
کراچی (جیوڈیسک) جامعہ کراچی میں بی کام پرائیویٹ کے امتحانات میں کاپیاں منظم طریقے سے امتحانی مرکز کے باہر آنے کا انکشاف ہوا ہے۔ جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے آ نکھیں بند کر لیں۔
نقل مافیا نے انتظامیہ کی ناک کے نیچے کھلے عام ریٹ مقرر کرکے نقل پیکیج متعارف کرا دئیے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بی کام پرائیوٹ کے امتحانات کے دوران روزانہ 1300 سے 1500 کاپیاں امتحانی مرکزسے باہر آتی رہیں۔
صرف 20 ہزار دیں اور امتحان کے بعد گھر بیٹھے جوابی کاپیاں بھریں اور اگر رعایت چاہیے تو صرف 12 ہزار ادا کریں اور یونیورسٹی آکر اپنی کاپی حاصل کریں اور جیسے چاہے حل کر لیں، حد یہ ہے کہ مافیا کی من مانیوں کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق نقل مافیا اس بزنس سے روزانہ 2 کروڑ روپے کما تا ہے جبکہ 13 امتحانات کے دوران 22 کروڑ روپے باآسانی کمائے گئے ہیں نقل مافیا یونیورسٹی ملازمین اورعملہ سے مل کرمن پسند شعبوں میں من پسند امیدواروں کا امتحانی مراکز بنواتی ہے اور اگر تعلقات اچھے ہیں توامتحانی کاپی ایک دن قبل بھی گھر پہنچائی جاسکتی ہے، صرف یہی نہیں یہ کام اتنا منظم انداز میں کیا جارہا ہے کہ امیدوار امتحان کے دوران خالی کاپی چھوڑ کر آجاتا ہے پھر یہی کاپی امتحان کے بعد باآسانی امیدوار کے گھر پہنچ جاتی ہے۔
