
راولپندی سے سابقہ امیدوار قومی اسمبلی برائے قومی اسمبلی اور چیئرمین مھاجرکشمیرموومنٹ کاشف حسین دت کا بھانجہ محمد علی حیدر قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوگیاہےجبکہ ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار محمد نواز موقع پر ہی جانبحق ہوگیا۔
یہ واقعہ ۲۷ اپریل ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں بلوچ ہوٹل کے سامنے پیش آیا جہاں محمد علی حیدر اپنی پارٹی کے کارکنون سے ملنے گئے ہوئے تھے۔
یہ پہلی دفعہ نہیں کہ مہاجرکشمیرکسی کارکن حملہ ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی کاشف دت کو دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔
مھاجر کشمیر موومنٹ کے چیئرمین کاشف حسین دت جو ان دنوں ناروے میں سیاسی پناہ کی درخواست دئیے ہوئے ہیں، کو بھی اس طرح کی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔
اس سے قبل ۲۶ جون ۲۰۱۰ء کو بھی راولپنڈی شھر میں ایک دہشت گردانہ حملے میں مہاجر کشمیر موومنٹ کے چار اہلکار جانبحق اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔
ناروے سے اپنے ایک بیان میں مھاجر کشمیر موومنٹ کے چیئرمین کاشف دت نے کہاکہ دہشت گرد ہمارے عزم و حوصلے کو کم نہیں کرسکتے۔ پاکستان اس وقت سخت مشکلات اور گونا گون چیلنجنوں کا سامنا کررہاہے لیکن بعض عناصر اس ملک تباہ کرناچاہتے ہیں۔ ہم مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتے ہیں اور جنگ و جدل کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ ایک لبرل پارٹی ہے اور اس میں شیعہ و سنی اور متعدل ہیں لیکن کچھ عناصر جنگ اور لڑائی کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں راستے ہٹاناچاہتے ہیں۔
بعض ذرائع نے کاشف دت کےبھانجے پر حملے اور کاشف دت کو دھمکیاں ملنےکے واقعات کو فرقہ وارانہ رنگ دیاہے اور کہاکہ کیونکہ کاشف دت کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے، اس لیے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ۲۴ فروری ۲۰۱۰ء مسلم لیگ ن اور دہشت گردی کے خلاف ان کی تقریر کے دوران مسلم لیگ ن کے کارکنون اور مذہبی انتہاپسندوں نے ان پر قاتلانہ حملہ کردیاتھا لیکن الیکٹرانک میڈیا پر براہ راست کوریج کی وجہ ان کی جان بچ گئی۔
ادھر مھاجر کشمیر موومنٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کاشف دت جنھوں نے ناروے میں سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی، کی جان کو پاکستان میں خطرہ ہے۔ اگر وہ واپس آئے تو ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
قومی اسمبلی کے سابق رکن ریاض فتحیانہ، سابق رکن کشمالہ طارق، سابق وزیراطلاعات و نشریات نثارمیمن، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی، ای این پی کے رہنما حاجی عدیل خان، ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار، انسانی حقوق کمیشن کی چیئرمین عاصمہ جہانگیر نے بھی کاشف دت کو دھمکیوں کی مذمت کی ہے اور ناروے کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کاشف دت کو ناروے میں سیاسی پناہ دی جائے۔
سابق صدر پرویز مشرف نے بھی کاشف دت سے افسوس کا اظہارکیا اور ان کے بھانجے پر حملے کی مذمت کی ہے۔
