے۔ فرخ بھابھاکا تیارکردہ پرنٹرایک فٹ اونچااور ایک فٹ چوڑاکوئی بھی آبجیکٹ تیارکر سکتاہے۔
اب تک پاکستان میں تیارکردہ یہ سب سے زیادہ گنجائش کا پرنٹرہے ۔ فرخ بھابھاکو دسمبر2014 میںغلام اسحٰق خان یونیورسٹی میں منعقدہ ایک مقابلے میں 8پروجیکٹس میں سب سے اہم اور منفرد قراردیا گیا۔ ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی آئی ٹی کمپنی مائکروسافٹ نے انھیں مائکروسافٹ انوویشن سینٹرکراچی میں شامل کیاجہاں وہ مائکروسافٹ کی سپورٹ سے سافٹ ویئرکی تیاری میںمصروف ہیں۔ یہ سافٹ ویئر پاکستان میں تھری ڈی پرنٹنگ اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں اہم سنگ میل ہوگا۔
سافٹ ویئرکا بیٹاورژن رواںسال کے وسط تک متعارف کرادیا جائے گا۔ فرخ بھابھا کاکہنا ہے کہ پاکستان میںتھری ڈی پرنٹرزکی تجارتی پیمانے پرتیاری کی جاسکتی ہے۔
پاکستان میں تیارکردہ تھری ڈی پرنٹرایک لاکھ روپے میںایک سال کی وارنٹی، سافٹ ویئراور ٹریننگ کے ساتھ مہیا کیا جاسکتا ہے جبکہ درآمدی پرنٹرکی لاگت 3سے 4لاکھ روپے ہوگی۔ پاکستان میں تیارکردہ تھری ڈی پرنٹرمیں مختلف ملکوںسے درآمدکردہ کمپونینٹس استعمال کیے گئے ہیںتاہم لاگت کم کرنے اورپاکستانی ماحول اور تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مقامی سطح پربھی سلوشنز اورکمپونینٹ تیارکیے گئے ہیں۔
